حدیث نمبر: 23673
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَدِّهِ ، جَدِّ سَعِيدٍ : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : حَزْنٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ " ، فَقَالَ : لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : فَمَا زَالَتْ فِينَا حُزُونَةٌ بَعْدُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن مسیب (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دادا سے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے ؟ انہوں نے بتایا " حزن " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تمہارا نام سہل ہے انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے میں اسے بدلنا نہیں چاہتا سعید کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے ہمارے خاندان میں ہمیشہ غمگینی رہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2190
حدیث نمبر: 23674
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، فَقَالَ : " أَيْ عَمِّ ، قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، كَلِمَةً أُحَاجُّ بِهَا لَكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ ! قَالَ : فَلَمْ يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ " ، فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 قَالَ : َونَزَلَتْ فِيهِ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خواجہ ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے ان کے پاس اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چچاجان ! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے یہ ایک ایسا کلمہ ہوگا جس کے ذریعے میں اللہ کے یہاں آپ کے لئے حجت پکڑ سکوں گا ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے کہ اے ابوطالب ! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے ؟ وہ دونوں مسلسل یہی کہتے رہے حتیٰ کہ ابوطالب کے منہ سے آخری کلمہ جو نکلا وہ یہ تھا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک مجھے منع نہیں کیا جاتا میں آپ کے حق میں بخشش کی دعا کرتا رہوں گا پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ " پیغمبر اور اہل ایمان کے لئے مشرکین کے حق میں بخشش کی دعا کرنا مناسب نہیں ہے اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہوں نیز یہ آیت نازل ہوئی کہ جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3884، م: 26
حدیث نمبر: 23675
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ ، فَقَالَ : انْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ ، فَعُمِّيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا ، فَإِنْ كَانَتْ بَيَّنَتْ لَكُمْ ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان جو ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی کے شرکاء میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال جب ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے تو بیعت کی وہ جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی اگر وہ ظاہر رہتی تو تم بہتر جانتے ہو (کہ کیا ہوتا ؟ )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23676
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي : أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ الْعَامَ مَعَهُمْ ، فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان جو ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی کے شرکاء میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ اگلے سال جب ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے تو بیعت کی وہ جگہ ہم سے پوشیدہ ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4164، م: 1859، وهذا إسناد قوي