حدیث نمبر: 23657
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ : " زَمِّلُوهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ " قَالَ : وَجَعَلَ يَدْفِنُ فِي الْقَبْرِ الرَّهْطَ ، قَالَ : وَقَالَ : " قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہداء کو ان ہی کے کپڑوں میں لپیٹ دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک قبر میں کئی کئی لوگوں کو دفن کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے کہ ان میں سے جس شخص کو قرآن سب سے زیادہ یاد رہا ہوا سے پہلے قبر میں اتار دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23658
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، قَالَ : لَمَّا أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ : " أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ مَا مِنْ مَجْرُوحٍ جُرِحَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَدْمَى ، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ، انْظُرُوا أَكْثَرَهُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ فَقَدِّمُوهُ أَمَامَهُمْ فِي الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ میں ان کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں زخمی ہوا تو قیامت کے دن اللہ اسے اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون رس رہا ہوگا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا لیکن مہک اس کی مشک جیسی ہوگی دیکھو ! ان میں سے جسے قرآن سب سے زیادہ حاصل رہا ہو اسے ان سے پہلے قبر میں رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23659
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ وَثَبَّتَنِيهِ مَعْمَرٌ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ ، زَمِّلُوهُمْ بِكُلُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ میں ان کے متعلق گواہی دیتا ہوں انہیں ان کے زخموں اور خون کے ساتھ ہی کفن میں لپیٹ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23660
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ ، فَإِنِّي قَدْ شَهِدْتُ عَلَيْهِمْ " ، فَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ ، وَيُسْأَلُ : " أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ " فَيُقَدِّمُونَهُ ، قَالَ جَابِرٌ : فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ میں انہیں ان کے خون کے ساتھ ہی کفن میں لپیٹ دو میں ان کے متعلق گواہی دوں گا پھر ایک ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفنایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے دیکھو ! ان میں سے جسے قرآن سب سے زیادہ حاصل رہا ہو اسے ان سے پہلے قبر میں رکھو چناچہ میرے والد اور چچا ایک ہی قبر میں دفنائے گئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1343
حدیث نمبر: 23661
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، " أَنَّ أَبَا جَهْلٍ ، قَالَ حِينَ الْتَقَى الْقَوْمُ : اللَّهُمَّ أَقْطَعَنَا للرَّحِمَ ، وَآتَانَا بِمَا لَا نَعْرِفُهُ ، فَأَحْنِهِ الْغَدَاةَ ، فَكَانَ الْمُسْتَفْتِحَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے جنگ احد کے دن یہ دعا کی کہ اے اللہ ! اس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس وہ چیز لایا جسے ہم نہیں پہچانتے تو کل ہم پر مہربانی فرما، گویا وہ فتح حاصل کرنے کی دعا کر رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23662
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ وَفِيمَا قَرَأَ عَلَى يَعْقُوبَ : الْعُذْرِيِّ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ ، قَالَ : أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِ أُحُدٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23663
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنُ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيُّ ، خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ ، فَقَالَ : " أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ، وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر سے دو دن قبل لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گندم یا گیہوں کا ایک صاع دو آدمیوں کے درمیان ادا کرو یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر آزاد اور غلام چھوٹے اور بڑے پر واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف مرفوعا، وهذا الإسناد ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس، وقد اختلف فيه على الزهري
حدیث نمبر: 23664
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : سَأَلْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ فَحَدَّثَنِي ، عَنْ نُعْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابن ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَدُّوا صَاعًا مِنْ قَمْحٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ بُرٍّ وَشَكَّ حَمَّادٌ عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ، غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ ، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ ، فَيُرَدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِمَّا يُعْطِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر سے دو دن قبل لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گندم یا گیہوں کا ایک صاع دو آدمیوں کے درمیان ادا کرو یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر آزاد اور غلام چھوٹے اور بڑے پر واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہارے مالداروں کا مال پاکیزہ کر دے گا اور تنگدست کو اس سے زیادہ عطاء فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف نعمان بن راشد، وللاختلاف الذى وقع فيه على الزهري
حدیث نمبر: 23665
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : قَرَأَهُ عَلَيَّ يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ وَجْهَهُ ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ " يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس پر وہ کچھ اضافہ نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ نصف رات کو بیدار ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23666
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " مَسَحَ وَجْهَهُ زَمَنَ الْفَتْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانے میں ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4300 تعليقا
حدیث نمبر: 23667
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيُّ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ وَجْهَهُ زَمَنَ الْفَتْحِ ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وكَانَ سَعْدٌ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ يَعْنِي : الْعَتَمَةَ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس پر وہ کچھ اضافہ نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ نصف رات کو بیدار ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6356
حدیث نمبر: 23668
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْقَسَامَةِ فِي الدَّمِ ، قَالَ : كَانَتْ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَرَّهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَقَضَى بِهَا بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے حوالے سے " قسامت " کا رواج تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر ہی برقرار رکھا اور چند انصاری حضرات کے معاملے میں " جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا اور انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1670
حدیث نمبر: 23669
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ ، وَأَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانُوا يَنْهَوْنِي عَنِ الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا أَنْ أَتَقَرَّبَ لِأَكْثَرَ مِنْهَا ، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ الْيَوْمَ يَنْهَوْنَ عَنْهَا ، وَيَقُولُ قَائِلُهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لَهُ مِنْ حِفْظِ اللَّهِ مَا لَيْسَ لِأَحَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ جن کے چہرے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پھیرا تھا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو پایا تھا سے مروی ہے کہ لوگ مجھے اپنی بیوی کو بوسہ دینے سے روکتے تھے کہ کہیں میں اس سے زیادہ آگے نہ بڑھ جاؤں پھر آج دیگر مسلمانوں کو بھی اس سے روکا جا رہا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے وہ خصوصی حفاظت میسر تھی جو کسی اور کو حاصل نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح