حدیث نمبر: 22659
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ ، فَشَكُّوا فِيَّ ، " فَأَمَرَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيَّ هَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ ؟ " فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ ، فَخَلَّى عَنِّي ، وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیرناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے مجھے چھوڑ دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22660
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , سَمِعَ عَطِيَّةَ ، يَقُولُ : كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ فِيهَا غُلَامًا ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فِيهَا ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بنوقریظہ کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے میں ایک چھوٹا لڑکا تھا انہوں نے میرے زیرناف بال اگے ہوئے نہیں پائے اسی وجہ سے آج میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح