حدیث نمبر: 23650
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنَّهُ لُدِغَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّكَ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ تَضُرَّكَ " ، قَالَ سُهَيْلٌ : فَكَانَ أَبِي إِنْ لُدِغَ أَحَدٌ مِنَّا ، يَقُولُ : قَالَهَا ؟ فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : كَأَنَّهُ يَرَى أَنَّهَا لَا تَضُرُّهُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ انہیں کسی جانور نے ڈس لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے شام کے وقت یہ کلمات کہہ لئے ہوتے " اعوذ بکلمات اللہ التامات کلہن من شر ماخلق " تو صبح تک تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ راوی حدیث سہیل کہتے ہیں کہ اگر ہم میں سے کسی کو کوئی جانور ڈس لیتا تو میرے والد صاحب پوچھتے کہ یہ کلمات کہہ لئے ؟ اگر وہ جواب میں " ہاں " کہہ دیتا تو ان کی رائے یہی ہوتی تھی کہ اب اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف عن سهيل بن أبى صالح فى صحابي هذا الحديث
حدیث نمبر: 23651
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَتَيْنِ " ، لَمْ يَرْفَعْهُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عنقریب دنیا پر کمینہ بن کمینہ غالب آجائے گا اور سب سے افضل انسان وہ مسلمان ہے جو دو معزز چیزوں کے درمیان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح