حدیث نمبر: 23320
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " لَمْ يُصَلِّ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَلَوْ صَلَّى فِيهِ ، لَكُتِب عَلَيْكُمْ صَلَاةُ نَبيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہ نماز فرض ہوجاتی۔
حدیث نمبر: 23321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، قَالَ أَبو نُعَيْمٍ : عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ مِثْلَ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ ، قَالَ : كَانَ بيْنَ حُذَيْفَةَ وَبيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبةِ مَا يَكُونُ بيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ كَمْ كَانَ أَصْحَاب الْعَقَبةِ ؟ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : أَخْبرْهُ إِذْ سَأَلَكَ ، قَالَ : إِنْ كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ : فَقَالَ الرَّجُلُ : كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ ، قَالَ : فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ : فِيهِمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ ، وَأَشْهَدُ باللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْب لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ : الْأَشْهَادُ وَعَدَّنَا ثَلَاثَةً ، قَالُوا : مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ : وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ ، فَلَا يَسْبقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ " ، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبقُوهُ ، فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ معمولی سی تکرار ہوگئی تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوجاتی ہے انہوں نے پوچھا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے لوگ کتنے تھے ؟ لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب یہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو آپ انہیں بتا دیجئے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ وہ چودہ آدمی تھے اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو ان کی تعداد پندرہ ہوجاتی ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں بارہ آدمی دنیا کی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن اللہ اور اس کے رسول کے لئے جنگ ہیں۔ اور تین لوگوں کی طرف سے عذر بیان کیا جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کا اعلان نہیں سنا تھا اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اس کی وضاحت ابو احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور لوگوں سے فرما دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔
حدیث نمبر: 23322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ أَوْسٍ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " مَا أَخْبيَةٌ بعْدَ أَخْبيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ يُدْفَعُ عَنْهَا مِنَ الْمَكْرُوهِ ، أَكْثَرَ مِنْ أَخْبيَةٍ وُضِعَتْ فِي هَذِهِ الْبقْعَةِ " . وَقَالَ : " إِنَّكُمْ الْيَوْمَ مَعْشَرَ الْعَرَب لَتَأْتُونَ أُمُورًا إِنَّهَا لَفِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقُ عَلَى وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔ اور فرمایا اے گروہ عرب ! آج کل لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں جنہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ”نفاق“ شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23323
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ أَبي سُلَيْمَانَ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بعْدَ مَا مَحَشَتْهُمْ النَّارُ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْجَهَنَّمِيُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم اس وقت نکلے گی جب آگ انہیں جھلسا چکی ہوگی انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔
حدیث نمبر: 23324
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبتِّيِّ ، عَنْ نُعَيْمٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : ابنِ أَبي هِنْدٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَسْنَدْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي ، فَقَالَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ حَسَنٌ : ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ، خُتِمَ لَهُ بهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بهَا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بصَدَقَةٍ ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بهَا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تکیہ بنا رکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (رضاء الہٰی کے لئے) لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اور اس کی زندگی اسی اقرار پر ختم ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے ایک دن روزہ رکھے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے صدقہ کرے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 23325
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ : بلَغَ حُذَيْفَةَ عَنْ رَجُل أنهُ يَنُمُّ الْحَدِيثَ َقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 23326
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 23327
حَدَّثَنَا أَبو سَعِيدٍ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ بلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ أَبي عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ أَحَدِ بنِي عَبدِ الْأَشْهَلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ ، أَوْ لَيَبعَثَنَّ عَلَيْكُمْ قَوْمًا ، ثُمَّ تَدْعُونَهُ ، فَلَا يُسْتَجَاب لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ امربالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔
حدیث نمبر: 23328
حَدَّثَنَا أَبو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا السَّفْرُ بنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ ، وَغَيْرُهُ , عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي شَرٍّ ، فَذَهَب اللَّهُ بذَلِكَ الشَّرِّ ، وَجَاءَ بالْخَيْرِ عَلَى يَدَيْكَ ، فَهَلْ بعْدَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : " فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يَتْبعُ بعْضُهَا بعْضًا ، تَأْتِيكُمْ مُشْتَبهَةً كَوُجُوهِ الْبقَرِ ، لَا تَدْرُونَ أَيًّا مِنْ أَيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ شر میں تھے اللہ نے آپ کے ذریعے اسے دور فرما دیا اور آپ کے ہاتھوں خیر کا دور دورہ فرما دیا کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے رونما ہوں گے جو پے درپے آئیں گے اور تم پر اس طرح اشتباہ ہوجائے گا جیسے گائے کے چہرے ہوتے ہیں اور تم ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ معلوم نہیں کرسکو گے۔
حدیث نمبر: 23329
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بنِ حَبيب ، عَنِ الْمِنْهَالِ بنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلَتْنِي أُمِّي مُنْذُ مَتَى عَهْدُكَ بالنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَنَالَتْ مِنِّي وَسَبتْنِي قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : دَعِينِي ، فَإِنِّي آتِي النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِب ، ثُمَّ لَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِب ، فَصَلَّى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبعْتُهُ ، فَعَرَضَ لَهُ عَارِضٌ فَنَاجَاهُ ، ثُمَّ ذَهَب ، فَاتَّبعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : حُذَيْفَةُ ، قَالَ : " مَا لَكَ ؟ " ، فَحَدَّثْتُهُ بالْأَمْرِ ، فَقَالَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا رَأَيْتَ الْعَارِضَ الَّذِي عَرَضَ لِي قُبيْلُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بلَى ، قَالَ : " فَهُوَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَمْ يَهْبطْ الْأَرْضَ قَبلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ ، فَاسْتَأْذَنَ رَبهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ ، وَيُبشِّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَباب أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو ؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے میں بھی پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جو انان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 23330
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ ابنِ أَبي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ ، ثُمَّ تَبعْتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ يَدْخُلُ بعْضَ حُجَرِهِ ، فَقَامَ وَأَنَا خَلْفَهُ ، كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ أَحَدًا ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، قُلْتُ : حُذَيْفَةُ ، قَالَ : " أَتَدْرِي مَنْ كَانَ مَعِي ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَإِنَّ جِبرِيلَ جَاءَ يُبشِّرُنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَباب أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : فَاسْتَغْفِرْ لِي وَلِأُمِّي ، قَالَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا حُذَيْفَةُ ، وَلِأُمِّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہمراہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی پھر ان کے پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے سارا واقعہ بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا، اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جو انان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 23331
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ ، قَالُوا : هَذَا مُبلِّغُ الْأُمَرَاءِ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ قَتَّاتٌ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 23332
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُتِيتُ بالْبرَاقِ وَهُوَ دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ ، يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ ، فَلَمْ نُزَايِلْ ظَهْرَهُ أَنَا وَجِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى أَتَيْتُ بيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَفُتِحَتْ لَنَا أَبوَاب السَّمَاءِ وَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " . قَالَ حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ : وَلَمْ يُصَلِّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ زِرٌّ : فَقُلْتُ لَهُ : بلَى ، قَدْ صَلَّى ، قَالَ حُذَيْفَةُ : مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ ، وَلَا أَعْرِفُ اسْمَكَ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ ، قَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ سورة الإسراء آية 1 ، فقَالَ : َهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى ؟ لَوْ صَلَّى لَصَلَّيْتُمْ فِيهِ كَمَا تُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ زِرٌّ : وَرَبطَ الدَّابةَ بالْحَلَقَةِ الَّتِي يَرْبطُ بهَا الْأَنْبيَاءُ عَلَيْهِمْ السَّلَام ، فقَالَ حُذَيْفَةُ : أَو َكَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَب مِنْهُ وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بهَا ؟ . .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے ! تمہارا کیا نام ہے ؟ میں تمہیں چہرے سے پہچاتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی ؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے گنجے ! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا ! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدہ دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب و شہود ان کے تابع کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 23333
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُتِيتُ بالْبرَاقِ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ : وَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، وقَالَ عَفَّانُ : وَفُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ ، وَرَأَى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23334
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : قَالَ فَتًى مِنَّا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ لِحُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ : يَا أَبا عَبدِ اللَّهِ ، رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَحِبتُمُوهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا ابنَ أَخِي ، قَالَ : فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ كُنَّا نَجْهَدُ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَوْ أَدْرَكْنَاهُ مَا تَرَكْنَاهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ ، وَلَجَعَلْنَاهُ عَلَى أَعْنَاقِنَا ، قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : يَا ابنَ أَخِي ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالْخَنْدَقِ ، وَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ هَوِيًّا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ يَشْتَرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَرْجِعُ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ ، ثُمَّ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَنْ رَجُلٌ يَقُومُ فَيَنْظُرَ لَنَا مَا فَعَلَ الْقَوْمُ ، ثُمَّ يَرْجِعُ يَشْرِطُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجْعَةَ ، أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ مَعَ شِدَّةِ الْخَوْفِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ وَشِدَّةِ الْبرْدِ ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ أَحَدٌ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَكُنْ لِي بدٌّ مِنَ الْقِيَامِ حِينَ دَعَانِي ، فَقَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، فَاذْهَب فَادْخُلْ فِي الْقَوْمِ ، فَانْظُرْ مَا يَفْعَلُونَ ، وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنَا " ، قَالَ : فَذَهَبتُ فَدَخَلْتُ فِي الْقَوْمِ ، وَالرِّيحُ وَجُنُودُ اللَّهِ تَفْعَلُ مَا تَفْعَلُ ، لَا تَقِرُّ لَهُمْ قِدْرٌ وَلَا نَارٌ وَلَا بنَاءٌ ، فَقَامَ أَبو سُفْيَانَ بنُ حَرْب ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، لِيَنْظُرْ امْرُؤٌ مَنْ جَلِيسُهُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : فَأَخَذْتُ بيَدِ الرَّجُلِ الَّذِي إِلَى جَنْبي ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا فُلَانُ بنُ فُلَانٍ ، ثُمَّ قَالَ أَبو سُفْيَانَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ مَا أَصْبحْتُمْ بدَارِ مُقَامٍ ، لَقَدْ هَلَكَ الْكُرَاعُ ، وَأَخْلَفَتْنَا بنُو قُرَيْظَةَ ، بلَغَنَا مِنْهُمْ الَّذِي نَكْرَهُ ، وَلَقِينَا مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ مَا تَرَوْنَ ، وَاللَّهِ مَا تَطْمَئِنُّ لَنَا قِدْرٌ ، وَلَا تَقُومُ لَنَا نَارٌ ، وَلَا يَسْتَمْسِكُ لَنَا بنَاءٌ ، فَارْتَحِلُوا فَإِنِّي مُرْتَحِلٌ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى جَمَلِهِ وَهُوَ مَعْقُولٌ فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ ضَرَبهُ فَوَثَب عَلَى ثَلَاثٍ ، فَمَا أَطْلَقَ عِقَالَهُ إِلَّا وَهُوَ قَائِمٌ ، وَلَوْلَا عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " ، وَلَوْ شِئْتُ لَقَتَلْتُهُ بسَهْمٍ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ لِبعْضِ نِسَائِهِ مُرَحَّلٍ ، فَلَمَّا رَآنِي أَدْخَلَنِي إِلَى رَحْلِهِ ، وَطَرَحَ عَلَيَّ طَرَفَ الْمِرْطِ ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ وَإِنَّهُ لَفِيهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخْبرْتُهُ الْخَبرَ ، وَسَمِعَتْ غَطَفَانُ بمَا فَعَلَتْ قُرَيْشٌ ، وَانْشَمَرُوا إِلَى بلَادِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن کعب قرظی (رح) سے مروی ہے کہ ہم اہل کوفہ میں سے ایک نوجوان نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابو عبداللہ ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور شرف صحبت حاصل کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں بھتیجے ! سائل نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ فرمایا ہم اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیتے تھے سائل نے کہا بخدا ! اگر ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیتے تو انہیں زمین پر نہ چلنے دیتے بلکہ اپنی گردنوں پر بٹھا لیتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے ! بخدا ! ہم نے غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی تاریکی میں عشاء کی نماز پڑھائی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کون آدمی جا کر دشمنوں کے حالات کا جائزہ لے کر آئے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وعدہ کیا کہ اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا لیکن کوئی کھڑا نہ ہوا رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر وہی اعلان کیا اور اس مرتبہ فرمایا کہ وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا پھر بھی شدت خوف بھوک اور سردی کی شدت سے کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔ جب کوئی بھی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس وقت میرے لئے کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ رضی اللہ عنہ تم جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کے کیا حالات ہیں اور واپس ہمارے پاس آنے تک کوئی نیا کام نہ کرنا چناچہ میں چلا گیا اور دشمن کے لشکر میں گھس گیا جہاں ہوائیں اور اللہ کے لشکر اپنے کام کر رہے تھے اور ان کی کوئی ہنڈیا آگ اور خیمہ ٹھہر نہیں پا رہا تھا یہ دیکھ کر ابو سفیان بن حرب کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے گروہ قریش ہر آدمی دیکھ لے کہ اس کے ساتھ کون بیٹھا ہے ؟ (کہیں کوئی جاسوس نہ ہو) اس پر میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس نے بتایا میں فلاں بن فلاں ہوں پھر ابو سفیان کہنے لگا اے گروہ قریش بخدا ! اس جگہ تمہارے لئے مزید ٹھہرنا اب ممکن نہیں رہا مویشی ہلاک ہو رہے ہیں بنوقریظہ نے بھی ہم سے وعدہ خلافی کی ہے اور ہمیں ان کی طرف سے ناپسندیدہ حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس ہوا سے جو حالات پیدا ہوگئے ہیں وہ تم دیکھ ہی رہے ہو کہ کوئی ہانڈی ٹھہر نہیں پا رہی آگ جل نہیں رہی اور خیمے اپنے جگہ کھڑے نہیں رہے پا رہے اس لئے میری رائے تو یہ ہے کہ تم لوگ واپس روانہ ہوجاؤ اور میں تو واپس جا رہا ہو، یہ کہہ کر اپنے گھوڑے کی طرف چل پڑا جو رسی سے باندھا گیا تھا اور اس پر سوار ہو کر ایڑ لگا دی وہ تین مرتبہ اچھلا لیکن جب اس نے رسی چھوڑی تو وہ کھڑا ہوگیا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت نہ کی ہوتی کہ کوئی نیا کام نہ کرنا جب تک میرے پاس واپس نہ آجاؤ پھر میں چاہتا تو اپنا تیر مار کر اسے قتل کرسکتا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس روانہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی کسی زوجہ محترمہ کی بالوں سے بنی ہوئی چادر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے مجھے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے میں ہی بلا لیا اور چادر کا ایک کونا مجھ پر ڈال دیا پھر رکوع اور سجدہ کیا جب کہ میں خیمے ہی میں رہا جب سلام پھیر چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتادی اور بنو غطفان کو جب پتہ چلا کہ قریش نے کیا کیا ہے تو وہ اپنے علاقے میں ہی واپس لوٹ گئے۔
حدیث نمبر: 23335
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : سَمِعْتُ هَذَا يَقُولُ : يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ : مَا بي بأْسٌ فيِمَّا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَئِنْ اقْتَتَلْتُمْ لَأَنْظُرَنَّ أَقْصَى بيْتٍ فِي دَارِي فَلَأَدْخُلَنَّهُ ، فَلَئِنْ دُخِلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ : هَا ، بؤْ بإِثْمِي وَإِثْمِكَ ، أَوْ ذَنْبي وَذَنْبكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ربعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے چار پائی پر لیٹے ہوئے اس شخص سے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اگر تم لوگ لڑنے لگو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اگر کوئی میرے گھر میں بھی آگیا تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آؤ اور میرا اور اپنا گناہ لے کر لوٹ جاؤ۔
حدیث نمبر: 23336
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ هُبيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبرَنِي سَعِيدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ : غَاب عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً ، فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبضَتْ فِيهَا ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : " إِنَّ رَبي تَبارَكَ وَتَعَالَى اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بهِمْ ؟ فَقُلْتُ : مَا شِئْتَ أَيْ رَب هُمْ خَلْقُكَ وَعِبادُكَ ، فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ ، وَبشَّرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبعُونَ أَلْفًا ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبعُونَ أَلْفًا ، لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَاب ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : ادْعُ تُجَب ، وَسَلْ تُعْطَ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ : أَوَمُعْطِيَّ رَبي سُؤْلِي ؟ فَقَالَ : مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ ، وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبي عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ ، وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبي وَمَا تَأَخَّرَ ، وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا ، وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَب ، وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ ، فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي ، وَأَعْطَانِي الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْب يَسْعَى بيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا ، وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبيَاءِ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، وَطَيَّب لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ ، وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبلَنَا ، وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں ہی رہے باہر تشریف نہیں لائے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نہیں آئیں گے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے تو اتنا طویل سجدہ کیا کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ہی پرواز نہ کرگئی ہو جب سر اٹھایا تو فرمانے لگے کہ میرے رب نے میری امت کے متعلق مجھ سے مشورہ کیا کہ میں ان کے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ میں نے عرض کیا کہ پروردگار ! آپ جو چاہیں وہ آپ کی مخلوق اور آپ کے بندے ہیں پھر دوبارہ مشورہ کیا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ میرے ساتھ امت میں سب سے پہلے ستر ہزار افراد جنت میں داخل ہوں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار مزید ہوں گے جن کا کوئی حساب کتاب نہ ہوگا۔ پھر میرے پروردگار نے میرے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ دعاء کیجئے آپ کی دعاء قبول کی جائے گی سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا میں نے قاصد سے پوچھا کہ کیا میرا پروردگار میری درخواست پر مجھے عطا کرے گا ؟ قاصد نے جواب دیا کہ اس نے مجھے آپ کے پاس دینے کے ارادے ہی سے بھیجا ہے پھر میرے پروردگار نے مجھے عطاء فرمایا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا اس نے میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے جبکہ میں زندہ سلامت چل رہا ہوں اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی کہ میری امت قحط سالی سے ہلاک نہ ہوگی اور ان پر کوئی غالب نہ آئے گا نیز اس نے مجھے حوض کوثر عطا فرمایا جو کہ جنت کی ایک نہر ہے اور میرے حوض میں آکر گرتی ہے نیز اس نے مجھے عزت، مدد اور رعب عطا فرمایا جو میری امت سے آگے ایک ماہ کی مسافت پر دوڑتا ہے نیز اس نے مجھے یہ سعادت عطا فرمائی کہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا نبی میں ہوں گا میرے اور میری امت کے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا اور بہت سے وہ سخت احکام جو ہم سے پہلے لوگوں پر تھے انہیں ہم پر حلال کردیا اور ہم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔
حدیث نمبر: 23337
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنِ ابنِ مَسْعُودٍ ، وَحُصَيْنٌ , عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُكُمْ ، لَيُرْفَعُ لِي رِجَالٌ مِنْكُمْ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ ، اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَأَقُولُ : رَب أَصْحَابي أَصْحَابي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حدیث نمبر: 23338
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ أَنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ ، إِنَّ مَعَهُ نَارًا تُحْرِقُ ، وَقَالَ حُسَيْنٌ مَرَّةً : تَحْرُقُ ، وَنَهْرَ مَاءٍ بارِدٍ ، فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلَا يَهْلَكَنَّ بهِ ، لِيُغْمِضَنَّ عَيْنَيْهِ وَلْيَقَعْ فِي الَّتِي يَرَاهَا نَارًا ، فَإِنَّهَا نَهْرُ مَاءٍ بارِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔
حدیث نمبر: 23339
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي لَقِيتُ بعْضَ أَهْلِ الْكِتَاب ، فَقَالَ : نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ ! فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ كُنْتُ أَكْرَهُهَا مِنْكُمْ ، فَقُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ بعض اہل کتاب سے میری ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ تم ایک بہترین قوم ہوتے اگر تم یوں نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ جملہ پہلے کہتے تھے جس سے تمہیں روکتے ہوئے مجھے حیاء مانع ہوجاتی تھی اب یہ کہا کرو کہ جو اللہ نے چاہا پھر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا۔
حدیث نمبر: 23340
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَب عَلَى أَهْلِي لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ ، إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَأَتُوب إِلَيْهِ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لِأَبي برْدَةَ بنِ أَبي مُوسَى فَحَدَّثَنِي , عَنْ أَبي مُوسَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَأَتُوب إِلَيْهِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے اہل خانہ سے بات کرتے وقت مجھے اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا تھا البتہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! تم استغفار سے غفلت میں کیوں ہو ؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 23341
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ : " إِنَّ أَشْبهَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلًّا ، وَسَمْتًا بمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبدُ اللَّهِ بنُ مَسْعُودٍ ، مِنْ حِينِ يَخْرُجُ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ ، لَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي بيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 23342
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ حُذَيْفَةَ فَأَقْبلَ عَبدُ اللَّهِ بنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " إِنَّ أَشْبهَ النَّاسِ هَدْيًا وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ ، فَلَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ كَعَبدِ اللَّهِ بنِ مَسْعُودٍ ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبدَ اللَّهِ مِنْ أَقْرَبهِمْ عِنْدَ اللَّهِ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس آنے تک میں نہیں جانتا کہ وہ گھر میں کیا کرتے تھے۔ شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔
حدیث نمبر: 23343
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، أَخْبرَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بالْبرَاقِ ، وَهُوَ دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ ، قَالَ : فَلَمْ يُزَايِلْ ظَهْرَهُ هُوَ وَجِبرِيلُ ، حَتَّى أَتَيَا بيْتَ الْمَقْدِسِ ، وَفُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ ، وَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، قَالَ : وَقَالَ حُذَيْفَةُ : وَلَمْ يُصَلِّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ زِرٌّ : فَقُلْتُ : بلَى ، قَدْ صَلَّى ، قَالَ حُذَيْفَةُ : مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ ، وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ ، قَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ ؟ وَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى ؟ قَالَ : قُلْتُ : لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ سورة الإسراء آية 1 قَالَ : وَهَلْ تَجِدُهُ صَلَّى ؟ لَوْ صَلَّى فِيهِ صَلَّيْنَا فِيهِ كَمَا نُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ : رَبطَ الدَّابةَ بالْحَلَقَةِ الَّتِي رَبطَ بهَا الْأَنْبيَاءُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَوَ كَانَ يَخَافُ أَنْ تَذْهَب وَقَدْ آتَاهُ اللَّهُ بهَا ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے ! تمہارا کیا نام ہے ؟ میں تمہیں چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی ؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے گنجے ! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا ! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدہ دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب وشہود ان کے تابع کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 23344
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ فَحَدَّثَنِي , عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ " ، وَفِي سُجُودِهِ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " ، وَمَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ ، وَلَا بآيَةِ عَذَاب إِلَّا تَعَوَّذَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 23345
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابنَ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَهِيكٍ السَّلُولِيِّ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ فَبالَ قَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
حدیث نمبر: 23346
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا بيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا بيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ ، آنِيَتُهُ أَكْثَرُ ، أَوْ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَطْيَب رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، مَنْ شَرِب مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بعْدَهُ أَبدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 23347
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ ، وَلَكِنْ قُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا " بلکہ یوں کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا "
حدیث نمبر: 23348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبي الْبخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبي ثَوْرٍ ، قَالَ : بعَثَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ بسَعِيدِ بنِ الْعَاصِ ، قَالَ : فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ ، قَالَ : فَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أَبي مَسْعُودٍ ، وَحُذَيْفَةَ ، فَقَالَ أَبو مَسْعُودٍ : مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ ولَمْ يُهْرِقْ فِيهِ دَمًا ، قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلَى عُقَيْبهَا لَمْ يُهْرِقْ فِيهَا مَحْجَمَةَ دَمٍ ، وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًَا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ : " حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبحُ مُؤْمِنًا ، ثُمَّ يُمْسِي مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، وَيُصْبحُ مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ ، يُقَاتِلُ فِئَتَهُ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا ، يَنْكُسُ قَلْبهُ ، تَعْلُوهُ اسْتُهُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَسْفَلُهُ ؟ قَالَ : اسْتُهُ.
مولانا ظفر اقبال
ابو ثور کہتے ہیں کہ ایک ہموار ریتلے علاقے کی طرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اس علاقے کے لوگ باہر نکلے اور انہوں نے حضرت سعید رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرا خیال نہیں ہے کہ یہ آدمی اس طرح واپس آئے گا کہ اس میں خون ریزی نہ کرلے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں کہ جب آپ واپس پہنچیں گے تو وہاں ایک سینگی کے برابر بھی خون نہیں بہا ہوگا مجھے یہ بات اسی وقت معلوم ہوگئی تھی جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی حیات تھے البتہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان صبح کو مومن ہوگا اور شام تک اس کے پاس کچھ بھی ایمان نہ ہوگا یا شام کو مومن ہوگا اور صبح تک اس کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا آج اس کی جماعت قتال کرے گی اور کل اللہ تعالیٰ اسے قتل کروا دے گا اس کا دل الٹا ہوجائے گا اس کے سرین اوپر ہوجائیں گے راوی نے پوچھا کہ یہ لفظ نچلا حصہ ہے تو انہوں نے فرمایا یہ لفظ " سرین " ہی ہے۔
حدیث نمبر: 23349
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بنِ حَنْظَلَةَ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ : " وَاللَّهِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ ، أَوْ قَتَلُوهُ ، أَوْ يَضْرِبهُمْ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ ، حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَب تَلْعَةٍ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَتَقُولُ هَذَا يَا عَبدَ اللَّهِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ ؟ قَالَ : لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچا سکے گا، ایک آدمی نے ان سے کہا بندہ خدا ! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ تو خود قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو وہی بات کہہ رہا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 23350
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : أَبو إِسْحَاقَ أَخْبرَنِي , عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ : أَخْبرْنَا برَجُلٍ قَرِيب السَّمْتِ وَالْهَدْيِ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَقْرَب سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُوَارِيَهُ جِدَارُ بيْتِهِ مِنَ ابنِ أُمِّ عَبدٍ ، وَلَمْ نَسْمَعْ هَذَا مِنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ : لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابنَ أُمِّ عَبدٍ مِنْ أَقْرَبهِمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسِيلَةً " . .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔
حدیث نمبر: 23351
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ وَلِيدِ بنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبي عَمْرٍو الشَّيْبانِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، بهَذَا كُلِّهِ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23352
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَاحِدِ بنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبو رَوْقٍ عَطِيَّةُ بنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُخْمِلُ بنُ دِمَاثٍ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ ، قَالَ : فَسَأَلَ النَّاسَ : مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، " صَلَّى بطَائِفَةٍ مِنَ الْقَوْمِ رَكْعَةً ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ ذَهَب هَؤُلَاءِ فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابهِمْ مُوَاجِهُو الْعَدُوِّ ، وَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى ، فَصَلَّى بهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اور وہ اس طرح کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوگئیں اور ان کے پیچھے ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
حدیث نمبر: 23353
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، قَالَ : قَالَ عُقْبةُ بنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ : أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا ، الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا نَارٌ فَمَاءٌ بارِدٌ ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ ، فَإِنَّهَا مَاءٌ عَذْب بارِدٌ " . قَالَ حُذَيْفَةُ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبلَكُمْ أَتَاهُ مَلَكٌ لِيَقْبضَ نَفْسَهُ ، فَقَالَ لَهُ : هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ ؟ فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ ، قِيلَ لَهُ : انْظُرْ ، قَالَ : مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبايِعُ النَّاسَ وَأُجَازِفُهُمْ ، فَأُنْظِرُ الْمُوسِرِ ، وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعسرِ ، فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ " . قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلًا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، فَلَمَّا أَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ أَوْصَى أَهْلَهُ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبا كَثِيرًا جَزْلًا ، ثُمَّ أَوْقِدُوا فِيهِ نَارًا ، حَتَّى إِذَا أَكَلَتْ لَحْمِي وَخَلَصَ إِلَى عَظْمِي فَامْتَحَشَتْ ، فَخُذُوهَا فَاذْرُوهَا فِي الْيَمِّ ، فَفَعَلُوا ، فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ ، وَقَالَ لَهُ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : مِنْ خَشْيَتِكَ ! قَالَ : فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ " ، قَالَ عُقْبةُ بنُ عَمْرٍو : أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ ، وَكَانَ نَباشًا.
مولانا ظفر اقبال
ربعی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عقبہ بن عمرو نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث کیوں نہیں سناتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال جس وقت خروج کرے گا اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی جو چیز لوگوں کو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگی اور جو چیز پانی نظر آئے گا وہ جلا دینے والی آگ ہوگی تم میں سے جو شخص اسے پائے اسے چاہئے کہ آگ دینے والی چیز میں غوطہ لگائے کیونکہ وہ میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کے پاس ملک الموت روح قبض کرنے کے لئے آئے تو اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے ؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں اس نے کہا غور کرلو اس نے کہا کہ اور تو مجھے کوئی نیکی معلوم نہیں البتہ میں لوگوں کے ساتھ تجارت کرتا تھا اس میں تنگدست کو مہلت دے دیتا تھا اور اس سے درگذر کرلیتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آیک آدمی کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیناجب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا۔
حدیث نمبر: 23354
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ محمد بن أَبي شَيْبةَ ، حَدَّثَنَا أَبو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بنِ جُمَيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، قَالَ : مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبي حُسِيْلٍ ، فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ ، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا ؟ قُلْنَا : مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبرْنَاهُ الْخَبرَ ، فَقَالَ : " انْصَرِفَا ، نَفِي بعَهْدِهِمْ ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر میں شرکت سے مجھے کوئی چیز مانع نہیں تھی بلکہ میں اپنے والد حسیل کے ساتھ نکلا تھا لیکن راستے میں ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ منورہ جانے کا ہے انہوں نے ہم سے یہ وعدہ اور مضبوط عہد لیا کہ ہم مدینہ جا کر لڑائی میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کا وعدہ وفا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔
حدیث نمبر: 23355
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بنُ فَرَافِصَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانٍِ أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ ، وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ ، بيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ ، إِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ ، عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ ، فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبي ، وَاعْصِمْنِي فِيمَا بقِيَ مِنْ عُمْرِي ، وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بهِ عَنِّي ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اچانک میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں تمام حکومتیں تیرے لئے ہیں ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے سارے معاملات تیری ہی طرف لوٹتے ہیں خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ تو ہی اس قابل ہے کہ تیری تعریف کی جائے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے اے اللہ ! مجھ سے جتنے گناہ بھی سرزد ہوئے ہیں سب کو معاف فرما دے اور زندگی کا جتناحصہ باقی بچا ہے اس میں گناہوں سے بچا لے اور ایسے نیک اعمال کی توفیق عطا فرما دے جس سے تو راضی ہوجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو تمہیں تمہارے رب کی حمد سکھانے کے لئے آیا تھا۔
حدیث نمبر: 23356
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُسْلِمَ بنَ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي ، أَوْ بعَضَلَةِ سَاقِهِ ، قَالَ : فَقَالَ : " الْإِزَارُ هَاهُنَا فَإِنْ أَبيْتَ فَهَهُنَا ، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبيْنِ " ، أَوْ " لَا حَقَّ لِلْكَعْبيْنِ فِي الْإِزَارِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ میری یا اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکالو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23357
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابنَ أَبي لَيْلَى ، أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ بالْمَدَائِنِ فَجَاءَهُ دِهْقَانُ بقَدَحٍ مِنْ فِضَّةٍ ، فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بهِ ، وَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ هَذَا إِلَّا أَنِّي قَدْ نَهَيْتُهُ فَلَمْ يَنْتَهِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي نَهَانِي عَنِ الشُّرْب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ ، وَالْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ ، وَقَالَ : " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔
حدیث نمبر: 23358
حَدَّثَنَا عَلَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابنَ هِشَامٍ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَاب أَبي بخَطِّ يَدِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ , أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي أُمَّتِي كَذَّابونَ وَدَجَّالُونَ سَبعَةٌ وَعِشْرُونَ ، مِنْهُمْ أَرْبعُ نِسْوَةٍ ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبيِّينَ ، لَا نَبيَّ بعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں ستائیس کذاب اور دجال آئیں گے جن میں چار عورتیں بھی شامل ہوں گی حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
حدیث نمبر: 23359
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بلَغَهُ عَنْ رَجُلٍ يَنُمُّ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
…