حدیث نمبر: 23400
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ : أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ " .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے ؟ انہوں نے فرمایا صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجالة ثقات لكنه قد خولف عاصم ابن بهدلة
حدیث نمبر: 23401
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ : اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ مِنْ دِهْقَانٍ أَوْ عِلْجٍ ، فَأَتَاهُ بإِنَاءٍ فِضَّةٍ ، فَحَذَفَهُ بهِ ، ثُمَّ أَقْبلَ عَلَى الْقَوْمِ اعْتَذَرَ اعْتِذَارًا ، وَقَالَ : إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ بهِ عَمْدًا ، لِأَنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ قَبلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبسِ الدِّيباجِ وَالْحَرِيرِ ، وَآنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ ، وَقَالَ : " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَهُوَ لَنَا فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5633، م: 2067
حدیث نمبر: 23402
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي ، فَقَالَ : " هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ، فَإِنْ أَبيْتَ فَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ ، فَإِنْ أَبيْتَ ، فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23403
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، قَالَ : قَالَ أَبو عَبدِ اللَّهِ لِأَبي مَسْعُودٍ ، أَوْ قَالَ أَبو مَسْعُودٍ لِأَبي عَبدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ : مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيَّ زَعَمُوا ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " بئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہ میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ آپ نے " لوگ کہتے ہیں " اس جملے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ انسان کی بدترین سواری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو قلابة لم يدرك أبا مسعود البدري
حدیث نمبر: 23404
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْعَيْزَارِ بنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : بتُّ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَقَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْب ، طَرَفُهُ عَلَيْهِ ، وَطَرَفُهُ عَلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 23405
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا ، فَأَخْبرَنَا بمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23406
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي مِجْلَزٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَلَسَ وَسْطَ حَلْقَةِ قَوْمٍ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَجْلِسُ وَسْطَ الْحَلْقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلون قرار دے دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23407
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : جَاءَ الْعَاقِب وَالسَّيِّدُ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : أَرْسِلْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأُرْسِلُ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا أَمِينًا أَمِينًا " ، قَالَ : فَجَثَا لَهَا أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّكَب ، قَالَ : فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ بنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
حدیث نمبر: 23408
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : أَخْبرْنَا عَنْ أَقْرَب النَّاسِ سَمْتًا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذْ عَنْه وَنَسْمَعْ مِنْهُ ، فَقَالَ : " كَانَ أَشْبهُ النَّاسِ سَمْتًا وَدَلًّا وَهَدْيًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابنَ أُمِّ عَبدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے حاصل کریں ان سے حدیث کی سماعت کریں ؟ انہوں نے فرمایا سیرت اور طور طریقوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ ابن مسعود تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23409
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ وَلِيدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَبلَغَهُ عَنِ الْمَاءِ قِلَّةٌ ، فَقَالَ : " لَا يَسْبقْنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور لوگوں سے فرما دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2779
حدیث نمبر: 23410
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي ، رَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، قَالَ : لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبرِيلُ بأَحْجَارِ المِرَاءِ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ ، فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ ، فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبةً عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل ! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي، ولم يتابع عليه بهذا اللفظ
حدیث نمبر: 23411
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ أَخِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بصَلَاتِهِ ، فَافْتَتَحَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بالْخَفِيَّةِ ، وَلَا بالرَّفِيعَةِ ، قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ ، فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْجَبرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " ، حَتَّى فَرَغَ إِلَى الطَّوْلِ وَعَلَيْهِ سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ " ، قَالَ عَبدُ الْمَلِكِ : هُوَ تَطَوُّعُ اللَّيْلِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں شریک ہوجاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت شروع کی تو آواز پست تھی اور نہ بہت اونچی بہترین قرأت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر ہمیں آیات الہیہ سناتے رہے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا پھر سر اٹھا کر رکوع کے بقدر کھڑے رہے اور " سمع اللہ لمن حمدہ " کہہ کر فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو طاقت اور سلطنت والا ہے کبریائی اور عظمت والا ہے یہاں تک کہ اس طویل نماز سے فارغ ہوئے تو رات کی تاریکی کچھ ہی باقی بچی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي حذيفة
حدیث نمبر: 23412
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ . وَوَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ ؟ قُلْتُ : أَنَا ، كَمَا قَالَهُ ، قَالَ : إِنَّكَ لَجَرِيءٌ عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ ، قُلْتُ : " فَتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ ، وَمَالِهِ ، وَوَلَدِهِ ، وَجَارِهِ ، يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ ، وَالصَّدَقَةُ ، وَالْأَمْرُ بالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " ، قَالَ : لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ ، وَلَكِنْ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبحْرِ ، قُلْتُ : لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ بيْنَكَ وَبيْنَهَا بابا مُغْلَقًا ، قَالَ : أَيُكْسَرُ أَوْ يُفْتَحُ ؟ قُلْتُ : بلْ يُكْسَرُ ، قَالَ : إِذًا لَا يُغْلَقُ أَبدًا ، قُلْنَا : أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنْ الْباب ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِحُذَيْفَةَ : يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ ، كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَا حَدَّثَهُ بهِ ؟ قُلْنَا : أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنْ الْباب ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بالْأَغَالِيطِ ، فَهِبنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نَسْأَلَهُ مَنْ الْباب ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : الْباب عُمَرُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ فتنوں سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تم میں سے کسے یاد ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح ارشاد فرمایا تھا مجھے اسی طرح یاد ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم تو بڑے بہادر ہو میں نے عرض کیا کہ اہل خانہ مال و دولت اور اولاد و پڑوسی کے متعلق انسان پر جو آزمائش آتی ہے اس کا کفارہ نماز زکوٰۃ امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے ہوجاتا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا میں تو اس فتنے کے متعلق پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح پھیل جائے گا میں نے عرض کیا امیرالمؤمنین ! آپ کو اس سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ حائل ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ دروازہ توڑاجائے گا یا کھولا جائے گا ؟ میں نے عرض کیا کہ اسے توڑ دیا جائے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر وہ کبھی بند نہ ہوگا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ دروازے کو جانتے تھے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں ! اسی طرح جیسے وہ جانتے تھے کہ دن کے بعد رات آتی ہے میں نے ان سے حدیث بیان کی تھی پہیلی نہیں بوجھی تھی پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا رعب ہمارے درمیان یہ پوچھنے میں حائل ہوگیا کہ وہ دروازہ " کون تھا چناچہ ہم نے مسروق سے کہا انہوں نے پوچھا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ دروازہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 525، م: 144
حدیث نمبر: 23413
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنَا أَبو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : أَخْبرْنَا برَجُلٍ قَرِيب الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ وَالدَّلِّ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَأْخُذَ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَقْرَب سَمْتًا ، وَهَدْيًا ، وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُوَارِيَهُ جِدَارُ بيْتِهِ مِنَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے حاصل کریں ان سے حدیث کی سماعت کریں ؟ انہوں نے فرمایا سیرت اور طور طریقوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ ابن مسعود تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23414
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ فَتَنَحَّى ، فَأَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ فَتَباعَدْتُ مِنْهُ ، فَأَدْنَانِي حَتَّى صِرْتُ قَرِيبا مِنْ عَقِبيْهِ ، فَبالَ قَائِمًا وَدَعَا بمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی راستے میں تھا چلتے چلتے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا جسے تم میں سے کوئی کرتا ہے میں پیچھے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہی رہو چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی جانب قریب ہوگیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 224، م: 273
حدیث نمبر: 23415
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ , عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ : وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، وَقَالَ وَكِيعٌ : لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 245، م: 255
حدیث نمبر: 23416
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ ابنِ سِيرِينَ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ حُذَيْفَةُ ، فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " مَا لَكَ ؟ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتُ جُنُبا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات مدینہ منورہ کے کسی بازار میں ہوئی وہ کھسک گئے اور غسل کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 889، م: 255
حدیث نمبر: 23417
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عن النبي صلى الله عليه وسلم . وعَنْ حَمَاد ، عَنْ إِبرَاهيم ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ : أَنَّهُ لَقِيَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ جَاءَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُ لَا يَنْجُسُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات مدینہ منورہ کے کسی بازار میں ہوئی وہ کھسک گئے اور غسل کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له اسنادان: الاول: صحيح، والثاني: معضل او مرسل
حدیث نمبر: 23418
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ : هِلَالٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عَنْ مَسْحِ الْحَصَى ، فَقَالَ : " وَاحِدَةً أَوْ دَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے حتیٰ کہ کنکریوں کو دوران نماز برابر کرنے کا مسئلہ بھی پوچھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اسے برابر کرلو ورنہ چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لكن من حديث أبى ذر الغفاري، فقد اختلف على محمد بن عبدالرحمن فيه، وهو سيئ الحفظ، وهلال مولي لربعي بن حراش مجهول
حدیث نمبر: 23419
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي , وَأَشَارَ إِلَى أَبي بكْرٍ ، وَعُمَرَ ، قَالَ : وَمَا حَدَّثَكُمْ ابنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولى لربعي بن حراش
حدیث نمبر: 23420
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6053، م: 105
حدیث نمبر: 23421
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَب عَلَى أَهْلِي ، وَكَانَ ذَلِكَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو ؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: "اني لاستغفر الله فى اليوم مائة مرة " صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد أبى المغيرة
حدیث نمبر: 23422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا وَائِلٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ أَبا مُوسَى كَانَ يُشَدِّدُ فِي الْبوْلِ ، قَالَ : كَانَ بنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا أَصَاب أَحَدَهُمْ الْبوْلُ يُتْبعُهُ بالْمِقْرَاضَيْنِ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : وَدِدْتُ أَنَّهُ لَا يُشَدِّدُ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى ، أَوْ قَالَ : مَشَى إِلَى سُباطَةِ قَوْمٍ ، فَبالَ وَهُوَ قَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری آرزو ہے کہ تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کریں مجھے یاد ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہے تھے چلتے چلتے کوڑا کر کٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 226، م: 273
حدیث نمبر: 23423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ شُعْبةُ : رَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مُنْتِنِينَ قَدْ مَحَشَتْهُمْ النَّارُ بشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ ، فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ، فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّونَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم اس وقت نکلے گی جب آگ انہیں جھلسا چکی ہوگی انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23424
قَالَ حَجَّاجٌ : الْجَهَنَّمِيِّينَ . حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِبعِيَّ بنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا الإسناد وإن كان مرسلا جاء موصولا
حدیث نمبر: 23425
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ صَخْرًا يُحَدِّثُ , عَنْ سُبيْعٍ ، قَالَ : أَرْسَلُونِي مِنْ مَاءٍ إِلَى الْكُوفَةِ أَشْتَرِي الدَّوَاب ، فَأَتَيْنَا الْكُنَاسَةَ ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ جَمْعٌ ، قَالَ : فَأَمَّا صَاحِبي ، فَانْطَلَقَ إِلَى الدَّوَاب ، وَأَمَّا أَنَا فَأَتَيْتُهُ ، فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : كَانَ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ ؟ قَالَ : " السَّيْفُ " ، أَحْسَب أَبو التَّيَّاحِ ، يَقُولُ : السَّيْفُ أَحْسَب قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ تَكُونُ هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ تَكُونُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ ، فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ ، وَإِنْ نَهَكَ جِسْمَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَاهْرَب فِي الْأَرْضِ ، وَلَوْ أَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ بجِذْلِ شَجَرَةٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ " ، قَالَ : قُلْتُ : فِبمَ يَجِيءُ بهِ مَعَهُ ؟ قَالَ : " بنَهَرٍ ، أَوْ قَالَ : مَاءٍ وَنَارٍ ، فَمَنْ دَخَلَ نَهْرَهُ حُطَّ أَجْرُهُ وَوَجَب وِزْرُهُ ، وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَب أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " لَوْ أَنْتَجْتَ فَرَسًا لَمْ تَرْكَب فَلُوَّهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . .
مولانا ظفر اقبال
سبیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے مجھے جانور خریدنے کے لئے بھیج دیا ہم ایک حلقے میں پہنچے جہاں بہت سے لوگ ایک شخص کے پاس جمع تھے میرا ساتھی تو جانوروں کی طرف چلا گیا جبکہ میں اس آدمی کی طرف، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی ؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی ؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن دون قوله: لو أنتجت فرسا لم تركب فلوها حتى تقوم الساعة، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر ، وقد توبع
حدیث نمبر: 23426
قَالَ شُعْبةُ : وَحَدَّثَنِي أَبو بشْرٍ فِي إِسْنَادٍ لَهُ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ ؟ قَالَ : " قُلُوب لَا تَعُودُ عَلَى مَا كَانَتْ " . .
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: لم يبين شعبة اسناده
حدیث نمبر: 23427
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبي ، حَدَّثَنِي أَبو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي صَخْرُ بنُ بدْرٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ " ، قَالَ : " وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ " . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة صخر
حدیث نمبر: 23428
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبي التَّيَّاحِ ، عَنْ صَخْرٍ ، عَنْ سُبيْعِ بنِ خَالِدٍ الضُّبعِيِّ ، فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ : " وَإِنْ نَهَكَ ظَهْرَكَ وَأَكَلَ مَالَكَ " ، وَقَالَ : " وَحُطَّ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة صخر
حدیث نمبر: 23429
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ زَمَانَ فُتِحَتْ تُسْتَرُ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا أَنَا بحَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ صَدَعٌ مِنَ الرِّجَالِ ، حَسَنُ الثَّغْرِ ، يُعْرَفُ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ : أَوَ مَا تَعْرِفُهُ ؟ فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالُوا : هَذَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ صَاحِب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَعَدْتُ وَحَدَّثَ الْقَوْمَ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنِّي سَأُخْبرُكُمْ بمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ ذَلِكَ ، جَاءَ الْإِسْلَامُ حِينَ جَاءَ ، فَجَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ كَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكُنْتُ قَدْ أُعْطِيتُ فِي الْقُرْآنِ فَهْمًا ، فَكَانَ رِجَالٌ يَجِيئُونَ فَيَسْأَلُونَ عَنِ الْخَيْرِ ، فَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَكُونُ بعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبلَهُ شَرٌّ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا الْعِصْمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " السَّيْفُ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَهَلْ بعْدَ هَذَا السَّيْفِ بقِيَّةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَكُونَ إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ ، وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ ، وَأَخَذَ مَالَكَ ، فَالْزَمْهُ ، وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثِمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَهَرٌ وَنَارٌ ، مَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَب أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهَرِهِ وَجَب وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَب حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، الصَّدْعُ مِنَ الرِّجَالِ : الضَّرْب ، وَقَوْلُهُ : " فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ ؟ " قَالَ : السَّيْفُ ، كَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي كَانَتْ فِي زَمَنِ أَبي بكْرٍ ، وَقَوْلُهُ : " إِمَارَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ " يقول : علي قذى , " وَهُدْنَةٌ " يَقُولُ : صُلْحٌ ، وَقَوْلُهُ : " عَلَى دَخَنٍ " يَقُولُ : عَلَى ضَغَائِنَ ، قِيلَ لِعَبدِ الرَّزَّاقِ : مِمَّنْ التَّفْسِيرُ ؟ قَالَ : منْ قَتَادَةَ , زعَمَ . .
مولانا ظفر اقبال
خالد بن خالد یشکری کہتے ہیں کہ تستر جس زمانے میں فتح ہوا میں وہاں سے نکل کر کوفہ پہنچا میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں وہ ایک آدمی کی حدیث کو بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں ؟ اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں میں نے کہا جی ہاں ! اس نے کہا کہ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر آپ کوفی ہوتے تو ان صاحب کے متعلق سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا پھر دجال کا خروج ہوگا میں نے پوچھا اس کے ساتھ کیا چیز ہوگی ؟ فرمایا اس کے ساتھ نہر یا پانی اور آگ ہوگی جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوجائے گا اس کا اجر ضائع اور وبال پختہ ہوجائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوگا اس کا اجر پختہ اور گناہ معاف ہوجائیں گے میں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا اگر تمہارے گھوڑے نے بچہ دیا تو اس کے بچے پر سوار ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن دون قوله: ثم ينتج المهر فلا يركب حتى تقوم الساعة ، وهذا مخالف لحديث أبى هريرة وعائشة: من أن السيد المسيح يمكث فى الأرض أربعين سنة بعد قتله للمسيح الدجال
حدیث نمبر: 23430
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَثَنَا أَبو عَوَانَة ، حَدَثَنَا قَتَادَة ، عَنْ نَصر بن عَاصم ، عَن سُبيع بنَ خَالد ، قَالَ : قَدَمتُ الْكُوفَةَ زَمَنَ فُتِحتْ تُسَتَرُ ، فَذكَرَ مثل مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، وقَالَ : " حُطَّ وِزْرُهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، سبيع بن خالد توبع
حدیث نمبر: 23431
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بنَ وَهْب يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا ، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23432
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا بكَّارٌ ، حَدَّثَنِي خَلَّادُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانٍِ ، يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا تَسْأَلُونِي ؟ فَإِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ، إِنَّ اللَّهَ بعَثَ نَبيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، فَدَعَا النَّاسَ مِنَ الْكُفْرِ إِلَى الْإِيمَانِ ، وَمِنْ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى ، فَاسْتَجَاب لَه مَنْ اسْتَجَاب ، فَحَيَّ مِنَ الْحَقِّ مَا كَانَ مَيْتًا ، وَمَاتَ مِنَ الْباطِلِ مَا كَانَ حَيًّا ، ثُمَّ ذَهَبتْ النُّبوَّةُ ، فَكَانَتْ الْخِلَافَةُ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے فرمایا اے لوگو ! تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں ہو ؟ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا انہوں نے لوگوں کو کفر سے ایمان کی دعوت دی گمراہی سے ہدایت کی طرف بلایا جس نے ان کی بات ماننی تھی سو اس نے یہ دعوت قبول کرلی اور حق کی برکت سے مردہ چیزیں زندہ ہوگئیں اور باطل کی نحوست سے زندہ چیزیں بھی مردہ ہوگئیں پھر نبوت کا دور ختم ہوا تو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23433
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَنْ كَانَ مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ فِي غَزْوَةٍ يُقَالُ لَهَا : غَزْوَةُ الْخَشَب ، وَمَعَهُ حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، قَالَ : فَأَمَرَهُمْ حُذَيْفَةُ فَلَبسُوا السِّلَاحَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنْ هَاجَكُمْ هَيْجٌ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ الْقِتَالُ ، قَالَ : " فَصَلَّى بإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ ، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے پھر انہوں نے لوگوں کو حکم دیا چناچہ انہوں نے اسلحہ پہن لیا پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر دشمن اچانک تم پر حملہ کر دے تو تمہارے لئے لڑنا جائز ہے پھر انہوں نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی۔ ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف للرجل المبهم، لكن له طريق صحيحة
حدیث نمبر: 23434
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ فَمَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالُوا : إِنَّ هَذَا يُبلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْأَحَادِيثَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23435
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ الْعَباسِ الشَّامِيُّ ، عَنْ أَبي قَيْسٍ ، قَالَ عَبدُ الْجَبارِ : أُرَاهُ عَنْ هُزَيْلٍ ، قَالَ : قَامَ حُذَيْفَةُ خَطِيبا فِي دَارِ عَامِرِ بنِ حَنْظَلَةَ ، فِيهَا التَّمِيمِيُّ ، وَالْمُضَرِيُّ ، فَقَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى مُضَرَ يَوْمٌ لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ عَبدًا يَعْبدُهُ إِلَّا قَتَلُوهُ ، أَوْ لَيُضْرَبنَّ ضَرْبا لَا يَمْنَعُونَ ذَنَب تَلْعَةٍ " ، أَوْ " أَسْفَلَ تَلْعَةٍ " ، فَقِيلَ : يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ ، تَقُولُ هَذَا لِقَوْمِكَ ، أَوْ لِقَوْمٍ أَنْتَ يَعْنِي مِنْهُمْ ؟ ! قَالَ : لَا أَقُولُ يَعْنِي إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا ! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23436
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبرَنِي مَيْسَرَةُ بنُ حَبيب ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي : مَتَى عَهْدُكَ بالنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : مَا لِي بهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَهَمَّتْ بي ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّهْ ، دَعِينِي حَتَّى أَذْهَب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَيَسْتَغْفِرَ لَكِ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِب ، " فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ خَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو ؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23437
حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ عَبدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا ، وَأَنْ نَلْبسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ ، وَقَالَ : " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23438
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ أَبيهٍِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ شَرَطَ لِأَخِيهِ شَرْطًا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيَ لَهُ بهِ ، فَهُوَ كَالْمُدْلِي جَارَهُ إِلَى غَيْرِ مَنَعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے بھائی سے کوئی وعدہ کرے جسے پورا نہ کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ ہو تو یہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو ایک ایسے شخص کے حوالے کر دے جس کی کوئی اہمیت نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حجاج و عنعنته، وتفرده بهذا الحديث
حدیث نمبر: 23439
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ سَعِيدُ بنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ ، حَدَّثَنِي رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدَّجَّالِ ، مَعَهُ نَهَرَانِ يَجْرِيَانِ : أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبيَضُ ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ ، فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ ، فَلْيَأْتِ النَّهَرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا ، وَلْيُغْمِضْ ثُمَّ لِيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَب ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بارِدٌ ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، وَفِيهِ مَكْتُوب بيْنَ عَيْنَيْهِ : كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِب وَغَيْرُ كَاتِب " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ کسی نے پونچھ دی ہوگی اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر کاتب وغیر کاتب مسلمان پڑھ لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934