حدیث نمبر: 23231
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بنُ حُصَيْنِ بنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبدٌ يَقُودُكُمْ بكِتَاب اللَّهِ ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن حصین (رح) کی اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم پر کسی غلام کو بھی امیر مقرر کردیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق لے کر چلتا رہے تو تم اس کی بات بھی سنو اور اس کی اطاعت کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1838
حدیث نمبر: 23232
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ يَحْيَى بنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا فِي الثَّالِثَةِ : وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن حصین (رح) اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلق کرانے والوں پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں تیسری مرتبہ لوگوں نے قصر کرنے والوں کو بھی دعاء میں شامل کرنے کی درخواست کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شامل فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1303
حدیث نمبر: 23233
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بنِ حَيَّانَ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ ابنِ بجَادٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بظِلْفِ شَاةٍ مُحْتَرِقٍ " ، أَوْ مُحْرَقٍ.
مولانا ظفر اقبال
ابن بجاد اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سائل کو کچھ دے کر ہی واپس بھیجا کرو خواہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، ابن بجاد صوابه: أبن بجيد