حدیث نمبر: 23538
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بنَ طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب أَخْبرَهُ , أَنَّ أَعْرَابيًّا عَرَضَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرٍ ، فَأَخَذَ بخِطَامِ نَاقَتِهِ ، أَوْ بزِمَامِ نَاقَتِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبرْنِي بمَا يُقَرِّبنِي مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُباعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : " تَعْبدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک دیہاتی سامنے آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5983، م: 13
حدیث نمبر: 23539
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بنُ أَبي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْبرَاءِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بعْدَ مَا غَرَبتْ الشَّمْسُ ، فَسَمِعَ صَوْتًا ، فَقَالَ : " يَهُودُ تُعَذَّب فِي قُبورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے بعد باہر نکلے تو ایک آواز سنی اور فرمایا کہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1375، م: 2869
حدیث نمبر: 23540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ ، وَلَا يَأْمُرُ بشَيْءٍ ، وَيُسَلِّمُ بيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو تین مرتبہ مسواک فرماتے تھے جب رات کو نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے تھے کسی سے بات کرتے اور نہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں پر سلام پھیر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن أبى سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
حدیث نمبر: 23541
وَبهِ وَبهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ تَمَضْمَضَ ، وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ مِنْ تَحْتِهَا بالْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو کلی کرتے اور اپنی ڈاڑھی مبارک کو نیچے سے پانی کے ساتھ دھوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا كسابقه
حدیث نمبر: 23542
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بنُ حَيَّانَ ، عَنْ أَبي وَاصِلٍ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، فَصَافَحَنِي ، فَرَأَى فِي أَظْفَارِي طُولًا ، فَقَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ عَنْ خَبرِ السَّمَاءِ ، وَهُوَ يَدَعُ أَظْفَارَهُ كَأَظَافِيرِ الطَّيْرِ يَجْتَمِعُ فِيهَا الْجَنَابةُ ، وَالْخَبثُ ، وَالتَّفَثُ ! " ، وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ مَرَّةً : الْأَنْصَارِيَّ . قَالَ غَيْرُهُ : أَبو أَيُّوب الْعَتَكِيُّ , قَالَ أَبو عَبد الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبي : سَبقَهُ لِسَانُهُ يَعْنِي وَكِيعٌ ، فَقَالَ : لَقِيتُ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، وَإِنَّمَا هُوَ أَبو أَيُّوب الْعَتَكِيُّ.
مولانا ظفر اقبال
ابو واصل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا تو میرے ناخن بڑھے ہوئے نظر آئے انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص آسمانی خبریں پوچھتا ہے جب کہ اپنے ناخنوں کو اس طرح چھوڑ دیتا ہے جیسے پرندوں کے ناخن ہوتے ہیں کہ ان میں جنابت، گندگی اور میل کچیل جمع ہوتا رہے۔ بعض محدثین کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نہیں ہے بلکہ ابو ایوب عتکی رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى واصل، ثم إنه مرسل، أبو أيوب هو أبو أيوب العتكي الأزدي، ليس هو الأنصاري
حدیث نمبر: 23543
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَسْلَمَ ، وَغِفَارَ ، وَمُزَيْنَةَ ، وَأَشْجَعَ ، وَجُهَيْنَةَ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بنِي كَعْب ، مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اشجع، جہینہ اور بنی کعب کے لوگ تمام لوگوں کو چھوڑ کر صرف میرے مولیٰ ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ان کے مولیٰ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2519
حدیث نمبر: 23544
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَوْ عَنْ زَيْدِ بنِ ثَابتٍ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ فِي الْمَغْرِب بالْأَعْرَافِ الرَّكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب میں سورت اعراف کی تلاوت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23545
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْتِرْ بخَمْسٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبثَلَاثٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبوَاحِدَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ رکعتوں پر وتر بنایا کرو اگر یہ نہ کرسکو تو تین رکعتوں پر اگر یہ بھی نہ کرسکو تو ایک رکعت پر وتر بنا لیا کرو اور اگر یہ بھی نہ کرسکو تو اشارہ ہی کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده ضعيف، سفيان بن حسين متكلم فيه عن الزهري، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23546
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كُنَّ لَهُ كَعَدْلِ عِتْقِ عَشْرِ رِقَاب ، أَوْ رَقَبةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہ کلمات دس مرتبہ کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیر '' تو یہ ایک یا دس غلام آزاد کرنے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنِ رَبيعِ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " هُوَ اللَّهُ أَحَدُ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام المرأة وللاضطراب فى سنده
حدیث نمبر: 23548
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بنُ مَخْرَمَةَ ، وَابنُ عَباسٍ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ، فَقَالَ ابنُ عَباسٍ : يَغْسِلُ ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ : لَا يَغْسِلُ ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَسَأَلْتُهُ فَصَب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ، ثُمَّ أَقْبلَ بيَدَيْهِ وَأَدْبرَ بهِمَا ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1840، م: 1205
حدیث نمبر: 23549
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ بيْنَ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءِ بالْمُزْدَلِفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1674، م: 1287
حدیث نمبر: 23550
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُثْمَانَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوْهَب ، وَأَبوهُ عُثْمَانُ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بنَ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبرْنِي بعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَا لَهُ مَا لَهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَب مَا لَهُ ؟ " قَالَ : " تَعْبدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، ذَرْهَا " ، قَالَ : كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک دیہاتی سامنے آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5983، م: 13، وقد وقع وهم فى إسناده فى محمد بن عثمان بن عبدالله، والمحفوظ: عمرو بن عثمان
حدیث نمبر: 23551
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ الصَّلْتِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبعَ رَكَعَاتٍ قَبلَ الظُّهْرِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تُدِيمُ هَذِهِ الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبوَاب السَّمَاءِ ، فَأَحْببتُ أَنْ يَرْتَفِعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وجهالة على بن الصلت
حدیث نمبر: 23552
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبرَنِي أَبو صَخْرٍ ، أَنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُمَرَ أَخْبرَهُ ، عَنْ سَالِمِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، أَخْبرَنِي أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ مَرَّ عَلَى إِبرَاهِيمَ ، فَقَالَ : " مَنْ مَعَكَ يَا جِبرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ لَهُ إِبرَاهِيمُ : مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ ، فَإِنَّ تُرْبتَهَا طَيِّبةٌ ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ ، قَالَ : وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی امت کو تلقین کیجئے کہ وہ کثرت سے جنت کے پودے لگائیں کیونکہ جنت کی مٹی عمدہ اور زمین کشادہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جنت کے پودوں سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن عبدالرحمن مجهول الحال، و معنى الحديث صحيح ثابت
حدیث نمبر: 23553
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، وَحَدَّثَنِي عَدِيُّ بنُ ثَابتٍ ، وَمُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ بيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بجَمْعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 1674، م: 1287
حدیث نمبر: 23554
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ بنِ قُدَامَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنِ الرَّبيعِ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُعْجِب أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ ، فَإِنَّهُ مَنْ قَرَأَ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَيْلَةٍ ، فَقَدْ قَرَأَ لَيْلَتَئِذٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھ سکے سورت اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے اس لئے جو شخص رات کے وقت تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام المرأة وللاضطراب فى سنده
حدیث نمبر: 23555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَوْنِ بنِ أَبي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْبرَاءِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَجَبتْ الشَّمْسُ ، قَالَ فَسَمِعَ صَوْتًا ، فَقَالَ : " يَهُودُ تُعَذَّب فِي قُبورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے بعد باہر نکلے تو ایک آواز سنی اور فرمایا کہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1375، م: 2869
حدیث نمبر: 23556
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَرْقَاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 11649
حدیث نمبر: 23557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ : هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكَ " ، قَالَ حَجَّاجٌ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے الحمدللہ علی کل حال کہنا چاہئے جواب دینے والے کو " یرحمک اللہ " کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو " یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبدالرحمن، وكان يضطرب فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 23558
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ طَلْحَةَ بنِ عُبيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابنَ كَرِيزٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ , قَالَ : وَجَدَ رَجُلٌ فِي ثَوْبهِ قَمْلَةً ، فَأَخَذَهَا لِيَطْرَحَهَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلْ ، ارْدُدْهَا فِي ثَوْبكَ حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے کپڑے میں ایک جوں دیکھی اس نے اسے پکڑ کر مسجد میں ہی پھینکنا چاہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ایسا مت کرو اسے اپنے کپڑوں میں ہی رہنے دو تاآنکہ مسجد سے نکل جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة بن إسحاق، وهو مدلس
حدیث نمبر: 23559
حَدَّثَنَا بهْزُ بنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابنَ عَبدِ اللَّهِ بنِ أَبي طَلْحَةَ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْتَقْبلُوا الْقِبلَةَ بفُرُوجِكُمْ ، وَلَا تَسْتَدْبرُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23560
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا ظِبيَانَ ، وَيَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي ظِبيَانَ ، قَالَ : غَزَا أَبو أَيُّوب الرُّومَ فَمَرِضَ ، فَلَمَّا حُضِرَ ، قَالَ : أَنَا إِذَا مِتُّ فَاحْمِلُونِي ، فَإِذَا صَافَفتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْلَا حَالِي هَذَا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوظبیان کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے جہاد میں شریک تھے وہ بیمار ہوگئے جب وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بمجموع طرقه، إسناده منقطع، أبو ظبيان لم يحضر ذلك من أبى أيوب، إنما رواه عن أشياخ له حضروا ذلك منه
حدیث نمبر: 23561
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو يَحْيَى بنِ سَعِيدٍ ، أَخْبرَنِي عُمَرُ بنُ ثَابتٍ رَجُلٌ مِنْ بنِي الْحَارِثِ ، أَخْبرَنِي أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، ثُمَّ أَتْبعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ ، فَذَاكَ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1164
حدیث نمبر: 23562
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ صَلَاةَ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بالْمُزْدَلِفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1174، م: 1287
حدیث نمبر: 23563
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَنَشُ بنُ الْحَارِثِ بنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِيَاحِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بالرَّحْبةِ ، فَقَالُوا : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا ، قَالَ : كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَب ؟ قَالُوا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ ، فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ " ، قَالَ رِيَاحٌ : فَلَمَّا مَضَوْا تَبعْتُهُمْ ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالُوا : نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ . .
مولانا ظفر اقبال
ریاح بن حارث کہتے ہیں کہ ایک گروہ " رحبہ " میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا " السلام علیک یا مولانا " حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارا آقا کیسے ہوسکتا ہوں جبکہ تم عرب قوم ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے مقام پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں جب وہ لوگ چلے گئے تو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا اور میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کچھ انصاری لوگ ہیں جن میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23564
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَنَشٌ ، عَنْ رِيَاحِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : رَأَيْتُ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبةِ ، فَقَالَ : مَنْ الْقَوْمُ ؟ قَالُوا : مَوَالِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23565
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبلَ الظُّهْرِ أَرْبعًا ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تُصَلِّي صَلَاةً تُدِيمُهَا ، فَقَالَ : " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي إِلَى السَّمَاءِ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبى أيوب، وعلي بن الصلت مجهول
حدیث نمبر: 23566
قَرَأْتُ عَلَى عَبدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ أَخْبرَهُ أَنَّهُ " صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا بالْمُزْدَلِفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1674، م: 1287
حدیث نمبر: 23567
حَدَّثَنَا عَتَّاب بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ ، أَخْبرَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، أَنَّ أَسْلَمَ أَبا عِمْرَانَ التُّجِيبيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ ، فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " مَعِي مَعِي " ، وَكَذَا ، قَالَ مَعْمَرٌ : فَبدَرَتْ مِنَّا بادِرَةٌ ، وَقَالَ : صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23568
حَدَّثَنَا أَبو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بنِ عَمْرٍو ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبحُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كَتَب اللَّهُ لَهُ بكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَحَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَهُ اللَّهُ بهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَاب ، وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ ، وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ ، فَإِنْ قَالَ حِينَ يُمْسِي ، فَمِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لے " لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحییٰ ویمیت وہو علی کل شی قدیر " تو اللہ تعالیٰ ہر مرتبہ کے عوض اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا دس درجات بلند کر دے گا اور یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کی طرح ہوگا اور وہ دن کے آغاز سے اختتام تک اس کا ہتھیار ہوجائیں گے اور اس دن کوئی شخص ایسا عمل نہیں کرسکے جو اس پر غالب آجائے اور اگر شام کے وقت کہہ لے تب بھی اسی طرح ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23569
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، أَنَّ أَسْلَمَ أَبا عِمْرَانَ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب ، يَقُولُ : صَفَفْنَا يَوْمَ بدْرٍ ، فَبدَرَتْ مِنَّا بادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَعِي مَعِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے جنگ بدر کے دن صف بندی کی تو ہم میں سے ایک آدمی صف سے آگے نکل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا میرے ساتھ رہو میرے ساتھ رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23570
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب حَدَّثَهُ , أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي بيْتِنَا الْأَسْفَلِ ، وَكُنْتُ فِي الْغُرْفَةِ فَأُهْرِيقَ مَاءٌ فِي الْغُرْفَةِ ، فَقُمْتُ أَنَا وَأُمُّ أَيُّوب بقَطِيفَةٍ لَنَا نَتْبعُ الْمَاءَ شَفَقَةَ يَخْلُصُ الْمَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُشْفِقٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ يَنْبغِي أَنْ نَكُونَ فَوْقَكَ ، انْتَقِلْ إِلَى الْغُرْفَةِ ، فَأَمَرَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَتَاعِهِ فَنُقِلَ ، وَمَتَاعُهُ قَلِيلٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتَ تُرْسِلُ إِلَيَّ بالطَّعَامِ ، فَأَنْظُرُ فَإِذَا رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابعِكَ وَضَعْتُ يَدِي فِيهِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ هَذَا الطَّعَامُ الَّذِي أَرْسَلْتَ بهِ إِلَيَّ فَنَظَرْتُ فِيهِ ، فَلَمْ أَرَ فِيهِ أَثَرَ أَصَابعِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلْ ، إِنَّ فِيهِ بصَلًا ، فَكَرِهْتُ أَنْ آكُلَهُ مِنْ أَجْلِ الْمَلَكِ الَّذِي يَأْتِينِي ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَكُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر کی نچلی منزل میں فروکش ہوئے اور میں بالا خانے میں رہتا تھا ایک دن میرے کمرے میں پانی گرگیا ، تو میں اور ام ایوب ایک چادر لے کر پانی خشک کرنے لگے تاکہ وہ چھت سے ٹپک کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ گرنے لگے پھر میں ڈرتا ڈرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بات مناسب نہیں ہے کہ ہم آپ کے اوپر رہیں آپ اوپر منتقل ہوجائیے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر آپ کا سامان " جو یوں بھی بہت تھوڑا تھا " اوپر منتقل کردیا گیا۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے پہلے جو کھانا بھجواتے تھے میں اسے دیکھتا تھا اور جہاں آپ کی انگلیوں کے نشانات محسوس ہوتے میں اپنا ہاتھ وہیں رکھتا تھا لیکن آج جو کھانا آپ نے مجھے بھجوایا ہے اس میں دیکھنے کے بعد بھی مجھے آپ کی انگلیوں کے نشانات نظر نہیں آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات صحیح ہے دراصل اس میں پیاز تھا جسے کھانا مجھے پسند نہیں ہے جس کی وجہ وہ فرشتہ ہے جو میرے پاس آتا ہے البتہ تم اسے کھاسکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23571
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عِمْرَانَ بنِ أَبي يَحْيَى ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ كَعْب بنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَمَسَّ مِنْ طِيب إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ، وَلَبسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابهِ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيَرْكَعَ إِنْ بدَا لَهُ ، وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بيْنَهَا وَبيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " ، وقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ : إِنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ كَعْب بنِ مَالِكٍ السُّلَمِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب صَاحِب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " ، وَزَادَ فِيهِ ، " ثُمَّ خَرَجَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد (رح) سے عرض کیا کہ ایک کہتا ہے جو شخص مغرب کے بعد مسجد ہی میں دو رکعتیں پڑھتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ گھر میں پڑھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ گھر کی نمازوں میں سے ہے انہوں نے پوچھا کہ یہ کون کہتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ محمد بن عبدالرحمن انہوں نے فرمایا خوب کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23572
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بنُ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيْنَ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءِ بجَمْعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے خوشبو یا تیل لگائے پھر جمعہ کے لئے آئے مسجد پہنچ کر وقت ہو تو نماز پڑھے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی کو تکلیف نہ دے جب امام نکل آئے تو خاموش رہے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1674، م: 1287
حدیث نمبر: 23573
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ مُبارَكٍ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي الْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ بإِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 23574
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبا أَيُّوب َنَزَعَ خُفَّيْهِ ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا " ، وَلَكِنْ حُبب إِلَيَّ الْوُضُوءُ.
مولانا ظفر اقبال
علی بن مدرک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو وضو کے دوران موزے اتارتے ہوئے دیکھا لوگ بھی انہیں تعجب سے دیکھنے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے البتہ مجھے پاؤں دھونا زیادہ اچھا لگتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23575
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ السَّائِبةِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سُعَادَ وَكَانَ مَرْضِيًّا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوب غسل خروج منیٰ پر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن السائبة وعبدالرحمن بن سعاد
حدیث نمبر: 23576
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يَرْوِيهِ , قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6237، م: 2560
حدیث نمبر: 23577
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ ، فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا ، وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّب " ، قَالَ أَبو أَيُّوب : فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ ، وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 144، م: 264