حدیث نمبر: 23440
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ يَسْأَلُ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ ؟ قَالُوا : نَحْنُ سَمِعْنَاهُ ، قَالَ : لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ ؟ قَالُوا : أَجَلْ ، قَالَ : لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ ، تِلْكَ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبحْرِ ؟ قَالَ : فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنَا ذَاكَ ، قَالَ : أَنْتَ لِلَّهِ أَبوكَ ! قَالَ : قُلْتُ : " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوب عَرْضَ الْحَصِيرِ ، فَأَيُّ قَلْب أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بيْضَاءُ ، وَأَيُّ قَلْب أَبشَرَ بهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ ، حَتَّى تَصِيرَ الْقُلُوب عَلَى قَلْبيْنِ أَبيَضُ مِثْلُ الصَّفَا ، لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبدٌّ كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِب مِنْ هَوَاهُ " ، وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ بيْنَهُ وَبيْنَهَا بابا مُغْلَقًا ، يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ كَسْرًا ، قَالَ عُمَرُ : كَسْرًا لَا أَبا لَكَ ! قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ كَانَ لَعَلَّهُ أَنْ يُعَادَ فَيُغْلَقَ ، قَالَ : قُلْتُ : لَا بلْ كَسْرًا ، قَالَ : وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْباب رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ ، حَدِيثًا لَيْسَ بالْأَغَالِيطِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے ان کا کہنا ہے کل گذشتہ جب ہم ان کے پاس بیٹھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کس نے فتنوں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم سب ہی نے سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید تم وہ فتنہ سمجھ رہے ہو جو آدمی کے اہل خانہ اور مال سے متعلق ہوتا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا اس کا کفارہ تو نماز روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں ان فتنوں کے بارے تم میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح پھیل جائیں گے ؟ اس پر لوگ خاموش ہوگئے اور میں سمجھ گیا کہ اس کا جواب وہ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں چناچہ میں نے عرض کیا کہ میں نے وہ ارشاد سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا یقینا تم نے ہی سنا ہوگا میں نے عرض کیا کہ دلوں کے سامنے فتنوں کو اس طرح پیش کیا جائے گا جیسے چٹائی کو پیش کیا جائے جو دل ان سے نامانوس ہوگا اس پر ایک سفید نقطہ پڑجائے گا اور جو دل اس کی طرف مائل ہوجائے گا اس پر ایک کالا دھبہ پڑجائے گا حتیٰ کہ دلوں کی دو صورتیں ہوجائیں گی ایک تو ایسا سفید جیسے چاندی اسے کوئی فتنہ " جب تک آسمان و زمین رہیں گے " نقصان نہ پہنچا سکے گا اور دوسرا ایسا کالا سیاہ جیسے کوئی شخص کٹورے کو اوندھا دے اور ہتھیلی پھیلا دے ایسا شخص کسی نیکی کو نیکی اور کسی گناہ کو گناہ نہیں سمجھے گا سوائے اسی چیز کے جس کی طرف اس کی خواہش کا میلان ہو۔
حدیث نمبر: 23441
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ آخِرَ مَا تَعَلَّقَ بهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ كَلَامِ النُّبوَّةِ : إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ اور لوگوں کو پہلے امر نبوت میں سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہے کرو۔
حدیث نمبر: 23442
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا شَرِيكُ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ : قُلْتُ يَعْنِي لِحُذَيْفَةَ : يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ ، تَسَحَّرْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَكَانَ الرَّجُلُ يُبصِرُ مَوَاقِعَ نَبلِهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ " .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کس وقت سحری کھائی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے ان سے پوچھا کیا اس وقت آدمی اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس وقت تو دن ہوتا تھا البتہ سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 23443
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ : " أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، وَالْحَاشِرُ ، وَالْمُقَفَّى ، وَنَبيُّ الرَّحْمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد ہوں ' احمد ہوں ' حاشر ' مقفی اور نبی الرحمۃ ہوں۔ ﷺ
حدیث نمبر: 23444
حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْبغِي لِمُسْلِمٍ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ " ، قِيلَ : وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کے لئے اپنے آپ کو ذلیل کرنا جائز نہیں ہے کسی نے پوچھا کہ اپنے آپ کو ذلیل سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی آزمائشوں کے لئے پیش کرے جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔
حدیث نمبر: 23445
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبو بكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ : بيْنَمَا أَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، وَنَبيُّ الرَّحْمَةِ ، وَنَبيُّ التَّوْبةِ ، وَالْحَاشِرُ ، وَالْمُقَفَّى ، وَنَبيُّ الْمَلَاحِمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں محمد ہوں، احمد ہوں، حاشر، مقفی اور نبی الرحمۃ ہوں۔ ﷺ
حدیث نمبر: 23446
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبةَ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بنُ حَذْفٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشْرَكَ بيْنَ الْمُسْلِمِينَ الْبقَرَةَ عَنْ سَبعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مسلمانوں کو ایک گائے میں شریک کردیا۔
حدیث نمبر: 23447
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّ جِبرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حِجَارَةِ الْمِرَاءِ ، فَقَالَ : " يَا جِبرِيلُ ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ : إِلَى الشَّيْخِ ، وَالْعَجُوزِ ، وَالْغُلَامِ ، وَالْجَارِيَةِ ، وَالشَّيْخِ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابا قَطُّ ، فَقَالَ : إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل ! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 23448
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبدِ اللَّهِ الْجَابرُ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بالْمَدَائِنِ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا كَبرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَكَبرَ خَمْسًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ : مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا " كَبرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے شہر مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عیسیٰ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی مجھے وہم ہوا ہے میں نے اسی طرح تکبیریں کہی ہیں جیسے میرے آقا اور ولی نعمت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔
حدیث نمبر: 23449
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ ؟ قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، اقْرَأْ كِتَاب اللَّهِ وَاعْمَلْ بمَا فِيهِ " ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ إِنْ كَانَ خَيْرًا اتَّبعْتُهُ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا اجْتَنَبتُهُ ، فَقُلْتُ : هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ عَمَّاءُ صَمَّاءُ ، وَدُعَاةُ ضَلَالَةٍ عَلَى أَبوَاب جَهَنَّمَ ، مَنْ أَجَابهُمْ قَذَفُوهُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے جو شخص ان کی دعوت کو قبول کرلے گا وہ اسے جہنم میں گرا دیں گے۔
حدیث نمبر: 23450
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، عَنْ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 23451
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمًا ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " إِنَّ حَوْضَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَرَابهُ أَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَطْيَب رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، وَإِنَّ آنِيَتَهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، أَخْبرَنَا كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ أَتَاهُ بالْمَدَائِنِ ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : مَا فَعَلَ قَوْمُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَنْ أَيِّ بالِهِمْ تَسْأَلُ ؟ قَالَ : مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي عُثْمَانَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ ، وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش (رح) کہتے ہیں کہ جس دور میں فتنہ پرور لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے مدائن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے پوچھا اے ربعی ! تمہاری قوم کا کیا بنا ؟ میں نے پوچھا کہ آپ ان کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کون کون روانہ ہوئے ہیں ؟ میں نے انہیں ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیئے وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جماعت کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے امیر کو ذلیل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 23453
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بنُ عُتَيْبةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بنِ حَذْفٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " شَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بيْنَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْبقَرَةِ عَنْ سَبعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مسلمانوں کو ایک گائے میں شریک کردیا۔
حدیث نمبر: 23454
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمِ بنِ عَبدٍ السَّلُولِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعْيدِ بنِ الْعَاصِ بطَبرِسْتَانَ ، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، " فَأْمُرْ أَصْحَابكَ يَقُومُونَ طَائِفَتَيْنِ ، طَائِفَةٌ خَلْفَكَ ، وَطَائِفَةٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ ، فَتُكَبرُ وَيُكَبرُونَ جَمِيعًا ، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ وَيَسْجُدُ مَعَكَ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ ، وَالطَّائِفَةُ الَّتِي بإِزَاءِ الْعَدُوِّ قِيَامٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ يَسْجُدُونَ ، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ هَؤُلَاءِ وَيَتَقَدَّمُ الْآخَرُونَ ، فَقَامُوا فِي مَصَافِّهِمْ ، فَتَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بإِزَاءِ الْعَدُوِّ ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدُوا ، ثُمَّ سَلَّمْتَ وَسَلَّمَ بعْضُهُمْ عَلَى بعْضٍ ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابكَ إِنْ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ " .
مولانا ظفر اقبال
سلیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھنے کا طریقہ آپ لوگوں میں سے کسے یاد ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یاد ہے تم اپنے ساتھیوں کو دو گرہوں میں کھڑے ہونے کا حکم دو ، جن میں سے ایک تمہارے پیچھے کھڑا ہو اور ایک دشمن کے سامنے پھر تم تکبیر کہو اور وہ سب بھی تکبیر کہیں پھر تم رکوع کرو وہ سب بھی رکوع کریں پھر تم سر اٹھاؤ اور وہ سب بھی سر اٹھائیں، پھر تم سجدہ کرو اور تمہارے قریب والی صف بھی سجدہ کرے اور دشمن کے سامنے والی صف کے لوگ کھڑے رہیں جب تم سجدے سے سر اٹھا لو تو وہ بھی سجدہ کرلیں پھر پہلی صف والے پیچھے اور پیچھے والے آگے آجائیں اور ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں اور دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھ کر سب سلام پھیر دیں اور اپنے ساتھیوں سے کہہ دو کہ اگر دشمن نماز کے دوران حملہ کر دے تو ان کے لئے قتال اور بات چیت حلال ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 23455
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَبيب بنُ سُلَيْمٍ الْعَبسِيُّ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا مَاتَ لَهُ مَيِّتٌ قَالَ : لَا تُؤْذِنُوا بهِ أَحَدًا ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی مرگ ہوجاتی تو وہ کہتے کہ کسی کو اس کی اطلاع نہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ " نعی " میں شمار نہ ہو جس سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 23456
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا ، وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ : لَا قَدَرَ ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ ، فَلَا تَعُودُوهُ ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ ، فَلَا تَشْهَدُوهُ ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر امت کے مجوسی ہوتے ہیں اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہوں گے جو یہ کہتے ہوں گے کہ تقدیر کچھ نہیں ہے سوائے ایسے لوگوں میں اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو تم اس کی بیمار پرسی نہ کرو کوئی مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک نہ ہو اور یہ دجال کا گروہ ہے اللہ پر حق ہے کہ انہیں دجال کے ساتھ ملا دے۔
حدیث نمبر: 23457
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَابرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبرِ ، قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ ، فَجَعَلَ يَرُدُّ بصَرَهُ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ ، وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُخْبرُكُمْ بشَرِّ عِبادِ اللَّهِ ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبرُ ، أَلَا أُخْبرُكُمْ بخَيْرِ عِبادِ اللَّهِ ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنازے میں تھے جب ہم قبر کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے بیٹھ کر بار بار اس میں دیکھنے لگے پھر فرمایا کہ مسلمان کو قبر میں ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے جس سے اس کے سارے بوجھ دور ہوجاتے ہیں اور کافر پر آگ کو بھر دیا جاتا ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ کا بدترین بندہ کون ہے ؟ ہر تندخو اور متکبر۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر وہ کمزور آدمی جسے دبایا جاتا ہو، پرانی چادروں والا ہو، لیکن ہو ایسا کہ اگر اللہ کے نام پر کسی کام کی قسم کھالے تو وہ اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے۔
حدیث نمبر: 23458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا وَائِلٍ يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى التَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 23459
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ : " باسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا " ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "
حدیث نمبر: 23460
حَدَّثَنَا أَبو الْيَمَانِ ، قَالَ : وَأَخبرنَا شُعَيْب ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ أَبو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ ، يَقُولُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ بكُلِّ فِتْنَةٍ وَهِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ ، وَمَا بي أَنْ يَكُونَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْ غَيْرِي بهِ ، وَلَكِنْ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِمْ عَنِ الْفِتَنِ ، قَالَ وَهُوَ يَعُدُّهَا : " مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا ، وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ ، مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبارٌ " ، قَالَ حُذَيْفَةُ : فَذَهَب أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا ! میں اب سے لے کر قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ایسا تو نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ کوئی بات مجھے بتائی ہو جو میرے علاوہ کسی اور کو نہ بتائی ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مجلس میں یہ باتیں بیان فرمائی تھیں میں اس میں موجود تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کے متعلق سوالات پوچھے جا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شمار کروا رہے تھے ان میں تین فتنے ایسے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کچھ گرمیوں کی ہواؤں جیسے ہوں گے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ اس مجلس کے تمام شرکاء دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔
حدیث نمبر: 23461
حَدَّثَنَا عُبيْدَةُ بنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 23462
حَدَّثَنَا مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ قَيْسِ بنِ أَبي مُسْلِمٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ : ضَرَب لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالًا وَاحِدًا وَثَلَاثَةً وَخَمْسَةً وَسَبعَةً وَتِسْعَةً وَأَحَدَ عَشَرَ ، قَالَ : فَضَرَب لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا مَثَلًا وَتَرَكَ سَائِرَهَا ، قَالَ : " إِنَّ قَوْمًا كَانُوا أَهْلَ ضَعْفٍ وَمَسْكَنَةٍ قَاتَلَهُمْ أَهْلُ تَجَبرٍ وَعَدَاءٍ ، فَأَظْهَرَ اللَّهُ أَهْلَ الضَّعْفِ عَلَيْهِمْ ، فَعَمَدُوا إِلَى عَدُوِّهِمْ فَاسْتَعْمَلُوهُمْ وَسَلَّطُوهُمْ ، فَأَسْخَطُوا اللَّهَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک، تین، پانچ، سات، نو اور گیارہ ضرب الامثال بیان فرمائی ہیں، جن میں سے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرما دیں اور باقی چھوڑ دیں اور فرمایا کہ ایک قوم تھی جس کے لوگ کمزور اور مسکین تھے ان سے ایک طاقتور اور کثیر تعداد والی قوم نے قتال کیا تو اللہ نے ان کمزوروں کو غلبہ عطا فرما دیا اور وہ لوگ اپنے دشمن کی طرف بڑھے ان پر اپنے حکمران مقرر کئے اور ان پر تسلط جمایا اور ان پر اللہ کی ناراضگی کا سبب بن گئے تاآنکہ وہ اللہ سے جاملے۔
حدیث نمبر: 23463
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُصْعَب بنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ نُعَيْمِ بنِ أَبي هِنْدٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ وَإِلَى أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ : حَدِّثْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا ، بلْ حَدِّثْ أَنْتَ ، فَحَدَّثَ أَحَدُهُمَا صَاحِبهُ ، وَصَدَّقَهُ الْآخَرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُؤْتَى برَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ : انْظُرُوا فِي عَمَلِهِ ، فَيَقُولُ : رَب مَا كُنْتُ أَعْمَلُ خَيْرًا ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لِي مَالٌ وَكُنْتُ أُخَالِطُ النَّاسَ ، فَمَنْ كَانَ مُوسِرًا يَسَّرْتُ عَلَيْهِ ، وَمَنْ كَانَ مُعْسِرًا أَنْظَرْتُهُ إِلَى مَيْسَرَةٍ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا أَحَقُّ مَنْ يَسَّرَ ، فَغَفَرَ لَهُ " ، فَقَالَ : صَدَقْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا . ثُمَّ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ برَجُلٍ قَدْ قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ ، فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي ، ثُمَّ اسْتَقْبلُوا بي رِيحًا عَاصِفًا ، فَاذْرُونِي ، فَيَجْمَعُهُ اللَّهُ تَبارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ لَهُ : لِمَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : مِنْ خَشْيَتِكَ ، قَالَ : فَيَغْفِرُ لَهُ " ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں وہ ہمیں بھی سنائیے چناچہ ان میں سے ایک نے یہ حدیث سنائی اور دوسرے نے ان کی تصدیق کی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے اعمال دیکھو وہ کہے گا کہ پروردگار ! میں کوئی نیک کام نہیں کرتا تھا البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے پاس مال تھا اور میں لوگوں سے مل کر تجارت کرتا تھا جس کے پاس کشادگی ہوتی میں اس پر آسانی کردیتا اور جو تنگدست ہوتا میں اسے سہولت تک مہلت دے دیتا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا سہولت دینے کا میں زیادہ حق دار ہوں چناچہ اس کی بخشش ہوگئی دوسرے صحابی نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا جس نے مرتے وقت اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیناجب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا، دوسرے صحابی نے اس پر بھی ان کی تائید کی۔
حدیث نمبر: 23464
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبى زِيَادٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ بالْمَدَائِنِ ، فَاسْتَسْقَى ، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بإِنَاءٍ ، فَرَمَاهُ بهِ مَا يَأْلُو أَنْ يُصِيب بهِ وَجْهَهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلَا أَنِّي تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ، لَمْ أَفْعَلْ به هَذَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ ، وَأَنْ نَلْبسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ ، قَالَ : " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ " ، هَذَا آخِرُ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔