حدیث نمبر: 23578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ . وَحدثَنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابنِ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي زَيْدُ بنُ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ عَيَّاشٍ وَقَالَ رَوْحٌ : مَوْلَى عَباسٍ أَنَّهُ أَخْبرَهُ ، عَنْ أَبيهِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابنِ عَباسٍ ، وَالْمِسْوَرِ بالْأَبوَاءِ ، فَتَحَدَّثْنَا حَتَّى ذَكَرْنَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ : لَا ، وَقَالَ ابنُ عَباسٍ : بلَى ، فَأَرْسَلَنِي ابنُ عَباسٍ إِلَى أَبي أَيُّوب : يَقْرَأُ عَلَيْكَ ابنُ أَخِيكَ عَبدُ اللَّهِ بنُ عَباسٍ السَّلَامَ ، وَيَسْأَلُكَ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ مُحْرِمًا ؟ قَالَ : فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بيْنَ قَرْنَيْ بئْرٍ قَدْ سُتِرَ عَلَيْهِ بثَوْب ، فَلَمَّا اسْتَبنْتُ لَهُ ، ضَمَّ الثَّوْب إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بدَا لِي وَجْهُهُ ، وَرَأَيْتُهُ وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ، قَالَ : فَأَشَارَ أَبو أَيُّوب بيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا ، عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ ، فَأَقْبلَ بهِمَا وَأَدْبرَ ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابنِ عَباسٍ : لَا أُمَارِيكَ أَبدًا ، قَالَ الْحَجَّاجُ ، وَرَوْحٌ : فَلَمَّا انْتَسَبتُ لَهُ وَسَأَلْتُهُ ، ضَمَّ الثَّوْب إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى بدَا لِي رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ ، وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ابواء میں حضرت ابن عباس اور مسور رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ہم لوگ باتیں کر رہے تھے کہ محرم کے سرد ھونے کا ذ کر آگیا حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت کی نفی کی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت دی پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا بھتیجا عبداللہ بن عباس آپ کو سلام کہتا ہے اور آپ سے پوچھ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے ؟ عبداللہ بن حنین وہاں پہنچے تو حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو ایک کنوئیں کے دو کناروں کے درمیان ایک کپڑے کا پردہ لٹکا کر غسل کرتے ہوئے پایا جب میں نے ان سے اس کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے اپنے سینے پر کپڑا لپیٹا اور اپنا چہرہ باہر نکالا میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کے سر پر پانی بہار ہا ہے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پورے سر کی طرف اشارہ کیا اور آگے پیچھے ہاتھوں کو پھیرا یہ معلوم ہونے پر حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آئندہ میں کبھی آپ سے اختلاف نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1840، م: 1205
حدیث نمبر: 23579
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، سَمِعْتُ أَبا أَيُّوب يُخْبرُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَسْتَقْبلُوا الْقِبلَةَ بغَائِطٍ وَلَا بوْلٍ ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبوا " ، قَالَ أَبو أَيُّوب : فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 144، م: 2649
حدیث نمبر: 23580
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابنِ أَبي ذِئْب ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا الْمَغْرِب لِفِطْرِ الصَّائِمِ ، وَبادِرُوا طُلُوعَ النُّجُومِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز مغرب افطاری کے وقت اور ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده صحيح، الرجل المبهم هو ثقة
حدیث نمبر: 23581
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا الْحَجَّاجُ بنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ : قَالَ أَبو أَيُّوب : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ : التَّعَطُّرُ ، وَالنِّكَاحُ ، وَالسِّوَاكُ ، وَالْحَيَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں تمام پیغمبروں کی سنت ہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک اور مہندی لگانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة حجاج بن أرطاة، وهو مدلس، ومكحول عن أبى أيوب مرسل
حدیث نمبر: 23582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِب ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبةُ ؟ قَالَ : شُغِلْنَا ، قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِب إِلَى أَنْ تَشْتَبكَ النُّجُومُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
مرثد بن عبداللہ یزنی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے بعد حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23583
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بنُ أَبي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبعَ رِقَاب مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " . حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بنُ أَبي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ أَبي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبيِّ ، عَنْ رَبيعِ بنِ خُثَيْمٍ ، بمِثْلِ ذَلِكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِلَّربيعِ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : مِنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، فَقُلْتُ لِعَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ : مِنْ ابنِ أَبي لَيْلَى ، فَقُلْتُ لِابنِ أَبي لَيْلَى : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : مِنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون (رح) کہتے ہیں کہ جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیر '' تو یہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23584
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَصَالِحٌ , عَنِ ابنِ شِهَاب ، أَنَّ عَطَاءَ بنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھرمنہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6237، م: 2560، وقرين مالك صالح، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 23585
حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بنِ أَبي صَالِحٍ ، قَالَ : أَقْبلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبرِ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ ؟ فَأَقْبلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ : نَعَمْ ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَبكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ ، وَلَكِنْ ابكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مروان چلا آرہا تھا اس نے ایک قبر پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر) ایک آدمی کو اپنا چہرہ رکھے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ وہ آدمی اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دین پر اس وقت آنسو نہ بہانا جب اس کے اہل اس کے ذمے دار ہوں البتہ جب اس پر نااہل لوگ ذمہ دار ہوں تو اس پر آنسو بہانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة داود بن أبى صالح، وكثير بن زيد مختلف فيه، وفي متنه نكارة
حدیث نمبر: 23586
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي أَيُّوب ، حَدَّثَنِي شُرَحْبيلُ بنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کے نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1883، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 23587
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، وَلْيَقُلْ الَّذِي يُشَمِّتُهُ : يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے " الحمدللہ علی کل حال " کہنا چاہئے جواب دینے والے کو " یرحمک اللہ " کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو " یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد ابن عبدالرحمن بن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23588
حَدَّثَنَا حُسَين ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، قَالَ : وَقَدْ رَأَيْتُ أَخَاهُ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلْيَقُلْ : هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكَ " ، أَوْ قَالَ : " يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23589
حَدَّثَنَا أَبو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْحَمِيدِ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ تِعْلَى ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبرِ الدَّابةِ " ، قَالَ أَبو أَيُّوب : لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبرْتُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے اس لئے اگر میرے پاس مرغی بھی ہو تو میں اسے باندھ کر نشانہ نہیں بناؤں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد بكير
حدیث نمبر: 23590
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ وَهْب ، عَنْ عَمْرِو بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ ابنِ تِعْلَى ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ ، فَأُتِيَ بأَرْبعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ ، فَأَمَرَ بهِمْ فَقُتِلُوا صَبرًا بالنَّبلِ ، فَبلَغَ ذَلِكَ أَبا أَيُّوب ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبرِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن تعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبدالرحمن بن خالد کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے تو دشمن کے چار جنگلی گدھے پکڑ کر لائے گئے انہوں نے حکم دیا اور ان چاروں کو باندھ کر تیروں سے قتل کردیا گیا، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف فإن فيه بين بكير بن عبدالله وبين أبن يعلى والد بكير عبدالله بن الأشج، وهو مجهول
حدیث نمبر: 23591
حَدَّثَنَا عَتَّاب ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بكَيْرُ بنُ الْأَشَجِّ ، أَنَّ أَباهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُبيْدَ بنَ تِعْلَى حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبرِ الدَّابةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باندھ کر جانور قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد بكير
حدیث نمبر: 23592
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ ، فَكَانَتْ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ ، فَشَكَاهَا إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ : بسْمِ اللَّهِ ، أَجِيبي رَسُولَ اللَّهِ " ، قَالَ : فَجَاءَتْ ، فَقَالَ لَهَا ، فَأَخَذَهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنِّي لَا أَعُودُ ، فَأَرْسَلَهَا ، فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ " , قَالَ : أَخَذْتُهَا ، فَقَالَتْ لِي : إِنِّي لَا أَعُودُ ، فَأَرْسَلْتُهَا ، فَقَالَ : إِنَّهَا عَائِدَةٌ ، فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، كُلَّ ذَلِكَ تَقُولُ : لَا أَعُودُ ، وَيَجِيءُ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ : " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ " , فَيَقُولُ : أَخَذْتُهَا ، فَتَقُولُ : لَا أَعُودُ ، فَيَقُولُ : إِنَّهَا عَائِدَةٌ ، فَأَخَذَهَا ، فَقَالَتْ : أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُ فَلَا يَقْرَبكَ شَيْءٌ ، آيَةَ الْكُرْسِيِّ ، فَأَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبرَهُ ، فَقَالَ : " صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوب " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے خیمے میں ہوتے تھے ایک جن عورت آتی اور انہیں پکڑ لیتی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جب تم اسے دیکھو تو یوں کہنا " بسم اللہ اجیبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چناچہ اگلی مرتبہ جب وہ آئی تو انہوں نے اسے یہی کہا اور اسے پکڑ لیا اس نے وعدہ کیا کہ میں آئندہ آپ کے پاس نہیں آؤں گی انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسے پکڑ لیا تھا لیکن اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ نہیں آئے گی اس لئے میں نے اسے چھوڑ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر آئے گی، چناچہ میں نے اسے دو تین مرتبہ پکڑا اور وہ ہر مرتبہ یہی کہتی تھی کہ آئندہ نہیں آؤں گی بالآخر ایک مرتبہ اس نے کہا کہ اس مرتبہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایک چیز سکھاتی ہوں تم اسے کہہ لیا کرو کوئی چیز تمہارے قریب نہیں آسکے گی اور وہ آیت الکرسی ہے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ بات بتائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23593
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنِ ابنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنْ أَبى لَيلى ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بإِسْنَادِهِ ، يَعْنِي : حَدِيثَ الْغُولِ ، قَالَ : أَبو أَيُّوب خَالِدُ بنُ زَيْد .
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 23594
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا أَبو بكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي ظِبيَانَ ، قَالَ : غَزَا أَبو أَيُّوب مَعَ يَزِيدَ بنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَقَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَدْخِلُونِي أَرْضَ الْعَدُوِّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ حَيْثُ تَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوظبیان کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے جہاد میں شریک تھے وہ بیمار ہوگئے جب وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بمجموع طرقه، إسناده منقطع ، أبو ظبيان لم يحضر ذالك من أبى أيوب، إنما رواه عن أشياخ له حضرو ذالك منه
حدیث نمبر: 23595
حَدَّثَنَا يُونُسُ بنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبي الزُّبيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَاصِمِ بنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ , أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ ، فَفَاتَهُمْ الْغَزْوُ فَرَابطُوا ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ ، وَعِنْدَهُ أَبو أَيُّوب ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ ، فَقَالَ عَاصِمٌ : يَا أَبا أَيُّوب ، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ ، وَقَدْ أُخْبرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ، وَقَالَ حُجَيْنٌ : الْمَسَاجِدِ الْأَرْبعَةِ ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبهُ ، فَقَالَ : ابنَ أَخِي ، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ " ، أَكَذَاكَ يَا عُقْبةُ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن سفیان ثقفی کہتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں وہ شریک تھے اس موقع پر جنگ تو نہیں ہوسکی البتہ مورچہ بندی ضروری ہوئی پھر جب وہ لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہاں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے عاصم نے کہا اے ابوایوب ! اس سال ہم سے جہاد رہ گیا ہے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو شخص مسجد میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں انہوں نے فرمایا بھتیجے ! کیا میں تمہیں اس سے زیادہ آسان چیز نہ بتاؤں ؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص حکم کے مطابق وضو کرے اور حکم کے مطابق نماز پڑھے تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے عقبہ کیا اسی طرح ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 23596
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بنُ أَبي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَيُّوب بنِ خَالِدِ بنِ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيّ صَاحِب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " اكْتُمِ الْخِطْبةَ ، ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ، وَصَلِّ مَا كَتَب اللَّهُ لَكَ ، ثُمَّ احْمَدْ رَبكَ وَمَجِّدْهُ ، ثُمَّ قُلْ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوب ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةَ تُسَمِّيهَا باسْمِهَا خَيْرًا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي بهَا " ، أَوْ قَالَ : " فَاقْدِرْهَا لِي " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ضرورت کو اپنے ذہن میں رکھ کر خوب اچھی طرح وضو کرو اور جتنا مقدر میں ہو نماز پڑھو، پھر اپنے رب کی تعریف و بزرگی بیان کرو پھر یہ دعا کرو کہ اے اللہ ! تو ہر چیز پر قادر ہے میں قدرت نہیں رکھتا تو علم رکھتا ہے میں علم نہیں رکھتا اور تو علام الغیوب ہے اگر تو سمجھتا ہے کہ اس کام میں میرے لئے دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے بہتری ہوگی تو وہی فیصلہ میرے حق میں فرما دے اور اگر اس کے علاوہ کسی اور کام میں میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے بہتری ہوگی تو میرے حق میں اس کا فیصلہ فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن خالد فيه لين، وأبوه خالد مجهول
حدیث نمبر: 23597
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابنُ وَهْب ، أَخْبرَنِي حيوة , أن الوليد ابن أبى الوليد أخبره , فذكر بإسناده ومعناه ..
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن خالد فيه لين، وأبوه خالد مجهول