حدیث نمبر: 23240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ " ، وَفِي سُجُودِهِ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " ، قَالَ : وَمَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ ، وَلَا آيَةِ عَذَاب إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں " سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں " سبحان ربی الاعلیٰ کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 23241
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : الْأَعْمَشُ أَخْبرَنَا , عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ ، فَبالَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ دَعَا بمَاءٍ ، فَأَتَيْتُهُ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوایا جو میں لے کر حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔
حدیث نمبر: 23242
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 23243
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بنِ نُذَيْرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعَضَلَةِ سَاقِي ، أَوْ سَاقِهِ ، قَالَ : " هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ، فَإِنْ أَبيْتَ فَأَسْفَلُ ، فَإِنْ أَبيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِيمَا دُونَ الْكَعْبيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23244
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كان يعنى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ، وَقَالَ : " رَب قِنِي عَذَابكَ يَوْمَ تَبعَثُ ، أَوْ تَجْمَعُ عِبادَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے اس دن کے عذاب سے محفوظ فرما جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھا کر جمع کرے گا۔
حدیث نمبر: 23245
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي : أَبي بكْرٍ ، وَعُمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد آنے والے دو آدمیوں یعنی ابوبکر و عمر کی اقتداء کرنا رضی اللہ عنہ ۔
حدیث نمبر: 23246
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى سُباطَةَ قَوْمٍ ، فَبالَ قَائِمًا ، فَذَهَبتُ أَتَباعَدُ عَنْهُ ، فَقَدَّمَنِي حَتَّى . . . " ، قَالَ أَبو عَبد الرَّحْمَنِ : وَسَقَطَتْ عَلَى أَبي كَلِمَةٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا میں پیچھے ہٹنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آگے رہنے کی تلقین کی یہاں تک کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد (رح) کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میرے والد سے ایک کلمہ ساقط ہوگیا ہے۔
حدیث نمبر: 23247
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 23248
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : بلَغَهُ أَنَّ أَبا مُوسَى كَانَ يَبولُ فِي قَارُورَةٍ ، وَيَقُولُ : إِنَّ بنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَاب أَحَدَهُمْ الْبوْلُ قَرَضَ مَكَانَهُ ، قَالَ حُذَيْفَةُ : وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبكُمْ لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي نَتَمَاشَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى سُباطَةٍ ، فَقَامَ يَبولُ كَمَا يَبولُ أَحَدُكُمْ ، فَذَهَبتُ أَتَنَحَّى عَنْهُ ، فَقَالَ : " ادْنُهْ " ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری آرزو ہے کہ تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کریں مجھے یاد ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہے تھے چلتے چلتے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسی طرح پیشاب کیا جیسے تم میں سے کوئی کرتا ہے میں پیچھے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہی رہو چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کی جانب قریب ہوگیا۔
حدیث نمبر: 23249
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خُيثْمَةَ ، عَنْ أَبي حُذَيْفَةَ ، قَالَ أَبو عَبد الرَّحْمَنِ : اسْمُهُ سَلَمَةُ بنُ الْهَيْثَمِ بنِ صُهَيْب مِنْ أَصْحَاب ابنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَعَامٍ ، لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعَ يَدَهُ ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ ، فَذَهَبتْ تَضَعُ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهَا ، وَجَاءَ أَعْرَابيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ ، فَذَهَب يَضَعُ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيَدِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ جَاءَ بهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بهَا ، فَأَخَذْتُ بيَدِهَا ، وَجَاءَ بهَذَا الْأَعْرَابيِّ لِيَسْتَحِلَّ بهِ ، فَأَخَذْتُ بيَدِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ ، إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهِمَا " ، يَعْنِي الشَّيْطَانَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھانے میں شریک ہوتے تو اس وقت تک اپنے ہاتھ کھانے میں نہ ڈالتے جب تک ابتداء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرماتے ایک مرتبہ اسی طرح ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک تھے اسی اثناء میں ایک باندی آئی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آیا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کوئی دھکیل رہا ہے وہ کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا کہ جب کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال سمجھتا ہے چناچہ پہلے وہ اس باندی کے ساتھ آیا تاکہ اپنے لئے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ اس دیہاتی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ذریعے اپنے کھانے کو حلال بنا لے لیکن میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری حان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔
حدیث نمبر: 23250
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، جُفَالُ الشَّعْرِ ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کے بال اون کی مانند ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہوگی لیکن اس کی جہنم، درحقیقت جنت ہوگی اور جنت درحقیقت جہنم ہوگی۔
حدیث نمبر: 23251
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بثَلَاثٍ : جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَة ، قَالَ : كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، لَمْ يُعْطَهَا نَبيٌّ قَبلِي " ، قَالَ أَبو مُعَاوِيَةَ : كُلُّهُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً ) مروی ہے کہ اس امت کو دیگر امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے اس امت کے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنایا گیا ہے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اور اس امت کو سورت بقرہ کی آخری آیتیں عرش الہٰی کے نیچے ایک خزانے سے دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حدیث نمبر: 23252
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 23253
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبلَكُمْ يَعْمَلُ بالْمَعَاصِي ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ، ثُمَّ اطْحَنُونِي ، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الْبحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ ، قَالَ : فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ، قَالَ : فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي يَدِهِ ، فقَالَ لَهُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : خَوْفُكَ ! قَالَ : فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جو گناہوں کے کام کرتا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دینا جب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا۔
حدیث نمبر: 23254
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ أَمْرِ النُّبوَّةِ الْأُولَى ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو پہلے امر نبوت میں سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہے کرو۔
حدیث نمبر: 23255
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ ، حَدَّثَنَا : " أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوب الرِّجَالِ ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ ، فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ " ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ ، فَقَالَ : " يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبهِ ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ ، فَتُقْبضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبهِ ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ تَرَاهُ مُنْتَبرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ " ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِه ، قال : " َفَيُصْبحُ النَّاسُ يَتَبايَعُونَ لَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ : إِنَّ فِي بنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا ، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ : مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ ! وَمَا فِي قَلْبهِ حَبةٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ " ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبالِي أَيَّكُمْ بايَعْتُ ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ ، وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دو حدیثیں بیان کی ہیں جن میں سے ایک میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو نکال لیا جائے گا اور وہ صرف ایک نقطے کے برابر اس کے دل میں باقی رہ جائے گی پھر جب دوبارہ سوئے گا تو اس کے دل سے باقی ماندہ امانت بھی نکال لی جائے گی اور وہ ایسے رہ جائے گی جیسے کسی شخص کے پاؤں پر کوئی چھالا پڑگیا ہو اور تم اس پر کوئی انگارہ ڈال دو تو تمہیں پھولا ہوا نظر آئے گا لیکن اس میں کچھ نہیں ہوتا پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ کنکریاں لے کر اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا کر دیکھایا۔ اس کے بعد لوگ ایک دوسرے سے خریدوفروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت ادا کرنے والا نہیں ہوگا حتیٰ کہ یوں کہا جایا کرے گا کہ بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی رہتا ہے اسی طرح یوں کہا جائے گا کہ وہ کتنا مضبوط ظرف والا اور عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ جب میں کسی سے بھی خریدوفروخت کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتا تھا کیونکہ وہ مسلمان ہوتا تو وہ اپنے دین کی بنیاد پر اسے واپس لوٹا دیتا تھا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو وہ اپنے گورنر کی بنیاد پر واپس کردیتا تھا لیکن اب تو میں صرف فلاں فلاں آدمی سے ہی خریدوفروخت کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 23256
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . .
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بنَ وَهْب يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثَيْنِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حدیث نمبر: 23258
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، قَالَ : دَخَلَ حُذَيْفَةُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي أَبوَاب كِنْدَةَ ، فَجَعَلَ لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَلَا السُّجُودَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : مُنْذُ كَمْ هَذِهِ صَلَاتُكَ ؟ قَالَ : مُنْذُ أَرْبعِينَ سَنَةً ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : مَا صَلَّيْتَ مِنْ أَرْبعِينَ سَنَةً ، وَلَوْ مُتَّ وَهَذِهِ صَلَاتُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فُطِرَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، قَالَ : ثُمَّ أَقْبلَ عَلَيْهِ يُعَلِّمُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ فِي صَلَاتِهِ وَإِنَّهُ لَيُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمائی گئی تھی پھر وہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا انسان نماز ہلکی پڑھے لیکن رکوع و سجود مکمل کرے۔
حدیث نمبر: 23259
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبعِ مِائَةِ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبتَلَوْا " ، قَالَ : فَابتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کے نام لیوا افراد شمار کر کے ان کی تعداد مجھے بتاؤ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کو ہمارے متعلق کوئی خطرہ ہے جبکہ ہم تو چھ سے سات سو کے درمیان ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نہیں جانتے ہوسکتا ہے کہ تمہاری آزمائش کی جائے چناچہ ہمارا امتحان ہوا تو ہم میں سے ہر آدمی چھپ کر ہی نماز پڑھ سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 23260
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، أَوْ عَنْ غَيْرِهِ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ يَكْذِبونَ وَيَظْلِمُونَ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بكَذِبهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْهُمْ ، وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بكَذِبهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو دروغ بیانی سے کام لیں گے اور ظلم کریں گے سو جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کو سچ قرار دے گا اور ظلم پر ان کی مدد کرے گا اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی نہیں آسکے گا اور جو شخص نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور نہ ظلم پر ان کی مدد کرے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر بھی آئے گا۔
حدیث نمبر: 23261
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنْ مُسْتَوْرِدِ بنِ أَحْنَفَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، قَالَ : فَافْتَتَحَ ، فَقَرَأَ حَتَّى بلَغَ رَأْسَ الْمِائَةِ ، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى بلَغَ الْمِائَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى خَتَمَهَا ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَرْكَعُ ، قَالَ : ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ عِمْرَانَ خَتَمَهَاَ ، فَقُلْتُ : يَرْكَعُ ، قَالَ : ثُمَّ افْتَتَحَ سُورَةَ ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ ، قَالَ : فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ : " سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ " ، قَالَ : وَكَانَ رُكُوعُهُ بمَنْزِلَةِ قِيَامِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ ، وَقَالَ فِي سُجُودِهِ : " سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى " ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا مَرَّ بآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ ، وَإِذَا مَرَّ بآيَةٍ فِيهَا عَذَاب ، تَعَوَّذَ ، وَإِذَا مَرَّ بآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، سَبحَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 23262
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بلَالٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بنِ شَكَلٍ ، وَعَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، وَعَنْ سُلَيْكِ بنِ مِسْحَل الغَطَفانِي ، قَالُوا : خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَكَلَّمُونَ كَلَامًا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقَ " .
مولانا ظفر اقبال
متعدد تابعین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم باتیں کر رہے تھے اور فرمانے لگے کہ تم لوگ ایسی باتیں کر رہے ہو جنہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں " نفاق '' شمار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23263
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبي مِجْلَزٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ فِي الَّذِي يَقْعُدُ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ ، قَالَ : " مَلْعُونٌ " عَلَى لِسَانِ النَّبيِّ أَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلون قرار دے دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 23264
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي جُنُب ، قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات مدینہ منورہ کے کسی بازار میں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تو میں نے عرض کیا کہ میں اختیاری طور پر ناپاک ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 23265
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ عن النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ ، قُولُوا : مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا " بلکہ یوں کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا "
حدیث نمبر: 23266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ يَعْنِي ابنَ صُهَيْب ، عَنْ مُوسَى بنِ أَبي الْمُخْتَارِ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ : " مَا أَخْبيَةٌ بعْدَ أَخْبيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ببدْرٍ يُدْفَعُ عَنْهُمْ ، مَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبيَةِ ، وَلَا يُرِيدُ بهِمْ قَوْمٌ سُوءًا إِلَّا أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔
حدیث نمبر: 23267
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ أَبي الْجَهْمِ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُتْبةَ ، عَنِ ابنِ عَباسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بذِي قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بنِي سُلَيْمٍ ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ ، صَفًّا يُوَازِي الْعَدُوَّ ، وَصَفًّا خَلْفَهُ ، فَصَلَّى بالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ، ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ ، وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ ، فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام "" ذی قرد "" تھا نماز خوف پڑھائی لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی۔
حدیث نمبر: 23268
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بنِ أَبي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ ، بطَبرِسْتَانَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ؟ قَالَ : فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، فَقَالَ سُفْيَانُ : فَوَصَفَ مِثْلَ حَدِيثِ ابنِ عَباسٍ ، وَزَيْدِ بنِ ثَابتٍ.
مولانا ظفر اقبال
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے پھر انہوں نے بعینہ وہی طریقہ بیان کیا جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23269
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ ، وَآنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ ، وَقَالَ : " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔
حدیث نمبر: 23270
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَبيب بنِ سُلَيْمٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ بلَالِ بنِ يَحْيَى الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّعْيِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے مرنے کا چیخ و پکار کے ساتھ اعلان کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 23271
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : " باسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا " ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "
حدیث نمبر: 23272
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : جَاءَ السَّيِّدُ ، وَالْعَاقِب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابعَثْ مَعَنَا أَمِينَكَ ، وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : أَمِينًا ، قَالَ : " سَأَبعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " ، قَالَ : فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ ، فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ بنَ الْجَرَّاحِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 23273
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِر ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " لَقِيَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ ، فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ " ، قَالَ أَبي : وَقَالَ ابنُ مَهْدِيٍّ : إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ ، فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبةً عَنْهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے آئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احجارالمراء نامی جگہ میں تھے اور عرض کیا کہ آپ کی امت کے لوگ قرآن کریم کو سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں ان میں سے جو شخص کسی خاص قرأت کے مطابق اسے پڑھنا چاہے تو اسی طرح پڑھے جیسے اسے سکھایا گیا ہو اور اس سے رجوع نہ کرے۔
حدیث نمبر: 23274
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا ، فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ بيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ " ، قَالَ حُذَيْفَةُ : فَإِنِّي لَأَرَى أَشْيَاءَ قَدْ كُنْتُ نُسِّيتُهَا فَأَعْرِفُهَا كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ ، قَدْ كَانَ غَائِبا عَنْهُ ، يَرَاهُ فَيَعْرِفُهُ . وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : فَرَآهُ فَعَرَفَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو میں بھول چکا ہوتا ہوں لیکن پھر انہیں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جیسے کوئی آدمی غائب ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر اسے اس کے چہرے سے ہی پہچان لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 23275
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ : هِلَالٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عَنْ مَسْحِ الْحَصَى ، فَقَالَ : " وَاحِدَةً أَوْ دَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے حتیٰ کہ کنکریوں کو دوران نماز برابر کرنے کا مسئلہ بھی پوچھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اسے برابر کرلو ورنہ چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 23276
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرِبعِيٍّ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي ، وَأَشَارَ إِلَى أَبي بكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَتَمَسَّكُوا بعَهْدِ عَمَّارٍ ، وَمَا حَدَّثَكُمْ ابنُ مَسْعُودٍ ، فَصَدِّقُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔
حدیث نمبر: 23277
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبو الْعُمَيْسِ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، عَنِ ابنٍ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا دَعَا لِرَجُلٍ ، أَصَابتْهُ وَأَصَابتْ وَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے۔
حدیث نمبر: 23278
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا رَزِينُ بنُ حَبيب الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبي الرُّقَادِ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ بهَا مُنَافِقًا ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ الْيَوْمَ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں۔
حدیث نمبر: 23279
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بنُ طَارِقٍ , حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدِّجَّالِ ، مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ : أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبيَضُ ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ ، فَإِنْ أَدْرَكَنَّ وَاحِد مِنْكُمْ ، فَلْيَأْتِ النَّهَرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا ، فَلْيُغْمِضْ ثُمَّ لِيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَب ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بارِدٌ ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، مَكْتُوب بيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِب وَغَيْرُ كَاتِب " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ کسی نے پونچھ دی ہوگی اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر کاتب وغیرکاتب مسلمان پڑھ لے گا۔
…