حدیث نمبر: 23280
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ أَمْسِ ، سَأَلَ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ ؟ فَقَالُوا : نَحْنُ سَمِعْنَاهُ ، قَالَ : لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ ؟ قَالُوا : أَجَلْ ، قَالَ : لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ ، تِلْكَ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ، وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبحْرِ ؟ قَالَ : فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ ، قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ لِي : أَنْتَ لِلَّهِ أَبوكَ ! قَالَ : قُلْتُ : " تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوب عَرْضَ الْحَصِيرِ ، فَأَيُّ قَلْب أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بيْضَاءُ ، وَأَيُّ قَلْب أُشْرِبهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ ، حَتَّى يَصِيرَ الْقَلْب عَلَى قَلْبيْنِ : أَبيَضَ مِثْلِ الصَّفَا لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَالْآخَرِ أَسْوَدَ مُرْبدٍّ كَالْكُوزِ مُخْجِيًا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا ، إِلَّا مَا أُشْرِب مِنْ هَوَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے ان کا کہنا ہے کل گذشتہ جب ہم ان کے پاس بیٹھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کس نے فتنوں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم سب ہی نے سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید تم وہ فتنہ سمجھ رہے ہو جو آدمی کے اہل خانہ اور مال سے متعلق ہوتا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا اس کا کفارہ تو نماز روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں ان فتنوں کے بارے تم میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح پھیل جائیں گے ؟ اس پر لوگ خاموش ہوگئے اور میں سمجھ گیا کہ اس کا جواب وہ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں چناچہ میں نے عرض کیا کہ میں نے وہ ارشاد سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا یقینا تم نے ہی سنا ہوگا میں نے عرض کیا کہ دلوں کے سامنے فتنوں کو اس طرح پیش کیا جائے گا جیسے چٹائی کو پیش کیا جائے جو دل ان سے نامانوس ہوگا اس پر ایک سفید نقطہ پڑجائے گا اور جو دل اس کی طرف مائل ہوجائے گا اس پر ایک کالا دھبہ پڑجائے گا حتیٰ کہ دلوں کی دو صورتیں ہوجائیں گی ایک تو ایسا سفید جیسے چاندی اسے کوئی فتنہ " جب تک آسمان و زمین رہیں گے " نقصان نہ پہنچا سکے گا اور دوسرا ایسا کالا سیاہ جیسے کوئی شخص کٹورے کو اوندھا دے اور ہتھیلی پھیلا دے ایسا شخص کسی نیکی کو نیکی اور کسی گناہ کو گناہ نہیں سمجھے گا سوائے اسی چیز کے جس کی طرف اس کی خواہش کا میلان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1435، م: 144
حدیث نمبر: 23281
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ : " أَخْبرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ، فَمَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ : مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیامت تک پیش آنے والے واقعات کے متعلق بتادیا ہے اور اس کے متعلق کوئی چیز ایسی نہیں رہی جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لی ہو البتہ یہ بات نہیں پوچھ سکا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز نکال دے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23282
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، وَأَبو النَّضْرِ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ هُوَ ابنُ هِلَالٍ ، قَالَ أَبو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ يَعْنِي ابنَ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بنِي لَيْثٍ ، قَالَ : فَقَالَ : قُلْنَا : بنُو لَيْثٍ ، قَالَ : فَسَأَلْنَاهُ وَسَأَلَنَا ، ثم قلنا : أتيناك نسألك عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَقْبلْنَا مَعَ أَبي مُوسَى قَافِلِينَ وَغَلَتْ الدَّوَاب بالْكُوفَةِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنَا وَصَاحِب لِي أَبا مُوسَى فَأَذِنَ لَنَا ، فَقَدِمْنَا الْكُوفَةَ باكِرًا مِنَ النَّهَارِ ، فَقُلْتُ لِصَاحِبي : إِنِّي دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا قَامَتْ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْكَ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ يَسْتَمِعُونَ إِلَى حَدِيثِ رَجُلٍ ، قَالَ : فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبي ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : أَبصْرِيٌّ أَنْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ لَوْ كُنْتَ كُوفِيًّا لَمْ تَسْأَلْ عَنْ هَذَا ، هَذَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، قَالَ : فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَنْ يَسْبقَنِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، تَعَلَّمْ كِتَاب اللَّهِ ، وَاتَّبعْ مَا فِيهِ " ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " فتنهٌ وشرٌّ " ، قال : قلت : يا رَسُولَ الله ، أَبعْدَ هَذَا الشَرِّ خَيْرِ ؟ قال : " يا حذيفة ، تَعَلَّم كِتَاب الله ، وَاتَّبعْ مَا فِيهِ " ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ الله ، أَبعْدَ هَذَا الشَرٌّ خَيْرٌّ ؟ قَالَ : " هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ ، وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْهُدْنَةُ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ ؟ قَالَ : " لَا تَرْجِعُ قُلُوب أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ قَالَ : " يَا حذيفة ، تَعَلَّم كِتَاب الله ، واَتَّبعْ مَا فِيهِ " ، ثَلاَثَ مَرَّات ، قَال : قِلْتِِِِِِ : يَا رسول الله ، أبعد هذا الخير شر ؟ قال : " فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبوَاب النَّارِ ، وَأَنْتَ أَنْ تَمُوتَ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبعَ أَحَدًا مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
نصر بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنولیث کے ایک گروہ کے ساتھ یشکری کے پاس آیا انہوں نے پوچھا کون لوگ ہیں ؟ ہم نے بتایا بنولیث ہیں ہم نے ان کی خیریت دریافت کی اور انہوں نے ہماری خیریت معلوم کی پھر ہم نے کہا کہ ہم آپ کے پاس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث معلوم کرنے کے لئے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آرہے تھے کوفہ میں جانور بہت مہنگے ہوگئے تھے میں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ سے اجازت لی انہوں نے ہمیں اجازت دے دی چناچہ ہم صبح سویرے کوفہ پہنچ گئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں مسجد کے اندر ہوں جب بازار کھل جائے گا تو میں آپ کے پاس آجاؤں گا۔ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں وہ ایک آدمی کی حدیث کو بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں ؟ اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں میں نے کہا جی ہاں ! اس نے کہا کہ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر آپ کوفی ہوتے تو ان صاحب کے متعلق سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23283
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ أَبو النَّضْرِ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ ، فَقَالَ : يَا رِبعِيُّ ، مَا فَعَلَ قَوْمُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَنْ أَيِّ بالِهِمْ تَسْأَلُ ؟ قَالَ : مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَسَمَّيْتُ رِجَالًا فِيمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش (رح) کہتے ہیں کہ جس دور میں فتنہ پرور لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے مدائن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے پوچھا اے ربعی ! تمہاری قوم کا کیا بنا ؟ میں نے پوچھا کہ آپ ان کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کون کون روانہ ہوئے ہیں ؟ میں نے انہیں ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیئے وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جماعت کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے امیر کو ذلیل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23284
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ أَتَاهُ بالْمَدَائِنِ ، فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23285
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " فَانْطَلَقْتُ أَوْ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بيْتِ الْمَقْدِسِ " ، فَلَمْ يَدْخُلَاهُ ، قَالَ : قُلْتُ : بلْ دَخَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ وَصَلَّى فِيهِ ، قَالَ : مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ ! قَالَ : قُلْتُ : أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ ، قَالَ : فَمَا عِلْمُكَ بأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ لَيْلَتَئِذٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : الْقُرْآنُ يُخْبرُنِي بذَلِكَ ، قَالَ : مَنْ تَكَلَّمَ بالْقُرْآنِ ، فَلَجَ ، اقْرَأْ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الإسراء آية 1 ، قَالَ : فَلَمْ أَجِدْهُ صَلَّى فِيهِ ، قَالَ : يَا أَصْلَعُ هَلْ تَجِدُ صَلَّى فِيهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ ، لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِب عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِيهِ ، كَمَا كُتِب عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِي الْبيْتِ الْعَتِيقِ ، وَاللَّهِ مَا زَايَلَا الْبرَاقَ حَتَّى فُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ ، فَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ ، ثُمَّ عَادَا عَوْدَهُمَا عَلَى بدْئِهِمَا ، قَالَ : ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ ، قَالَ : وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ لَرَبطَهُ لِيَفِرَّ مِنْهُ ؟ ! وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْب وَالشَّهَادَةِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَبا عَبدِ اللَّهِ ، أَيُّ دَابةٍ الْبرَاقُ ؟ قَالَ : دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ ، هَكَذَا خَطْوُهُ مَدُّ الْبصَرِ .
مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے ! تمہارا کیا نام ہے ؟ میں تمہیں چہرے سے پہنچاتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی ؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے کنجے ! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا ! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدے دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب وشہود ان کے تابع کردیا تھا میں نے پوچھا اے ابو عبداللہ ! براق کس قسم کا جانور تھا ؟ فرمایا سفید رنگ کا ایک لمباجانور تھا جس کا قدم تا حدنگاہ پڑتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23286
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِنًا أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَحْيَا وَباسْمِكَ أَمُوتُ " ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانِي بعْدَمَا أَمَاتَنِي وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6312، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23287
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بكْرِ بنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبي عَبدِ الْمَلِكِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِيبةِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الدَّارِ الشَّاسِعَةِ ، كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دور والے گھر پر مسجد کے قریب والے گھر کی فضیلت ایسے ہے جیسے نمازی کی فضیلت جہاد کے انتظار میں بیٹھنے والے پر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، أبو عبدالملك وأهي الحديث، ثم هو لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23288
حَدَّثَنَا أَبو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ . وَإِسْحَاقُ بنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، أَنَّهُ أَتَى حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ بالْمَدَائِنِ يَزُورُهُ وَيَزُورُ أُخْتَهُ ، قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : مَا فَعَلَ قَوْمُكَ يَا رِبعِيُّ ، أَخَرَجَ مِنْهُمْ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَسَمَّى نَفَرًا ، وَذَلِكَ فِي زَمَنِ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى عُثْمَانَ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ ، وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ ، لَقِيَ اللَّهَ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش (رح) کہتے ہیں کہ جس دور میں فتنہ پرور لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے مدائن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے پوچھا اے ربعی ! تمہاری قوم کا کیا بنا ؟ میں نے پوچھا کی آپ ان کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کون کون روانہ ہوئے ہیں ؟ میں نے انہیں ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیئے وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جماعت کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے امیرکو ذلیل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23289
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبي عُبيْدَةَ بنِ حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَعْطَاهُ فَأَعْطَى الْقَوْمُ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بهِ ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ ، وَمِنْ أُجُورِ مَنْ يَتَّبعُهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بهِ ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ ، وَمِنْ أَوْزَارِ مَنْ يَتَّبعُهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کسی شخص نے لوگوں سے سوال کیا، لوگ رکے رہے پھر ایک آدمی نے اسے کچھ دے دیا اور پھر سب لوگ اسے دینے لگے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کو بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23290
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَقْوَامٌ ، فَيُخْتَلَجُونَ دُونِي ، فَأَقُولُ : رَب أَصْحَابي ، رَب أَصْحَابي ، فَيُقَالُ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، تغير حفظ حصين بأخرة، وقد اختلف عليه فى تسمية صحابي هذا الحديث، والمحفوظ: عن ابن مسعود
حدیث نمبر: 23291
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابنَ كَيْسَانَ ، عَنِ ابنِ شِهَاب ، قَالَ : قَالَ أَبو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيّ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بيْنِي وَبيْنَ السَّاعَةِ ، وَمَا ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا أَسَرَّهُ إِلَيَّ لَمْ يَكُنْ حَدَّثَ بهِ غَيْرِي ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ ، سُئِلَ عَنِ الْفِتَنِ وَهُوَ يَعُدُّ : " الْفِتَنَ فِيهِنَّ ثَلَاثٌ لَا يَذَرْنَ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ ، مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبارٌ " ، قَالَ حُذَيْفَةُ : فَذَهَب أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا ! میں اب سے لے کر قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ایسا تو نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ کوئی بات مجھے بتائی ہو جو میرے علاوہ کسی اور کو نہ بتائی ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مجلس میں یہ باتیں بیان فرمائی تھیں میں اس میں موجود تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کے متعلق سوالات پوچھے جا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شمار کروا رہے تھے ان میں تین فتنے ایسے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کچھ گرمیوں کی ہواؤں جیسے ہوں گے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ اس مجلس کے تمام شرکاء دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23292
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا إِبرَاهِيمُ بنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بنُ كَيْسَانَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2891، وهذا إسناد ضعيف لجهالة فزارة بن عمر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23293
حَدَّثَنَا هَارُونُ بنُ مَعْرُوفٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا ابنُ وَهْب ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَمْرَو بنَ شُعَيْب حَدَّثَهُ , أَنَّ مَوْلَى شُرَحْبيلَ ابنِ حَسَنَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبةَ بنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، وَحُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حل مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا تیر جس چیز کو شکار کر کے تمہارے پاس لے آئے اسے کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولي شرحبيل أبن حسنة
حدیث نمبر: 23294
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بنِ شُعَيْب أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ مَوْلَى شُرَحْبيلَ ابنِ حَسَنَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبةَ بنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ وَحُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا تیر جس چیز کو شکار کر کے تمہارے پاس لے آئے اسے کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولي شرحبيل
حدیث نمبر: 23295
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، قَالَ : قَالَ أَبو إِسْحَاقَ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ غَالِب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن تمام اولاد آدم کے سردار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23296
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ غَالِب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن تمام اولاد آدم کے سردار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23297
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ غَالِب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن تمام اولاد آدم کے سردار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23298
حَدَّثَنَا أَبو أَحْمَدَ الزُّبيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ غَالِب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن تمام اولاد آدم کے سردار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23299
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عُمَرَ ، وَخَلَفُ بنُ الْوَلِيدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابنَ زَائِدَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بنِ عَمَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ الدُّؤَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبدُ الْعَزِيزِ أَخُو حُذَيْفَةَ , قَالَ حُذَيْفَةُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَزَبهُ أَمْرٌ صَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی پریشان کن معاملہ پیش آتا تو نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة محمد بن عبدالله، وعبدالعزيز
حدیث نمبر: 23300
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابنُ عَمٍّ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَرَأَ السَّبعَ الطِّوَالَ فِي سَبعِ رَكَعَاتٍ ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " ، وَكَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ ، وَسُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ كَادَتْ تَنْكَسِرُ رِجْلَايَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کو قیام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعتوں میں سات طویل سورتیں پڑھ لیں اور رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے، پھر فرماتے " الحمد للہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ " اور ان کا رکوع قیام کے برابر تھا اور سجدہ رکوع کے برابر ہے نماز سے جب فراغت ہوئی تو میری ٹانگیں ٹوٹنے کے قریب ہوگئی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن عم حذيفة، وقد سلف بسند صحيح
حدیث نمبر: 23301
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابنَ أَبي عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِي ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابا مِنْ عِنْدِهِ ، ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ فَلَا يَسْتَجِيب لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ امربالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23302
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِي ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ ، وَتَجْتَلِدُوا بأَسْيَافِكُمْ ، وَيَرِثُ دِيَارَكُمْ شِرَارُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اپنے امام کو قتل نہ کرو، دو تلواروں سے لڑنے نہ لگو اور تمہاری دنیا کے وارث تمہارے بدترین لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23303
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِيُّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بالدُّنْيَا لُكَعُ بنُ لُكَعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دنیا میں سب سے زیادہ سعادت مند آدمی کمینہ بن کمینہ نہ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23304
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبي ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَأَنَا لَفِتْنَةُ بعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا ، وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتْ الدُّنْيَا صَغِيرَةٌ وَلَا كَبيرَةٌ ، إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دجال کا تذکرہ ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک تمہارے حق میں دجال کے فتنے سے زیادہ آپس کے فتنے سے خطرہ ہے جو شخص دجال کے فتنے سے قبل اس فتنے سے بچ گیا تو وہ فتنہ دجال سے بھی بچ جائے گا اور جب سے دنیا بنی ہے ہر چھوٹا بڑا فتنہ دجال کے فتنے کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23305
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ أَبو سَعِيدٍ الْأَحْوَلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي إِبرَاهِيمُ مُنْذُ نَحْوِ سِتِّينَ سَنَةٍ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ ، فَقِيلَ : إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى الْأُمَرَاءِ ! قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6065، م: 105
حدیث نمبر: 23306
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي بكَيْرٍ , حَدَّثَنَا عُبيْدُ اللَّهِ بنُ إِيَادِ بنِ لَقِيطٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي يَذْكُرُ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ : " عِلْمُهَا عِنْدَ رَبي ، لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ، وَلَكِنْ أُخْبرُكُمْ بمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بيْنَ يَدَيْهَا ، إِنَّ بيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا ، فَالْهَرْجُ مَا هُوَ ؟ قَالَ : " بلِسَانِ الْحَبشَةِ : الْقَتْلُ ، وَيُلْقَى بيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ ، فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ أَنْ يَعْرِفَ أَحَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامات بتائے دیتا ہوں اور یہ کہ اس سے پہلے کیا ہوگا ؟ قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اور " ہرج " ہوگا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فتنہ کا معنی تو ہم سمجھ گئے ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل حبش کی زبان میں اس کا معنی قتل ہوتا ہے اور لوگوں میں اجنبیت پیدا ہوجائے گی اور کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، إياد بن لقيط لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جِنَازَةِ حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ صَاحِب هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ : مَا بي بأْسٌ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَئِنْ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بيْتِيَ ، فَلَئِنْ دُخِلَ عَلَيَّ لَأَقُولَنَّ : هَا ، بؤْ بإِثْمِي وَإِثْمِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ربعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے چارپائی پر لیٹے ہوئے اس شخص سے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ اگر تم لوگ لڑنے لگو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اگر کوئی میرے گھر میں بھی آگیا تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آؤ اور میرا اور اپنا گناہ لے کر لوٹ جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن حذيفة
حدیث نمبر: 23308
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ يَزِيدَ ، قَالَ : أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ ، فَقُلْنَا : دُلَّنَا عَلَى أَقْرَب النَّاسِ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا ، وَسَمْتًا ، وَوَلَاءً ، نَأْخُذْ عَنْهُ وَنَسْمَعْ مِنْهُ ، فَقَالَ : " كَانَ من أَقْرَب النَّاسِ برَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا ، وَسَمْتًا ، وَدَلًّا ، ابنُ أُمِّ عَبدٍ ، حَتَّى يَتَوَارَى عَنِّي فِي بيْتِهِ ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ أَنَّ ابنَ أُمِّ عَبدٍ مِنْ أَقْرَبهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَةً " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ہمیں کسی ایسے آدمی کا پتہ بتائیے جو طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم ان سے یہ طریقے اخذ کرسکیں اور ان کی باتیں سن سکیں انہوں نے فرمایا کہ طور طریقوں اور سیرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے یہاں تک کہ وہ مجھ سے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ صحابہ جانتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح لكن الجملة الأخيرة: ولقد علم المحفوظون.....لم يسمعها ابو اسحاق من عبدالرحمن بن يزيد
حدیث نمبر: 23309
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَكَ فِيهِ شَيْئًا يَكُونُ قَبلَ السَّاعَةِ إِلَّا قَدْ ذَكَرَهُ ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ " ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيْءَ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ غَاب عَنْهُ ، ثُمَّ رَآهُ فَعَرَفَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو میں بھول چکا ہوتا ہوں لیکن پھر انہیں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جیسے کوئی آدمی غائب ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر اسے اس کے چہرے سے ہی پہچان لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2891
حدیث نمبر: 23310
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَرْفَعُ إِلَى عُثْمَانَ الْأَحَادِيثَ مِنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " ، يَعْنِي نَمَّامًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6056، م:105
حدیث نمبر: 23311
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّ بآيَةِ خَوْفٍ تَعَوَّذَ ، وَإِذَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ ، قَالَ : وَكَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ قال : " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ " ، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 772، وهذا إسناد متقطع، بين سعد بن عبيدة وصلة بن زفر المستورد بن الأحنف
حدیث نمبر: 23312
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ الْجُهَنِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبو الرُّقَادِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ ، فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ : " إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبعَ مَرَّاتٍ ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ ، أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمْ اللَّهُ جَمِيعًا بعَذَاب ، أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ، ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ ، فَلَا يُسْتَجَاب لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں۔ تم لوگ امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الرقاد العبسي
حدیث نمبر: 23313
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حصين ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1136، م: 255
حدیث نمبر: 23314
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ أَبي غَنِيَّةَ , حَدَّثَنَا أَبي ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَشْرَبوا فِي الذَّهَب وَلَا فِي الْفِضَّةِ ، وَلَا تَلْبسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23315
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ ثَابتِ ابنِ وَدِيعَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بضِباب قَدْ احْتَرَشَهَا ، قَالَ : فَجَعَلَ يُقَلِّب ضَبا مِنْهَا بيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أُمَّةٌ مُسِخَتْ " ، قَالَ : وَأَكْبرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ : " مَا أَدْرِي مَا فَعَلَتْ " ، قَالَ : " وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا " ، وقَالَ شُعْبةُ : وسَمِعْتُهُ ، وقَالَ حُصَيْنٌ : عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : وَذَكَرَ شَيْئًا نَحْوًا مِنْ هَذَا ، قَالَ : فَلَمْ يَأْمُرْ بهِ ، وَلَمْ يَنْهَ أَحَدًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی چند عدد گوہ شکار کر کے لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک گوہ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا کہ ایک امت کی شکلیں مسخ کردی تھیں مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ وہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 23316
حَدَّثَنَا أَبو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بنُ صُلَيْعٍ حَتَّى أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبدًا صَالِحًا إِلَّا أفَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ ، حَتَّى يُدْرِكَهَا اللَّهُ بجُنُودٍ مِنْ عِبادِهِ ، فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَب تَلْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچاسکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23317
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بيْنَ حَوْضِي كَمَا بيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ ، آنِيَتُهُ أَكْثَرُ ، أَوْ قَالَ : مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَطْيَب مِنَ الْمِسْكِ ، مَنْ شَرِب مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بعْدَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23318
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : مَا بيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كأَيْلَةَ وَمُضَرَ ، فَذَكَرَهُ ، وَكَذَا قَالَ يُونُسُ ، كَمَا قَالَ عَفَّانُ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23319
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ ، رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ ، أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبرَنِي , عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي أَصْحَابي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا ، مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن عبادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالیقظان ! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ کی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میری امت میں بارہ منافق ہوں گے ان میں سے آٹھ لوگ وہ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اس کی مہک پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2779