حدیث نمبر: 23142
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي عَبدُ الْحَمِيدِ صَاحِب الزِّيَادِيِّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ ، فَقَالَ : " إِنَّ السَّحُورَ برَكَةٌ أَعْطَاكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَا تَدَعُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری کھا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لئے اسے مت چھوڑا کرو۔
حدیث نمبر: 23143
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا أَبو إِسْرَائِيلَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبي سَلْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : اسْتَشْهَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " ، قَالَ : فَقَامَ سِتَّةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو سولہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں۔
حدیث نمبر: 23144
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِبرَاهِيمُ يَعْنِي ابنَ نَافِعٍ ، عَنِ ابنِ أَبي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي بكْرٍ ، قَالَ : " خَطَب النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَنَحْنُ عِنْدَ يَدَيْهَا " ، قَالَ إِبرَاهِيمُ : وَلَا أَحْسِبهُ إِلَّا قَالَ : عِنْدَ الْجَمْرَةِ.
مولانا ظفر اقبال
بنوبکر کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منیٰ میں اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا تھا جو جمرات کے قریب تھا اور ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس تھے۔
حدیث نمبر: 23145
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَكَرِيَّا بنَ سَلَّامٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ " ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَهَا إِسْحَاقُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے لوگو ! تم اپنے اوپر " جماعت " کو لازم پکڑو، تفرقہ اور اختلافات سے بچو تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 23146
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ ابنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُرْوَةَ بنِ الزُّبيْرِ ، عَنْ جَدِّهِ عُرْوَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ الْمَسَاجِدَ فِي دُورِنَا ، وَأَنْ نُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھروں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 23147
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبي بشْرٍ ، عَنْ سَلَامِ بنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِخْوَانُكُمْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ ، وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبكُمْ ، وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں تم ان کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو جن کاموں سے تم مغلوب ہوجاؤ ان میں ان سے مدد لیا کرو اور جن کاموں سے وہ مغلوب ہوجائیں تو تم ان کی مدد کیا کرو۔
حدیث نمبر: 23148
حَدَّثَنَا مُحَمَدُ بنَ جَعْفَرٍ ، حَدَثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبى بشْر ، عَنْ سَلاَّم بنَ عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ مِن أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَمَ أَنَه قَاَلَ : " إِخْوَانُكُمْ أَحْسَنوا إِلَيْهِمْ أَو فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ ، واسْتَعِينُوهُمْ عَلى مَا غَلَبكُمْ ، وأَعِينُوهُمْ عَلَيَ مَا غَلَبهُمْ " . .
حدیث نمبر: 23149
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا أَبو بشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَسَّانَ بنَ بلَالٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِب ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْتَمُونَ ، يُبصِرُونَ وَقْعَ سِهَامِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
قبیلہ اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مغرب کی نماز پڑھ کر جب مدینہ منورہ کے کونے میں اپنے گھر کی طرف واپس ہوتے تو راستے میں اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔
حدیث نمبر: 23150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : قَالَ شُعْبةُ : أَوْ قَالَ : رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ وَهُوَ يَقُولُ : " رَب اغْفِرْ لِي ، قَالَ شُعْبةُ : أَوْ قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَتُب عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّاب الْغَفُورُ " ، مِائَةَ مَرَّةٍ .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سو مرتبہ یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے میرے پروردگار ! مجھے معاف فرما اور میری توبہ کو قبول فرما بیشک تو توبہ قبول کرنے والا بےانتہاء مغفرت کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 23151
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا فِي إِمْرَةِ ابنِ الزُّبيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا فِي سُوقِ عُكَاظٍ يَقُول : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، تُفْلِحُوا " ، وَرَجُلٌ يَتْبعُهُ يَقُولُ : إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَنْ آلِهَتِكُمْ ، فَإِذَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبو جَهْلٍ .
مولانا ظفر اقبال
اشعث بن سلیم کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عکاظ کے میلے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا لوگو ! لا الہ الا اللہ کہہ لو کامیاب ہوجاؤ گے اور اس کے پیچھے پیچھے ایک آدمی یہ کہتا جا رہا ہے کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے بعد میں پتہ چلا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل تھے۔
حدیث نمبر: 23152
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ أَعْوَرَ ، يُقَالُ لَهُ : مَعْرُوفٌ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلِيمَةُ حَقٌّ ، وَالْيَوْمُ الثَّانِي مَعْرُوفٌ ، وَالْيَوْمُ الثَّالِثُ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف میں " معروف " نام کے ایک صاحب تھے جن کی ایک آنکھ کام نہیں کرتی تھی ان کا اصل نام زہیر بن عثمان تھا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ولیمہ برحق ہے دوسرے دن کھلانا نیکی ہے اور تیسرے دن بھی کھلانا شہرت اور دکھاوے کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 23153
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي الزَّعْرَاءِ ، عَنْ أَبي الْأَحْوَصِ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَتْ تُعْرَفُ قِرَاءَةُ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ ، بتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز ظہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا پتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک ہلنے سے ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 23154
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُحَمَّدِ ابنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبي عَلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ : يَا جَارِيَةُ ، ائْتِينِي بوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ ، فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَاكَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قُمْ يَا بلَالُ ، فَأَرِحْنَا بالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ہمراہ سسرالی رشتہ داروں میں " جو انصاری تھے " گیا نماز کا وقت ہوا تو میزبان نے کہا اے باندی ! وضو کا پانی میرے پاس لاؤ تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے تو وہ کہنے لگے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اسے بلال ! کھڑے ہو اور ہمیں نماز کے ذریعے راحت مہیا کرو۔
حدیث نمبر: 23155
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوسَى بنِ جُبيْرٍ ، عَنْ أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اتْرُكُوا الْحَبشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبشَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تک حبشی تمہیں چھوڑے رہیں تم انہیں چھوڑے رہو کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ حبشیوں میں سے ایک چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی نکالے گا۔
حدیث نمبر: 23156
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بهِ جُرْحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعُوا لَهُ طَبيب بنِي فُلَانٍ " ، قَالَ : فَدَعَوْهُ ، فَجَاءَ ، فَقَالُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : " سُبحَانَ اللَّهِ ، وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو زخمی ہوگیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنوفلاں کے طبیب کو بلا کر اسے دکھاؤ لوگوں نے اسے بلایا تو وہ آیا اور لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ ! کیا علاج اسے کچھ فائدہ دے سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! اللہ نے زمین میں کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفاء نہ رکھی ہو۔
حدیث نمبر: 23157
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَتُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا ، ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا ، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبا ، فَيَقُولُ : غَلَب الصَّلِيب ، فَيَغْضَب رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ ، وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ذو مخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے جب تم " ذی تلول " نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صیلب غالب آگئی اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔
حدیث نمبر: 23158
حَدَّثَنَا أَبو عَامِرٍ عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ أَبي سُلَيْمَانَ ، مَدِينِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ خُبيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : كُنَّا فِي مَجْلِسٍ ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرَاكَ طَيِّب النَّفْسِ ، قَالَ : " أَجَلْ " ، قَالَ : ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا بأْسَ بالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ ، وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى ، وَطِيب النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن خبیب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے سر مبارک پر پانی کے اثرات تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کو بہت خوش دیکھ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر لوگ مالداری کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری سے زیادہ بہتر چیز صحت ہے اور دل کا خوش ہونا بھی نعمت ہے۔
حدیث نمبر: 23159
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوب ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا بالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ بعْدِكُمْ الْكَذَّاب الْمُضِلَّ ، وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بعْدِهِ حُبكٌ حُبكٌ حُبكٌ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَإِنَّهُ سَيَقُولُ : أَنَا رَبكُمْ ، فَمَنْ قَالَ : لَسْتَ رَبنَا ، لَكِنَّ رَبنَا اللَّهُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبنَا ، نَعُوذُ باللَّهِ مِنْ شَرِّكَ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جسے لوگوں نے اپنے حلقے میں گھیر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (احادیث بیان کر رہا تھا) تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایک گمراہ کن کذاب آئے گا جس کے سر میں پیچھے سے راستے بنے ہوں گے اور وہ یہ دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں سو جو شخص یہ کہہ دے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے ہمارا رب تو اللہ ہے ہم اسی پر توکل کرتے اور رجوع کرتے ہیں اور ہم تیرے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں تو دجال کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 23160
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بنِي سُلَيْمٍ بالْكُنَاسَةِ ، فَحَدَّثَنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَّ خَمْسًا فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي ، قَالَ : " التَّسْبيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ ، وَالتَّكْبيرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
حدیث نمبر: 23161
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ حَرْب ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، قَالَ : بيْنَمَا أَطُوفُ بالْبيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : ألا أبشرك ؟ قُلْتُ : بلَى ، قَالَ : أَتَذْكُرُ إِذْ بعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ أَنْتَ : وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا ، وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا ، فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبرْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَقَالَتِكَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ " ، قَالَ : فَمَا أَنَا بشَيْءٍ أَرْجَى مِنِّى لها .
مولانا ظفر اقبال
احنف کہتے کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنوسلیم کا ایک آدمی مجھے ملا اور کہنے لگا کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آپ کی قوم بنو سعد کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ بخدا ! انہوں نے اچھی بات کہی اور اچھی بات ہی سنائی جب میں واپس بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے اس قول کے متعلق بتایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اے اللہ ! احنف کی مغفرت فرما یہ سن کر انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس سے زیادہ پر امید کوئی چیز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23162
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، َأَخْبرَنِي أَبو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ كَعْب الْقُرَظِيِّ ، عَنْ كَثِيرِ بنِ السَّائِب ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ " عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ ، فَمَنْ كَانَ نَبتَتْ عَانَتُهُ ، قُتِلَ ، وَمَنْ لَا ، تُرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
قریظہ کے دو بیٹوں سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں آگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 23163
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمٍّ لَهُ ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي ، وَأَقْلِلْ ، لَعَلِّي أَعِيهِ ، قَالَ : " لَا تَغْضَب " ، فَعَادَ لَهُ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " لَا تَغْضَب " .
مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے چچا زاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔
حدیث نمبر: 23164
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، قَالَ : غَدَوْتُ لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بجَمَاعَةٍ فِي السُّوقِ ، فَمِلْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ وَصْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَصْفَ صِفَتِهِ ، قَالَ : فَعَرَضْتُ لَهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ بيْنَ عَرَفَاتٍ وَمِنًى ، فَرُفِعَ لِي فِي رَكْب ، فَعَرَفْتُهُ بالصِّفَةِ ، قَالَ : فَهَتَفَ بي رَجُلٌ : أَيُّهَا الرَّاكِب ، خَلِّ عَنْ وُجُوهِ الرِّكَاب ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُوا الرَّاكِب فَأَرِب مَا لَهُ " ، قَالَ : فَجِئْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بزِمَامِ النَّاقَةِ أَوْ خِطَامِهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي ، أَوْ خَبرْنِي بعَمَلٍ يُقَرِّبنِي من الْجَنَّةِ ، وَيُباعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : " أَوَذَلِكَ أَعْمَلَكَ ، أَوْ أَنْصَبكَ ؟ ! " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاعْقِلْ إِذًا ، أَوْ افْهَمْ تَعْبدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّ الْبيْتَ ، وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِب أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ ، وَتَكْرَهُ لِلنَّاسِ مَا تَكْرَهُ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ ، خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ ، أَوْ خِطَامَهَا " ، قَالَ أَبو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ : سَمِعْتَهُ مِنْهُ ، أَوْ سَمِعْتَ مِنَ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ یشکری (رح) کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوادع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک سواری کے قابل اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہوگیا یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جن ہم سے نجات کا سبب بن جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ ! میں نے خطبہ میں اختصار سے کام لیا تھا اور تم نے بہت عمدہ سوال کیا اگر تم سمجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 23165
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبرَنَا أَبو عِمْرَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِجُنْدُب : إِنِّي بايَعْتُ ابنَ الزُّبيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ ، قَالَ : فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ : أَفْتَانِي جُنْدُب ، َوَأَفْتَانِي جُنْدَب ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أُرِيدُ ذَاكَ إِلَّا لِنَفْسِي ، قَالَ : افْتَدِ بمَالِكَ ، قُلْتُ : إِنَّهُ لَا يُقْبلُ مِنِّي ، قَالَ : إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا ، وَإِنَّ فُلَانًا أَخْبرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا بالْقَاتِلِ ، فَيَقُولُ : يَا رَب ، سَلْهُ فِيمَ قَتَلَنِي ؟ فَيَقُولُ : فِي مُلْكِ فُلَانٍ " ، فَاتَّقِ اللَّهَ ، لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ.
مولانا ظفر اقبال
ابوعمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں، جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے اس لئے تم اس سے بچو۔
حدیث نمبر: 23166
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبيهِ ، أَوْ عَمِّهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبوكَ : " إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بهَا ، فَلَا تَهْجُمُوا عَلَيْهَا ، وَإِذَا وَقَعَ بهَا وَأَنْتُمْ بهَا ، فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ کے دادا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو اب وہاں سے نہ نکلو اور اگر تمہاری غیر موجودگی میں یہ وباء پھیلے تو تم اس علاقے میں مت جاؤ۔
حدیث نمبر: 23167
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنِي ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بنَ أَوْسٍ أَخْبرَهُ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَخْبرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ يَقُولُ : " حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو ! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 23168
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبي حَبيب ، عَنْ أَبي الْخَيْرِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَضْجَعَ أُضْحِيَّتَهُ لِيَذْبحَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للِرَجُلٍ : " أَعِنِّي عَلَى ضَحِيَّتِي " ، فَأَعَانَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لئے پہلو کے بل لٹایا تو ایک آدمی سے فرمایا کہ قربانی میں میرا ہاتھ بٹاؤ، چناچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔
حدیث نمبر: 23169
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، أَنَّ حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ أَخْبرَاهُ , عَنْ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَالنَّبيُّ فِي مَجْلِسٍ قَرِيب مِنَ الْمَقَامِ ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ لِلنَّبيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ مَكَّةَ ، لَأُصَلِّيَنَّ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَإِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ مُقْبلًا مَعِي وَمُدْبرًا ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاهُنَا فَصَلِّ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَهُ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاهُنَا فَصَلِّ " ، ثُمَّ قَالَ الرَّابعَةَ مَقَالَتَهُ هَذِهِ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَب فَصَلِّ فِيهِ ، فَوَالَّذِي بعَثَ مُحَمَّدًا بالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا ، لَقَضَى عَنْكَ ذَلِكَ كُلَّ صَلَاةٍ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ " . .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ پر فتح عطاء فرما دی تو میں بیت المقدس جا کر نماز پڑھوں گا مجھے شام کا ایک آدمی بھی مل گیا ہے جو یہاں قریش میں ہے وہ میرے ساتھ وہاں جائے گا اور واپس آئے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم وہ نماز یہیں پڑھ لو اس نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو، جب چوتھی مرتبہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھ آؤ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہیں نماز پڑھ لیتے تو بیت المقدس کی تمام نمازیں یہاں ادا ہوجاتیں۔
حدیث نمبر: 23170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي يُوسُفُ بنُ الْحَكَمِ بنِ أَبي سُفْيَانَ ، أَنَّ حَفْصَ بنَ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، وَعَمْرَو بنَ حَنَّةَ أَخْبرَاهُ , عَنْ عُمَرَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَوْفٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ : هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ خَفِيرٌ لِي مُقْبلًا وَمُدْبرًا ، فَقَالَ : " هَاهُنَا فَصَلِّ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 23171
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " لَا تَغْضَب " ، قَالَ : قَالَ الرَّجُلُ : فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ ، فَإِذَا الْغَضَب يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے توآپ نے غصہ نہ کرنے کی وصیت کی۔ روایت کرنے والے صحابی کہتے ہیں ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سننے کے بعد جب میں نے غورکیاتوپتہ چلاکہ غصہ تمام برائیوں کا جامع ہے۔
حدیث نمبر: 23172
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبي أُمَامَةَ بنِ سَهْلِ بنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبلُغُ الثَّدْيَ ، وَمنها مَا يَبلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ " ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الدِّينُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہیں نے قمیضیں پہن رکھی ہیں لیکن کسی کی قمیض چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیض پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین۔
حدیث نمبر: 23173
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ عَمْرِو بنِ حَزْمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بيْتِهِ ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ ، وَبارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بيْتِهِ ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ ، كَمَا بارَكْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " ، قَالَ ابنُ طَاوُسٍ : وَكَانَ أَبي يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی رحمتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی برکتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف و بزرگی والا ہے۔
حدیث نمبر: 23174
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ، حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ برَجْمِ رَجُلٍ بيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا أَصَابتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ ، فَبلَغَ ذَلِكَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے مکہ اور مدینہ کے درمیان رجم کردیا جائے جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا ؟
حدیث نمبر: 23175
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا دَاوُدُ بنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ وَهْب ، عَنْ أَبيهِ ، حَدَّثَنِي فَنَّجُ ، قَالَ : كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَباذِ ، وَأُعَالِجُ فِيهِ ، فَقَدِمَ يَعْلَى بنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ ، وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ ، وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ ، وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ ، فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنَ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُهُ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ ، فَقَالَ : يَا فَارِسِيُّ ، هَلُمَّ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ : أَتَضْمَنُ لِي وَأَغْرِسُ مِنْ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى هَذَا الْمَاءِ ؟ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ : مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ : " مَنْ نَصَب شَجَرَةً ، فَصَبرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَاب مِنْ ثَمَرِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ " ، فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ : آَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ فَنَّجُ : فَأَنَا أَضْمَنُهَا ، قال : فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَباذِ.
مولانا ظفر اقبال
فنج کہتے ہیں کہ " دینباذ " (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا، اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے ان کے ساتھ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ بھی آئے تھے ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی ! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا ؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضرورت کا خیال رکھتا رہے تاآنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں ! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے آخروٹ مشہور ہیں۔
حدیث نمبر: 23176
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عُبيْدُ اللَّهِ بنُ أَبي يَزِيدَ ، أَنَّ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ طَارِقِ بنِ عَلْقَمَةَ أَخْبرَهُ , عَنْ عَمِّهِ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا " جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِبهُ عُبيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبلَ الْبيْتَ فَدَعَا " . قَالَ رَوْحٌ : عَنْ أَبيهِ . وَقَالَ ابنُ بكْرٍ : عَنْ أُمِّهِ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن طارق (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی داریعلی سے کسی جگہ تشریف لے جاتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا ضرور فرماتے۔
حدیث نمبر: 23177
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَطَب النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ ، وَقَالَ : " لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا " ، وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبلَةِ ، " وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا " ، وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبلَةِ ، " ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ " ، قَالَ : وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ ، فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنًى حَتَّى سَمِعُوهُ وَهُمْ فِي مَنَازِلِهِمْ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " ارْمُوا الْجَمْرَةَ بمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " . .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان منٰی میں لوگوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ فرمایا " اور انصار یہاں اتریں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا : پھر لوگ ان کے آس پاس اتریں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مناسک حج کی تعلیم دی جس نے اہل منٰی کے کان کھول دیئے اور سب کو اپنے اپنے پڑاؤ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دیتی رہے میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹھکیری کی کنکری جیسی کنکریوں سے جمرات کی رمی کرو۔
حدیث نمبر: 23178
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبي ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِبرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : وَكَانَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23179
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ ، فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبعِينَ عَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ذمیوں کی ایک قوم ہوگی جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا وہ جنت کی مہک بھی نہ سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 23180
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْمُبارَكِ ، عَنْ عَبدِ الْحَمِيدِ بنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : إِنَّ صُهَيْبا قَدِمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبزٌ ، قَالَ : " ادْنُ فَكُلْ " ، فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بعَيْنِكَ رَمَدًا " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا آكُلُ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى ، قَالَ : فَتَبسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالحمید بن صفی (رح) کے دادا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب سے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور کھاؤ چناچہ وہ کھجوریں کھانے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تو آشوب چشم ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔
حدیث نمبر: 23181
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ السَّائِب ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ : أَخْبرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ ، يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت (کے آخر) میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو گناہ کی برائی کو بیان کریں گے۔
…