حدیث نمبر: 22706
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّ رَجُلًا , سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُومُوا نَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقَامُ لِي ، إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ہمارے پاس تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منافق کے متعلق فریاد کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے کھڑا ہونے سے بچا جائے کھڑا ہونا تو اللہ کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبن لهيعة، ولإبهام الراوي عن عبادة
حدیث نمبر: 22707
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَوْصَانِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ , أُوصِيكَ أَنْ تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُؤْمِنْ أَدْخَلَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّارَ قَالَ : وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اكْتُبْ , قَالَ : وَمَا أَكْتُبُ ؟ قَالَ : القَدَرَ , قَالَ : فَاكْتُبْ مَا يَكُونُ ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ولید بن عبادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا میں تمہیں ہر اچھی بری تقدیر پر ایمان لانے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ تم تقدیر پر ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم میں داخل کر دے گا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ چنانچہ اس نے قیامت تک ہونے والے واقعات کو لکھ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 22708
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِيَّ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إِهَابٍ ، وَكَانَتْ لَهُمْ ، قَالَ : فَرَآنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ ، فَيَنْزِعُهُ مِنِّي فَيُرْسِلُهُ ، وَيَقُولُ : أَيْ بُنَيَّ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عباد زرقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ بئر ہاب نامی اپنے کنویں پر چڑیوں کا شکار کر رہے تھے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا، اس وقت میں نے کچھ چڑیاں پکڑ رکھی تھیں انہوں نے وہ میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیں اور فرمایا بیٹا ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں کناروں کی درمیانی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو قرار دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يعلى ابن عبدالرحمن مجهول، وعبدالله بن عباد - وفي مواضع: ابن عبادة - مجهول أيضاً
حدیث نمبر: 22709
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ الْكَاتِبُ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَسْتَحِلَّنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا گروہ شراب کو دوسرا نام دے کر اسے حلال سمجھے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ثابت بن السمط مجهول
حدیث نمبر: 22710
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَرَوْحٌ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالُوا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : أَيْضًا حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرٌ تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ ، إِلَّا الْمَقْتُولُ ، وَقَالَ رَوْحٌ : إِلَّا الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ ، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روئے زمین پر مرنے والا کوئی انسان پروردگار کے یہاں جس کے متعلق اچھا فیصلہ ہو ایسا نہیں ہے جو تمہارے پاس واپس آنے کو اچھا سمجھے سوائے اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والے کے کہ وہ دنیا میں دوبارہ آنے کی تمنا رکھتا ہے تاکہ دوبارہ شہادت حاصل کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22711
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : مَهْلًا لِمَ تَبْكِي ؟ فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ ، وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ ، وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا سَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ ، وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حُرِّمَ عَلَى النَّارِ " , حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ مِثْلَهُ ، قَالَ : " حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ ".
مولانا ظفر اقبال
صنابحی کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے آخری لمحات زندگی تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور رونے لگا اگر سفارش قبول کی گئی تو میں تمہارے حق میں سفارش کروں گا اور جہاں تک میرے بس میں ہوا تمہیں نفع پہنچاؤں گا پھر فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث بھی سنی ہے اور تمہارے لئے اس میں کوئی خیر ہے بخدا ! وہ میں نے تم سے بیان کردی ہے البتہ ایک حدیث ہے جو آج میں تم سے بیان کر رہا ہوں جبکہ میرا احاطہ کرلیا گیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22712
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ مِثْلَهُ قَالَ: " حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22713
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي رَمَضَانَ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَإِنَّهَا فِي وَتْرٍ فِي إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ ، فَمَنْ قَامَهَا ابْتِغَاءَهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، ثُمَّ وُفِّقَتْ لَهُ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے اسے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو کہ وہ اس کی طاق راتوں ٢١، ٢٣، ٣٥، ٢٧، ٢٩ ویں یا آخری رات میں ہوتی ہے اور جو شخص اس رات کو حاصل کرنے کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اور اسے یہ رات مل بھی جائے تو اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: وما تأخره ، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن سلمة لين، وقد توبع، وعبدالله ابن محمد ضعيف، وعمر بن عبدالرحمن مجهول
حدیث نمبر: 22714
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ ، فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی دھاگہ بھی ہو تو واپس کردو اور مال غنیمت میں خیانت سے بچو، کیونکہ یہ قیامت کے دن خائن کے لئے شرمندگی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن الحارث
حدیث نمبر: 22715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ ، أَثَّرَ عَلَيْهِ كَرَبَ لِذَلِكَ ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : " خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ ، الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ ، وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے وقت شدت کی کیفیت ہوتی تھی اور روئے انور کا رنگ بدل جاتا تھا ایک دن وحی نازل ہوئی اور وہ کیفیت دور ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1690
حدیث نمبر: 22716
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَكْرَهِ وَالْمَنْشَطِ ، وَالْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا ، وَأَنْ نُقِيمَ أَلْسُنَنَا بِالْعَدْلِ أَيْنَمَا كُنَّا ، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " , قَالَ عَفَّانُ : أَلْسِنَتَنَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی وسستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22717
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ، وَتَصْدِيقٌ بِهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ , قَالَ : أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : السَّمَاحَةُ وَالصَّبْرُ , قَالَ : أُرِيدُ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : لَا تَتَّهِمِ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي شَيْءٍ قَضَى لَكَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اس کی تصدیق کرنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اس سے نچلے درجے کے متعلق پوچھ رہاہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طبیعت کی نرمی اور صبر کرنا سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں اس سے بھی نچلے درجے کے متعلق پوچھ رہا ہوں فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو فیصلہ فرما لیا ہو اس میں اللہ تعالیٰ کے متعلق برا گمان نہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 22718
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کے پہلو سے ایک بال توڑا اور فرمایا لوگو ! خمس کو نکال کر میرے مال غنیمت میں سے اتنی مقدار بھی حلال ہے اور خمس بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالرحمن بن عياش
حدیث نمبر: 22719
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کیونکہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمعه من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22720
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ أَبُو الْوَلِيدِ بَدْرِيٌّ عَقَبِيٌّ شَجَرِيٌّ وَهُوَ نَقِيبٌ " . حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُقَالُ لَهُ الْمُخْدَجِيُّ ، قَالَ : كَانَ بِالشَّامِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ : الْوَتْرُ وَاجِبٌ , قَالَ : فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَتْرَ وَاجِبٌ ! قَالَ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ ، مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا ، جَاءَ وَلَهُ عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ ضَيَّعَهُنَّ اسْتِخْفَافًا جَاءَ وَلَا عَهْدَ لَهُ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن سعد انصاری کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الولید ہے وہ بدری صحابی ہیں بیعت غقبہ اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے اور نقباء مدینہ میں شامل تھے۔ مخدجی " جن کا تعلق بنو کنانہ سے تھا کہتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری آدمی تھا جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کا یہ کہنا تھا کہ وتر واجب (فرض) ہیں وہ مخدجی ' حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد وتر کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت عبادہ نے فرمایا کہ ابو محمد سے غلطی ہوئی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کردی ہیں جو شخص انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان میں سے کسی چیز کو ضائع نہ کرے اور ان میں کا حق معمولی نہ سمجھے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو انہیں اس طرح ادا نہ کرے تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22721
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ ، فَرُفِعَتْ ، فَقَالَ : " خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ فَرُفِعَتْ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " , حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، وَقَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ الَّتِي تَبْقَى ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھالی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 49
حدیث نمبر: 22722
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ , وَحَجَّاجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6987، م: 2264
حدیث نمبر: 22723
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهذا الحديث من مسند أنس بن مالك
حدیث نمبر: 22724
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ " , حَتَّى خَصَّ الْمِلْحَ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنَّ هَذَا لَا يَقُولُ شَيْئًا لِعُبَادَةَ ، فَقَالَ عُبَادَةُ : إِنِّي وَاللَّهِ لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَكُونَ بِأَرْضٍ يَكُونُ فِيهَا مُعَاوِيَةُ ، أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کے کو چاندی کے بدلے برابر برابر بیچا جائے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ نمک کا بھی تذکرہ فرمایا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے فرمایا وہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہہ سکتے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا ! مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں اس علاقے میں نہ ہوں جہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے اور میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وأشار البخاري إلى انقطاع بين حكيم بن جابر وعبادة
حدیث نمبر: 22725
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا ، وَلَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی و سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سماع عبادة بن الوليد من جده سواء صح أو لم يصح، فقد عرفت الواسطة بينهما
حدیث نمبر: 22726
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَفَلَ فِي الْبَدَاءَةِ الرُّبُعَ ، وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہات میں ایک چوتھائی مال غنیمت انعام میں تقسیم کردیا اور واپسی پر ایک تہائی تقسیم کردیا۔ فائدہ۔ مکمل وضاحت کے لئے حدیث نمبر ٢٣١٤٢ دیکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وإسناد هذا الحديث قد اختلف فيه على عبدالرحمن بن الحارث، وهذا ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 22727
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الْأَوْصَافُ ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ ، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مال غنیمت سے حاصل ہونے والی چاندی کو لوگ وظیفہ کی رقم حاصل ہونے پر موقوف کر کے بیچا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے، کجھور کی کجھور کے بدلے، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1587
حدیث نمبر: 22728
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا ، فَلَهُ مَا نَوَى " , قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے لیکن اس کی نیت اس جہاد سے ایک رسی حاصل کرنا ہو تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن الوليد
حدیث نمبر: 22729
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزَ , قَالَ : جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي كَنِيسَةٍ وَإِمَّا فِي بِيعَةٍ ، فَقَامَ عُبَادَةُ ، فَقَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَقَالَ : أَحَدُهُمَا وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ ، وَقَالَ : أَحَدُهُمَا مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى ، وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ ، يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کسی گرجے یا عبادت خانے میں جمع ہوئے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے، کجھور کی کجھور کے بدلے، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چیز کی اجازت دی ہے کہ سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے ہاتھوں ہاتھ بیچ سکتے ہیں جیسے چاہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عبيد مجهول، ومسلم بن يسار لم يسمع هذا الحديث من عبادة
حدیث نمبر: 22730
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ ، الثَّيِّبُ يُجْلَدُ وَيُرْجَمُ ، وَالْبِكْرُ يُجْلَدُ وَيُنْفَى " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارا لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد، شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1690
حدیث نمبر: 22731
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَن ْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1690
حدیث نمبر: 22732
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ أَوْ النَّاسِ : أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا نَسْرِقَ ، وَلَا نَزْنِيَ ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا ، وَلَا نَغْتَبْ ، وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا بَعْضًا ، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ " فَمَنْ أَتَى مِنْكُمْ حَدًّا مِمَّا نُهِيَ عَنْهُ ، فَأُقِيمَ عَلَيْهِ ، فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ، وَمَنْ أُخِّرَ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح چھ چیزوں پر بیعت لی تھی جیسے عورتوں سے لی تھی کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے تم میں سے جو کوئی کسی عورت کے ساتھ قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے اور اسے اس کی فوری سزا بھی مل جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور اگر اسے مہلت مل گئی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر اس نے چاہا تو عذاب دے دے گا اور اگر چاہا تو رحم فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
حدیث نمبر: 22733
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ ، فَقَالَ : " أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ ، وَلَا تَعْصُونَهُ فِي مَعْرُوفٍ ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ ، فَهُوَ لَهُ طُهُورٌ ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَذَاكَ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " , قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : " فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ لَهُ طُهُورٌ " , أَوْ قَالَ : " كَفَّارَةٌ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح چھ چیزوں پر بیعت لی تھی جیسے عورتوں سے لی تھی کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے تم میں سے جو کوئی کسی عورت کے ساتھ قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے اور اسے اس کی فوری سزا بھی مل جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور اگر اسے مہلت مل گئی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر اس نے چاہا تو عذاب دے دے گا اور اگر چاہا تو رحم فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6801، م: 1709
حدیث نمبر: 22734
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ كَرَبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ ، الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمًا بِالْحِجَارَةِ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیف ہوتی تھی اور روئے انور پر اس کے آثار نظر آتے تھے ایک مرتبہ یہ کیفیت دور ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1690
حدیث نمبر: 22735
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ، وَلَا تُنَازِعْ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی و سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7055، 7056، م: 1709
حدیث نمبر: 22736
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ جُنَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُبَادَةَ ، بِمِثْلِهِ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22737
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ لَعَلَّهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ حَدَّثَهُ , عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : " مَا لَمْ يَأْمُرُوكَ بِإِثْمٍ بَوَاحًا ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22738
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِنْهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، الْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً ، مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ الْأَرْبَعَةُ ، وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُونُ الْعَرْشُ ، وَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ ، فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کے سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے اور سب سے عالی رتبہ درجہ جنت الفردوس کا ہے اسی سے چاروں نہریں نکلتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش الہٰی ہے لہٰذا جب تم اللہ سے سوال کیا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قد اختلف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 22739
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ حَيْوَةَ . وَعَتَّابٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ الْمَعَافِرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ عَامَ الْمَضِيقِ , أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَ مُعَاوِيَةَ حِينَ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِقَالًا قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتْرُكْهُ حَتَّى يُقْسَمَ ، وَقَالَ عَتَّابٌ : حَتَّى نَقْسِمَ ، ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ عِقَالًا ، وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ مِرَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق پوچھا جس نے مال غنیمت کی تقسیم سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک رسی مانگی تھی تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی اس سوال کو چھوڑ دو یہاں تک کہ مال غنیمت تقسیم ہوجائے پھر اگر تمہاری مرضی ہوئی تو تمہیں رسی دے دیں گے اور اگر تمہاری مرضی ہوگی تو اس سے کئی گنا زیادہ دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الإبهام الراوي عن عبادة
حدیث نمبر: 22740
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , قَالَ : " هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ارشاد باری تعالیٰ " لہم البشری فی الحیاۃ الدنیا وفی الآخرہ " میں بشری کی تفسیر پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو خود کوئی مسلمان دیکھے یا کوئی دوسرا مسلمان اس کے متعلق دیکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو سلمة لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22741
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ فِي رَمَضَانَ ، الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَإِنَّهَا وِتْرٌ ، فِي إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ ، فَمَنْ قَامَهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے اسے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو کہ وہ اس کی طاق راتوں ٢١، ٢٣، ٣٥، ٢٧، ٢٩ ویں یا آخری رات میں ہوتی ہے اور جو شخص اس رات کو حاصل کرنے کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اور اسے یہ رات مل بھی جائے تو اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن دون قوله: أو فى آخر ليلة ودون قوله: وما تأخر ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن عبدالرحمن، ولضعف عبدالله بن محمد
حدیث نمبر: 22742
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا نَزْنِيَ ، وَلَا نَسْرِقَ ، وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ، وَلَا نَنْهَبَ ، وَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ان (بارہ) نقباء میں سے تھا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر بیعت کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، بدکاری نہیں کریں گے چوری نہیں کریں گے کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کریں گے جسے قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو اور لوٹ مار نہیں کریں گے اگر ہم نے ایسا کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3893، م: 1709
حدیث نمبر: 22743
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ , أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ مَرَّتَيْنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورت فاتحہ کی تلاوت بھی نہ کرسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 756، م: 394
حدیث نمبر: 22744
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6507، م: 2683
حدیث نمبر: 22745
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ فِيهَا الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ " , قَالَ : قُلْنَا : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی دوران قرأت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت پر بوجھ محسوس ہوا نماز سے فارغ ہو کر ہم سے پوچھا کہ کیا تم بھی قرأت کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن