حدیث نمبر: 23498
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عُثْمَانَ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ جُبيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عِظْنِي وَأَوْجِزْ ، فَقَالَ : " إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ ، وَلَا تَكَلَّمْ بكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا ، وَاجْمَعْ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيْ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح پڑھو جیسے رخصتی کی نماز پڑھ رہے ہو کوئی ایسی بات منہ سے مت نکالو جس پر کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ان سے آس ہٹا کر ایک طرف رکھ دو ۔
حدیث نمبر: 23499
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، قَالَ : كُنَّا فِي الْبحْرِ وَعَلَيْنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ ، وَمَعَنَا أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ ، فَمَرَّ بصَاحِب الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبيَ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبكِي ، فَقَالَ : مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟ قَالُوا : فَرَّقُوا بيْنَهَا وَبيْنَ وَلَدِهَا , قَالَ : فَأَخَذَ بيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا ، فَانْطَلَقَ صَاحِب الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبدِ اللَّهِ بنِ قَيْسٍ ، فَأَخْبرَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ فَرَّقَ بيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا ، فَرَّقَ اللَّهُ بيْنَهُ وَبيْنَ الْأَحِبةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن حبلی (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سمندری سفر پر جا رہے تھے ہمارے امیر عبداللہ بن قیس خزاری تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تقسیم کنندہ کے پاس سے گذرے تو اس نے قیدیوں کو ایک جانب کھڑا کر رکھا تھا جن میں ایک عورت رو رہی تھی حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس عورت کا کیا مسئلہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے اس کے بیٹے سے انہوں نے جدا کردیا ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا یہ دیکھ کر تقسیم کنندہ شخص عبداللہ بن قیس فزاری کے پاس چلا گیا اور انہیں یہ بات بتائی عبداللہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔
حدیث نمبر: 23500
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ عَبدِ رَبهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنِي أَبو سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابنَ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الْأَمْصَارُ ، وَسَيَضْرِبونَ عَلَيْكُمْ فِيهَا بعُوثًا ، يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ الْبعْثَ ، فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبائِلِ يَقُولُ : مَنْ أَكْفِيهِ بعْثَ كَذَا وَكَذَا ، أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہوجائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چناچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں ؟ یاد رکھو ! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔
حدیث نمبر: 23501
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ هُو ابنُ برِّيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حَرْب الْخَوْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ يَحْيَى بنِ جَابرٍ الطَّائِيِّ ، أَخْبرَنِي ابنُ أَخِي أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيّ أَنَّهُ كَتَب إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب يُخْبرُهُ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23502
حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَبو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جَاءَ يَعْبدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بهِ شَيْئًا ، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ ، وَيَجْتَنِب الْكَبائِرَ ، فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ " ، وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبائِرُ ، قَالَ : " الْإِشْرَاكُ باللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ ، وَفِرَارٌ يَوِمَ الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 23503
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بنِ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بنِ عُبيْدٍ ، أَنَّ أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نماز ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 23504
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ هُبيْرَةَ ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، أَنَّ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بقَصْعَةٍ فِيهَا بصَلٌ ، فَقَالَ : " كُلُوا " ، وَأَبى أَنْ يَأْكُلَ ، وَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں پیاز تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے تم کھالو اور خود کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 23505
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو قَبيلٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ نَاشِرٍ مِنْ بنِي سَرِيعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا رُهْمٍ قَاصَّ أَهْلِ الشَّامِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّ رَبكُمْ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَنِي بيْنَ سَبعِينَ أَلْفًا يَدْخَلُونَ الْجَنَّةَ بغَيْرِ حِسَاب ، وَبيْنَ الْخَبيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي " ، فَقَالَ لَهُ بعْضُ أَصْحَابهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُخَبئُ ذَلِكَ رَبكَ عَزَّ وَجَلَّ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبرُ ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبي عَزَّ وَجَلَّ زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبعِينَ أَلْفًا وَالْخَبيئَةُ عِنْدَهُ " ، قَالَ أَبو رُهْمٍ : يَا أَبا أَيُّوب ، وَمَا تَظُنُّ خَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بأَفْوَاهِهِمْ ، فَقَالُوا : وَمَا أَنْتَ وَخَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَقَالَ أَبو أَيُّوب : دَعُوا الرَّجُلَ عَنْكُمْ أُخْبرْكُمْ عَنْ خَبيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَظُنُّ ، بلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ : إِنَّ خَبيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : رَب مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ ، مُصَدِّقًا لِسَانَهُ قَلْبهُ ، أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے رب نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا ہے یا تو ستر ہزار آدمی جنت میں بلا حساب کتاب مکمل معافی کے ساتھی داخل ہوجائیں یا میں اپنی امت کے متعلق اپنا حق محفوظ کرلوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اللہ کے یہاں کسی بات کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندرچلے گئے تھوڑی دیر بعد " اللہ اکبر " کہتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا میرے پروردگار نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کے یہاں میرا حق بھی محفوظ ہے۔ راوی حدیث ابورہم نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوایوب آپ کے خیال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ محفوظ حق کیا ہے ؟ یہ سن کر لوگوں نے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محفوظ حق سے کیا غرض ہے ؟ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے چھوڑ دو میں تمہیں اپنے اندازے بلکہ یقین کے مطابق بتاتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ محفوظ حق یہ ہے کہ پروردگار ! جو شخص بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو تو اسے جنت میں داخلہ عطا فرما۔
حدیث نمبر: 23506
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، أَخْبرَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، أَنَّ أَبا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَبدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بهِ شَيْئًا ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَآتَى الزَّكَاةَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَاجْتَنَب الْكَبائِرَ ، فَلَهُ الْجَنَّةُ " ، أَوْ " دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، فَسَأَلَهُ مَا الْكَبائِرُ ، فَقَالَ : " الشِّرْكُ باللَّهِ ، وَقَتْلُ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 23507
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بنُ عَدِيٍّ ، أَخْبرَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبيْرِ بنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يُؤْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَعَهُمْ أَبو أَيُّوب ، فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبي أَيُّوب ، قَالَ : فَدَخَلَ أَبو أَيُّوب يَوْمًا ، فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بصَلٌ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَرْسَلَ بهِ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : فَاطَّلَعَ أَبو أَيُّوب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ فِيهَا بصَلًا " ، قَالَ : وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبصَلُ ؟ قَالَ : " بلَى ، فَكُلُوهُ ، وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ " ، وَقَالَ حَيْوَةُ : " إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار نے اس بات پر قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فروکش ہوں گے وہ قرعہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے نام نکل آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھرلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام) )
حدیث نمبر: 23508
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبارَكْ لَكُمْ فِيهِ " . حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 23509
حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بقِيَّةُ عَنْ بحِيرٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23510
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ يَعْنِي ابنَ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبارَكْ لَكُمْ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 23511
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا عَبدُ اللَّهِ ، أَخْبرَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ , عَنْ عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي ، وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے اور قاسم جب کوئی چیز تقسیم کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 23512
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ حَدَثَهُ , أَنَّهُمْ ذَكَرُوا يَوْمًا مَا يُنْتَبذُ فِيهِ ، فَتَنَازَعُوا فِي الْقَرْعِ ، فَمَرَّ بهِمْ أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ إِنْسَانًا ، فَقَالَ : يَا أَبا أَيُّوب ، الْقَرْعُ يُنْتَبذُ فِيهِ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُزَفَّتٍ يُنْتَبذُ فِيهِ " ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَرْعَ ، فَرَدَّ أَبا أَيُّوب مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ.
مولانا ظفر اقبال
ابواسحق کہتے ہیں کہ ایک دن لوگ اس بات کا مذاکرہ کرنے لگے کہ کن برتنوں میں نبیذ بنائی جاسکتی ہے دوران گفتگو کدو کے برتن میں نبیذ سے متعلق اختلاف رائے ہوگیا اتفاقاً وہاں سے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا تو انہوں نے ایک آدمی بھیج کر اس کے متعلق دریافت کیا کہ اے ابوایوب ! کدو کے برتن میں نبیذ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اس برتن میں نبیذ پینے یا بنانے سے منع فرمایا ہے جسے لک لگی ہوئی ہو سائل نے کدو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا۔
حدیث نمبر: 23513
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ يَحْصَب ، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ فَرَّقَ بيْنَ الْوَلَدِ وَوَالِدِهِ فِي الْبيْعِ ، فَرَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بيْنَهُ وَبيْنَ أَحِبتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص والد اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔
حدیث نمبر: 23514
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ مَوْلَى أَبي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ وَهُوَ بمِصْرَ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بهَذِهِ الْكَرَابيسِ يَعْنِي الْكُنُفَ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ذَهَب أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ ، أَوْ الْبوْلِ ، فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ واللہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔
حدیث نمبر: 23515
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ قَيْسٍ قَاصُّ عُمَرَ بنِ عَبدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ : قَدْ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبونَ ، لَخَلَقَ اللَّهُ تَبارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا يُذْنِبونَ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جو اب تک میں نے تم سے چھپا رکھی تھی اور وہ یہ کہ اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کریں گے اور اللہ انہیں بخشے گا۔
حدیث نمبر: 23516
حَدَّثَنَا أَبو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبرَنَا عَبادُ بنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبي الْوَرْدِ ، عَنْ أَبي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ لِي : " يَا أَبا أَيُّوب ، أَلَا أُعَلِّمُكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا مِنْ عَبدٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبحُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، إِلَّا كَتَب اللَّهُ لَهُ بهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَإِلَّا كُنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَدْلَ عَشْرِ رِقَاب مُحَرَّرِينَ ، وَإِلَّا كَانَ فِي جُنَّةٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَلَا قَالَهَا حِينَ يُمْسِي إِلَّا كَذَلِكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبي مُحَمَّدٍ : أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ أَبي أَيُّوب ؟ قَالَ : آللَّهِ لَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبي أَيُّوب يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب ! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 23517
حَدَّثَنَا أَبو سَعِيدٍ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَابتٌ يَعْنِي أَبا زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبي أَيُّوب ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ ، فَنَزَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ ، وَأَبو أَيُّوب فِي الْعُلُوِّ ، فَانْتَبهَ أَبو أَيُّوب ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَتَحَوَّلَ فَباتُوا فِي جَانِب ، فَلَمَّا أَصْبحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السُّفْلُ أَرْفَقُ بي " ، فَقَالَ أَبو أَيُّوب : لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا ، فَتَحَوَّلَ أَبو أَيُّوب فِي السُّفْلِ ، وَالنَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ ، فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبعَثُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَّبعُ أَثَرَ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرِ أَصَابعِهِ ، فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ ، فَأَرْسَلَ بهِ إِلَيْهِ ، فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ : لَمْ يَأْكُلْ ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْرَهُهُ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ ، أَوْ مَا كَرِهْتَهُ ، وَكَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں فروکش ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کی منزل میں رہتے اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کی منزل میں ایک مرتبہ رات کے وقت انہیں خیال آیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر ہو کر چلتے ہیں چناچہ وہ ساری رات انہوں نے ایک کونے میں گذار دی صبح ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نچلی منزل زیادہ موافق ہے وہ کہنے لگے کہ میں تو اس چھت پر نہیں چڑھوں گا جس کے نیچے آپ ہوں اس طرح حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام) )
حدیث نمبر: 23518
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِبرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ يَزِيدَ بنِ جَابرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبحَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبعِ رِقَاب ، وَكُتِب لَهُ بهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ بهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ بهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِذَا قَالَهَا بعْدَ الْمَغْرِب فَمِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب ! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 23519
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبرَنَا إِسْحَاقُ ابنُ أَخِي أَنَسٍ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّهُ قَالَ : مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ بكَرَابيسِ مِصْرَ وَقَدْ " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبلَ الْقِبلَتَيْنِ وَنَسْتَدْبرَهُمَا " ، وقَالَ هَمَّامٌ : يَعْنِي الْغَائِطَ وَالْبوْلَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ واللہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔
حدیث نمبر: 23520
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي الْخُرَاسَانِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عَبدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابنَ شِهَاب ، يَقُولُ : أَشْهَدُ عَلَى عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَه ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا ، إِلَّا كَتَب اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک پودا لگاتا ہے تو اس سے جتنا پھل نکلتا ہے اللہ اس شخص کے لئے اتنا ہی اجر لکھ دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 23521
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ أَسْلَمَ أَبي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بادِرُوا بصَلَاةِ الْمَغْرِب قَبلَ طُلُوعِ النَّجْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نماز مغرب ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔
حدیث نمبر: 23522
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ رَاشِدٍ الْيَافِعِيِّ ، عَنْ حَبيب بنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَرَّب طَعَامًا ، فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ برَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا ، وَلَا أَقَلَّ برَكَةً فِي آخِرِهِ ، قُلْنَا : كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا ، ثُمَّ قَعَدَ بعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ ، فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر: 23523
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبو أَيُّوب ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ ، فَقَالَ لَهُ أَبو أَيُّوب : إِذَا مِتُّ فَاقْرَءُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ ، فَأَخْبرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا ، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ " ، وَلْيَنْطَلِقُوا بي فَلْيَبعُدُوا بي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا ، فَحَدَّثَ النَّاسُ لَمَّا مَاتَ أَبو أَيُّوب ، فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ ، وَانْطَلَقُوا بجِنَازَتِهِ.
مولانا ظفر اقبال
اہل مکہ میں سے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی جہاد کے لئے شریک تھے یزید مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ جب حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو یزید نے لوگوں کو یہ باتیں بتائیں لوگوں نے اسلحہ زیب تن کیا اور ان کا جنازہ لے کر چل پڑے۔
حدیث نمبر: 23524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ مَعْمَرُ بنُ رَاشِدٍ ، أَخْبرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ ، فَلَا يَسْتَقْبلَنَّ الْقِبلَةَ ، وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّب " ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23525
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ ، وَبعَثَ بفَضْلِهِ إِلَيَّ ، وَإِنَّهُ بعَثَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ، فِيهَا ثُومٌ ، فَسَأَلْتُهُ : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔
حدیث نمبر: 23526
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ نَالَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَنَالَ ، ثُمَّ يَبعَثُ بسَائِرِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب وَفِيهِ أَثَرُ يَدِهِ ، فَأُتِيَ بطَعَامٍ فِيهِ الثُّومُ ، فَلَمْ يَطْعَمْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، وَبعَثَ بهِ إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ ، فَقَالَ : ادْنُوهُ مِنِّي ، فَإِنِّي أَحْتَاجُ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ، كَفَّ يَدَهُ مِنْهُ ، وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، بأَبي وَأُمِّي ، هَذَا الطَّعَامُ لَمْ تَأْكُلْ مِنْهُ ، آكُلُ مِنْهُ ؟ قَالَ : " فِيهِ تِلْكَ الثُّومَةُ فَيَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " ، قَالَ : فَآكُلُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَكُلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام) )
حدیث نمبر: 23527
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ وَاصِلٍ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، وعَنْ عَطَاءٍ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَبذَا الْمُتَخَلِّلُونَ " ، قِيلَ : وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ ؟ قَالَ : " فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خلال کرنے والے لوگ کیا خوب ہیں ؟ کسی نے پوچھا کہ خلال کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو اور کھانے کے دوران خلال کرنے والے۔
حدیث نمبر: 23528
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، يَذْكُرُ فِيهِ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، يَلْتَقِيَانِ ، فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبدَأُ بالسَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے کہ ایک دوسرے سے ملیں تو وہ ادھر منہ کرلے اور وہ ادھر اور ان دونوں میں سے بہترین وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔
حدیث نمبر: 23529
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ ، وَابنُ عَباسٍ ، وَقَالَ مَرَّةً : امْتَرَى فِي الْمُحْرِمِ يَصُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ، قَالَ : فَأَرْسَلُوا إِلَى أَبي أَيُّوب : كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا ، مُقْبلًا وَمُدْبرًا " ، وَصَفَهُ سُفْيَانُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی۔
حدیث نمبر: 23530
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بنِ بشِيرٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اس رشتہ دار پر کیا جائے جو اس سے پہلو تہی کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 23531
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ السَّائِبةِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ سُعَادَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وجوب غسل خروج منیٰ پر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 23532
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عُبيْدَةُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بنِ مِنْجَاب ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : أَدْمَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدْمَنْتَهَا ؟ قَالَ : " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى تُصَلَّى الظُّهْرُ ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ ؟ قَالَ : قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ ؟ قَالَ : " لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ ان چاروں رکعتوں میں قرأت فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں نے پوچھا کہ کیا ان میں دو رکعتوں پر سلام بھی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 23533
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، ثُمَّ أَتْبعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ ، فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔
حدیث نمبر: 23534
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب غَازِيًا ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِب ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبةُ ؟ فَقَالَ : شُغِلْنَا ، قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ مَا بي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزَالُ أُمَّتِي بخَيْرٍ ، أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِب إِلَى أَنْ يَشْتَبكَ النُّجُومُ " . .
مولانا ظفر اقبال
مرثد بن عبداللہ یزنی (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں مصر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی نماز سے فراغت کے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی ؟
حدیث نمبر: 23535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبو أَيُّوب ، وَعُقْبةُ بنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَى مِصْرَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23536
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا ، وَلْيُشَرِّقْ وَلْيُغَرِّب " قَالَ أَبو أَيُّوب : فَلَمَّا أَتَيْنَا الشَّامَ ، وَجَدْنَا مَقَاعِدَ تَسْتَقْبلُ الْقِبلَةَ ، فَجَعَلْنَا نَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23537
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بعَثَ بفَضْلِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب ، قَالَ : فَأُتِيَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ فِيهَا ثُومٌ ، فَبعَثَ بهَا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ رِيحَهُ " ، قَالَ : فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔
…