حدیث نمبر: 23102
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبي سَلَمَةَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَخْبرَنِي مَنْ رَأَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي الثَّوْب الْوَاحِدِ ، قَدْ خَالَفَ بيْنَ طَرَفَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبي الْحَوَارِيِّ ، عَنْ أَبي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبلَ أَغْنِيَائِهِمْ بأَرْبعِ مِائَةِ عَامٍ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ أَرْبعِينَ عَامًا ، فَقَالَ : عَنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْبعُ مِائَةِ عَامٍ ، قَالَ : " حَتَّى يَقُولَ المؤمن الْغَنِيُّ : يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا " ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِّهِمْ لَنَا بأَسْمَائِهِمْ ، قَالَ : " هُمْ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ ، بعِثُوا لَهُ ، وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بعِثَ إِلَيْهِ سِوَاهُمْ ، وَهُمْ الَّذِينَ يُحْجَبونَ عَنِ الْأَبوَاب " .
مولانا ظفر اقبال
متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین جنت میں مالداروں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے حتیٰ کہ مالدار مسلمان کہیں گے کاش ! میں دنیا میں تنگدست رہتا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں ان کا نام بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب پریشان کن حالات آئیں تو انہیں بھیج دیا جائے، اگر مال غنیمت آئے تو دوسروں کو بھیجا جائے اور انہیں، چھوڑ دیا جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے دروازوں سے دور رکھا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الضعف زيد أبى الحواري
حدیث نمبر: 23104
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ غَالِبا الْقَطَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ وَعَلَى أَبيكَ السَّلَامُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً علیک وعلی ابیک السلام فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام الرجل النميري، وأبيه
حدیث نمبر: 23105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : ابنُ أَبي الْجَدْعَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي بشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي ، أَكْثَرُ مِنْ بنِي تَمِيمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی الجدعاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی کی سفارش کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زُهَيْرِ بنِ الْأَقْمَرِ ، قَالَ : بيْنَمَا الْحَسَنُ بنُ عَلِيٍّ يَخْطُب بعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبوَتِهِ ، يَقُولُ : " مَنْ أَحَبنِي فَلْيُحِبهُ ، فَلْيُبلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِب " ، وَلَوْلَا عَزْمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ.
مولانا ظفر اقبال
زہیر بن اقمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تقریر فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک گندم گوں طویل قد کا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور فرما رہے تھے کہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ اس سے بھی محبت کرے اور حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختگی کے ساتھ یہ بات نہ فرمائی ہوتی تو میں تم سے کبھی بیان نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بنَ وَهْب ، قَالَ : نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ ، فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ كُرْدُوسٍ ، قَالَ : كَانَ يَقُصُّ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بدْرٍ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَأَنْ أَجْلِسَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ ، أَحَب إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبعَ رِقَاب " ، يَعْنِي الْقَصَصَ.
مولانا ظفر اقبال
ایک بدری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھناچار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة كردوس بن قيس
حدیث نمبر: 23109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي يَعْقُوب ، قَالَ : سَمِعْتُ شَقِيقَ بنَ حَيَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْعُودِ بنِ قَبيصَةَ ، أَوْ قَبيصَةَ بنِ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِب الصُّبحَ ، فَلَمَّا صَلَّوْا ، قَالَ شَاب مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيُفْتَحُ لَكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبهَا ، وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ ، إِلَّا مَنْ اتَّقَى اللَّهَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
قبیصہ بن مسعود سے مروی ہے کہ مجاہدین کے ایک گروہ نے فجر کی نماز پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان میں سے ایک نوجوان کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے لئے زمین کے مشرق و مغرب فتح ہوجائیں گے لیکن اس کے عمال و گورنر جہنم میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں اور امانت ادا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة شقيق بن حيان ومسعود بن قبيصة
حدیث نمبر: 23110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِجُنْدُب : إِنِّي قَدْ بايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابنَ الزُّبيْرِ ، وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ ، قَالَ : افْتَدِ بمَالِكَ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ إِلَّا أَنْ أُقَاتِلَ مَعَهُمْ بالسَّيْفِ ، فَقَالَ جُنْدُب : حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : يَا رَب ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ " قَالَ شُعْبةُ : وَأَحْسِبهُ قَالَ : فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ ؟ فَيَقُولُ : قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ " ، قَالَ : فَقَالَ جُنْدُب : فَاتَّقِهَا.
مولانا ظفر اقبال
ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا عَقِيلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَابقِ بنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ ، إِذْ مَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالُوا : هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ ، فَقُلْتُ : حَدِّثْنَا بمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بيْنَكُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبحُ : رَضِيتُ باللَّهِ رَبا ، وَبالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبمُحَمَّدٍ نَبيًّا ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 23112
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : أَبو عَقِيلٍ أَخْبرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ سَابقَ بنَ نَاجِيَةَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ الْبرَاءِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يَقُولُ إِذَا أَصْبحَ وَإِذَا أَمْسَى : رَضِيتُ باللَّهِ رَبا ، وَبالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبمُحَمَّدٍ نَبيًّا ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَصْبحَ ، وَثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَمْسَى ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 23113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبدَ الْحَمِيدِ صَاحِب الزِّيَادِيِّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ برَكَةٌ أَعْطَاكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَا تَدَعُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سحری کھا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لئے اسے مت چھوڑا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23114
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي مَسْعُودٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ يَرْصُدُ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبي ، وَوَسِّعْ لِي فِي ذَاتِي ، وَبارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي " ، ثُمَّ رَصَدَهُ الثَّانِيَةَ ، فَكَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حمید بن قعقاع ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاء میں یوں فرماتے تھے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما ذاتی طور پر مجھے کشادگی عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما دوبارہ تاک لگا کر تحقیق کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی یہی دعا کرتے ہوئے سنائی دیئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حميد، وقد اختلف فيه على شعبة
حدیث نمبر: 23115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بنَ عَبدِ اللَّهِ الْجُعْفِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ أَبي حَصْبةَ ، أَوْ ابنِ حَصْبةَ ، عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُب ، فَقَالَ : " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوب ؟ " ، قَالُوا : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ ، فَقَالَ : " الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب ، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب ، الرَّقُوب كُلُّ الرَّقُوب ، الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُمْ شَيْئًا " ، قَالَ : " تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ ؟ " ، قَالُوا : الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ ، قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الَّذِي لَهُ مَالٌ ، فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا الصُّرَعَةُ ؟ " ، قال : قَالُوا : الصَّرِيعُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الرَّجُلُ يَغْضَب فَيَشْتَدُّ غَضَبهُ ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ ، وَيَقْشَعِرُّ شَعَرُهُ ، فَيَصْرَعُهُ غَضَبهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے وہ بھی حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ " رقوب " کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ " کامل رقوب " کا لفظ دہرا کر فرمایا کہ یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو لیکن وہ اس حال میں فوت ہوجائے کہ ان میں سے کسی کو آگے نہ بھیجے پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ " صعلوک " کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا جس کے پاس کچھ بھی مال و دولت نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کامل صعلوک " وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال ہو لیکن وہ اس حال میں مرجائے کہ اس نے اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجاہو پھر پوچھا کہ " صرعہ " کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا وہ پہلوان جو کسی کو پچھاڑ دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کامل صرعہ " یہ ہے کہ انسان کو غصہ آئے اور اس کا غصہ شدید ہو کر چہرہ کا رنگ سرخ ہوجائے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو وہ اپنے غصے کو پچھاڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة الصعلوك، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابي حصبة او ابن حصبة
حدیث نمبر: 23116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بنِي لَيْثٍ ، قَالَ : أَسَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنتُ مَعَهُمْ ، فَأَصَابوا غَنَمًا ، فَانْتَهَبوهَا ، فَطَبخُوهَا ، قَالَ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ النُّهْبى ، أَوْ النُّهْبةَ ، لَا تَصْلُحُ ، فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
بنولیث کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے قید کرلیا میں ان کے ساتھ ہی تھا کہ انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ ملا انہوں نے اس میں لوٹ مار کی اور اس کو پکانے لگے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوٹ مار تو صحیح نہیں ہے اس لئے اپنی ہانڈیاں الٹ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: "فأكفؤوا القدور"، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْمِنْهَالِ ، أَوْ ابنِ مَسْلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ . قَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ أَبي الْمِنْهَالِ بنِ مَسْلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْلَمَ : " صُومُوا الْيَوْمَ " ، قَالُوا : إِنَّا قَدْ أَكَلْنَا ، قَالَ : " صُومُوا بقِيَّةَ يَوْمِكُمْ " ، يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.
مولانا ظفر اقبال
ابوالمنہال خزاعی (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے دن قبیلہ اسلم کے لوگوں سے فرمایا آج کے دن کا روزہ رکھو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو کھا پی چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بقیہ دن کچھ نہ کھانا پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن المنهال
حدیث نمبر: 23118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بنَ عُثْمَانَ بنِ حُنَيْفٍ ، حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ , أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ " فَبالَ ، فَأَتَى بمَاءٍ ، فَهَالَ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهَا مَرَّةً ، وَعَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً ، وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً بيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا " ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : الْتَفَّ إِصْبعُهُ الْإِبهَامُ.
مولانا ظفر اقبال
فیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کسی سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا پھر پانی پیش کیا گیا جسے برتن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک پر بہایا اور اسے ایک مرتبہ دھویا ایک مرتبہ چہرہ دھویا ایک مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے ایک اور مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں سے دونوں پاؤں دھوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمارة بن عثمان، وهذا إسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 23119
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَجَّاجَ بنَ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيَّ وَكَانَ إِمَامَهُمْ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبيهِ ، وَكَانَ يَحُجُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حَجَّاجٌ : أُرَاهُ عَبدَ اللَّهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَأَبرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حجاج
حدیث نمبر: 23120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، أَخْبرَنِي عُبيْدٌ الْمُكْتِب ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا عَمْرٍو الشَّيْبانِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ شُعْبةُ : أَوْ قَالَ : " أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، وَبرُّ الْوَالِدَيْنِ ، وَالْجِهَادُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے افضل عمل اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھنا ہے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور جہاد کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23121
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ رَباحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ ، فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَاب أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْسَنَ ابنُ الْخَطَّاب " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی تو اس کے بعد ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا بیٹھ جاؤ کیونکہ اس سے پہلے اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوگئے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن خطاب نے عمدہ بات کہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي زِيَادٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ رَجُلٍ , أَنَّ أَعْرَابيًّا أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكَلَتْنَا الضَّبعُ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيْرُ الضَّبعِ عِنْدِي أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنَ الضَّبعِ ، إِنَّ الدُّنْيَا سَتُصَب عَلَيْكُمْ صَبا ، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبسُ الذَّهَب " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں قحط سالی نے کھالیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک تمہارے متعلق قحط سالی سے زیادہ ایک اور چیز خطرناک ہے عنقریب تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی کاش ! میرے امتی سونا نہ پہنیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، والرجل المبهم فى الإسناد هو أبو ذر الغفاري
حدیث نمبر: 23123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ، أَوْ جهينة ، قَالَ : كَانَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبلَ الْأَضْحَى بيَوْمٍ ، أَوْ بيَوْمَيْنِ أَعْطَوْا جَذَعَيْنِ ، وَأَخَذُوا ثَنِيًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مِمَّا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ بقر عید ایک دو دن قبل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھ ماہ کے دو بھیڑ دے کر پورے سال کا ایک جانور لے لیتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی طرف سے ایک سال کا جانور کفایت کرتا ہے چھ ماہ کا بھی اس کی طرف سے کفایت کرجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 23124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ كُلَيْب ، عَنْ عِيَاضِ بنِ مَرْثَدٍ ، أَوْ مَرْثَدِ بنِ عِيَاضٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبرْنِي بعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ ؟ " ، قَالَه لَهُ مَرَّاتٍ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَاسْقِ الْمَاءَ " ، قَالَ : كَيْفَ أَسْقِيهِ ؟ قَالَ : " اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ ، وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابوا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی حیات ہے ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم لوگوں کو پانی پلایا کرو اس نے پوچھا وہ کس طرح ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیرموجود ہوں (بھولے سے چھوڑ کر چلے جائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
حدیث نمبر: 23125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ صَلَّى الصُّبحَ ، فَقَرَأَ فِيهَا فِيهَا ، فَقَالَ : " وَمَا يَمْنَعُنِي " ، قَالَ شُعْبةُ : فَذَكَرَ الرُّقَعَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ : إِنَّكُمْ لَسْتُمْ بمُتَنَظِّفِينَ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو روح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23126
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : عَاصِمُ بنُ كُلَيْب أَخْبرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عِيَاضَ بنَ مَرْثَدٍ ، أَوْ مَرْثَدَ بنَ عِيَاضٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " تَكْفِيهِمْ آلَتَهُمْ إِذَا حَضَرُوهُ ، وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابوا عَنْهُ ".
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیر موجود ہوں (بھلے چھوڑ کر چلے چائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عياض أبن مرثد
حدیث نمبر: 23127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي عَامِرٍ , أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَأَلِجُ ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ : " اخْرُجِي إِلَيْهِ ، فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ ، فَقُولِي لَهُ ، فَلْيَقُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَدْخُلُ ؟ " ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، أَدْخُلُ ؟ قَالَ : فَأَذِنَ ، أَوْ قَالَ : فَدَخَلْتُ ، فَقُلْتُ : بمَ أَتَيْتَنَا بهِ ؟ قَالَ : " لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بخَيْرٍ ، أَتَيْتُكُمْ أَنْ تَعْبدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ " ، قَالَ شُعْبةُ : وَأَحْسِبهُ قَالَ : وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى ، وَأَنْ تُصَلُّوا باللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَأَنْ تَصُومُوا مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا ، وَأَنْ تَحُجُّوا الْبيْتَ ، وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ مَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ " ، قَالَ : فَقَالَ : فهَلْ بقِيَ مِنَ الْعِلْمِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ ؟ قَالَ : " قَدْ عَلِمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ ، الخمس : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 " .
مولانا ظفر اقبال
بنوعامر کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتے ہوئے عرض کیا کہ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا کہ اس کے پاس جاؤ کہ یہ اچھے انداز میں اجازت نہیں مانگ رہا اور اس سے کہو کہ تمہیں یوں کہنا چاہئے " السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں " میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سن لیا چناچہ میں نے عرض کیا السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور میں اندر چلا گیا میں نے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس کیا پیغام لے کر آئے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو تمہارے پاس صرف خیر کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات وعزیٰ کو چھوڑ دو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھو، سال میں ایک مہینے کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو اپنے مالداروں کا مال لے کر اپنے ہی فقراء پر واپس تقسیم کردو میں نے پوچھا کیا کوئی چیز ایسی بھی ہے جسے آپ نہیں جانتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہی خیر کا علم عطاء فرمایا ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا وہ پانچ چیزیں ہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا ؟ اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس علاقے میں مرے گا ؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ربعي بن حراش لم يسمعه من الرجل العامري
حدیث نمبر: 23128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يَسَافٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ ، مَنْصُورٌ الشَّاكُّ إِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبعِينَ عَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے وہ جنت کی مہک بھی نہیں پاسکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا حُذَيْفَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَظَرْتُ إِلَى الْقَمَرِ صَبيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ " ، وقَالَ أَبو إِسْحَاقَ : إِنَّمَا يَكُونُ الْقَمَرُ كَذَاكَ صَبيحَةَ لَيْلَة َثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے شب قدر کی صبح کو چاند کی طرف دیکھا تو وہ آدھے پیالے کی طرح تھا ابو اسحاق کہتے ہیں کہ چاند کی یہ صورت ٢٣ ویں شب کو ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي بشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بنَ أَبي كَبشَةَ يَخْطُب بالشَّامِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَبدَ الْمَلِكِ بنَ مَرْوَانَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْخَمْرِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْخَمْرِ : " إِنْ شَرِبهَا فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابعَةَ فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرجیل بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو تیسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پینے پر اسے قتل کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23131
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي بشْرٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " , قَالُوا : بلَى ، قَالَ : " الضُّعَفَاءُ الْمُتَظَلِّمُونَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ النَّارِ ؟ " , قَالُوا : بلَى ، قَالَ : " كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہو اور اسے دبایا جاتا ہو، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23132
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، أَخْبرَنَا أَبو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : لَقِيتُ رَجُلًا صَحِب النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبهُ أَبو هُرَيْرَةَ أَرْبعَ سِنِينَ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَمَشَّطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ ، أَوْ يَبولَ فِي مُغْتَسَلِهِ ، أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بفَضْلِ الرَّجُلِ ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بفَضْلِ الْمَرْأَةِ ، وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حمید حمیری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت پائی تھی، انہوں نے تین باتوں سے زیادہ کوئی بات مجھ سے نہیں کہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد عورت کے بچائے ہوئے پانی سے غسل کرسکتا ہے لیکن عورت مرد کے بچائے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے اور روزانہ کنگھی (بناؤ سنگھار) نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23133
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبهُمَا فَأَحِبهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جسم کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کو چمٹاتے ہوئے دیکھا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23134
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ ، فَقَالَ : " لَا أُحِب الْعُقُوقَ " ، كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ ، وَقَالَ : " مَنْ وُلِدَ لَهُ ، فَأَحَب أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہئے تو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الضمري
حدیث نمبر: 23135
حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابنَ بلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعيد بنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَشْرَب فِي سَبعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَب فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک جہنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کافر سات آنتوں سے میں پیتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23136
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بنِ خَوَّاتِ بنِ جُبيْرٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمِ الرِّقاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ : " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ ، وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ ثَبتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا ، فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ ، وَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى ، فَصَلَّى بهِمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ، ثُمَّ ثَبتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ سَلَّمَ " ، قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحَب مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے " جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز خوف پڑھی تھی " مروی ہے کہ ایک گروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے رہے حتیٰ کہ پیچھے والوں نے اپنی نماز مکمل کی اور واپس جا کر دشمن کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں سے باقی رہ جانے والی رکعت پڑھائی پھر بیٹھے رہے حتیٰ کہ انہوں نے اپنی نماز مکمل کرلی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ساتھ لے سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4129، م: 842
حدیث نمبر: 23137
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا ابنُ أَبي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بنِ قَيْسٍ ، قَالَ : أَخْبرَنِي ابنُ عَمٍّ لِي ، قَالَ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي قَوْلًا ، وَأَقْلِلْ ، لَعَلِّي أَعْقِلُهُ ، قَالَ : " لَا تَغْضَب " ، قَالَ : فَعُدْتُ لَهُ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَعُودُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَغْضَب " .
مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے چچازاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23138
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ ، عَنْ مُوسَى بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بنَ كَعْب وَهُوَ يَسْأَلُ عَبدَ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : أَخْبرْنِي مَا سَمِعْتَ أَباكَ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ أَبي يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يَلْعَب بالنَّرْدِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ، مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن کعب (رح) نے ایک مرتبہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ آپ نے اپنے والد صاحب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنی ہو تو مجھے بھی سنائیے انہوں نے اپنے والد صاحب کے حوالے سے نقل کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے پھر کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو قے اور خنزیر کے خون سے وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة موسي بن عبدالرحمن، واختلف عليه فى إسناده
حدیث نمبر: 23139
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ فِي يَدِهِ ، أَوْ فِي يَدِ السُّلَمِيِّ ، فَقَالَ : " سُبحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ ، وَاللَّهُ أَكْبرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الإيمانِ ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ " .
مولانا ظفر اقبال
بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23140
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : " صَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو ! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، الرجل المبهم هو صحابي الذى روى عنه عمرو بن أوس
حدیث نمبر: 23141
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ يَحْيَى بنِ عُمَارَةَ بنِ أَبي حَسَنٍ ، حَدَّثَتْنِي مَرْيَمُ ابنَةُ إِيَاسِ بنِ الْبكَيْرِ صَاحِب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ بعْضِ أَزْوَاجِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَدَعَا بهَا ، فَوَضَعَهَا عَلَى بثْرَةٍ بيْنَ أَصَابعِ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبيرِ ، وَمُكَبرَ الصَّغِيرِ ، أَطْفِهَا عَنِّي " , فَطُفِئَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " ذریرہ " نامی خوشبو ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوایا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پھنسیوں پر لگانے لگے پھر یہ دعا کی اے بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے اللہ ! اس پھنسی کو دور فرما چناچہ وہ پھنسیاں دور ہوگئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده إلى مريم بنت إياس صحيح، وقد اختلف فى صحبتها