حدیث نمبر: 22666
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا عَنِّي ، خُذُوا عَنِّي ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارا لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد، شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1690
حدیث نمبر: 22667
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي تَاسِعَةٍ وَسَابِعَةٍ وَخَامِسَةٍ " , يَعْنِي : لَيْلَةَ الْقَدْرِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھا لی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 49
حدیث نمبر: 22668
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : خَالِدٌ أَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَن ْ أَبِي أَسْمَاءَ ، قَالَ : عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ سِتًّا : أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقُوا ، وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ ، وَلَا يَعْضِدْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَ لَهُ عُقُوبَتُهُ ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ ، وَإِنْ أُخِّرَ عَنْهُ ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح چھ چیزوں پر بیعت لی تھی جیسے عورتوں سے لی تھی کہ تم نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے تم میں سے جو کوئی کسی عورت کے ساتھ قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے اور اسے اس کی فوری سزا بھی مل جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور اگر اسے مہلت مل گئی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر اس نے چاہا تو عذاب دے دے گا اور اگر چاہا تو رحم فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 22669
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَن ْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
حدیث نمبر: 22670
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَن ْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ أَوْ عَلَى النَّاسِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
حدیث نمبر: 22671
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " تَقْرَءُونَ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھائی دوران قرأت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت پر بوجھ محسوس ہوا نماز سے فارغ ہو کر ہم سے پوچھا کہ کیا تم بھی قراءت کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ ، فَرُفِعَتْ ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ أَوْ السَّابِعَةِ أَوْ الْخَامِسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھالی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 49
حدیث نمبر: 22673
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ الْعَنْسِيُّ ، حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ : ثُمَّ دَعَاهُ اسْتُجِيبَ لَهُ ، فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى ، تُقُبِّلَتْ صَلَاتُهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو اور یوں کہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ پھر یہ دعا کرے کہ پروردگار ! مجھے معاف فرما دے یا جو بھی دعاء کرے وہ ضرور قبول ہوگی پھر اگر وہ عزم کر کے اٹھتا ہے وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز بھی قبول ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1154
حدیث نمبر: 22674
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ , وَحُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَن ْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَهُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ أَوْ سَابِعَةٍ أَوْ خَامِسَةٍ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے گھر سے نکلے تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لئے نکلا تو دو آدمی آپس میں تکرار کر رہے تھے اس کی وجہ سے اس کی تعین اٹھالی گئی ہوسکتا ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو تم شب قدر کو (آخری عشرے کی) نویں ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 49
حدیث نمبر: 22675
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے، رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے حضرت مریم کی طرف القاء کیا تھا اور روح اللہ ہیں اور یہ کہ جنت اور جہنم برحق ہے تو اللہ اسے جنت میں ضرور داخل فرمائے گا خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3435، م: 28
حدیث نمبر: 22676
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ جُنَادَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ مِنْ أَبْوَابِهَا الثَّمَانِيَةِ ، مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ ".
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس کے آخر میں جنت کے آٹھوں دروازوں سے داخل ہونے کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3435، م: 28
حدیث نمبر: 22677
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، رِوَايَةً يَبْلُغُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورت فاتحہ کی بھی تلاوت نہ کرسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 756، م: 394
حدیث نمبر: 22678
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ ، فَقَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا ، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ ، قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي أُخِذَتْ عَلَى النِّسَاءِ : إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ سورة الممتحنة آية 12 , فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَعُوقِبَ بِهِ ، فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " , قَالَ سُفْيَانُ قَالَ لِي الْهُذَلِيُّ : احْفَظْ لِي هَذَا الْحَدِيثَ ، وَهُوَ عِنْدَ الزُّهْرِيِّ قَالَ لِي الْهُذَلِيُّ : أَبُو بَكْرٍ لَمْ يَرْوِ مِثْلَ هَذَا قَطُّ ، يَعْنِي : الزُّهْرِيَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی طرح چھ چیزوں پر بیعت لی تھی جیسے عورتوں سے لی تھی کہ تم نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیکی کے کسی کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے تم میں سے جو کوئی کسی عورت کے ساتھ قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے اور اسے اس کی فوری سزا بھی مل جائے تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور اگر اسے مہلت مل گئی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر اس نے چاہا تو عذاب دے دے گا اور اگر چاہا تو رحم فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4894، م: 1709
حدیث نمبر: 22679
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، سَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً , عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ ، قَالَ : سُفْيَانُ : وَعُبَادَةُ نَقِيبٌ وهو من السبعة , " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ ، وَلَا نُنَازِعُ الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، نَقُولُ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا ، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " قَالَ سُفْيَانُ : زَادَ بَعْضُ النَّاسِ مَا لَمْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی وسستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سماع عبادة بن الوليد من جده سواء صح أو لم يصح، فقدعرفت الواسطة بينهما
حدیث نمبر: 22680
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کیونکہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر بن عبدالله ضعيف، والمقدام ابن معدي كرب خطأ، والصواب أنه مقدام الرهاوي فهو مجهول
حدیث نمبر: 22681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثني مجهول، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 22682
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَن ِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثنى مجهول، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 22683
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، قَالَ : كَانَ أُنَاسٌ يَبِيعُونَ الْفِضَّةَ مِنَ الْمَغَانِمِ إِلَى الْعَطَاءِ , فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مال غنیمت سے حاصل ہونے والی چاندی کو لوگ وظیفہ کی رقم حاصل ہونے پر موقوف کر کے بیچا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے، کجھور کی کجھور کے بدلے، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1587
حدیث نمبر: 22684
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُصَبِّحِ أَوْ أَبِي الْمُصَبِّحِ ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ ، فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي ؟ " قَالُوا : قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ , قَالَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ ، وَالْبَطْنُ ، وَالْغَرَقُ ، وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے ابھی ان کے بستر سے جدا نہیں ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ مسلمان کا میدان جنگ میں قتل ہونا شہادت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے مسلمان کا قتل ہونا بھی شہادت ہے طاعون میں مرنا بھی شہادت ہے اور وہ عورت بھی شہید ہے جسے اس کا بچہ مار دے (یعنی حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرسکنے والی وہ عورت جو اس دوران فوت ہوجائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22685
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ ؟ " قَالُوا : الَّذِي يُقَاتِلُ فَيُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَهِيدٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ " , يَعْنِي : النُّفَسَاءَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جو اللہ کے راستہ میں لڑے اور مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانے والا بھی شہید ہے طاعون کی بیماری میں، پیٹ کی بیماری میں اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع بين عباد بن نسي وبين عبادة بن الصامت
حدیث نمبر: 22686
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي أُبَيِّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يُؤَخِّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا " , قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أُصَلِّي ؟ قَالَ : " إِنْ شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: إن شئت ، والصواب فيه: نعم، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثنى مجهول، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 22687
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : " لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , فَقَالَ : هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ارشاد باری تعالیٰ " لہم البشری فی الحیاۃ الدنیاو فی الآخرہ " میں بشری کی تفسیر پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو خود کوئی مسلمان دیکھے یا کوئی دوسرا مسلمان اس کے متعلق دیکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو سلمة لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22688
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : " لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , فَقَالَ : لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي ، أَوْ أَحَدٌ قَبْلَكَ ، قَالَ : تِلْكَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ارشاد باری تعالیٰ " لہم البشری فی الحیاۃ الدنیاو فی الآخرہ " میں بشری کی تفسیر پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو خود کوئی مسلمان دیکھے یا کوئی دوسرا مسلمان اس کے متعلق دیکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو سلمة لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22689
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَةَ وَالْقُرْآنَ ، فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا ، فَقُلْتُ : لَيْسَتْ لِي بِمَالٍ ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنْ سَرَّكَ أَنْ تُطَوَّقَ بِهَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو لکھنا اور قرآن کریم پڑھنا سکھایا تو ان میں سے ایک آدمی نے مجھے ایک کمان ہدیئے میں پیش کی میں نے سوچا کہ میرے پاس مال و دولت تو ہے نہیں میں اسی سے اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کیا کروں گا پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں یہ پسند ہو کہ تمہاری گردن میں آگے کا طوق ڈالا جائے تو اسے ضرور قبول کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الأسود بن ثعلبة مجهول، ومغيرة بن زياد فيه كلام، وقد خولف
حدیث نمبر: 22690
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي أُبَيِّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، سَيَجِيءُ أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ حَتَّى لَا يُصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثُمَّ نُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ : وَهَذَا الصَّوَابُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثنى مجهول، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 22691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ ، قَالَ : عَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثني مجهول، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 22692
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ أَيْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا ، فَلَهُ مَا نَوَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے لیکن اس کی نیت اس جہاد سے ایک رسی حاصل کرنا ہو تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن الوليد مجهول
حدیث نمبر: 22693
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيَّ ثُمَّ الْجُمَحِيَّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ بِالشَّامِ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرَهُ , أَنَّ الْمُخْدَجِيَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بِالشَّامِ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّ الْوَتْرَ وَاجِبٌ ، فَذَكَرَ الْمُخْدَجِيّ , أَنَّهُ رَاحَ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : الْوَتْرُ وَاجِبٌ ! فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ ، مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
مخدجی " جن کا تعلق بنو کنانہ سے تھا کہتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری آدمی تھا جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کا یہ کہنا تھا کہ وتر واجب (فرض) ہیں وہ " مخدجی " حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد وتر کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت عبادہ نے فرمایا کہ ابو محمد سے غلطی ہوئی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کردی ہیں جو شخص انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان میں سے کسی چیز کو ضائع نہ کرے اور ان میں کا حق معمولی نہ سمجھے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو انہیں اس طرح ادانہ کرے تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المخدجي
حدیث نمبر: 22694
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ ! قَالُوا : نَعَمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَفْعَلُ هَذَا , قَالَ : فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی دوران قرأت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت پر بوجھ محسوس ہوا نماز سے فارغ ہو کر ہم سے پوچھا کہ کیا تم بھی قرأت کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22695
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ : كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً ، وَمِنْهَا تَخْرُجُ الْأَنْهَارُ الْأَرْبَعَةُ ، وَالْعَرْشُ مِنْ فَوْقِهَا ، وَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کے سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے اور سب سے عالی رتبہ درجہ جنت الفردوس کا ہے اسی سے چاروں نہریں نکلتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش الہٰی ہے لہٰذا جب تم اللہ سے سوال کیا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، واختلف فى هذا الإسناد على عطاء بن يسار
حدیث نمبر: 22696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2683
حدیث نمبر: 22697
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6987، م: 2264
حدیث نمبر: 22698
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6987، م: 2264
حدیث نمبر: 22699
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : الْأَعْرَجِ : عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيّ , أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ ، فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ : يَا عُبَادَةُ ، كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ : قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوِهِمْ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَقْسِمِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ ، وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ ، وَلَا تَغُلُّوا ، فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ ، وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ ، يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْغَمِّ وَالْهَمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ عنہ، ابودرداء اور حارث بن معاویہ رضی اللہ عنہ بیٹھے احادیث کا مذاکرہ کر رہے تھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے عبادہ ! فلاں فلاں غزوے میں خمس کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا باتیں کہی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس غزوے میں مال غنیمت کے ایک اونٹ کو بطور سترہ سامنے کھڑے کر کے نماز پڑھائی جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر اس کی اون اپنی دو انگلیوں کے درمیان لے کر فرمایا یہ تمہارا مال غنیمت ہے اور خمس کے علاوہ اس میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارا ہے اور خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی کے پاس سوئی دھاگہ بھی ہو تو وہ لے آئے یا اس سے بڑی اور چھوٹی چیز ہو تو وہ بھی واپس کر دے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت دنیا و آخرت میں خائن کے لئے آگ اور شرمندگی کا سبب ہوگی اور لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو خواہ وہ قریب ہوں یا دور اور اللہ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کیا کرو اور سفر و حضر میں اللہ کی حدود قائم رکھا کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور چستی وسستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أبو بكر بن عبدالله ضعيف، والمقدام بن معدي كرب خطأ، والصواب أنه مقدام الرهاوي، فهو مجهول
حدیث نمبر: 22700
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ الْوَلِيدِ ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ ، قَالَ : " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الْحَرْبِ ، وَكَانَ عُبَادَةُ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ : فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا ، وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا ، وَلَا نُنَازِعُ فِي الْأَمْرِ أَهْلَهُ ، وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی و سستی سے ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی، نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے، جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22701
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يُجْرَحُ فِي جَسَدِهِ جِرَاحَةً فَيَتَصَدَّقُ بِهَا ، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَ مَا تَصَدَّقَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگ جائے اور وہ صدقہ خیرات کر دے تو اس صدقے کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، الشعبي لم يسمع من عبادة
حدیث نمبر: 22702
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعُودُونِي ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ ؟ " فَسَكَتُوا ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ ؟ " فَسَكَتُوا ، قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ ؟ " فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي : أَسْنِدِينِي ، فَأَسْنَدَتْنِي ، فَقُلْتُ : مَنْ أَسْلَمَ ، ثُمَّ هَاجَرَ ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ شَهِيدٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاری لوگوں کے ساتھ میری عیادت کے لئے تشریف لائے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے ؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سوال کیا لوگ پھر خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو اس نے ایسا ہی کیا اور میں نے عرض کیا جو شخص اسلام لائے ہجرت کرے پھر اللہ کے راستہ میں شہید ہوجائے تو وہ شہید ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے غرق ہو کر مرجانا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرجانا بھی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الأسود بن ثعلبة مجهول، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22703
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ , وَحُمَيْدٌ , عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كَرَبَ لَهُ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ ، وَإِذَا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ : خُذُوا عَنِّي ، خُذُوا عَنِّي ثَلَاثَ مِرَارٍ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ ، الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ ، وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت تکلیف ہوتی تھی اور روئے انور پر اس کے آثار نظر آتے تھے ایک مرتبہ یہ کیفیت دور ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1690
حدیث نمبر: 22704
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، قَالَ : زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوَتْرَ وَاجِبٌ ! فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ ، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ ، وَصَلَاتَهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ ، فَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
مخدجی " جن کا تعلق بنو کنانہ سے تھا کہتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری آدمی تھا جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کا یہ کہنا تھا کہ وتر واجب (فرض) ہیں وہ " مخدجی " حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد وتر کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو محمد سے غلطی ہوئی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کردی ہیں جو شخص انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان میں سے کسی چیز کو ضائع نہ کرے اور ان میں کا حق معمولی نہ سمجھے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو انہیں اس طرح ادا نہ کرے تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، عبدالله الصنابحي هو أبو عبدالله الصنابحي على الراجح
حدیث نمبر: 22705
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَايَلُ فِيهِ الْمَوْتَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي , فَقَالَ : أَجْلِسُونِي فَلَمَّا أَجْلَسُوه ، قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِنَّكَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ ، وَلَنْ تَبْلُغْ حَقَّ حَقِيقَةِ الْعِلْمِ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، فَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهُ ؟ قَالَ : تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ ، وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ ، يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمُ ، ثُمَّ قَالَ : اكْتُبْ ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، يَا بُنَيَّ إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَى ذَلِكَ ، دَخَلْتَ النَّارَ.
مولانا ظفر اقبال
ولید بن عبادہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (اپنے والد) حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت بیمار تھے اور میں سمجھتا تھا کہ یہ ان کا مرض الوفات ہے میں نے ان سے عرض کیا اباجان ! مجھے چھان پھٹک کر کوئی وصیت کر دیجئے انہوں نے فرمایا مجھے اٹھا کر بٹھا دو جب انہیں اٹھا کر بٹھا دیا گیا تو فرمایا بیٹا ! تم اس وقت تک ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے اور علم باللہ کی حقیقت نہیں جان سکتے جب تک تم اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان نہ لاؤ میں نے عرض کیا اباجان ! مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ تقدیر کا کون سا فیصلہ میرے حق میں اچھا ہے اور کون سا برا ؟ فرمایا تم اس بات کا یقین رکھو کہ جو چیز تم سے چوک گئی وہ تمہیں پیش آسکتی تھی اور جو پیش آگئی وہ چوک نہیں سکتی تھی بیٹا ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ چنانچہ اس نے قیامت تک ہونے والے واقعات کو لکھ دیا بیٹا ! اگر تم مرتے وقت اس عقیدے پر نہ ہوئے تو تم جہنم میں داخل ہو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن