حدیث نمبر: 22935
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بنُ بدْرٍ ، وَالْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ ، وَعَلْقَمَةُ بنُ عُلَاثَةَ ، فَذَكَرُوا الْجُدُودَ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتُمْ أَخْبرْتُكُمْ ، جَدُّ بنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ ، قَالَ وَأَحْسِبهُ قَالَ : فِي رَوْضَةٍ ، وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشَّاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا " ، قَالَ : فَقَالَ الْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ : فَأَيْنَ جَدُّ بنِي تَمِيمٍ ؟ قَالَ : " لَوْ سَكَتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عیینہ بن بدر اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ جمع تھے یہ لوگ دادوں کا تذکرہ کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ خاموشی اختیار کرو تو میں تمہیں ان کی حقیقت بتاتا ہوں بنو عامر کا جد امجد تو اس سرخ یا گندمی اونٹ کی طرح ہے جو کسی باغ میں مختلف درختوں کے پتے کھا رہا ہو بنو غطفان کا جد امجد اس کھر درے ٹیلے کی طرح ہے جو لوگوں کو اپنے سے دور رکھتا ہے اس پر اقرع بن حابس نے کہا کہ بنو تمیم کا جد امجد کہاں گیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش ! تم خاموش رہ سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22936
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ ، أَخْبرَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءٍ وَمَعَهُ أَبو بكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَتَحَرَّكَ الْجَبلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اثْبتْ حِرَاءُ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبيٌّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حراء پہاڑ لرزنے لگا جس پر اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان غنی رضی اللہ عنہ موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حراء تھم جا تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں کے علاوہ کوئی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22937
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابنَ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْعَهْدُ الَّذِي بيْنَنَا وَبيْنَهُمْ الصَّلَاةُ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے لہٰذا جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22938
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ وَاصِلِ بنِ حِيانَ الْبجَلِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " الْكَمْأَةُ دَوَاءُ الْعَيْنِ ، وَإِنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ هَذِهِ الْحَبةَ السَّوْدَاءَ ، قَالَ ابنُ برَيْدَةَ : يَعْنِي الشُّونِيزَ الَّذِي يَكُونُ فِي الْمِلْحِ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ ، إِلَّا الْمَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھنبی آنکھوں کے لئے علاج ہے عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہو موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، واصل بن حيان غلط فى اسمه زهير، والصواب: صالح بن حيان، وهذا ضعيف
حدیث نمبر: 22939
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ : سَيِّدَنَا ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ ، فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا منافق کو اپنا آقا اور سردار مت کہا کرو کیونکہ اگر وہی تمہارا آقا ہو تو تم اپنے رب کو ناراض کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 22940
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ، مِنْهُمْ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ " ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : " أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22941
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبي عَلَى مُعَاوِيَةَ ، فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ ، ثُمَّ أُتِينَا بالطَّعَامِ ، فَأَكَلْنَا ، ثُمَّ أُتِينَا بالشَّرَاب ، فَشَرِب مُعَاوِيَةُ ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبي ، ثُمَّ قَالَ : " مَا شَرِبتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، ثم قَالَ مُعَاوِيَةُ : كُنْتُ أَجْمَلَ شَباب قُرَيْشٍ ، وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا ، وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَاب غَيْرُ اللَّبنِ ، أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے ہمیں بستر پر بٹھایا پھر کھانا پیش کیا جو ہم نے کھایا پھر پینے کی لئے (نبیذ) لائی گئی جسے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نوش فرمایا پھر میرے والد کو اس کا برتن پکڑا دیا تو وہ کہنے لگے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے میں نے اسے نہیں پیا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں قریش کا خوبصورت ترین نوجوان تھا اور سب سے زیادہ عمدہ دانتوں والا تھا مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسانوں کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22941
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22942
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : مَاعِزُ بنُ مَالِكٍ ، فَقَالَ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ " ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا ، فَاعْترَفَ عِنْدَهُ بالزِّنَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ " ، ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : " مَا تَعْلَمُونَ مِنْ مَاعِزِ بنِ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ ؟ هَلْ تَرَوْنَ بهِ بأْسًا ، أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئَا ؟ " ، قَالُوا : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، مَا نَرَى بهِ بأْسًا ، وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ عَادَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بالزِّنَا أَيْضًا ، فَقَالَ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، فَأَرْسَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ أَيْضًا ، فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ ، فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا لَهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى : مَا نَرَى بهِ بأْسًا ، وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّابعَةَ أَيْضًا ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بالزِّنَا ، فَأَمَرَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةً ، فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ ، وَقَالَ برَيْدَةُ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيْنَنَا أَنَّ مَاعِزَ بنَ مَالِكٍ لَوْ جَلَسَ فِي رَحْلِهِ بعْدَ اعْتِرَافِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، لَمْ يَطْلُبهُ ، وَإِنَّمَا رَجَمَهُ عِنْدَ الرَّابعَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ماعز بن مالک نامی ایک آدمی آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس چلے جاؤ اگلے دن وہ دوبارہ حاضر ہوا اور دوبارہ بدکاری کا اعتراف کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ واپس بھیج دیا پھر ایک آدمی کو اس کی قوم میں بھیج کر ان سے پوچھا کہ تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے متعلق کیا جانتے ہو ؟ کیا تم اس میں کوئی نامناسب چیز دیکھتے ہو یا اس کی عقل میں کچھ نقص محسوس ہوتا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم اس میں کوئی نامناسب بات نہیں دیکھتے اور اس کی عقل میں کوئی نقص بھی محسوس نہیں کرتے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پھر بدکاری کا اعتراف کیا اور کہا کہ اے اللہ کے نبی ! مجھے پاک کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس کی قوم کی طرف ایک آدمی کو وہی سوال دے کر بھیجا تو انہوں نے حسب سابق جواب دہرایا پھر جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کے لئے ایک گڑھا کھود دیا گیا اور اسے سینے تک اس گڑھے میں اتار دیا گیا پھر لوگوں کو اس پر پتھرم ارنے کا حکم دیا۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین مرتبہ اعتراف کرنے کے بعد بھی اپنے گھر میں بیٹھ جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش نہ کرواتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ اعتراف کے بعد ہی انہیں رجم فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22942
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1695، وقول بريدة الذى فى آخر الحديث تفرد به بشير بن المهاجر، وهو مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب، لكن يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22943
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا أَبو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ حَارِثِ بنِ حَصِيرَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، فَإِذَا رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ برَيْدَةُ : يَا مُعَاوِيَةُ ، فَائْذَنْ لِي فِي الْكَلَامِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَتَكَلَّمُ بمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ ، فَقَالَ برَيْدَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَشْفَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدَدَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ وَمَدَرَةٍ " ، قَالَ : أَفَتَرْجُوهَا أَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ ، وَلَا يَرْجُوهَا عَلِيُّ بنُ أَبي طَالِب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ !.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہاں ایک آدمی بات کر رہا تھا حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا معاویہ ! کیا آپ مجھے بولنے کی اجازت دیتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں ! ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بھی پہلے آدمی کی طرح کوئی بات کریں گے لیکن حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میں اتنے لوگوں کی سفارش کروں گا جتنے زمین پر درخت اور مٹی ہے اے معاویہ ! تم اس شفاعت کی امید رکھ سکتے ہو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی امید نہیں رکھ سکتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى إسرئيل
حدیث نمبر: 22944
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ وَهُوَ أَبو سَلَمَةَ , أَخْبرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ أَحْمَرَ اسْمُهُ جِبرِيلُ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ ، فَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا ، الْتَمِسُوا لَهُ ذَا رَحِمٍ " ، قَالَ : فَلَمْ يُوجَدْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْفَعُوهُ إِلَى أَكْبرِ خُزَاعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ازد کا ایک آدمی فوت ہوگیا اور پیچھے کوئی وارث چھوڑ کر نہیں گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا کوئی وارث تلاش کرو اس کا کوئی قریبی رشتہ دار تلاش کرو لیکن تلاش کے باوجود کوئی نہ مل سکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا مال خزاعہ کے سب سے بڑے آدمی کو دے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف والحديث منكر من أجل أبى بكر بن أحمر، وشريك سيء الحفظ، لكنه توبع إلا فى قوله: التمسوا له ذا رحم
حدیث نمبر: 22945
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ أَبي غَنِيَّةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ جُبيْرٍ ، عَنِ ابنِ عَباسٍ ، عَنْ برَيْدَةَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ عَلِيًّا ، فَتَنَقَّصْتُهُ ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ ، فَقَالَ : " يَا برَيْدَةُ ، أَلَسْتُ أَوْلَى بالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " ، قُلْتُ : بلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں یمن میں جہاد کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا مجھے ان کی طرف سے سختی کا سامنا ہوا لہٰذا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں کوتاہی کی میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بریدہ ! کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جس کا محبوب ہوں تو علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22946
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةً ، سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا ، فَإِنْ كَانَ حَسَنًا رُئِيَ الْبشْرُ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَانَ قَبيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، وَكَانَ إِذَا بعَثَ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ ، فَإِنْ كَانَ حَسَنَ الِاسْمِ رُئِيَ الْبشْرُ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَانَ قَبيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے شگون بد نہیں لیتے تھے البتہ جب کسی علاقے میں جانے کا ارادہ فرماتے تو پہلے اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر بشاشت کے اثرات دیکھے جاسکتے تھے اور اگر اس اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کے اثرات بھی چہرہ مبارک پر نظر آجاتے تھے اسی طرح جب کسی آدمی کو کہیں بھیجتے تھے تو پہلے اس کا نام پوچھتے تھے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو بشاشت کے اثرات روئے مبارک پر دیکھے جاسکتے تھے اور اگر نام برا ہوتا تو اس کے اثرات بھی نظر آجاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، لا يعرف سماع قتادة من ابن بريدة
حدیث نمبر: 22947
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ جَمِيعًا ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبقُنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے اور قیامت کو ایک ساتھ بھیجا گیا ہے قریب تھا کہ وہ مجھ سے پہلے آجاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 22948
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَنَادَى ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تَدْرُونَ مَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مَثَلُ قَوْمٍ خَافُوا عَدُوًّا يَأْتِيهِمْ ، فَبعَثُوا رَجُلًا يَتَرَاءى لَهُمْ ، فَبيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ ، أَبصَرَ الْعَدُوَّ ، فَأَقْبلَ لِيُنْذِرَهُمْ ، وَخَشِيَ أَنْ يُدْرِكَهُ الْعَدُوُّ قَبلَ أَنْ يُنْذِرَ قَوْمَهُ ، فَأَهْوَى بثَوْبهِ : أَيُّهَا النَّاسُ أُتِيتُمْ ، أَيُّهَا النَّاسُ أُتِيتُمْ " ، ثَلَاثَ مِرَارٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور تین مرتبہ پکار کر فرمایا لوگو ! کیا تم جانتے ہو کہ میری اور تمہاری کیا مثال ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں فرمایا کہ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے ہر اول کے طور پر بھیجا ہو جب اسے اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے آگے بڑھ جائے گا تو وہ اپنے کپڑے ہلا ہلا کر لوگوں کو خبردار کرے کہ تم پر دشمن آپہنچا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آدمی میں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 22949
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ ، فَقَالَتْ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعِي " ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا ، فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بالزِّنَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعِي " ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا ، فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بالزِّنَا ، فَقَالَتْ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بنَ مَالِكٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبلَى ، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي " ، فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بالصَّبيِّ تَحْمِلُهُ ، فَقَالَتْ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، هَذَا قَدْ وَلَدْتُ ، قَالَ : " فَاذْهَبي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ " ، فَلَمَّا فَطَمَتْهُ ، جَاءَتْ بالصَّبيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبزٍ ، قَالَتْ : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ ، فَأَمَرَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالصَّبيِّ فَدَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَرَ بهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ ، فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا ، فَأَقْبلَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ بحَجَرٍ ، فَرَمَى رَأْسَهَا ، فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبهَا ، فَسَمِعَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبهُ إِيَّاهَا ، فَقَالَ : " مَهْلًا يَا خَالِدُ بنَ الْوَلِيدِ ، لَا تَسُبهَا ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ لَقَدْ تَابتْ تَوْبةً لَوْ تَابهَا صَاحِب مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ " ، فَأَمَرَ بهَا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَدُفِنَتْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ " غامد " سے ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی ! مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا ہے چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بھیج دیا اگلے دن وہ پھر آگئی اور دوبارہ اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگی کہ شاید آپ مجھے بھی ماعز کی طرح واپس بھیجنا چاہتے ہیں واللہ میں تو " امید " سے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس چلی جاؤ یہاں تک کہ بچہ پیدا ہوجائے چنانچہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہوچکا تو وہ بچے کو اٹھائے ہوئے پھر آگئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی ! یہ بچہ پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ چنانچہ جب اس نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا تو وہ بچے کو لے کر آئی اس وقت بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی اے اللہ کے نبی ! میں نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بچہ ایک مسلمان کے حوالے کردیا اور اس عورت کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دے دیا پھر اسے سینے تک اس میں اتارا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس پر پتھر مارنے کا حکم دیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا اس سے خون نکل کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے رخسار پر گرا انہوں نے اسے سخت سست کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا رکو خالد ! اسے برا بھلا مت کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصولی میں ظلم کرنے والا کرلے تو اس کی بھی بخشش ہوجائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقصة سب خالد بن الوليد الغامدية، وقصة انتظار الفطام للرجم تفرد بهما بشير فى حديث بريدة وهو مختلف فيه
حدیث نمبر: 22950
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " تَعَلَّمُوا سُورَةَ ، فَإِنَّ أَخْذَهَا برَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبطَلَةُ " ، قَالَ : ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " تَعَلَّمُوا سُورَةَ عِمْرَانَ ، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ غَيَايَتَانِ ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِب ، فَيَقُولُ لَهُ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : مَا أَعْرِفُكَ ، فَيَقُولُ : أَنَا صَاحِبكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ ، فَيُعْطَى الْمُلْكَ بيَمِينِهِ ، وَالْخُلْدَ بشِمَالِهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا أَهْلُ الدُّنْيَا ، فَيَقُولَانِ : بمَ كُسِينَا هَذِهِ ؟ فَيُقَالُ : بأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : اقْرَأْ ، وَاصْعَدْ فِي دَرَجَةِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا ، فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ ، هَذًّا كَانَ ، أَوْ تَرْتِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران دونوں کو سیکھو کیونکہ یہ دونوں روشن سورتیں اپنے پڑھنے والوں پر قیامت کے دن بادلوں سائبانوں یا پرندوں کی دو ٹولیوں کی صورت میں سایہ کریں گی اور قیامت کے دن جب انسان کی قبر شق ہوگی تو قرآن اپنے پڑھنے والے سے " جو لاغر آدمی کی طرح ہوگا ملے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ وہ کہے گا کہ میں تمہیں نہیں پہچانتا، قرآن کہے گا کہ میں تمہارا وہی ساتھی قرآن ہوں جس نے تمہیں سخت گرم دو پہروں میں پیاسا رکھا اور راتوں کو جگایا ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہوتا ہے آج بھی اپنی تجارت کے پیچھے ہوگے چنانچہ اس کے دائیں ہاتھ میں حکومت اور بائیں ہاتھ میں دوام دے دیا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھاجائے گا اور اس کے والدین کو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے جن کی قیمت ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی ادا نہ کرسکیں گے اس کے والدین پوچھیں گے کہ ہمیں یہ لباس کس بنا پر پہنایا جا رہا ہے ؟ تو جواب دیا جائے گا کہ تمہارے بچے کے قرآن حاصل کرنے کی برکت سے پھر اس سے کہا جائے کا کہ قرآن پڑھنا اور جنت کے درجات اور بالاخانوں پر چڑھنا شروع کردو چنانچہ جب تک وہ پڑھتا رہے گا چڑھتا رہے گا خواہ تیزی کے ساتھ پڑھے یا ٹھہر ٹھہر کر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 22951
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ مُهَاجِرٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي يَسُوقُهَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْأَوْجُهِ ، صِغَارُ الْأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْحَجَفُ ، ثَلَاثَ مِرَارٍ حَتَّى يُلْحِقُوهُمْ بجَزِيرَةِ الْعَرَب ، أَمَّا السَّائقَةُ الْأُولَى ، فَيَنْجُو مَنْ هَرَب مِنْهُمْ ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ ، فَيَهْلِكُ بعْضٌ ، وَيَنْجُو بعْضٌ ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ ، فَيُصْطَلُونَ كُلُّهُمْ مَنْ بقِيَ مِنْهُمْ " ، قَالُوا : يَا نَبيَّ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمْ التُّرْكُ ، قَالَ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ لَيَرْبطُنَّ خُيُولَهُمْ إِلَى سَوَارِي مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ " ، قَالَ : وَكَانَ برَيْدَةُ لَا يُفَارِقُهُ بعِيرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ ، وَمَتَاعُ السَّفَرِ وَالْأَسْقِيَةُ ، يُعْدَ ذَلِكَ لِلْهَرَب مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبلَاءِ مِنْ أُمَرَاءِ التُّرْكِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کو چوڑے چہروں اور چھوٹی آنکھوں والی ایک قوم ہانک دے گی جس کے چہرے ڈھال کی طرح ہوں گے (تین مرتبہ فرمایا) حتیٰ کہ وہ انہیں جزیرہ عرب میں پہنچا دیں گے۔ سابقہ اولیٰ کے وقت تو جو لوگ بھاگ جائیں گے وہ بچ جائیں گے سابقہ ثانیہ کے وقت کچھ لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور کچھ بچ جائیں گے اور سابقہ ثالثہ کے وقت بچ جانے والے تمام افراد کھیت ہو رہیں گے لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے نبی وہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ترکی کے لوگ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ اپنے گھوڑوں کو مسلمانوں کی مسجدوں کے ستونوں سے ضرور باندھیں گے ترکوں کے اس آزمائشی فتنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سننے کے بعد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے ساتھ دو تین اونٹ سامان سفر اور مشکیزے تیار رکھتے تھے تاکہ فوری طور پر وہاں سے روانہ ہوسکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لتفرد بشير
حدیث نمبر: 22952
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بنُ عُمَرَ ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : خَرَجَ برَيْدَةُ عِشَاءً ، فَلَقِيَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا صَوْتُ رَجُلٍ يَقْرَأُ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُرَاهُ مُرَائِيًا ؟ " ، فَأَسْكَتَ برَيْدَةُ ، فَإِذَا رَجُلٌ يَدْعُو ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ ، أو قال : والذي نفس محمد بيده ، لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ باسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بهِ أَعْطَى ، وَإِذَا دُعِيَ بهِ أَجَاب " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابلَةِ خَرَجَ برَيْدَةُ عِشَاءً ، فَلَقِيَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا صَوْتُ الرَّجُلِ يَقْرَأُ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَقُولُهُ مُرَائيًا ؟ " ، فَقَالَ برَيْدَةُ : أَتَقُولُهُ مُرائيًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، بلْ مُؤْمِنٌ مُنِيب ، لَا ، بلْ مُؤْمِنٌ مُنِيب " ، فَإِذَا الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ بصَوْتٍ لَهُ فِي جَانِب الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْأَشْعَرِيَّ ، أَوْ إِنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ قَيْسٍ ، أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ " ، فَقُلْتُ : أَلَا أُخْبرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بلَى ، فَأَخْبرْهُ " ، فَأَخْبرْتُهُ ، فَقَالَ : أَنْتَ لِي صَدِيقٌ ، أَخْبرْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رات کو نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں داخل ہوگئے اچانک اس آدمی کی تلاوت قرآن کی آواز آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو ؟ بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔ اگلی رات حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ پھر عشاء کے بعد نکلے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر مسجد میں داخل ہوگئے اور اسی طرح ایک آدمی کے قرآن پڑھنے کی آواز آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو ؟ بریدہ رضی اللہ عنہ نے عرض یا رسول اللہ ! کیا آپ اسے ریاکار سمجھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا نہیں بلکہ یہ رجوع کرنے والا اور مومن ہے یہ آواز حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تھی جو مسجد کے ایک کونے میں قرآن پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اشعری کو حضرت داؤد علیہ السلام کے خوبصورت لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں یہ بات بتا نہ دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں بتادو چنانچہ میں نے انہیں یہ بات بتادی وہ کہنے لگے کہ آپ میرے دوست ہیں کہ آپ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بتائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 793
حدیث نمبر: 22953
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ أَنَّ أَباهُ " غَزَا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سولہ غزوات میں شرکت کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4473 ، م: 1814، وهذا إسناد ضعيف، سمع يزيد من الجريري بعد اختلاطه ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22954
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : " غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سولہ غزوات میں شرکت کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4473، م: 1814
حدیث نمبر: 22955
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ " ، فَأَمَرَ بلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِب حِينَ غَاب حَاجِب الشَّمْسِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ غَاب الشَّفَقُ ، فَأَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ ، فَأَقَامَ الْفَجْرَ ، فَأَسْفَرَ بهَا ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَبرَدَ بالظُّهْرِ ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبرِدَ بهَا ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بيْضَاءُ ، أَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ ، أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِب قَبلَ أَنْ يَغِيب الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَب ثُلُثُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ؟ " ، قَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بيْنَ مَا رَأَيْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اوقات نماز کے حوالے سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب طلوع فجر ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب زوال شمس ہوگیا اور کوئی کہتا تھا کہ آدھا دن ہوگیا کوئی کہتا تھا نہیں ہوا لیکن وہ زیادہ جانتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عصر کی اقامت اس وقت کہی جب سورج روشن تھا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے مغرب کی اقامت اس وقت کہی جب سورج غروب ہوگیا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غروب ہوگئی پھر اگلے دن فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ کہنے لگے کہ سورج طلوع ہونے ہی والا ہے ظہر کو اتنا مؤخر کیا کہ وہ گزشتہ دن کی عصر کے قریب ہوگئی عصر کو اتنا مؤخر کیا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگ کہنے لگے کہ سورج سرخ ہوگیا ہے مغرب کو سقوط شفق تک مؤخر کردیا اور عشاء کو رات کی پہلی تہائی تک مؤخر کردیا پھر سائل کو بلا کر فرمایا کہ نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 613
حدیث نمبر: 22956
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ أَبي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ ، فَمَاتَتْ ، وَإِنَّهَا رَجَعَتْ إِلَيَّ فِي الْمِيرَاثِ ، قَالَ : " قد آجَرَكِ اللَّهُ ، وَرَدَّ عَلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ " ، قَالَتْ : فَإِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ ، فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَتْ : فَإِنَّ أُمِّي كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا ، قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی اس نے کہا کہ میری والدہ حج کئے بغیر ہی فوت ہوگئی ہیں کیا میرا ان کی طرف سے حج کرنا ان کی لئے کفایت کرسکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ میری والدہ کے ذمے ایک ماہ کے روزے بھی فرض تھے کیا میرا ان کی طرف سے سے روزے رکھنا ان کے لئے کفایت کرسکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1149، غير أن قوله فيه: سليمان بن بريدة، وهم، والصواب: عبدالله ابن بريدة
حدیث نمبر: 22957
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ برَيْدَةَ فِي غَزَاةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ ، فَقَالَ : بكِّرُوا بالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَبطَ عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو ملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 22958
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابنَ مُرَّةَ أَبو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ ، فَزُورُوهَا ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ ، فَأَمْسِكُوهَا مَا بدَا لَكُمْ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ ، فَاشْرَبوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا ، وَلَا تَشْرَبوا مُسْكِرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 977
حدیث نمبر: 22959
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحٍ ، عَنْ برَيْدَةَ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَقَدْ حَبطَ عَمَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 22960
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، قَالَ : بيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بالْأَهْوَازِ ، إِذَا أَنَا برَجُلٍ يَسِيرُ بيْنَ يَدَيَّ عَلَى بغْلٍ ، أَوْ بغْلَةٍ ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ ذَهَب قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، فَأَلْحِقْنِي بهِمْ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ ، قَالَ : وَصَاحِبي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، قَالَ : وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ ، أَمْ لَا ، ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ ، يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ ، وَلَا يَسْأَلُونَهَا " ، قَالَ : وَإِذَا هُوَ برَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چل رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے وہ صحابی حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 22961
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : بعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا ، قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَحَابةَ صَاحِبكُمْ ؟ " ، قَالَ : فَإِمَّا شَكَوْتُهُ ، أَوْ شَكَاهُ غَيْرِي ، قَالَ : فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبابا ، قَالَ : فَإِذَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، قَالَ : وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں یمن میں جہاد کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا مجھے ان کی طرف سے سختی کا سامنا ہوا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں کوتاہی کی میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بریدہ ! کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جس کا محبوب ہوں، تو علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22962
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ أَبو مُعَاوِيَةَ : وَلَا أُرَاهُ سَمِعَهُ مِنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُخْرِجُ رَجُلٌ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَةِ حَتَّى يَفُكَّ عَنْهَا لَحْيَيْ سَبعِينَ شَيْطَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جو بھی صدقہ نکالتا ہے وہ اسے ستر شیطانوں کے جبڑوں سے چھڑا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده منقطع، الأعمش لم يسمع من ابن بريدة
حدیث نمبر: 22963
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَةٍ ، فَإِذَا أَنَا بالنَّبيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَمْشِي بيْنَ يَدَيَّ ، فَأَخَذَ بيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا ، فَإِذَا نَحْنُ بيْنَ أَيْدِينَا برَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُرَاهُ يُرَائِي ؟ " ، فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَتَرَكَ يَدِي مِنْ يَدِهِ ، ثُمَّ جَمَعَ بيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يُصَوِّبهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا ، وَيَقُولُ : " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک دن میں ٹہلتا ہوا نکلا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جانب چہرے کا رخ کیا ہوا ہے میں سمجھا کہ شاید قضاء حاجت کے لئے جا رہے ہیں اس لئے میں ایک طرف کو ہو کر نکلنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف اشارہ کیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم دونوں ایک طرف چلنے لگے اچانک ہم ایک آدمی کے قریب پہنچے جو نماز پڑھ رہا تھا اور کثرت سے رکوع و سجود کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ کر دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کیا اور کندھوں کے برابر اٹھانے اور نیچے کرنے لگے اور تین مرتبہ فرمایا اپنے اوپر درمیانہ راستہ لازم کرلو کیونکہ جو شخص دین کے معاملہ میں سختی کرتا ہے وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22964
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَمُوتُ بعَرَقِ الْجَبينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: انظر: 23022, 23047
حدیث نمبر: 22965
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بنِ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، فَقَالَ : " قَدْ سَأَلَ اللَّهَ باسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بهِ أَعْطَى ، وَإِذَا دُعِيَ بهِ أَجَاب " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رات کو نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں داخل ہوگئے اچانک اس آدمی کی تلاوت قرآن کی آواز آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو ؟ بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22966
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بوُضُوءٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ ! قَالَ : " عَمْدًا صَنَعْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 22967
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَلِيلِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا أَبو مِجْلَزٍ ، وَابنُ برَيْدَةَ ، فَقَالَ عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ : حَدَّثَنِي أَبي برَيْدَةُ ، قَالَ : أَبغَضْتُ عَلِيًّا بغْضًا لَمْ يُبغَضْهُ أَحَدٌ قَطُّ ، قَالَ : وَأَحْببتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبهُ إِلَّا عَلَى بغْضِهِ عَلِيًّا ، قَالَ : فَبعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى خَيْلٍ ، فَصَحِبتُهُ مَا أَصْحَبهُ إِلَّا عَلَى بغْضِهِ عَلِيًّا ، قَالَ : فَأَصَبنَا سَبيًا ، قَالَ : فَكَتَب إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ ، قَالَ : فَبعَثَ إِلَيْنَا عَلِيًّا ، وَفِي السَّبيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ مِنَ السَّبيِ ، فَخَمَّسَ وَقَسَمَ ، فَخَرَجَ رَأْسُهُ مُغَطًّى ، فَقُلْنَا : يَا أَبا الْحَسَنِ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبيِ ؟ فَإِنِّي قد قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ ، فَصَارَتْ فِي الْخُمُسِ ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بيْتِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ ، وَوَقَعْتُ بهَا ، قَالَ : فَكَتَب الرَّجُلُ إِلَى نَبيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : ابعَثْنِي ، فَبعَثَنِي مُصَدِّقًا ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَاب وَأَقُولُ : صَدَقَ ، قَالَ : فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَاب ، وَقَالَ : " أَتُبغِضُ عَلِيًّا " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلَا تَبغَضْهُ ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبا ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بيَدِهِ ، لَنَصِيب آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ " ، قَال : فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَب إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ ، قَالَ عَبدُ اللَّهِ : فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، مَا بيْنِي وَبيْنَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ أَبي برَيْدَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اتنی نفرت تھی کہ کسی سے اتنی نفرت کبھی نہیں رہی تھی اور صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نفرت کی وجہ سے میں قریش کے ایک آدمی سے محبت رکھتا تھا ایک مرتبہ اس شخص کو چند شہسواروں کا سردار بنا کر بھیجا گیا تو میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا اور صرف اس بنیاد پر کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نفرت کرتا تھا ہم لوگوں نے کچھ قیدی پکڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خط لکھا کہ ہمارے پاس کسی آدمی کو بھیج دیں جو مال غنیمت کا خمس وصول کرلے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیج دیا۔ ان قیدیوں میں " وصیفہ " بھی تھی جو قیدیوں میں سب سے عمدہ خاتون تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس وصول کیا اور اسے تقسیم کردیا پھر وہ باہر آئے تو ان کا سر ڈھکا ہوا تھا ہم نے ان سے پوچھا اے ابوالحسن ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا تم نے وہ " وصیفہ " دیکھی تھی جو قیدیوں میں شامل تھی میں نے خمس وصول کیا تو وہ خمس میں شامل تھی پھر وہ اہل بیت نبوت میں آگئی اور وہاں سے آل علی میں آگئی اور میں نے اس سے مجامعت کی ہے اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھ کر اس صورت حال سے آگاہ کیا میں نے اس سے کہا یہ خط میرے ہاتھ بھیجو چنانچہ اس نے مجھے اپنی تصدیق کرنے کے لئے بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر خط پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ انہوں نے سچ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خط پر سے میرے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے چنانچہ اس فرمان کے بعد میری نظروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22968
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، حَدَّثَنَا أَبو رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِب مِنْ أَصْحَابي أَرْبعَةً ، أَخْبرَنِي أَنَّهُ يُحِبهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُحِبهُمْ " ، قَالُوا : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ ، وَأَبو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، وَالْمِقْدَادُ بنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے چار لوگوں سے محبت کرتا ہے اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے اور مجھے بھی ان سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے سے ایک تو علی ہیں دوسرے ابوذر غفاری تیسرے سلمان فارسی اور چوتھے مقداد بن اسود کندی ہیں۔ رضی اللہ عنہ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى ربيعة وشريك
حدیث نمبر: 22969
حدثنا ابن نمير , حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ بن قیس اشعری کو آل داؤد کے لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 793
حدیث نمبر: 22970
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي دَاوُدَ , عَنْ برَيْدَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، كَانَ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ ، وَمَنْ أَنْظَرَهُ بعْدَ حِلِّهِ ، كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی تنگدست (مقروض) کو مہلت دیدے تو اسے روزانہ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص وقت مقررہ گذرنے کے بعد اسے مہلت دے دے تو اسے روزانہ اتنی ہی مقدار (جو اس نے قرض میں دے رکھی ہے) صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل أبى داود الأعمى، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 22971
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ ، قَالَ : " آجَرَكِ اللَّهُ ، وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1149
حدیث نمبر: 22972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ يَعْنِي ابنَ حَيَّانَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَيْنِ وَأَرْبعِينَ مِنْ أَصْحَابهِ ، وَالنَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْمَقَامِ ، وَهُمْ خَلْفَهُ جُلُوسٌ يَنْتَظِرُونَهُ ، فَلَمَّا صَلَّى ، أَهْوَى فِيمَا بيْنَهُ وَبيْنَ الْكَعْبةِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابهِ ، فَثَارُوا ، وَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بيَدِهِ أَنْ اجْلِسُوا ، فَجَلَسُوا ، فَقَالَ : " رَأَيْتُمُونِي حِينَ فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي أَهْوَيْتُ فِيمَا بيْنِي وَبيْنَ الْكَعْبةِ كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ عُرِضَتْ عَلَيَّ ، فَلَمْ أَرَ مِثْلَ مَا فِيهَا ، وَإِنَّهَا مَرَّتْ بي خَصْلَةٌ مِنْ عِنَب ، فَأَعْجَبتْنِي ، فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا لِآخُذَهَا ، فَسَبقَتْنِي ، وَلَوْ أَخَذْتُهَا ، لَغَرَسْتُهَا بيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ حَتَّى تَأْكُلُوا مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْكَمْأَةَ دَوَاءُ الْعَيْنِ ، وَأَنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ هَذِهِ الْحَبةَ السَّوْدَاءَ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمِلْحِ اعْلَمُوا أَنَّهَا دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ ، إِلَّا الْمَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ٢٤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھ رہے تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے بیٹھے انتظار کر رہے تھے نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کی جانب اس طرح بڑھے جیسے کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں پھر واپس آئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دست مبارک سے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ لوگ بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے مجھے نماز سے فارغ ہو کر خانہ کعبہ کی طرف اس طرح بڑھتے ہوئے دیکھا تھا جیسے کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا جس کی نعمتوں جیسی کوئی چیز میں نے کبھی نہیں دیکھی میرے سامنے سے انگوروں کا ایک خوشہ گذرا جو مجھے اچھا لگا میں اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو وہ مجھ سے آگے نکل گیا اگر میں اسے پکڑ لیتا تو اسے تمہارے سامنے گاڑ دیتا تاکہ تم جنت کے میوے کھاتے اور جان رکھو کہ کھنبی آنکھوں کا علاج ہے اور عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہوتی ہے موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، صالح بن حيان ضعيف، ولبعضه شواهد يصح بها
حدیث نمبر: 22973
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ ، تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ ! قَالَ : " عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 22974
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنْ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى ، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وشريك