حدیث نمبر: 22786
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَلِي أُمُورَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ ، وَيُنَكِّرُونَكُمْ مَا تَعْرِفُونَ ، فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَعَالَى ، فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو گے اور ایسے کاموں کو ناپسند کریں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہوگے سو جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت ضروری نہیں اور تم اپنے رب سے نہ ہٹنا۔
حدیث نمبر: 22787
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنِ ابْنِ أُخْتِ عُبَادَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يُؤَخِّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ أَدْرَكْتُ مَعَهُمْ أُصَلِّي ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔
حدیث نمبر: 22788
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ غَزَا ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا ، فَلَهُ مَا نَوَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے لیکن اس کی نیت اس جہاد سے ایک رسی حاصل کرنا ہو تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔
حدیث نمبر: 22789
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ مَكِّيٌّ ، وَأَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ أَبِي إِهَابٍ ، وَكَانَتْ لَهُمْ ، فَرَآنِي عُبَادَةُ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ ، فَانْتَزَعَهُ مِنِّي وَأَرْسَلَهُ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ " , وَكَانَ عُبَادَةُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عباد زرقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ بئر اہاب نامی اپنے کنویں پر چڑیوں کا شکار کر رہے تھے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ کرلیا، اس وقت میں نے کچھ چڑیاں پکڑ رکھی تھیں انہوں نے وہ میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیں اور فرمایا بیٹا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں کناروں کی درمیانی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو قرار دیا تھا۔
حدیث نمبر: 22790
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُنِيبٍ الشَّامِيُّ ، عَنْ أَبِي عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وحَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَوْ حُدِّثْتُ عَنْهُ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَيَبِيتَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَهْوٍ ، فَيُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ بِاسْتِحْلَالِهِمْ الْمَحَارِمَ ، اتِّخَاذِهْمُ الْقَيْنَاتِ ، وَشُرْبِهِمْ الْخَمْرَ ، وَأَكْلِهِمْ الرِّبَا ، وَلُبْسِهِمْ الْحَرِيرَ " .
مولانا ظفر اقبال
مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میری امت کا ایک گر وہ رات بھر کھانے پینے اور لہو ولعب میں مصروف رہے گا جب صبح ہوگی تو ان کی شکلیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل چکی ہوں گی کیونکہ وہ شراب کو حلال سمجھتے ہوں گے دف (آلات موسیقی) بجاتے ہوں گے اور گانے والی عورتیں (گلوکارائیں) بنا رکھی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 22791
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الشَّهْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ ، وَمِنْ سُوءِ الْحَشْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو اللہ اکبر الحمد للہ اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہہ کر یہ دعاء فرماتے تھے، اے اللہ ! میں تجھ سے اس مہینے کا خیر کا سوال کرتا ہوں اور تقدیر کے برے فیصلوں اور برے انجام سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 22792
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ جُرِحَ فِي جَسَدِهِ جِرَاحَةً فَتَصَدَّقَ بِهَا ، كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ بِمِثْلِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگ جائے اور وہ صدقہ خیرات کر دے تو اس صدقے کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 22793
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ , وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ ، فَيَبْقَى رَجُلَانِ ، فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَعَالَى : رُدُّوهُ ، فَيَرُدُّوهُ ، قَالَ لَهُ : لِمَ الْتَفَتَّ ؟ قَالَ : إِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى لَوْ أَنِّي أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَا عِنْدِي شَيْئًا " , قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو دو آدمی رہ جائیں گے ان کے متعلق حکم ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے ان میں سے ایک جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسے واپس لے کر آؤ چنانچہ فرشتے اسے واپس لائیں گے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تو نے پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا ؟ وہ جواب دے گا کہ مجھے امید تھی کہ آپ مجھے جنت میں داخل فرمائیں گے چنانچہ اسے جنت میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ کہتا ہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا دیا ہے کہ اگر میں تمام اہل جنت کو کھانے کی دعوت دوں تو میرے پاس سے کچھ بھی کم نہ ہوگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی یہ بات ذکر فرماتے تھے تو چہرہ مبارک پر بشاشت کے اثرات دکھائی دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 22794
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَصَدَّقَ عَنْ جَسَدِهِ بِشَيْءٍ ، كَفَّرَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگ جائے اور وہ صدقہ خیرات کر دے تو اس صدقے کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 22795
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْكُوفِيُّ الْمَفْلُوجُ وَكَانَ ثِقَةً ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ مِنَ الْمَغْنَمِ ، فَيَقُولُ : " مَا لِي فِيهِ إِلَّا مِثْلُ مَا لِأَحَدِكُمْ مِنْهُ ، إِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ ، فَإِنَّ الْغُلُولَ خِزْيٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ وَمَا فَوْقَ ذَلِكَ ، وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، إِنَّهُ لَيُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ ، وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ ، وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک غزوے میں مال غنیمت کے ایک اونٹ کو بطور سترہ سامنے کھڑے کر کے نماز پڑھائی جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر اس کی اون اپنی دو انگلیوں کے درمیان لے کر فرمایا یہ تمہارا مال غنیمت ہے اور خمس کے علاوہ اس میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارا ہے اور خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی کے پاس سوئی دھاگہ بھی ہو تو وہ لے آئے یا اس سے بڑی اور چھوٹی چیز ہو تو وہ بھی واپس کر دے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت دنیا و آخرت میں خائن کے لئے آگ اور شرمندگی کا سبب ہوگی اور لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کہ خواہ وہ قریب ہوں یا دور اور اللہ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کیا کرو اور سفر و حضر میں اللہ کی حدود قائم رکھا کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔