حدیث نمبر: 23062
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بنِ مَالِكٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَابهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " مَرَّ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبرِهِ " ، قَالَ يَحْيَى : قَائِمٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23063
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَدِيٍّ ، قَالَ : أَخْبرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ الصَّدَقَةَ ، قَالَ : فَرَفَعَ فِيهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبصَرَ وَخَفَضَهُ ، فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا ، وَلَا حَظَّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِب " .
مولانا ظفر اقبال
دو آدمی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقات و عطیات کی درخواست لے کر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور انہیں تندرست و توانا پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مالدار شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایسے طاقتور کا جو کمائی کرسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23064
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَانْطَلَقَ بعْضُهُمْ إِلَى نَبلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ ، فَزِعَ ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : " مَا يُضْحِكُكُمْ ؟ " ، فَقَالُوا : لَا ، إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبلَ هَذَا ، فَفَزِعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں کئی صحابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر جا رہے تھے ان میں سے ایک آدمی سو گیا ایک آدمی چپکے سے اس کی طرف بڑھا اور اس کا تیر اٹھا لیاجب وہ آدمی اپنی نیند سے بیدار ہوا تو وہ خوفزدہ ہوگیا لوگ اس کی اس کیفیت پر ہنسنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ان کے ہنسنے کی وجہ پوچھی لوگوں نے کہا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بس ہم نے اس کا تیر لے لیا تھا جس پر یہ خوفزدہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23065
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابنَ حَكِيمٍ ، أَخْبرَنِي تَمِيمُ بنُ يَزِيدَ مَوْلَى بنِي زَمْعَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : خَطَبنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تُخْبرْنَا مَا هُمَا ، ثُمَّ قَالَ : " اثْنَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبشِّرُنَا ، فَتَمْنَعُهُ ؟ ! فَقَالَ : " إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ ، فَقَالَ : " ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ : مَا بيْنَ لَحْيَيْهِ ، وَمَا بيْنَ رِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا لوگو ! دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا اس پر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! وہ دونوں چیزیں ہمیں نہ بتائیے (کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان پر عمل نہ کرسکیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی اور اس انصاری نے پھر وہی بات کہی تیسری مرتبہ اس کے ساتھیوں نے اسے روک دیا اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں تم دیکھ بھی رہے ہو اور پھر بھی انہیں روک رہے ہو ؟ اس نے کہا مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ صرف اس پر ہی بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ایک تو وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور ایک وہ چیز جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة تميم بن يزيد
حدیث نمبر: 23066
حَدَّثَنَا يَعْلَى بنُ عُبيْدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ مَرْثَدِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ ، قَالَ : " قُسِّمَتْ النَّارُ سَبعِينَ جُزْءًا ، فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّونَ ، وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی آگ کو ستر حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے ٦٩ حصے قتل کا حکم دینے والے کے لئے ہیں اور ایک حصہ قتل کرنے والے کے لئے ہے اور اس کے لئے اتنا بھی کافی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة محمد بن اسحاق
حدیث نمبر: 23067
حَدَّثَنَا أَبو أُسَامَةَ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبيهِ ، حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بنْتِ خُوَيْلِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِخَدِيجَةَ : " أَيْ خَدِيجَةُ ، وَاللَّهِ لَا أَعْبدُ اللَّاتَ أَبدًا ، وَاللَّهِ لَا أَعْبدُ الْعُزَّى أَبدًا " ، قَالَ : فَتَقُولُ خَدِيجَةُ حِلَّ الْعُزَّى ، قَالَ : " كَانَتْ صَنَمَهُمْ الَّتِي يَعْبدُونَ ، ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے خدیجہ ! بخدا ! میں لات کی عبادت کبھی نہیں کروں گا اللہ کی قسم میں عزیٰ کی عبادت کبھی نہیں کروں گا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ عزی وغیرہ کے حوالے سے اپنی قسم پوری کیجئے راوی کہتے ہیں کہ یہ ان بتوں کے نام تھے جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے پھر اپنے بستروں پر لیٹتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23068
حَدَّثَنَا أَسْباطٌ ، عَنْ هِشَامِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْبيْلَمَانِيِّ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : " مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بيَوْمٍ ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثَهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَرَ بهَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بنِصْفِ يَوْمٍ ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِيهَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَاب إِلَى اللَّهِ قَبلَ أَنْ يَمُوتَ بضَحْوَةٍ ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ " ، قَالَ : فَحَدَّثَهُ رَجُلًا آخَرَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : آَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَاب قَبلَ أَنْ يُغَرْغِرَ نَفَسُهُ ، قَبلَ اللَّهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن بیلمانی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہیں اکٹھے ہوئے تو ان میں سے ایک کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر بندہ مرنے سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ دوسرے نے کہا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ پہلے نے جواب دیا جی ہاں ! دوسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے صرف آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ تیسرے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ دوسرے نے اثبات میں جواب دیا اس پر تیسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے چوتھائی دن پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرما لیتا ہے۔ چوتھے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ جب تک بندے پر نزع کی کیفیت طاری نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن البيلماني و هشام بن سعد
حدیث نمبر: 23069
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَصْبحَ النَّاسُ صِيَامًا لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ " ، قَالَ : فَجَاءَ أَعْرَابيَّانِ ، فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلَّا الْهِلَالَ بالْأَمْسِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَأَفْطَرُوا .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے ماہ رمضان کے ٣٠ ویں دن کا بھی روزہ رکھا ہوا تھا کہ دو دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شہادت دی کہ کل رات انہوں نے عید کا چاند دیکھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23070
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بنُ خَالِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْأَعْرَابيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبرِ ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، يُذْهِبنَ وَحَرَ الصَّدْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے اور ہر مہینے تین روزے رکھنا سینے کے کینے کو دور کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23071
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَا " نَهَى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ ، وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ ، إِبقَاءً عَلَى أَصْحَابهِ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23072
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ شَبيب بن أَبي رَوْحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، فَقَرَأَ فِيهِمَا ، فَالْتُبسَ عَلَيْهِ فِي الْقِرَاءَةِ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " مَا بالُ رِجَالٍ يَحْضُرُونَ مَعَنَا الصَّلَاةَ بغَيْرِ طُهُورٍ ! أُولَئِكَ الَّذِينَ يَلْبسُونَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا ، مَنْ شَهِدَ مَعَنَا الصَّلَاةَ ، فَلْيُحْسِنْ الطُّهُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو روح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23073
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بنِ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُرَيَّ بنَ كُلَيْب النَّهْدِيَّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ : " التَّسْبيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ ، وَالتَّكْبيرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23074
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبي قَتَادَةَ ، وأبى الدهماء , قَالَا : أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبادِيَةِ ، فَقُلْنَا : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ؟ قَالَ نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا بدَّلَكَ اللَّهُ بهِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوقتادہ اور ابودھماء کہتے ہیں کہ ہم ایک دیہاتی آدمی کے پاس پہنچے اس نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے وہ باتیں سکھانا شروع کردیں جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں اور فرمایا تم جس چیز کو بھی اللہ کے خوف سے چھوڑ دو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بہتر چیز عطاء فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23075
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بنُ نَابلٍ ، عَنْ أَبي الزُّبيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جیسے قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبى الزبير. وصحابيه المبهم هو جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 23076
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بنِ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَوْبانَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ ، وَالطِّيب ، وَالسِّوَاكُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر تین چیزیں حق ہیں جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک، خوشبو لگانا بشرطیکہ اس کے پاس موجود بھی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23077
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : كُنَّا بهَذَا الْمِرْبدِ بالْبصْرَةِ ، قَالَ : فَجَاءَ أَعْرَابيٌّ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ ، أَوْ قِطْعَةُ جِرَاب ، فَقَالَ : هَذَا كِتَاب كَتَبهُ لِي النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبو الْعَلَاءِ : فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ ، فَإِذَا فِيهِ : " بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذَا كِتَاب مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبنِي زُهَيْرِ بنِ أُقَيْشٍ : إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ ، وَأَدَّيْتُمْ الزَّكَاةَ ، وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبيِّ وَالصَّفِيَّ ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بأَمَانِ اللَّهِ ، وَأَمَانِ رَسُولِهِ " . قَالَ : قُلْنَا : قَالَ : قُلْنَا : مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبرِ ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، يُذْهِبنَ وَحَرَ الصَّدْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اونٹوں کی منڈی میں مطرف کے ساتھ تھا کہ ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا وہ کہنے لگا کہ تم میں سے کوئی شخص پڑھنا جانتا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! اور اس سے وہ چمڑے کا ٹکڑا لے لیا اس پر لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کے نام جو عکل کا ایک قبیلہ ہے وہ اگر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں مشرکین سے جدا ہوجاتے ہیں اور مال غنیمت میں خمس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور انتخاب کا اقرار کرتے ہیں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہیں۔ " ہم نے ان سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے سینے کا کینہ ختم ہوجائے تو اسے چاہئے کہ ماہ صبر (رمضان) اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23078
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ رَجَاءِ بنِ حَيْوَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ الرَّسُولِ الَّذِي سَأَلَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " لَا تَنْقَطِعُ مَا جُوهِدَ الْعَدُوُّ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک قاصد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک دشمن سے قتال جاری رہے گا اس وقت تک ہجرت ختم نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عاصم ليس بذاك القوي، وجده: حيوة الكندي لم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 23079
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْلَمَ عَلَى أَنْ يُصَلِّيَ صَلَاتَيْنِ ، " فَقَبلَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبول اسلام کے لئے حاضر ہوئے تو یہ شرط لگائی کہ وہ صرف دو نمازیں پڑھیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ شرط قبول کرلی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 23080
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ ابنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْأَعْرَابيِّ أَنَّ " نَعْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَخْصُوفَةً " .
مولانا ظفر اقبال
مطرف بن شخیر کہتے ہیں کہ ہمیں ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چمڑے کے پیوند زدہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده غير محفوظ، والمحفوظ: عن ابن الشخير عن أخيه مطرف بن عبدالله عن الأعرابي، أى بواسطة: عن أخيه
حدیث نمبر: 23081
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي عَمْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْمَعُوا بيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی عمرہ (رح) کے چچا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نام اور کنیت کو اکٹھا نہ کیا کرو (کہ ایک ہی آدمی میرا نام بھی رکھ لے اور کنیت بھی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23082
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ الشَّامِيُّ ، عَنْ حَرِيزِ بنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبي خِدَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ : في الْمَاءِ ، وَالْكَلَإِ ، وَالنَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان تین چیزوں میں مشترک ہیں پانی میں، گھاس میں اور آگ میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23083
حَدَثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيل بنَ أَبي صَالِح ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُل مِنْ أَسلَم ، قَالَ : قَاَلَ النَبيُّ صَلَّى الَّلهُ عَلَيْهِ وسَلَمَ لِرَجُل : " لو قُلتَ حِينَ أَمسَيتَ : أَعُوذُ بكَلِمَاتِ الله التَامَّات كلَّهنَّ من شرِّ ما خَلَقَ ، لَم يَضُرَّك عَقْرَب حَتى تُصبح " . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف على سهيل بن أبى صالح فى صحابيه
حدیث نمبر: 23084
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَابسٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ ، وَالْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ ، إِبقَاءً عَلَى أَصْحَابهِ ، ولَمْ يُحَرِّمْهُمَا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23085
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي صَالِحٍ ذَكْوَانَ , عَنْ بعْضِ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً فِي حَائِطِي ، فَمُرْهُ فَلْيَبعْنِيهَا أَوْ لِيَهَبهَا لِي ، قَالَ : فَأَبى الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْ ، وَلَكَ بهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ " ، فَأَبى ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَبخَلُ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں آدمی کا ایک درخت میرے باغ میں ہے اسے کہہ دیجئے کہ یا تو وہ درخت مجھے بیچ دے یا ہبہ کر دے لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہاں تک فرمایا کہ تم ایسا کرلو اس کے بدلے تمہیں جنت میں ایک درخت ملے گا لیکن وہ پھر بھی نہ مانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بخیل انسان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23086
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ عَمِّهَا ، قَالَ : إِنِّي لَبسُوقِ ذِي الْمَجَازِ ، عَلَيَّ برْدَةٌ لِي مَلْحَاءُ أَسْحَبهَا ، قَالَ : فَطَعَنَنِي رَجُلٌ بمِخْصَرَةٍ ، فَقَالَ : " ارْفَعْ إِزَارَكَ ، فَإِنَّهُ أَبقَى وَأَنْقَى " ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمة أشعث
حدیث نمبر: 23087
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ قُرْمٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَمَّتِهِ رُهْمٍ ، عَنْ عُبيْدَةَ بنِ خَلَفٍ ، قَالَ : قدمت المدينة وَأَنَا شَاب مُتَأَزِّرٌ ببرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا ، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبكَ كَانَ أَبقَى وَأَنْقَى " ، فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هِيَ برْدَةٌ مَلْحَاءُ ، قَالَ : " وَإِنْ كَانَتْ برْدَةً مَلْحَاءَ ، أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي ؟ " , فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ ، فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خوبصورت چادر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ خوبصورت ہو کیا تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ نہیں ہے ؟ اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم وجهالة عمة الأشعث
حدیث نمبر: 23088
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ , عَنْ سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا بلَالُ ، أَرِحْنَا بالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک اسلمی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكن اختلف على سالم فى اسناده
حدیث نمبر: 23089
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبي خَلْدة , عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : حَفِظْتُ لَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں وضو کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23090
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا ابنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنَّا سِتَّ سِنِينَ عَلَيْنَا جُنَادَةُ بنُ أَبي أُمَيَّةَ ، فَقَامَ فَخَطَبنَا ، فَقَالَ : أَتَيْنَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّاسِ ، فَشَدَّدْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا ، فَقَالَ : " أَنْذَرْتُكُمْ الْمَسِيخ وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ ، قَالَ : أَحْسِبهُ قَالَ : الْيُسْرَى ، يَسِيرُ مَعَهُ جِبالُ الْخُبزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ ، عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبعِينَ صَباحًا ، يَبلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ ، لَا يَأْتِي أَرْبعَةَ مَسَاجِدَ : الْكَعْبةَ ، وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ ، وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى ، وَالطُّورَ ، وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ ، فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بأَعْوَرَ " ، وَقَالَ ابنُ عَوْنٍ : وَأَحْسِبهُ قَدْ قَالَ : " يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ، ثُمَّ يُحْيِيهِ ، وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ ".
مولانا ظفر اقبال
مجاہد کہتے ہیں کہ چھ سال تک جنادہ بن ابی امیہ ہمارے گورنر رہے ایک دن وہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے یہاں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آئے تھے ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو لوگوں سے سنی ہوئی کوئی حدیث نہ سنائیے ہم نے یہ فرمائش کر کے انہیں مشقت میں ڈال دیا پھر وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں مسیح دجال سے ڈرا دیا ہے اس کی (بائیں) آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں چلتی ہوں گی اس کی علامت یہ ہوگی کہ وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا اور اس کی سلطنت پانی کی ہر گھاٹ تک پہنچ جائے گی البتہ وہ چار مسجدوں میں نہیں جاسکے گا خانہ کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ ، بہرحال ! اتنی بات یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اسے ایک آدمی پر قدرت دی جائے گی جسے وہ قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا لیکن اس کے علاوہ اسے کسی پر تسلط نہیں دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23091
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا يَحْيَى ، أَنْ بشَيْرِ بنِ يَسَارٍ أَخْبرَهُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بيْعِ الثَّمَرِ بالتَّمْرِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ " ، قَالَ : وَالْعَرِيَّةُ : النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بخَرْصِهِمَا مِنَ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا ، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور '' عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1540
حدیث نمبر: 23092
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ رِدْفِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رِدْفِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ رِدْفَهُ ، فَعَثَرَتْ بهِ دَابتُهُ ، فَقَالَ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : " لَا تَفْعَلْ ، فَإِنَّهُ يَتَعَاظَمُ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْجَبلِ ، وَيَقُولُ : بقُوَّتِي صَرَعْتُهُ ، وَإِذَا قُلْتَ : بسْمِ اللَّهِ ، تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّباب " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اچانک گدھا بدک گیا میرے منہ سے نکل گیا کہ شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کہو کیونکہ جب تم یہ جملہ کہتے ہو تو شیطان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی طاقت سے پچھاڑا ہے اور جب تم " بسم اللہ " کہو گے تو وہ اپنی نظروں میں اتنا حقیر ہوجائے گا کہ مکھی سے بھی چھوٹا ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن اختلف فى هذا الإسناد على أبى تميمة
حدیث نمبر: 23093
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا أَنَا بهِ قَائِمٌ ، وَإِذَا رَجُلٌ مُقْبلٌ عَلَيْهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً ، فَجَلَسْتُ ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ قَامَ بكَ هَذَا الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ، قَالَ : " أَتَدْرِي مَنْ هَذَا ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " ذَاكَ جِبرِيلُ يُوصِينِي بالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ لَرَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کر رہے ہیں بخدا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا ؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کر رہے تھے حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار قرار دے دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں جواب ضرور دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23094
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ بعْضَ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ ، " مَرَّ بمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23095
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ الْعَزِيزِ بنِ عَمْرِو بنِ ضَمْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ؟ قَالَ : " إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بطْنَ كُلِّ وَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک جہنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نماز عشاء کب پڑھا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات ہر وادی پر چھا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالعزيز ابن عمرو
حدیث نمبر: 23096
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْمُغِيرَةِ بنِ أَبي برْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ أَخْبرَهُ , أَنَّ بعْضَ بنِي مُدْلِجٍ أَخْبرَهُ , أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبحْرِ لِلصَّيْدِ ، فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّفَهِ فَتُدْرِكُهُمْ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبحْرِ ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنْ نَتَوَضَّأْ بمَائِنَا عَطِشْنَا ، وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بمَاءِ الْبحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا ! فَقَالَ لَهُمْ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر اسے پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالله بن المغيرة
حدیث نمبر: 23097
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبي سَعِيدٍ ، قَالَ يَزِيدُ : أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ ، وَمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بمَا يَجْهَرُ بهِ ، قَالَ : فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن نمازوں میں جہری قرأت فرماتے ہیں وہ تو ہمیں معلوم ہیں اور جن میں جہری قرأت نہیں فرماتے تھے انہیں جہری نمازوں پر قیاس نہیں کرسکتے لہٰذا کسی ایک رائے پر متفق ہوجاؤ تو ان میں سے دو آدمی بھی ایسے نہیں تھے جنہوں نے اس بات میں اختلاف کیا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر تلاوت فرمایا کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف مقدار کے برابر جبکہ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کی قرأت سے نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف مقدار کے برابر تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذان إسنادان ضعيفان، الأول: فيه المسعودي، وهو مختلط، ورواية يزيد بعد اختلاطه، وفيه زيد العمي ضعيف، والإسناد الثاني: فيه زيد العمي أيضا
حدیث نمبر: 23098
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا سُفْيَانُ بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَحْيَى بنِ وَثَّاب ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَظُنُّهُ ابنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبرُ عَلَى أَذَاهُمْ ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ ، وَلَا يَصْبرُ عَلَى أَذَاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
غالباً حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے اجروثواب میں کہیں زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا کہ ان کی تکالیف پر صبر کرنے کی نوبت آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23099
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، عَنْ جُرَيٍّ ، قَالَ : الْتَقَى رَجُلَانِ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبهِ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سُبحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ ، وَاللَّهُ أَكْبرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ ، وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " سبحان اللہ " نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287
حدیث نمبر: 23100
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ أَبي عَبدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بخٍ بخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ " ، قَالَ رَجُلٌ : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبرُ ، وَسُبحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبهُ وَالِدُهُ ، خَمْسٌ مَنْ اتَّقَى اللَّهَ بهِنَّ مُسْتَيْقِنًا دَخَلَ الْجَنَّةَ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَيْقَنَ بالْمَوْتِ ، وَالْبعْثِ ، وَالْحِسَاب " .
مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک آزاد کردہ غلام صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں ؟ اور میزان عمل میں کتنی بھاری ہیں ؟ لا الہ اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمدللہ اور وہ نیک اولاد جو فوت ہوجائے اور اس کا باپ اس پر صبر کرے اور فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں ؟ جو شخص ان پانچ، چیزوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ پر ایمان رکھتا ہو، آخرت کے دن پر، جنت اور جہنم پر، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام
حدیث نمبر: 23101
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي سَلْمٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبدَ اللَّهِ بنَ أَبي الْهُذَيْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَاحِب لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي صَاحِبي : أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْلُكَ : " تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ " مَاذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِسَانًا ذَاكِرًا ، وَقَلْبا شَاكِرًا ، وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے تو پھر انسان کے پاس کیا ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور آخرت کے کاموں میں تعاون کرنے والی بیوی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل سلم بن عطية