حدیث نمبر: 23015
حَدَّثَنَا يَعْقُوب بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ بنِ حُصَيْب ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، فَزُورُوهَا ، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا عِظَةً وَعِبرَةً ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبيذِ فِي هَذِهِ الْأَسْقِيَةِ ، فَاشْرَبوا ، وَلَا تَشْرَبوا حَرَامًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23016
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُحْبسَ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ لِيُوسِعْ ذُو السَّعَةِ عَلَى مَنْ لَا سَعَةَ لَهُ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّهِ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ ، وَإِنَّ الظُّرُوفَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا وَلَا تُحِلُّهُ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ مؤمل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23017
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوب بنُ جَابرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بوَدَّانَ ، قَالَ : " مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ " ، فَانْطَلَقَ ، ثُمَّ جَاءَنَا وَهُوَ سَقِيمٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَتَيْتُ قَبرَ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، فَسَأَلْتُ رَبي الشَّفَاعَةَ ، فَمَنَعَنِيهَا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا بدَا لَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَشْرِبةِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبوا فِيمَا بدَا لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أيوب
حدیث نمبر: 23018
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوَ ، حَدَّثَنَا أَوْسُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، قَالَ : أَخْبرَنِي أَخِي سَهْلُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ برَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَتَكُونُ بعْدِي بعُوثٌ كَثِيرَةٌ ، فَكُونُوا فِي بعْثِ خُرَاسَانَ ، ثُمَّ انْزِلُوا مَدِينَةَ مَرْوَ ، فَإِنَّهُ بنَاهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ ، وَدَعَا لَهَا بالْبرَكَةِ ، وَلَا يَضُرُّ أَهْلَهَا سُوءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے بعد بہت سے لشکر روانہ ہوں گے تم خراسان کی طرف جانے والے لشکر میں شامل ہوجانا اور " مرو " نامی شہر میں پڑاؤ ڈالنا کیونکہ اسے ذوالقرنین نے بنایا تھا اور اس میں برکت کی دعا کی تھی اس لئے وہاں رہنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 23019
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ مُوسَى ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ ، فَلَيْسَ مِنَّا " ، قَالَهَا ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر کی نماز برحق ہے اور جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبيد الله بن عبدالله، والحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23020
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ أَعْيَنَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَرَضِيهِمْ ، وَرَقِيقِهِمْ ، وَمَاشِيَتِهِمْ ، وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن زمینوں، جانوروں اور غلاموں کی ملکیت پر وہ اسلام قبول کریں ان پر ان کی ملکیت برقرار رہے گی اور اس میں ان پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی چیز واجب نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 23021
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، وأبى ربيعة الإيادي , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى ، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وسوء حفظ شريك، لكنه متابع
حدیث نمبر: 23022
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّه كَانَ بخُرَاسَانَ ، فَعَادَ أَخًا لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَوَجَدَهُ بالْمَوْتِ وَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ جَبينُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبرُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بعَرَقِ الْجَبينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 23023
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبرَنِي خَالِدُ بنُ عُبيْدٍ أَبو عِصَامٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : ذَهَب بي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بالْبادِيَةِ قَرِيبا مِنْ مَكَّةَ ، فَإِذَا أَرْضٌ يَابسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَخْرُجُ الدَّابةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ " ، فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ مکرمہ کے قریب دیہات کے ایک مقام پر لے گئے جو ایک خشک زمین تھی اور اس کے گرد ریت تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دابۃ الارض کا خروج یہاں سے ہوگا وہ ایک بالشت چوڑی اور ایک انچ لمبی جگہ تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل خالد بن عبيد
حدیث نمبر: 23024
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ " ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : " الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چلا جا رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن لكن قوله: ثم الذين يلونهم، فى المرة الرابعة والخامسة غير محفوظ، فقد تفرد به حماد بن سلمة
حدیث نمبر: 23025
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَعِب بالنَّرْدَشِيرِ ، فَكَأَنَّمَا يَغْمِسُ يَدَيْهِ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ وَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے وہ گویا اپنے ہاتھ خنزیر کے خون اور گوشت میں ڈبو دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2260
حدیث نمبر: 23026
حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَهَّاب بنُ عَطَاءٍ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، أَنَّ أَبا مَلِيحٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ برَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ ، فَقَالَ : بكِّرُوا بالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَقَدْ حَبطَ عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 553
حدیث نمبر: 23027
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، أَخْبرَنَا أَبو فُلَانَةَ ، قال عبد الله بن أحمد : كَذَا قَالَ أَبي ، لَمْ يُسَمِّهِ عَلَى عَمْدٍ ، وحَدَّثَنَاه غَيْرُهُ فَسَمَّاهُ يَعْنِي أَبا حُنَيْفَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَتَاهُ : " اذْهَب ، فَإِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جاؤ کہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23028
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ وَهُمْ يَتَنَاوَلُونَ مِنْ عَلِيٍّ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي نَفْسِي عَلَى عَلِيٍّ شَيْءٌ ، وَكَانَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ كَذَلِكَ ، فَبعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ عَلَيْهَا عَلِيٌّ ، وَأَصَبنَا سَبيًا ، قَالَ : فَأَخَذَ عَلِيٌّ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ لِنَفْسِهِ ، فَقَالَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ : دُونَكَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ بمَا كَانَ ، ثُمَّ قُلْتُ : إِنَّ عَلِيًّا أَخَذَ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ ، قَالَ : وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبابا ، قَالَ : فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَغَيَّرَ ، فَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی ایسی مجلس سے گذرے جہاں پر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ باتیں کر رہے ہیں وہ ان کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ابتداء میں میرے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بوجھ تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بھی یہی صورت حال تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے ایک دستے کے ساتھ روانہ کردیا جس کے امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ہمیں وہاں قیدی ہاتھ لگے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک باندی اپنے لئے رکھ لی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ٹھہرو، پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں پیش آمدہ واقعہ بیان کرنے لگا اور کہا کہ علی نے خمس میں سے باندی لی ہے میں نے اس وقت سر جھکا رکھا تھا اچانک سر اٹھا کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ انور متغیر ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23029
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ بوُضُوءٍ وَاحِدٍ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ ! قَالَ : " إِنِّي عَمْدًا فَعَلْتُ يَا عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 23030
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بتَقْوَى اللَّهِ ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ، ثُمَّ قَالَ : " اغْزُوا بسْمِ اللَّهِ ، فِي سَبيلِ اللَّهِ ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ باللَّهِ ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا ، وَلَا تَغْدِرُوا ، وَلَا تُمَثِّلُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ ، أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابوكَ إِلَيْهَا ، فَاقْبلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمْ : ادعهم إلى الإسلام ، فإن أجابوك إليه فقبل منهم ، وكف عنهم ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ ، وَأَخْبرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ ، وَإِنْ هُمْ أَبوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا ، فَأَخْبرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَاب الْمُسْلِمِينَ ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنْ هُمْ أَبوْا ، فَسَلْهُمْ الْجِزْيَةَ ، فَإِنْ هُمْ أَجَابوكَ ، فَاقْبلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ، وَإِنْ هُمْ أَبوْا ، فَاسْتَعِنْ باللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبيِّكَ ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبيِّهِ ، وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبيكَ وَذِمَمَ أَصْحَابكَ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبائِكُمْ ، أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ ، وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيب حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ ، أَمْ لَا " ، قَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ : هَذَا ، أَوْ نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی دستہ یا لشکر کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے خصوصیت کے ساتھ اس کے اپنے متعلق تقوی کی وصیت فرماتے اور اس کے ہمراہ مسلمانوں کے ساتھ بہترین سلوک کی تاکید فرماتے پھر فرماتے کہ اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ قتال کرو اور جب دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو اسے تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کرلیں تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو سب سے پہلے اسلام کی دعوت ان کے سامنے پیش کرو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کرلو پھر انہیں اپنے علاقے سے دارالمہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور وہی فرائض ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اگر وہ اس سے انکار کردیں اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے ان پر اللہ کے احکام تو ویسے ہی جاری ہوں گے جیسے تمام مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن مال غنیمت میں مسلمانوں کے ہمراہ جہاد کئے بغیر ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اسے تسلیم کرلیں تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے اپنے ہاتھ روک لینا لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کردیں تو پھر اللہ سے مدد چاہتے ہوئے ان سے قتال کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1731
حدیث نمبر: 23031
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ , الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبي عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ رَوْحٌ : الْكُرْدِيُّ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحِصْنِ أَهْلِ خَيْبرَ ، أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللِّوَاءَ عُمَرَ بنَ الْخَطَّاب ، وَنَهَضَ مَعَهُ مَنْ نَهَضَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأُعْطِيَنَّ اللِّوَاءَ غَدًا رَجُلًا يُحِب اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ ، دَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَأَعْطَاهُ اللِّوَاءَ ، وَنَهَضَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَقِيَ أَهْلَ خَيْبرَ ، وَإِذَا مَرْحَب يَرْتَجِزُ بيْنَ أَيْدِيهِمْ وَهُوَ يَقُولُ : لَقَدْ عَلِمَتْ خَيْبرُ أَنِّي مَرْحَب شَاكِي السِّلَاحِ بطَلٌ مُجَرَّب أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِب إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبلَتْ تَلَهَّب قَالَ : فَاخْتَلَفَ هُوَ وَعَلِيٌّ ضَرْبتَيْنِ ، فَضَرَبهُ عَلَى هَامَتِهِ حَتَّى عَضَّ السَّيْفُ مِنْهَا بأَضْرَاسِهِ ، وَسَمِعَ أَهْلُ الْعَسْكَرِ صَوْتَ ضَرْبتِهِ ، قَالَ : وَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ مَعَ عَلِيٍّ حَتَّى فُتِحَ لَهُ وَلَهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے خیبر کا محاصرہ کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑا لیکن وہ مخصوص اور اہم قلعہ فتح کئے بغیر واپس آگئے اگلے دن پھر جھنڈا پکڑا اور روانہ ہوگئے لیکن آج بھی وہ قلعہ فتح نہ ہوسکا اور اس دن لوگوں کو خوب مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کا رسول محبوب رکھتے ہوں گے اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور فتح حاصل کئے بغیر واپس نہ آئے گا۔ چنانچہ ساری رات ہم اس بات پر خوش ہوتے رہے کہ کل یہ قلعہ بھی فتح ہوجائے گا جب صبح ہوئی تو نماز فجر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور جھنڈا منگوایا لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہیں آشوب چشم تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور ان کے ہاتھوں وہ قلعہ فتح ہوگیا حالانکہ اس کی خواہش کرنے والوں میں میں بھی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جب اہل خیبر سے آمنا سامنا ہوا تو مرحب ان کے سامنے رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا آیا کہ سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پہنے ہوئے بہادر اور تجربہ کار ہوں، کبھی نیزے سے لڑتا ہوں اور کبھی تلوار سے جب شیر دھاڑتے ہوئے سامنے آجائیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اس کا مقابلہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کھوپڑی پر ایسی ضرب لگائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار اس کی ڈاڑھ کاٹتی ہوئی نکل گئی اور لشکر والوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ضرب کی آواز سنی بالآخر انہیں فتح نصیب ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ميمون أبى عبدالله الكندي، لكنه توبع، وقول روح فى نسبته: الكردي، خطأ
حدیث نمبر: 23032
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عَطَاءٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ ، فَمَاتَتْ أُمِّي وَبقِيَتْ الْجَارِيَةُ ، فَقَالَ : " قَدْ وَجَب أَجْرُكِ ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ " ، قَالَتْ : فَإِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّي صَوْمُ شَهْرٍ ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَتْ : فَإِنَّ أُمِّي لَمْ تَحُجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ؟ قَالَ : " حُجِّي عَنْ أُمِّكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت مل گئی اس نے کہا کہ میری والدہ حج کئے بغیر ہی فوت ہوگئی ہیں کیا میرا ان کی طرف سے حج کرنا ان کی لئے کفایت کرسکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تم اپنی والدہ کی طرف سے حج کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1149
حدیث نمبر: 23033
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنِي مَالِكُ بنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَأَخَذَ بيَدِي ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيُصَلِّي ، قَالَ : " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " ، وَإِذَا هُوَ عَبدُ اللَّهِ بنُ قَيْسٍ أَبو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأُخْبرُهُ ؟ قَالَ : فَأَخْبرْتُهُ ، فَقَالَ : لَمْ تَزَلْ لِي صَدِيقًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو میرا ہاتھ پکڑ لیا میں بھی ان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوگیا وہاں ایک آدمی قرآن پڑھ رہا تھا اور نماز پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو آل داؤد علیہ السلام کے خوبصورت لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے دیکھا تو وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں یہ بات بتادوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتادو چناچہ میں نے انہیں بتادیا اور وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیشہ میرے دوست ہی رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23034
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ وَهُوَ أَبو تُمَيْلَةَ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَب ، فَقَالَ : " مَا لَكَ وَلِحُلِيِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " , قَالَ : فَجَاءَ وَقَدْ لَبسَ خَاتَمًا مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : " أَجِدُ مِعكَ رِيحَ أَهْلِ الْأَصْنَامِ " ، قَالَ : فَمِمَّ أَتَّخِذُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِنْ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس سے فرمایا کہ تم اہل جنت کا زیور دنیا میں کیوں پہنے ہو ؟ اگلی مرتبہ وہ آیا تو اس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم سے بتوں کے بچاریوں جیسی بو آتی ہے " اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں ؟ فرمایا چاندی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: فجاء وقد لبس خاتما من صفر، فقال النبى ﷺ: "أجد معك ريح اهل الاصنام"، وهذا اسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل عبدالله بن مسلم
حدیث نمبر: 23035
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ عَبدِ الْكَرِيمِ بنِ سُلَيْطٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : لَمَّا خَطَب عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَا بدَّ لِلْعُرْسِ مِنْ وَلِيمَةٍ " ، قَالَ : فَقَالَ سَعْدٌ : عَلَيَّ كَبشٌ ، وَقَالَ فُلَانٌ : عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ ذُرَةٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شادی کا ولیمہ ہونا ضروری ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ذمے ایک مینڈھا ہے دوسرے نے کہا کہ میرے ذمے اتنا جو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23036
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدِ بنِ مَنْجُوفٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : بعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ لِيَقْسِمَ الْخُمُسَ ، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً : لِيَقْبضَ الْخُمُسَ ، قَالَ : فَأَصْبحَ عَلِيٌّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ، قَالَ : فَقَالَ خَالِدٌ لِبرَيْدَةَ : أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ هَذَا لِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ ؟ ! قَالَ : وَكُنْتُ أُبغِضُ عَلِيًّا ، قَالَ : فَقَالَ : " يَا برَيْدَةُ ، أَتُبغِضُ عَلِيًّا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلَا تُبغِضْهُ ، قَالَ رَوْحٌ مَرَّةً : فَأَحِبهُ ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس خمس تقسیم کرنے کے لئے بھیج دیا۔۔۔۔۔۔ صبح ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بریدہ سے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہو کہ علی نے کیا کیا ہے ؟ مجھے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4350
حدیث نمبر: 23037
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ بنِ شَقِيقٍ ، أَخْبرَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ بصَدَقَةٍ " ، قَالُوا : وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " النُّخَاعَةُ تَرَاهَا فِي الْمَسْجِدِ فَتَدْفِنُهَا ، أَوْ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ ، فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور اس پر ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا ضروری ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کی طاقت کس میں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مسجد میں تھوک نظر آئے تو اس پر مٹی ڈال دو راستے میں تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو اگر یہ سب نہ کرسکو تو چاشت کے وقت دو رکعتیں تمہاری طرف سے کفایت کر جائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23038
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبي جَنَاب ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ ، فَخَرَجَ يَمْشِي إِلَى الْقُبورِ حَتَّى إِذَا أَتَى إِلَى أَدْنَاهَا ، جَلَسَ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ إِنْسَانًا جَالِسًا يَبكِي ، قَالَ : فَاسْتَقْبلَهُ عُمَرُ بنُ الْخَطَّاب ، فَقَالَ : مَا يُبكِيكَ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ ؟ قَالَ : " سَأَلْتُ رَبي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، فَأَذِنَ لِي ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي فَأَسْتَغْفِرُ لَهَا ، فَأَبى ، إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ : عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوا بعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَكُلُوا مَا بدَا لَكُمْ ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَزُرْ ، فَقَدْ أُذِنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ ، وَعَنِ الظُّرُوفِ تَشْرَبونَ فِيهَا : الدُّباءَ ، وَالْحَنْتَمَ ، وَالْمُزَفَّتَ ، وَأَمَرْتُكُمْ بظُرُوفٍ ، وَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ ، فَاجْتَنِبوا كُلَّ مُسْكِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب، فهو ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23039
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حُمَيْدٍ أَبو سُفْيَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابرِ ، يَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بكُمْ لَلَاحِقُونَ ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبعٌ ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہا کریں کہ مؤمنین و مسلمین کی جماعت والو ! تم پر سلامتی ہو ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آکر ملنے والے ہیں تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں اور ہم اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 975
حدیث نمبر: 23040
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ وَهُوَ ابنُ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلَالًا ، فَقَالَ : " يَا بلَالُ ، بمَ سَبقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ ، إِنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ الْبارِحَةَ ، فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي ، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَب مُرَبعٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ، قُلْتُ : فَأَنَا مُحَمَّدٌ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَب ، قُلْتُ : أَنَا عَرَبيٌّ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، قُلْتُ : فَأَنَا قُرَشِيٌّ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لَعُمَرَ بنِ الْخَطَّاب " ، فَقَالَ بلَالٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَا أَصَابنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بهَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے پوچھا بلال ! تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے ؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے سے تمہاری آہٹ سنی ابھی آج رات ہی میں جنت میں داخل ہوا تو تمہاری آہٹ پھر سنائی دی پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے سامنے پہنچا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ایک عربی آدمی کا ہے میں نے کہا کہ عربی تو میں بھی ہوں یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مسلمان آدمی کا ہے میں نے کہا کہ پھر میں تو خود محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! اگر مجھے تمہاری غیرت کا خیال نہ آتا تو میں اس محل میں ضرور داخل ہوتا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے سامنے غیرت دکھاؤں گا ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں جب بھی بےوضو ہوا تو وضو کر کے دو رکعتیں ضرور پڑھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی اس کا سبب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23041
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ باسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بهِ أَعْطَى ، وَإِذَا دُعِيَ بهِ أَجَاب " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23042
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنِي ثَوَاب بنُ عُتْبةَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى يَأْكُلَ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ لَمْ يَأْكُلْ حَتَّى يَذْبحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے کچھ کھائے پئے بغیر نہیں نکلتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہو کر آنے تک کچھ کھاتے پیتے نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23043
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، عَنْ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِيَكْفِ أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَب " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے دنیا کی چیزوں میں سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہونی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن مولة مقبول، والجريري مختلط ورواية حماد بن سلمة عنه قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 23044
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّ أَعْرَابيًّا قَالَ فِي الْمَسْجِدِ : مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ؟ بعْدَ الْفَجْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَجَدْتَهُ ، لَا وَجَدْتَهُ ، لَا وَجَدْتَهُ ، إِنَّمَا بنِيَتْ هَذِهِ الْبيُوتُ ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ : هَذِهِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بنِيَتْ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا اور اعلان کرنے لگا کہ نماز فجر کے بعد میرا سرخ اونٹ گم ہوگیا ہے مجھے اس کے بارے میں کون بتائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا تجھے تیرا اونٹ نہ ملے یہ گھر (مساجد) اس مقصد کے لئے ہی بنائے گئے ہیں جس کے لئے بنائے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي ، م: 569
حدیث نمبر: 23045
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحِ بنِ أُسَامَةَ ، عَنْ برَيْدَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا ، أَحْبطَ اللَّهُ عَمَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 23046
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جُحَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ " ، قَالَ : ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ " ، قُلْتُ : سَمِعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ " ، ثُمَّ سَمِعْتُكَ ، تَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ " ، قَالَ لَهُ : " بكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ ، فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ ، فَأَنْظَرَهُ ، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دیدے اسے ہر دن کے عوض اتنا ہی صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا پھر ایک اور مرتبہ سنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے اسے ہر دن کے عوض دو گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پہلے میں نے آپ کو ایک گنا اور پھر دو گنا ثواب کا ذکر کرتے ہوئے سنا ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی سے قبل اسے روزانہ ایک گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور قرض کی ادائیگی کے بعد مہلت دینے پر دو گنا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23047
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى بنِ سَعِيدٍ . وَأَبو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الضُّبعِيَّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّهُ عَادَ أَخًا لَهُ ، فَرَأَى جَبينَهُ يَعْرَقُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبرُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبو دَاوُدَ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بعَرَقِ الْجَبينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 23048
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ . وَإِسْمَاعِيلَ , أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ برَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ ، قَالَ : بكِّرُوا بالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، حَبطَ عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو ملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 23049
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا سُورَةَ ، فَإِنَّ أَخْذَهَا برَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبطَلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 23050
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِر ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا عمران ، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : يُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران دونوں کو سیکھو کیونکہ یہ دونوں روشن سورتیں اپنے پڑھنے والوں پر قیامت کے دن بادلوں، سائبانوں یا پرندوں کی دو ٹولیوں کی صورت سایہ کریں گی اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 23051
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بنُ سِنَانٍ وَهُوَ أَبو سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : صَلَّى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ؟ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَجَدْتَ ، إِنَّمَا بنِيَتْ الْمَسَاجِدُ لِمَا بنِيَتْ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا اور اعلان کرنے لگا کہ نماز فجر کے بعد میرا سرخ اونٹ گم ہوگیا ہے مجھے اس کے بارے میں کون بتائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا تجھے تیرا اونٹ نہ ملے یہ گھر (مساجد) اس مقصد کے لئے ہی بنائے گئے ہیں جس کے لئے بنائے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 569
حدیث نمبر: 23052
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبو جَنَاب ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، فَزُورُوهَا ، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں پہلے قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو البتہ بیہودہ بات نہ کہنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23053
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر درمیانہ راستہ لازم کرلو کیونکہ جو شخص دین کے معاملے میں سختی کرتا ہے وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23054
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ ، فَقَالَ : " آجَرَكِ اللَّهُ ، وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت مل گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1149