حدیث نمبر: 23360
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعًا وَلَا سُجُودًا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ دَعَاهُ حُذَيْفَةُ ، فَقَالَ لَهُ : مُنْذُ كَمْ صَلَّيْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : قَدْ صَلَّيْتُهَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : مَا صَلَّيْتَ ، أَوْ قَالَ : مَا صَلَّيْتَ لِلَّهِ صَلَاةً ، شَكَّ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبهُ قَالَ : وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمائی گئی تھی۔
حدیث نمبر: 23361
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، أَخْبرَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ : تَسَحَّرْتُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَمَرَرْتُ بمَنْزِلِ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ بلَقْحَةٍ فَحُلِبتْ ، وَبقِدْرٍ فَسُخِّنَتْ ، ثُمَّ قَالَ : ادْنُ فَكُلْ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ ، فَقَالَ : وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبنَا ، ثُمَّ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، ثُمَّ قَالَ حُذَيْفَةُ : هَكَذَا فَعَلَ بي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : أَبعْدَ الصُّبحِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هُوَ الصُّبحُ غَيْرَ أَنْ لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ ، قَالَ : وَبيْنَ بيْتِ حُذَيْفَةَ وَبيْنَ الْمَسْجِدِ كَمَا بيْنَ مَسْجِدِ ثَابتٍ وَبسْتَانِ حَوْطٍ ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : وَقَالَ حُذَيْفَةُ : هَكَذَا صَنَعْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَنَعَ بيَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سحری کھا کر مسجد کی طرف روانہ ہوا راستے میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا گھر آیا تو وہاں چلا گیا انہوں نے حکم دیا تو ایک بکری کا دودھ دوہا گیا اور ہانڈی کو جوش دیا گیا پھر وہ فرمانے لگے کہ قریب ہو کر کھانا شروع کرو میں نے کہا کہ میں تو روزے کی نیت کرچکا ہوں انہوں نے فرمایا میں بھی روزے کا ارادہ رکھتا ہوں چناچہ ہم نے کھایا پیا اور مسجد پہنچے تو نماز کھڑی ہوگئی پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا میں نے پوچھا صبح صادق کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 23362
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْوَلِيدَ أَبا الْمُغِيرَةِ ، أَوْ الْمُغِيرَةَ أَبا الْوَلِيدِ ، يُحَدِّثُ أَنَّ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ذَرِب اللِّسَانِ ، وَإِنَّ عَامَّةَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِي ، فَقَالَ : " أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ ؟ " , فَقَالَ : " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ، أَوْ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو ؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 23363
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ عَمٍّ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قُمْتُ إِلَى جَنْب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَرَأَ السَّبعَ الطِّوَلَ فِي سَبعِ رَكَعَاتٍ ، قَالَ : فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " ، وَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، وَسُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ ، فَقَضَى صَلَاتَهُ ، وَقَدْ كَادَتْ رِجْلَايَ تَنْكَسِرَانِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کو قیام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعتوں میں سات طویل سورتیں پڑھ لیں اور رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، پھر فرماتے الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ " اور ان کارکوع قیام کے برابر تھا اور سجدہ رکوع کے برابر ہے نماز سے جب فراغت ہوئی تو میری ٹانگیں ٹوٹنے کے قریب ہوگئی تھیں۔
حدیث نمبر: 23364
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ أَبي عَدِيٍّ ، عَنِ ابنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى , قَالَ معاذ : حَدَّثَنَا ابنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ إِلَى بعْضِ هَذَا السَّوَادِ ، فَاسْتَسْقَى ، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ ، قَالَ : فَرَمَاهُ بهِ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : قُلْنَا : اسْكُتُوا اسْكُتُوا ، وَإِنَّا إِنْ سَأَلْنَاهُ لَمْ يُحَدِّثْنَا ، قَالَ : فَسَكَتْنَا ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ بعْدَ ذَلِكَ ، قَالَ : أَتَدْرُونَ لِمَ رَمَيْتُ بهِ فِي وَجْهِهِ ؟ قَالَ : قُلْنَا : لَا ، قَالَ : إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ ، قَالَ : فَذَكَرَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَشْرَبوا فِي آنِيَةِ الذَّهَب ، قَالَ مُعَاذٌ : لَا تَشْرَبوا فِي الذَّهَب ، وَلَا فِي الْفِضَّةِ ، وَلَا تَلْبسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيباجَ ، فَإِنَّهُمَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔
حدیث نمبر: 23365
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، جُفَالُ الشَّعَرِ ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کے بال اون کی مانند ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہوگی لیکن اس کی جہنم درحقیقت جنت ہوگی اور جنت درحقیقت جہنم ہوگی۔
حدیث نمبر: 23366
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، وَابنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ " ، قَالَ ابنُ نُمَيْرٍ : قُلْتُ لِلْأَعْمَشِ : بالسِّوَاكِ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 23367
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ ، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ، قَالَ : ثُمَّ مَضَى ، فَقُلْتُ : يُصَلِّي بهَا فِي رَكْعَةٍ ، فَمَضَى ، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ بهَا ، ثُمَّ افْتَتَحَ ، ثُمَّ افْتَتَحَ عِمْرَانَ ، يَقْرَأُ مُسْتَرْسِلًا ، إِذَا مَرَّ بآيَةٍ فِيهَا تَسْبيحٌ ، سَبحَ ، وَإِذَا مَرَّ بسُؤَالٍ ، سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بتَعَوُّذٍ ، تَعَوَّذَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ : " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ " ، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبا مِمَّا رَكَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَقَالَ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " ، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبا مِنْ قِيَامِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم " اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلی " کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 23368
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ فُلَانًا يَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِيثَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 23369
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَمُوتُ ، وَباسْمِكَ أَحْيَا " ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا ، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "
حدیث نمبر: 23370
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي مَالِكٍ . وَابنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ ابنُ جَعْفَرٍ : عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ نَبيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 23371
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبيْدِ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا ذَرِب اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ ، قَالَ : " فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ ؟ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةً مرة " ، قَالَ أَبو إِسْحَاقَ : فذَكَرْتُهُ لِأَبي برْدَةَ ، فَقَالَ : وَأَتُوب إِلَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو ؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 23372
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي بعْضُ أَصْحَابنَا ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَخَذُوهُ وَأَباهُ ، فَأَخَذُوا عَلَيْهِمْ أَنْ : لَا يُقَاتِلُوهُمْ يَوْمَ بدْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَالِهِمْ ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ منورہ جانے کا ہے انہوں نے ہم سے یہ وعدہ اور مضبوط عہد لیا کہ ہم مدینہ جا کر لڑائی میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کا وعدہ وفا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔
حدیث نمبر: 23373
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بطَعَامٍ ، فَجَاءَ أَعْرَابيٌّ كَأَنَّمَا يُطْرَدُ فَذَهَب يَتَنَاوَلُ ، فَأَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهِ ، وَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّهَا تُطْرَدُ فَأَهْوَتْ ، فَأَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهَا ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَمَّا أَعْيَيْتُمُوهُ ، جَاءَ بالْأَعْرَابيِّ وَالْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، بسْمِ اللَّهِ ، كُلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھانے میں شریک تھے اسی اثناء میں ایک باندی آئی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا کہ جب کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال سمجھتا ہے چناچہ پہلے وہ اس باندی کے ساتھ آیا تاکہ اپنے لئے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ذریعے اپنے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اس لئے بسم اللہ پڑھ کر کھایا کرو۔
حدیث نمبر: 23374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابنَ أَبي لَيْلَى يُحَدِّثُ , أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى ، فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بهِ ، وَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبى أَنْ يَنْتَهِيَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نَهَانَا أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ ، وَعَنْ لُبسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ ، وَقَالَ : " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔
حدیث نمبر: 23375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي عَبسٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، وَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ ، سُبحَانَ رَبى الْعَظِيمِ " ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " لِرَبيَ الْحَمْدُ ، لِرَبيَ الْحَمْدُ " ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى ، سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَكَانَ مَا بيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنَ السُّجُودِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " رَب اغْفِرْ لِي ، رَب اغْفِرْ لِي " ، قَالَ : حَتَّى قَرَأَ ، عمران ، ، وَالْمَائِدَةَ ، وَالْأَنْعَامَ " . شُعْبةُ الَّذِي يَشُكُّ فِي وَالْأَنْعَامَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی، جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے، میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم " اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلی " کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 23376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ . وَحَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي مِجْلَزٍ لَاحِقِ بنِ حُمَيْدٍ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : سَمِعْتُ أَبا مِجْلَزٍ ، قَالَ : قَعَدَ رَجُلٌ فِي وَسْطِ حَلْقَةٍ ، قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : مَلْعُونٌ مَنْ قَعَدَ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ " . قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبةُ : لَمْ يُدْرِكْ أَبو مِجْلَزٍ حُذَيْفَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ملعون قرار دے دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 23377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ , عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابعَثُوا إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا ، فَقَالَ : " لَأَبعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، حَقَّ أَمِينٍ " ، قَالَ : فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ ، قَالَ : فَبعَثَ أَبا عُبيْدةَ بنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حقدار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 23378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي ، أَوْ بعَضَلَةِ سَاقِهِ ، فَقَالَ : " حَقُّ الْإِزَارِ هَا هُنَا ، فَإِنْ أَبيْتَ فَهَا هُنَا ، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ " ، أَوْ " لَا حَقَّ لِلْكَعْبيْنِ فِي الْإِزَارِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا مَالِكٍ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 23380
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ ، قَالَتْ : خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ ؟ أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تَلْبسُ ذَهَبا تُظْهِرُهُ ، إِلَّا عُذِّبتْ بهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے گروہ خواتین ! کیا تمہارے لئے چاندی کے زیورات کافی نہیں ہوسکتے ؟ یاد رکھو ! تم میں سے جو عورت نمائش کے لئے سونا پہنے گی اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے۔
حدیث نمبر: 23381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ ، وَلَكِنْ قُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو "" جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا "" بلکہ یوں کہا کرو "" جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 23382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا : أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى فِي مَنَامِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الدَّجَّالِ : " إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا ، فَنَارُهُ مَاءٌ بارِدٌ ، وَمَاؤُهُ نَارٌ ، فَلَا تَهْلِكُوا " ، قَالَ أَبو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال جس وقت خروج کرے گا اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی جو چیز لوگوں کو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگی اور جو چیز پانی نظر آئے گی وہ جلا دینے والی آگ ہوگی، لہٰذا تم ہلاک نہ ہوجانا یہ حدیث سن کر حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 23384
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا كُنْتَ تَعْمَلُ ؟ قَالَ : فَإِمَّا ذَكَرَ وَإِمَّا ذُكِّرَ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أُبايِعُ النَّاسَ ، فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ ، وَأَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ ، أَوْ فِي النَّقْدِ ، فَغُفِرَ لَهُ " . فَقَالَ أَبو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے کے لئے آئے تو اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے ؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں اس نے کہا غور کرلو اس نے کہا کہ اور تو مجھے کوئی نیکی معلوم نہیں البتہ میں لوگوں کے ساتھ تجارت کرتا تھا اس میں تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا اور اس سے درگذر کرلیتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی ان کی تائید کی۔
حدیث نمبر: 23385
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي بكْرُ بنُ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبا عَبدِ الْمَلِكِ عَلِيَّ بنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بلَغَهُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ فَضْلَ الدَّارِ الْقَرِيبةِ يَعْنِي مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الدَّارِ الْبعِيدَةِ ، كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دور والے گھر پر مسجد کے قریب والے گھر کی فضیلت ایسے ہے جیسے نمازی کی فضیلت جہاد کے انتظار میں بیٹھنے والے پر ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 23386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بنِ هَرِمٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبي عَبدِ اللَّهِ ، ورِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : بيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي يُشِيرُ إِلَى أَبي بكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَاهْدُوا هَدْيَ عَمَّارٍ وَعَهْدَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔
حدیث نمبر: 23387
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَهْدِيٍّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ : قِيلَ لِحُذَيْفَةَ : إِنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 23388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَدِيٍّ ، عَنْ ابنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ جُنْدُب : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ ، وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ : فَقَلتَُ : وَاللَّهِ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ دِمَاءٌ ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : كَلَّا وَاللَّهِ ، قَالَ : قُلْتَ : بلَى وَاللَّهِ ، قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ ، قَالَ : قُلتُ : بلَى والله ، قَالَ : كَلاَّ والله ، إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَاكَ جَلِيسَ سَوْءٍ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أَحْلِفُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يَنْهَانِي ؟ قَالَ : ثُمَّ قُلْتُ : مَالِي وَلِلْغَضَب ، قَالَ : فَتَرَكْتُ الْغَضَب ، وَأَقْبلْتُ أَسْأَلُهُ ، قَالَ : وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ .
مولانا ظفر اقبال
جندب کہتے ہیں کہ " یوم الجرعہ " کے موقع پر ایک آدمی موجود تھا وہ کہنے لگا کہ واللہ آج خون ریزی ہوگی دوسرے آدمی نے قسم کھا کر کہا ہرگز نہیں پہلے نے کہا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہا " ضرور ''؟ اس نے کا ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ یہ ایک حدیث ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمائی ہے پہلے آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے اس سے کہا واللہ میں تمہیں برا ہم نشین سمجھتا ہوں تم مجھے قسم کھاتے ہوئے سن رہے ہو اور پھر بھی مجھے منع نہیں کر رہے حالانکہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ پھر میں نے سوچا کہ غصہ کرنے کا کیا فائدہ ؟ سو میں نے غصہ تھوک دیا اور اس کے پاس آکر سوالات پوچھنے لگا بعد میں پتہ چلا کہ وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 23389
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبوعِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ بطَبرِسْتَانَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يَحْفَظُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " أَمَّنَا ، فَقُمْنَا صَفًّا خَلْفَهُ ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ ذَهَبوا إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اور وہ اس طرح کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 23390
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ : كَانَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْخَيْرِ ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ، قِيلَ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " مَنْ اتَّقَى الشَّرَّ ، وَقَعَ فِي الْخَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ ان سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں ان سے شر کے متعلق پوچھتا تھا کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا جو شخص شر سے بچ جاتا ہے وہ خیر ہی کے کام کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 23391
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَيَّانَ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ " ، وَإِذَا قَامَ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا ، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "
حدیث نمبر: 23392
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كَانَ بلَالٌ يَأْتِي النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ ، وَإِنِّي لَأُبصِرُ مَوَاقِعَ نَبلِي ، قُلْتُ : أَبعْدَ الصُّبحِ ؟ قَالَ : بعْدَ الصُّبحِ ، إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری کھا رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا میں نے پوچھا کہ صبح صادق کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 23393
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَقْوَامٌ ، فَإِذَا رَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَأَقُولُ : أَيْ رَب ، أَصْحَابي أَصْحَابي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حدیث نمبر: 23394
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، عَنْ ابنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ مِسْعَرٌ : وَقَدْ ذَكَرَهُ مَرَّةً عَنْ حُذَيْفَةَ : " أَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُدْرِكُ الرَّجُلَ وَوَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے۔
حدیث نمبر: 23395
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبوكَ ، قَالَ : فَبلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ : " أَنْ لَا يَسْبقَنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ " ، فَأَتَى الْمَاءَ ، وَقَدْ سَبقَهُ قَوْمٌ ، فَلَعَنَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے انہیں پانی کی قلت کا پتہ چلا تو منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔
حدیث نمبر: 23396
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْوَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ : " بتُّ بآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ ، وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ ، وَهِيَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔
حدیث نمبر: 23397
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : أَبو إِسْحَاقَ أَخْبرَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ صِلَةَ بنَ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ : " لَأَبعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " ، قَالَهَا أَكْثَرَ مِنْ مَرَّتَيْنِ ، فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ ، فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل نجران سے دو سے زائد مرتبہ فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 23398
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقِيتُ جِبرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَقَالَ : يَا جِبرِيلُ ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ : الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَمْ يَقْرَأُ كِتَابا قَط ، قَالَ : إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل ! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 23399
حَدَّثَنَا خَلَفُ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بنُ الْمُسَيَّب ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا كَبرَ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبرُ ، ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " ، ثُمَّ قَرَأَ ، ثُمَّ ، ثُمَّ عِمْرَانَ ، لَا يَمُرُّ بآيَةِ تَخْوِيفٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا ، ثُمَّ رَكَعَ يَقُولُ : " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ " ، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبنَا لَكَ الْحَمْدُ " ، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ، ثُمَّ سَجَدَ ، يَقُولُ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " ، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " رَب اغْفِرْ لِي " ، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ، ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " ، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ فَمَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى جَاءَ بلَالٌ فَآذَنَهُ بالصَّلَاةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
…