حدیث نمبر: 22975
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا ، فَإِنَّ أَخْذَهَا برَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبطَلَةُ ، تَعَلَّمُوا عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا هُمَا الزَّهْرَاوَانِ ، يَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ غَيَايَتَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ ، تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران دونوں کو سیکھو کیونکہ یہ دونوں روشن سورتیں اپنے پڑھنے والوں پر قیامت کے دن بادلوں، سائبانوں یا پرندوں کی دو ٹولیوں کی صورت میں سایہ کریں گی اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گے۔
حدیث نمبر: 22976
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِب ، فَيَقُولُ لِصَاحِبهِ : أَنَا الَّذِي أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ ، وَأَظْمَأْتُ هَوَاجِرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب انسان کی قبر شق ہوگی تو قرآن اپنے پڑھنے والے سے " جو لاغر آدمی کی طرح ہوگا ملے گا اور اس سے کہے گا کہ میں تمہارا وہی ساتھی قرآن ہوں جس نے تمہیں سخت گرم دوپہروں میں پیاسا رکھا اور راتوں کو جگایا۔
حدیث نمبر: 22977
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهَا ، إِلَّا وَقَفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ ، فَمَا ظَنُّكُمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجاہدین کی عورتوں کی حرمت انتظار جہاد میں بیٹھنے والوں پر ان کی ماؤں جیسی ہے اگر ان بیٹھنے والوں میں سے کوئی شخص کسی مجاہد کے پیچھے اس کے اہل خانہ کا ذمہ دار بنے اور اس میں خیانت کرے تو اسے قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب تمہارا کیا خیال ہے ؟
حدیث نمبر: 22978
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بتَقْوَى اللَّهِ ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ، وَقَالَ : " اغْزُوا بسْمِ اللَّهِ فِي سَبيلِ اللَّهِ ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ باللَّهِ ، فَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ ، أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابوكَ إِلَيْهَا ، فَاقْبلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمْ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَإِنْ أَجَابوكَ فَاقْبلْ مِنْهُمْ ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ ، وَأَعْلِمْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ ، أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنْ أَبوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَاب الْمُسْلِمِينَ ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيب ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنْ هُمْ أَبوْا ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ ، فَإِنْ أَجَابوا فَاقْبلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمْ ، فَإِنْ أَبوْا فَاسْتَعِنْ اللَّهَ ، ثُمَّ قَاتِلْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی دستہ یا لشکر کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے خصوصیت کے ساتھ اس کو اپنے متعلق تقوی کی وصیت فرماتے اور اس کے ہمراہ مسلمانوں کے ساتھ بہترین سلوک کی تاکید فرماتے پھر فرماتے کہ اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ قتال کرو اور جب دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو اسے تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کرلیں تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو سب سے پہلے اسلام کی دعوت ان کے سامنے پیش کرو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کرلو پھر انہیں اپنے علاقے سے دارالمہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور وہی فرائض ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اگر وہ اس سے انکار کردیں اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے ان پر اللہ کے احکام تو ویسے ہی جاری ہوں گے جیسے تمام مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن مال غنیمت میں مسلمانوں کے ہمراہ جہاد کئے بغیر ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اسے تسلیم کرلیں تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے اپنے ہاتھ روک لینا لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کردیں تو پھر اللہ سے مدد چاہتے ہوئے ان سے قتال کرو۔
حدیث نمبر: 22979
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَعِب بالنَّرْدَشِيرِ ، فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ " ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ وَكِيعٌ مَرَّةً.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے وہ گویا اپنے ہاتھ خنزیر کے خون اور گوشت میں ڈبو دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 22980
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بنُ ثَعْلَبةَ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَفَ بالْأَمَانَةِ ، وَمَنْ خَبب عَلَى امْرِئٍ زَوْجَتَهُ أَوْ مَمْلُوكَهُ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو امانت پر قسم اٹھا لے اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکائے یا غلام کو اس کے آقا کے خلاف تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22981
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بنُ صَالِحٍ ، عَنْ شَيْخٍ لهم ، يُقَالُ لَهُ : حُجَيْرُ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ ، " فَلَبسَهُمَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی شاہ حبشہ نے سیاہ رنگ کے دو سادہ موزے ہدیہ میں پیش کئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہن لیا اور وضو کرتے ہوئے ان پر مسح فرمایا۔
حدیث نمبر: 22982
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِب الْخَيْلَ ، فَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ ؟ قَالَ : " إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، فَلَا تَشَاءُ أَنْ تَرْكَب فَرَسًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ تَطِيرُ بكَ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شِئْتَ ، إِلَّا رَكِبتَ " ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفِي الْجَنَّةِ إِبلٌ ؟ قَالَ : " يَا عَبدَ اللَّهِ ، إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، كَانَ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے گھوڑوں سے بہت محبت ہے تو کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کردیا اور تمہاری یہ خواہش ہوئی کہ تم سرخ یاقوت کے ایک گھوڑے پر سوار ہو جنت میں جہاں چاہو گھومو تو وہ بھی تمہیں سواری کے لئے ملے گا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ خدا ! اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کردیا تو وہاں تمہیں ہر چیز ملے گی جس کی خواہش تمہارے دل میں پیدا ہوگی اور تمہاری آنکھوں کو اس سے لذت حاصل ہوگی۔
حدیث نمبر: 22983
حَدَّثَنَا أَبو عُبيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا ثَوَّاب بنُ عُتْبةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ لَا يَخْرُجُ حَتَّى يَطْعَمَ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ لَا يَطْعَمُ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے کچھ کھائے پئے بغیر نہیں نکلتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہو کر آنے تک کچھ کھاتے پیتے نہ تھے۔
حدیث نمبر: 22984
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عُقْبةُ بنُ عَبدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ ، وَلَا يَأْكُلُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ ، فَيَأْكُلَ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے کچھ کھائے پئے بغیر نہیں نکلتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہو کر آنے تک کچھ کھاتے پیتے نہ تھے۔
حدیث نمبر: 22985
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ هِشَامٍ ، وَأَبو أَحْمَدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابرِ ، فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، إنا إن شاء الله بكم لاحقون ، قَالَ مُعَاوِيَةُ فِي حَدِيثِهِ : أَنْتُمْ فَرَطُنَا ، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبعٌ ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہا کریں کہ مؤمنین ومسلمین کی جماعت والو ! تم پر سلامتی ہو ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آکرملنے والے ہیں تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں اور ہم اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 22986
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ شکم مادر میں کیا ہے ؟ (خوش نصیب یا بدنصیب) کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا ؟ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف اور باخبر ہے۔
حدیث نمبر: 22987
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : احْتَبسَ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : " مَا حَبسَكَ ؟ " , قَالَ : إِنَّا لَا نَدْخُلُ بيْتًا فِيهِ كَلْب .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے میں تاخیر کردی حاضر ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تاخیر کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو۔
حدیث نمبر: 22988
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبي دَاوُدَ الْأَعْمَى ، عَنْ برَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبرَاهِيمَ ، وَعَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو سلام کیسے کریں یہ بتائیے کہ آپ پر درود کس طرح پڑھیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر اپنی عنایات ' رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما جیسا کہ آل ابراہیم علیہ السلام پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ "
حدیث نمبر: 22989
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ مِنْ بعْضِ مَغَازِيهِ ، فَقَالَتْ : إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِب عِنْدَكَ بالدُّفِّ ، قَالَ : " إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ ، فَافْعَلِي ، وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي ، فَلَا تَفْعَلِي " ، فَضَرَبتْ ، فَدَخَلَ أَبو بكْرٍ وَهِيَ تَضْرِب ، وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِب ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ ، أَنَا جَالِسٌ وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ ، فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں خوشی کے اظہار میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے یہ منت مانی تھی تو اپنی منت پوری کرلو اور اگر نہیں مانی تھی تو نہ کرو چنانچہ وہ دف بجانے لگی اسی دوران حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آگئے اور وہ دف بجاتی رہی پھر کچھ اور لوگ آئے لیکن وہ بجاتی رہی تھوڑی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے اپنا دف اپنے پیچھے چھپالیا اور اپناچہرہ ڈھانپ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا عمر ! شیطان تم سے ڈرتا ہے میں بھی یہاں بیٹھا تھا اور یہ لوگ بھی آئے تھے لیکن جب تم آئے تو اس نے وہ کیا جو اس نے کیا۔
حدیث نمبر: 22990
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحْسَاب أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبونَ إِلَيْهِ ، هَذَا الْمَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل دنیا کا حسب نسب " جس کی طرف وہ مائل ہوتے ہیں " یہ مال و دولت ہے۔
حدیث نمبر: 22991
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى ، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا علی ! نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22992
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي ، يَقُولُ : بيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْكَب ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، أَنْتَ أَحَقُّ بصَدْرِ دَابتِكَ مِنِّي إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي " ، قَالَ : فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ ، قَالَ : فَرَكِب .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلے جا رہے تھے کہ ایک آدمی گدھے پر سوار آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! اس پر سوار ہوجائیے اور خود پیچھے ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی سواری کے اگلے حصے پر بیٹھنے کے زیادہ حقدار ہو، الاّ یہ کہ تم مجھے اس کی اجازت دے دو اس نے کہا کہ میں نے آپ کو اجازت دے دی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوگئے۔
حدیث نمبر: 22993
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبي برَيْدَةُ ، قَالَ : حَاصَرْنَا خَيْبرَ ، فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبو بكْرٍ ، فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ عمر ، فَخَرَجَ ، فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ ، وَأَصَاب النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجَهْدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي دَافِعٌ اللِّوَاءَ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَيُحِب اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ " ، فَبتْنَا طَيِّبةٌ أَنْفُسُنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْغَدَاةَ ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا ، فَدَعَا باللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ ، فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ ، وَفُتِحَ لَهُ ، قَالَ برَيْدَةُ : وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے خیبر کا محاصرہ کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑا لیکن وہ مخصوص اور اہم قلعہ فتح کئے بغیر واپس آگئے اگلے دن پھر جھنڈا پکڑا اور روانہ ہوگئے لیکن آج بھی وہ قلعہ فتح نہ ہوسکا اور اس دن لوگوں کو خوب مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کا رسول محبوب رکھتے ہوں گے اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور فتح حاصل کئے بغیر واپس نہ آئے گا۔ چنانچہ ساری رات ہم اس بات پر خوش ہوتے رہے کہ کل یہ قلعہ بھی فتح ہوجائے گا جب صبح ہوئی تو نماز فجر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور جھنڈا منگوایا لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہیں آشوب چشم تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور ان کے ہاتھوں وہ قلعہ فتح ہوگیا حالانکہ اس کی خواہش کرنے والوں میں میں بھی تھا۔
حدیث نمبر: 22994
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ ب وَضُحَاهَا ، وَأَشْباهِهَا مِنَ السُّوَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں سورت الشمس اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 22995
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ حُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبنَا ، فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبرِ ، فَحَمَلَهُمَا فَوَضَعَهُمَا بيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ ، فَلَمْ أَصْبرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي ، وَرَفَعْتُهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ہمارے سامنے خطبہ دے رہے تھے کہ امام حسن اور حسین رضی اللہ عنہ سرخ رنگ کی قمیضیں پہنے ہوئے لڑکھڑاتے چلتے نظر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور انہیں اٹھا کر اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد آزمائش کا سبب ہیں میں نے ان دونوں بچوں کو لڑکھڑا کر چلتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اپنی بات درمیان میں چھوڑ کر انہیں اٹھا لیا۔
حدیث نمبر: 22996
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، أَخْبرَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ : أَصْبحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا بلَالًا ، فَقَالَ : " يَا بلَالُ ، بمَ سَبقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي ، إِنِّي دَخَلْتُ الْبارِحَةَ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ ، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَب مُرْتَفِعٍ مُشْرِفٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَب ، قُلْتُ : أَنَا عَرَبيٌّ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ، قُلْتُ : فَأَنَا مُحَمَّدٌ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ بنِ الْخَطَّاب ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا غَيْرَتُكَ يَا عُمَرُ ، لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كُنْتُ لِأَغَارَ عَلَيْكَ ، قَالَ : وَقَالَ لِبلَالٍ : " بمَ سَبقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ ؟ ! " ، قَالَ : مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ ، وَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بهَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے پوچھا بلال ! تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے ؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے سے تمہاری آہٹ سنی ابھی آج رات ہی میں جنت میں داخل ہوا تو تمہاری آہٹ پھر سنائی دی پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے سامنے پہنچا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ایک عربی آدمی کا ہے میں نے کہا کہ عربی تو میں بھی ہوں یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ امت محمدیہ کے ایک مسلمان آدمی کا ہے میں نے کہا کہ پھر میں تو خود محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! اگر مجھے تمہاری غیرت کا خیال نہ آتا تو میں اس محل میں ضرور داخل ہوتا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے سامنے غیرت دکھاؤں گا ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں جب بھی بےوضو ہوا تو وضو کر کے دو رکعتیں ضرور پڑھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی اس کا سبب ہے۔
حدیث نمبر: 22997
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ برَيْدَةَ ، يَقُولُ : جَاءَ سَلْمَانُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَب ، فَوَضَعَهَا بيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ ؟ " ، قَالَ : صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابكَ ، قَالَ : " ارْفَعْهَا ، فَإِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ " ، فَرَفَعَهَا ، وَجَاءهَ مِنَ الْغَدِ بمِثْلِهِ ، فَوَضَعَهُ بيْنَ يَدَيْهِ ، َقَالَ : " مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ ؟ " ، قال : صدقةٌ عليك وعلى أصحابك ، قال : " أرفعها ، فإنا لا نأكل الصدقة " ، فرفعها ، فجاء من الغد بمثله ، فوضعه بين يديه ، ويحمله ، فقال : " ما هذا يا سلمان ؟ " ، فقال : هديةٌ لك ، فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم لأصحابه : " ابسُطُوا " ، فَنَظَرَ إِلَى الْخَاتَمِ الَّذِي عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَآمَنَ بهِ ، وَكَانَ لِلْيَهُوَدِ ، فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا ، وَعَلَى أَنْ يَغْرِسَ نَخْلًا ، فَيَعْمَلَ سَلْمَانُ فِيهَا حَتَّى تُطعَمَ ، قَالَ : فَغَرَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ ، فَحَمَلَتْ النَّخْلُ مِنْ عَامِهَا ، وَلَمْ تَحْمِلْ النَّخْلَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟ " ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا غَرَسْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ غَرَسَهَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تر کھجوروں کی ایک طشتری لے کر حاضر ہوئے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سلمان ! یہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ ہم صدقہ نہیں کھاتے وہ اسے اٹھا کرلے گئے اور اگلے دن اسی طرح کھجوریں لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھیں (وہی سوال جواب ہوئے اور وہ تیسرے دن پھر حاضر ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سلمان ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یہ آپ کے لئے ہدیہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس میں شامل کرلیا۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت "" جو پشت مبارک پر تھی "" دیکھی اور ایمان لے آئے چونکہ وہ ایک یہودی کے غلام تھے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے دراہم اور اس شرط پر انہیں خرید لیا کہ مسلمان ایک باغ لگا کر اس میں محنت کریں گے یہاں تک کہ اس میں پھل آجائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغ میں پودے اپنے دست مبارک سے لگائے سوائے ایک پودے کے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لگایا تھا اور اسی سال درخت پر پھل آگیا سوائے اسی ایک درخت کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اسے میں نے لگایا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکھیڑ کر خود لگایا تو وہ بھی ایک ہی سال میں پھل دینے لگا۔
حدیث نمبر: 22998
حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي الْإِنْسَانِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ مَفْصِلٍ ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ مِنْهَا صَدَقَةً " ، قَالُوا : فَمَنْ الَّذِي يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ تَدْفِنُهَا ، أَوْ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ ، فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُ عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور اس پر ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا ضروری ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کی طاقت کس میں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مسجد میں تھوک نظر آئے تو اس پر مٹی ڈال دو راستے میں تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو اگر یہ سب نہ کرسکو تو چاشت کے وقت دو رکعتیں تمہاری طرف سے کفایت کر جائیں گی۔
حدیث نمبر: 22999
حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بالْحَبةِ السَّوْدَاءِ وَهِيَ الشُّونِيزُ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کلونجی کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں شفاء ہے۔
حدیث نمبر: 23000
حَدَّثَنَا بكْرُ بنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بنُ السَّائِب ، عَنْ أَبي زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّفَقَةُ فِي الْحَجِّ كَالنَّفَقَةِ فِي سَبيلِ اللَّهِ بسَبعِ مِائَةِ ضِعْفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر حج میں کچھ خرچ کرنا ایسا ہے جیسے میدان جہاد میں سات سو گنا خرچ کرنا۔
حدیث نمبر: 23001
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کی جانب سے عقیقہ فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 23002
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابنَ مُرَّةَ أَبو سِنَانٍ الشَّيْبانِيُّ ، عَنْ مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أهل الجنَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ، هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَانُونَ صَفًّا " ، قَالَ أَبو عَبد الرَّحْمَنِ : مَاتَ بشْرُ بنُ الْحَارِثِ ، وَأَبو الْأَحْوَصِ ، وَالْهَيْثَمُ بنُ خَارِجَةَ فِي سَنَةِ سَبعٍ وَعِشْرِينَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 23003
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، وَأَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ , قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا زُبيْدُ بنُ الْحَارِثِ الْيَامِيُّ ، عَنْ مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَ بنَا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيب مِنْ أَلْفِ رَاكِب ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقْبلَ عَلَيْنَا بوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بنُ الْخَطَّاب ، فَفَدَاهُ بالْأَب وَالْأُمِّ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبي عَزَّ وَجَلَّ فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي ، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، فَزُورُوهَا لِتُذَكِّرَكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بعْدَ ثَلَاثٍ ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبةِ فِي الْأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ ، وَلَا تَشْرَبوا مُسْكِرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔
حدیث نمبر: 23004
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَضْلُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فِي الْحُرْمَةِ كَفَضْلِ أُمَّهَاتِهِمْ ، وَمَا مِنْ قَاعِدٍ يَخْلُفُ مُجَاهِدًا فِي أَهْلِهِ ، فَيُخَونه فِي أَهْلِهِ ، إِلَّا وَقَفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّ هَذَا خَانَكَ فِي أَهْلِكَ ، فَخُذْ مِنْ عَمَلِهِ مَا شِئْتَ ، قَالَ : فَمَا ظَنُّكُمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجاہدین کی عورتوں کی حرمت انتظار جہاد میں بیٹھنے والوں پر ان کی ماؤں جیسی ہے اگر ان بیٹھنے والوں میں سے کوئی شخص کسی مجاہد کے پیچھے اس کے اہل خانہ کا ذمہ دار بنے اور اس میں خیانت کرے تو اسے قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب تمہارا کیا خیال ہے ؟
حدیث نمبر: 23005
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبيذِ الْجَرِّ ، فَانْتَبذُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ ، وَاجْتَنِبوا كُلَّ مُسْكِرٍ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بعْدَ ثَلَاثٍ ، فَكُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔
حدیث نمبر: 23006
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب مِنْ كِتَابهِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي ابنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ أَنَّهُ برِيءٌ مِنْ الْإِسْلَامِ ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبا ، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا ، فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی قسم کھائے کہ وہ اسلام سے بری ہے اگر وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہو تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسے اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہو تو پھر وہ اسلام کی طرف کبھی بھی صحیح سالم واپس نہیں آئے گا۔
حدیث نمبر: 23007
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بيْنَنَا وَبيْنَهُمْ تَرْكُ الصَّلَاةِ ، فَمَنْ تَرَكَهَا ، فَقَدْ كَفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے لہٰذا جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 23008
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ مُعَاذَ بنَ جَبلٍ صَلَّى بأَصْحَابهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، فَقَرَأَ فِيهَا اقْتَرَبتْ السَّاعَةُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبلِ أَنْ يَفْرُغَ ، فَصَلَّى وَذَهَب ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِيدًا ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَعْمَلُ فِي نَخْلٍ ، فَخِفْتُ عَلَى الْمَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ ب وَضُحَاهَا ، وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز عشاء پڑھائی تو اس میں سورت قمر پوری تلاوت کی ایک آدمی ان کی نماز ختم ہونے سے پہلے اٹھا اور اپنی نماز تنہا پڑھ کر واپس چلا گیا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق سخت باتیں کہیں وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں باغات میں کام کرتا ہوں اور مجھے پانی ختم ہوجانے کا اندیشہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اے معاذ) سورت الشمس اور اس جیسی سورتیں نماز میں پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 23009
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى عَلِيِّ بنِ أَبي طَالِب يَوْمَ خَيْبرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔
حدیث نمبر: 23010
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ أَبو تُمَيْلَةَ ، أَخْبرَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابنَ برَيْدَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول : " مَنْ قَالَ : إِنِّي برِيءٌ مِنْ الْإِسْلَامِ ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبا ، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا ، فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی قسم کھائے کہ وہ اسلام سے بری ہے اگر وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہو تو وہ ایسا ہی ہوگا جیسے اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہو تو پھر وہ اسلام کی طرف کبھی بھی صحیح سالم واپس نہیں آئے گا۔
حدیث نمبر: 23011
حَدَّثَنَا أَبو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ ، أَخْبرَنَا حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بعْضِ مَغَازِيهِ ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ تَعَالَى سَالِمًا أَنْ أَضْرِب عَلَى رَأْسِكَ بالدُّفِّ ، فَقَالَ : " إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ ، فَافْعَلِي ، وَإِلَّا فَلَا " ، قَالَتْ : إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ ، قَالَ : فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبتْ بالدُّفِّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں خوشی کے اظہار میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے یہ منت مانی تھی تو اپنی منت پوری کرلو اور اگر نہیں مانی تھی تو نہ کرو چناچہ وہ دف بجانے لگی۔
حدیث نمبر: 23012
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ ، قَالَ : بعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ ، عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بنُ أَبي طَالِب ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ : " إِذَا الْتَقَيْتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ ، وَإِنْ افْتَرَقْتُمَا ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ " ، قَالَ : فَلَقِينَا بنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَاقْتَتَلْنَا ، فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ ، وَسَبيْنَا الذُّرِّيَّةَ ، فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبيِ لِنَفْسِهِ ، قَالَ برَيْدَةُ : فَكَتَب مَعِي خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبرُهُ بذَلِكَ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَفَعْتُ الْكِتَاب ، فَقُرِئَ عَلَيْهِ ، فَرَأَيْتُ الْغَضَب فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ ، بعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ ، فَفَعَلْتُ مَا أُرْسِلْتُ بهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ ، فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بعْدِي ، وَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دو دستے روانہ فرمائے جن میں سے ایک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کرتے ہوئے فرمایا جب تم لوگ اکٹھے ہو تو علی سب کے امیر ہوں گے اور جب جدا ہو تو ہر ایک اپنے دستے کا امیر ہوگا چناچہ ہماری ملاقات اہل یمن میں سے بنو زید سے ہوئی ہم نے ان سے قتال کیا تو مسلمان مشرکین پر غالب آگئے ہم نے لڑنے والوں کو قتل اور بچوں کو قید کرلیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک قیدی عورت اپنے لئے منتخب کرلی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں انہیں اس سے مطلع کیا گیا تھا اور وہ خط مجھے دے کر بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور خط پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خط پڑھ کر سنایا گیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر غصے کے آثار دیکھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں آپ نے مجھے ایک آدمی کے ساتھ بھیجا تھا اور مجھے اس کی اطاعت کا حکم دیا تھا میں نے اس پیغام پر عمل کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم علی کے متعلق کسی غلط فہمی میں نہ پڑنا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارا محبوب ہے (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا)
حدیث نمبر: 23013
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بنُ ثَعْلَبةَ الطَّائِيُّ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبحُ ، أَوْ حِينَ يُمْسِي : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبدُكَ ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَعُوذُ بكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ ، أَبوءُ بنِعْمَتِكَ عَلَيَّ ، وَأَبوءُ بذَنْبي فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوب إِلَّا أَنْتَ ، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ ، أَوْ مِنْ لَيْلَتِهِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص صبح شام کے وقت یوں کہہ لیا کرے کہ اے اللہ تو ہی میرا رب ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور جہاں تک ممکن ہو تجھ سے کئے گئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں میں اپنے گناہوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے اوپر تیرے احسانات کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں پس تو میرے گناہوں کو معاف فرما کیونکہ تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا اور اس دن یا رات کو مرگیا تو جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 23014
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَمَرَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بحُب أَرْبعَةٍ مِنْ أَصْحَابي أَرَى شَرِيكًا ، قَالَ : وَأَخْبرَنِي أَنَّهُ يُحِبهُمْ عَلِيٌّ مِنْهُمْ ، وَأَبو ذَرٍّ ، وَسَلْمَانُ ، وَالْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے چار لوگوں سے محبت کرنے کا مجھے حکم دیا ہے ان میں سے ایک تو علی ہیں دوسرے ابوذر غفاری تیسرے سلمان فارسی اور چوتھے مقداد بن اسود کندی ہیں۔ رضی اللہ عنہ
…