حدیث نمبر: 23182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بنِ مُضَرِّب ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابهِ : " إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا ، أَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ ، مِنْهُمْ فُرَاتُ بنُ حَيَّانَ " ، قَالَ : مِنْ بنِي عِجْلٍ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں کچھ بھی نہیں دیتا، بلکہ انہیں ان کے ایمان کے حوالے کردیتا ہوں انہی میں فرات بن حیان ہے، ان کا تعلق بنو عجل سے تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: لا أعطيهم شيئا ففي زيادتها نظر
حدیث نمبر: 23183
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ عَبدُ اللَّهِ بنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا أَبو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بنِي هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
بنو ہلال کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مالدار یا تندرست و توانا آدمی کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23184
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي أَيُّوب ، حَدَّثَنِي بكْرُ بنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ هُبيْرَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ جُبيْرٍ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّب لَهُ طَعَامٌ يَقُولُ : " بسْمِ اللَّهِ " ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ، قَالَ : " اللهم أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ ، وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ ، وَهَدَيْتَ وَاجْتَبيْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم " جنہوں نے آٹھ سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی " سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کھانے کو پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ کہہ کر شروع فرماتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! تو نے کھلایا پلایا، غناء اور روزی عطاء فرمائی تو نے ہدایت اور زندگانی عطاء فرمائی تیری بخششوں پر تیری تعریف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23185
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بنُ إِسْمَاعِيلَ أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُنِيب ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : بلَغَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا ، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بمِصْرَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا ، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : فَقَالَ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے پہلے صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف رخت سفر باندھا جو کہ مصر میں رہتے تھے وہاں پہنچ کر ان سے پوچھا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو سفر کرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة منيب، وعمه مبهم، ومومل سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 23186
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ أَبي الْخَيْرِ ، أَنَّ جُنَادَةَ بنَ أَبي أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال بعْضُهُمْ : إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ انْقَطَعَتْ ، فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ : إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ انْقَطَعَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ ہجرت کا حکم ختم ہوگیا ہے دوسرے حضرات کی رائے اس سے مختلف تھی چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہجرت ختم ہوگئی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک جہاد باقی ہے ہجرت ختم نہیں ہوسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وصورته هنا صورة الإرسال
حدیث نمبر: 23187
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابنِ شِهَاب ، عَنْ أَبي سَلَمَةَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بنِ يَسَارٍ , عَنْ إِنْسَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَسَامَةُ الدَّمِ ، فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَقَضَى بهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيْنَ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بنِي حَارِثَةَ فِي دَمٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قتل کے حوالے سے " قسامت " کا رواج تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر ہی برقرار رکھا اور چند انصاری حضرات کے معاملے میں " جن کا تعلق بنوحارثہ سے تھا اور انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1670
حدیث نمبر: 23188
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبيْدَ بنَ الْقَعْقَاعِ يُحَدِّثُ رَجُلًا مِنْ بنِي حَنْظَلَةَ ، قَالَ : رَمَقَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبي ، وَوَسِّعْ لِي ذَاتِي ، وَبارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما، مجھے ذاتی کشادگی عطاء فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال عبيد بن القعقاع، وقد اختلف فيه على شعبة
حدیث نمبر: 23189
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي عِمْرَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِجُنْدُب : إِنِّي قَدْ بايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابنَ الزُّبيْرِ إنَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ ، فَقَالَ : افْتَدِ بمَالِكَ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِب مَعَهُمْ بالسَّيْفِ ، فَقَالَ جُنْدُب : حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : يَا رَب ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ " ، قَالَ شُعْبةُ : وَأَحْسِبهُ قَالَ : " فَيَقُولُ : عَلَامَ قَتَلْتَهُ ؟ " ، قَالَ : " فَيَقُولُ : قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ " ، قَالَ : فَقَالَ جُنْدُب : فَاتَّقِهَا.
مولانا ظفر اقبال
ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23190
حَدَّثَنَا أَبو نُوحٍ ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْحَارِثِ بنِ هِشَامٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْكُب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بالسُّقْيَا ، إِمَّا مِنَ الْحَرِّ ، وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ ، وَهُوَ صَائِمٌ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ، ثُمَّ دَعَا بمَاءٍ فَأَفْطَرَ ، وَأَفْطَرَ النَّاسُ ، وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور مسلسل روزہ رکھتے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرما لیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23191
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بنُ عُمَرَ ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ ، وَأَمَرَ أَصْحَابهُ بالْإِفْطَارِ ، وَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوَّكُمْ فَتَقَوَّوْا " ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ ، فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ ، قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُب الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23192
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بنِي مَالِكِ بنِ كِنَانَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا ، يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، تُفْلِحُوا " ، قَالَ : وَأَبو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَاب ، وَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ ، فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ ، وَلِتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى ، قَالَ : وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْنَا : انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بيْنَ برْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ، مَرْبوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ ، حَسَنُ الْوَجْهِ ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ ، أَبيَضُ شَدِيدُ الْبيَاضِ ، سَابغُ الشَّعْرِ .
مولانا ظفر اقبال
بنومالک بن کنانہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز نامی بازار میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے لوگو ! لا الہ اللہ کا اقرار کرلو تم کامیاب ہوجاؤ گے اور ابوجہل مٹی اچھالتے ہوئے کہتا جاتا تھا لوگو ! یہ تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو اور لات وعزیٰ کو چھوڑ دو لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیجئے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سرخ چادریں زیب تن فرما رکھی تھیں درمیانہ قد تھا جسم گوشت سے بھر پور تھا چہرہ نہایت حسین و جمیل تھا بال انتہائی کالے سیاہ تھے انتہائی اجلی سفید رنگت تھی اور گھنے بال تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23193
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب : لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ بنُ عَفَّانَ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ ، قُلْنَا : مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابي وُزِنُوا ، فَوُزِنَ أَبو بكْرٍ فَوَزَنَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صاحبنا وَهُوَ صَالِحٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک خلیفہ نہیں بن جاتے ہم اس سے پوچھتے کہ تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی ؟ تو وہ جواب دیتا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وزن کیا گیا ہے چناچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا جھک گیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا پھر حضرت عثمان کا وزن کیا گیا تو ہمارے ساتھی کا وزن کم رہا اور وہ نیک آدمی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23194
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبي الْحَسَنِ ، عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمَرَّ برَجُلٍ يَقْرَأُ : يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا ، فَقَدْ برِئَ مِنَ الشِّرْكِ " ، قَالَ : وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک شیخ سے " جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے " مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو شرک سے بری ہوگیا پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی برکت سے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع أبى النضر منه بعد اختلاطه، وقد توبع
حدیث نمبر: 23195
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمْرَانَ بنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ ، عَنْ فُلَانِ ابنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج تمہارے بھائی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حمران بن أعين
حدیث نمبر: 23196
حَدَّثَنَا أَبو بكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، أَخْبرَنَا عَبدُ الْحَمِيدِ بنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ شُعَيْب ، عَنِ ابنَةِ كُرْدُمَةَ ، عَنْ أَبيهَا ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبلِي ، فقَالَ : " إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ ، أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ عِيدِ الْجَاهِلِيَّةِ ، أَوْ عَلَى وَثَنٍ ، فَلَا ، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ ، فَاقْضِ نَذْرَكَ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا ، أَفَتَمْشِي عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت کروم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منت کا حکم پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ منت کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ اللہ کے لئے مانی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم نے اللہ کے لئے جو منت مانی تھی اسے پورا کرو بوانہ نامی جگہ پر جانور ذبح کردو اور اپنی منت پوری کرلو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس بچی کی والدہ نے پیدل چلنے کی منت مانی تھی کیا یہ بچی اس کی طرف سے چل سکتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يسمع من ابنة كردمة
حدیث نمبر: 23197
حَدَّثَنَا أَبو عَاصِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ عَبدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ ، حَدَّثَنَا مَوْلًى لِيَزِيدَ بنِ نِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ نِمْرَانَ ، قَالَ : لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا بتَبوكَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : مَرَرْتُ بيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ ، فَقَالَ : " قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا ، قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ " ، فَأُقْعِدَ.
مولانا ظفر اقبال
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات ایک اپاہج آدمی سے ہوئی میں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گذر گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ہماری نماز توڑی اللہ اس کے پاؤں توڑ دے اس وقت سے میں اپاہج ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مولي يزيد بن نمران
حدیث نمبر: 23198
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبانَ , عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بنِ حَوْشَب ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ ، صَاحِب بدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بعَثَهُ ، قَالَ : " رَجَعْتُ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي بمَا عَطِب مِنْهَا ؟ قَالَ : " انْحَرْهَا ، ثُمَّ اصْبغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبهَا ، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے " کہتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہیں بھیجا میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہوجائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کرلینا پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا اور اس میں سے تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر