حدیث نمبر: 22596
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الْأُولَيَيْنِ بِسُورَتَيْنِ وَأُمِّ الْكِتَابِ ، وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْأَحْيَانَ الْآيَةَ ، وَفِي الْآخِرَتَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ ، وَكَانَ يُطِيلُ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22596M
وَكَانَ يَقُولُ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22596M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22597
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا ، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22598
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفُرْسَانِهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ الْحُلْمَ يَكْرَهُهُ ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ ، فَلَنْ يَضُرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور شہسوار تھے " نے فرمایا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2392، م: 2261
حدیث نمبر: 22599
حَدَّثَنَا هَاشِمُ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو پلانے والا خود سب سے آخر میں پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 681، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22600
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ التَّفْرِيطُ فِي النَّوْمِ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نیند میں تفریط نہیں ہوتی، اس کا تعلق تو بیداری کے ساتھ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 681، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22601
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : دَخْلَتُ المَسْجِدُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جالس بين ظهراني الناس فجلست ، فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ ، قَالَ : " وَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے میں بھی جاکر مجلس میں بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے کس چیز نے روکا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے نظر آئے اس لئے میں بھی بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
حدیث نمبر: 22602
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا ، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں گا لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے تو اپنی نماز مختصر کردیتا ہوں تاکہ اس کی ماں کیلئے یہ چیز دشواری کا سبب نہ بن جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 707
حدیث نمبر: 22603
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانُوا مُحْرِمِينَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا ، فَبَصُرَ بِصَيْدٍ ، فَأَخَذَ سَوْطًا ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ ، فَأَصَادَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا ، ثُمَّ تَزَوَّدْنَا مِنْهُ ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانًا كَانَ مُحِلًّا أَوْ حَلَالًا ، فَأَصَابَ صَيْدًا ، وَإِنَّهُ أَكَلَ مِنْهُ وَأَكَلْنَا مَعَهُ ، وَمَعَنَا مِنْهُ , قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا ان میں ایک آدمی کے علاوہ باقی سب محرم تھے اس آدمی کو ایک شکار نظر آیا اس نے اپنا کوڑا پکڑ کر اس پر حملہ کیا اور اسے شکار کرلیا پھر اس نے بھی اسے کھایا اور ہم نے بھی کھایا اور ہم نے اس میں سے کچھ زاد راہ کے طور پر بچا بھی لیا جب ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ ! فلاں آدمی احرام کی حالت میں نہیں تھا اس نے شکار کیا جسے اس نے بھی کھایا اور ہم نے بھی اور اب بھی ہمارے پاس اس میں سے تھوڑا سا گوشت موجود ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
حدیث نمبر: 22604
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَيْفِ الْبَحْرِ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ إِلَى مَكَّةَ ، وَوَعَدَنَا أَنْ نَلْقَاهُ بِقُدَيْدٍ ، فَخَرَجْنَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ ، قَالَ : فَكُنْتُ حَلَالًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ : وَفِيهِ هَذِهِ الْعَضُدُ قَدْ شَوَيْتُهَا وَأَنْضَجْتُهَا وَأَطْيَبْتُهَا ، قَالَ : " فَهَاتِهَا قَالَ فَجِئْتُهُ بِهَا ، فَنَهَسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے کسی عمرے کے موقع پر ”سیف البحر“ کی طرف لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا اور ہم سے یہ طے کرلیا کہ مقام "" قدید "" میں ملاقات ہوگی چنانچہ ہم روانہ ہوگئے ہم میں سے کچھ لوگ محرم اور کچھ غیر محرم تھے غیر محرموں میں میں بھی شامل تھا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ اس میں سے یہ دستی بچی ہے جسے میں نے خوب اچھی طرح بھون کر پکایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں وہ لے کر حاضر خدمت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دانتوں سے نوچ کر کھانے لگے (کہ یہ زود ہضم ہوتا ہے) جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1821، م: 1196، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22605
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ مَوْلَى بَنِي تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ نَافِعٍ الْأَقْرَعِ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، مِثْلَ حَدِيثِ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، لَمْ يَزِدْ وَلَمْ يَنْقُصْ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22606
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مِنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ ، فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ أَوْ فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ ، لَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي " , فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي ، فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے وہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھ لے گا یا یہ کہ اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6993، م: 2266
حدیث نمبر: 22607
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ حَدَّثَ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ أَبِي : وَحَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ الْأَقْرَعِ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ مُسْلِمٌ وَمُشْرِكٌ ، وَإِذَا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُرِيدُ أَنْ يُعِينَ صَاحِبَهُ الْمُشْرِكَ عَلَى الْمُسْلِمِ ، فَأَتَيْتُهُ فَضَرَبْتُ يَدَهُ ، فَقَطَعْتُهَا ، وَاعْتَنَقَنِي بِيَدِهِ الْأُخْرَى ، فَوَاللَّهِ مَا أَرْسَلَنِي حَتَّى وَجَدْتُ رِيحَ الْمَوْتِ ، فَلَوْلَا أَنَّ الدَّمَ نَزَفَهُ لَقَتَلَنِي ، فَسَقَطَ فَضَرَبْتُهُ فَقَتَلْتُهُ ، وَأَجْهَضَنِي عَنْهُ الْقِتَالُ ، وَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَسَلَبَهُ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا وَوَضَعَتْ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَسَلَبُهُ لَهُ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ قَتَلْتُ قَتِيلًا ذَا سَلَِب ، فَأَجْهَضَنِي عَنْهُ الْقِتَالُ ، فَلَا أَدْرِي مَنْ اسْتَلَبَهُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا سَلَبْتُهُ فَأَرْضِهِ عَنِّي مِنْ سَلَبِهِ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : تَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ ، يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تُقَاسِمُهُ سَلَبَهُ ، ارْدُدْ عَلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ فَارْدُدْ عَلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ " , قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَأَخَذْتُهُ مِنْهُ فَبِعْتُهُ ، فَاشْتَرَيْتُ بِثَمَنِهِ مَخْرَفًا بِالْمَدِينَةِ ، وَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ اعْتَقَدْتُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے میدان جنگ میں ایک مسلمان اور ایک مشرک دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا پھر اچانک ایک مشرک پر نظر پڑی جو اپنے مشرک ساتھی کی مسلمان کے خلاف مدد کے لئے آگے بڑھ رہا تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس کے ہاتھ پر وار کیا جس سے اس کا ہاتھ کٹ گیا اس نے دوسرے ہاتھ سے میری گردن دبوچ لی اور بخدا ! اس نے مجھے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک مجھے موت کی دستک محسوس نہ ہوئی اور اگر اس کا خون اتنا زیادہ نہ بہتا تو وہ مجھے قتل کر کے ہی دم لیتا بہرحال وہ گرگیا اور میں نے اسے مار کر قتل کردیا اور خود بدحال ہوگیا ادھر اہل مکہ میں سے ایک آدمی اس کے پاس سے گذرا اور اس کا سارا سازوسامان لے کر چلتا بنا۔ جب ہم لوگ فارغ ہوئے اور جنگ کے شعلے بجھ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے جس کے پاس بہت زیادہ سازوسامان تھا لیکن میں اسے قتل کرنے کے بعد بہت بدحال ہوگیا تھا اس لئے مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ اس کا سامان کون اتار کرلے گیا ایک آدمی " جو اہل مکہ میں سے تھا " کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہ سچ کہتا ہے اس کا سامان میں لے گیا تھا اس لئے آپ اس کے سامان کے حوالے سے انہیں میری طرف سے کچھ اور دے کر خوش کر دیجئے ( اور یہ سامان میرے پاس ہی رہنے دیں) یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر " اللہ کے راستہ میں قتال کرتا ہے " کا سامان تقسیم کرنا چاہتے ہو ؟ اسے اس کا سامان واپس کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر نے سچ کہا تم اس کے مقتول کا سامان واپس کردو، چنانچہ میں نے اسے حاصل کر کے آگے فروخت کردیا اور اس کی قیمت سے میں نے مدینہ منورہ میں ایک باغ خرید لیا جو کہ سب سے پہلا مال تھا جسے میں نے خریدا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2100، م: 1751، والرجل المبهم فى إسناده الأول هو نافع الأقرع، وأسقط ابن إسحاق فى إسناده الثاني الواسطة بين يحيى بن سعيد و نافع الأقرع
حدیث نمبر: 22608
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّى ، دَعَاهُمْ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ، إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ ، فَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ کچھ لوگوں کے دوڑنے کی آواز سنائی دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر انہیں بلایا اور پوچھا کہ کیا ماجرا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جلدی جلدی نماز میں شریک ہونا چاہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کیا کرو، جب نماز کے لئے آیا کرو تو اطمینان اور سکون کو اپنے اوپر لازم رکھا کرو جتنی نماز مل جائے اتنی پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 635، م: 603
حدیث نمبر: 22609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ ، وَيَقُولُ : " بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے بہتر آدمی نے مجھ سے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خندق کھودنے لگے تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے سر کو جھاڑتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ابن سمیہ ! افسوس کہ تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2915
حدیث نمبر: 22610
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوَ , أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابن سمیہ ! تمہیں ایک باغی گروہ شہید کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن يحيى، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22611
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا , فَقَالَ : " إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ ، فَمَنْ يُوقِظُنَا لِلصَّلَاةِ ؟ " فَقَالَ بِلَالٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : فَعَرَّسَ بِالْقَوْمِ ، فَاضْطَجَعْنَا ، وَاسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ ، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، أَيْنَ مَا قُلْتَ لَنَا ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ " , ثُمَّ أَمَرَهُمْ ، فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّأَ ، فَارْتَفَعَتْ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى بِهِمْ الْفَجْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوئے رات کے وقت ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ کرلیں تو بہتر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تم نماز کے وقت سوتے رہے تو ہمیں نماز کے لئے کون جگائے گا ؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جگاؤں گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کرلیا اور ہم سب لیٹ گئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی اپنی سواری سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور ان کی آنکھ بھی لگ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ اس وقت کھلی جب سورج طلوع ہوچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جگا کر فرمایا بلال ! وہ بات کہاں گئی جو تم نے ہم سے کہی تھی ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھ پر ایسی نیند کبھی طاری نہیں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا اپنے قبضے میں رکھا اور جب چاہا واپس لوٹا دیا پھر لوگوں کو حکم دیا تو وہ قضا حاجت کے لئے منتشر ہوگئے وضو کیا اور جب سورج بلند ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز فجر پڑھا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 595
حدیث نمبر: 22612
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَهُ فِي طَلِيعَةٍ قِبَلَ غَيْقَةَ , وَوَدَّانَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَأَبُو قَتَادَةَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ ، فَطَلَبَ مِنْهُمْ سَوْطًا ، فَلَمْ يُنَاوِلُوهُ ، فَاخْتَلَسَ سَوْطَ بَعْضِهِمْ ، فَصَادَ حِمَارًا وَحْشِيًّا ، فَأَكَلُوهُ ، ثُمَّ لَحِقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالْأَبْوَاءِ ، قَالُوا : إِنَّا صَنَعْنَا شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَقَالَ : " أَطْعِمُونَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستے کو غیقہ اور ودان کی طرف بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم محرم تھے لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا اچانک مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں نے ان سے کوڑا پکڑانے کی درخواست کی لیکن انہوں نے محرم ہونے کی وجہ سے میری مدد کرنے سے انکار کردیا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اچک کر ان میں سے کسی کا کوڑا پکڑا اور اس گورخر کو شکار کرلیا لوگوں نے اسے کھایا اور جب مقام ابواء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ ہم نے ایسا کام کیا ہے جس کی حقیقت ہمیں معلوم نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں بھی اس میں سے کھلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1821، م: 1196، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل صالح بن أبى حسان، فقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22613
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22614
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، " أَنَّهُ قَتَلَ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ ، فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ وَدِرْعَهُ ، فَبَاعَهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک کافر کو قتل کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سازوسامان اور زرہ انہیں دے دی جسے انہوں نے پانچ اوقیہ کے عوض بیچ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2100، م: 1751، إسناده حسن
حدیث نمبر: 22615
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ لِلْأَنْصَارِ : " أَلَا إِنَّ النَّاسَ دِثَارِي ، وَالْأَنْصَارَ شِعَارِي ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبَةً ، لَاتَّبَعْتُ شِعْبَةَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ ، لَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَمَنْ وَلِيَ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ ، وَمَنْ أَفْزَعَهُمْ ، فَقَدْ أَفْزَعَ هَذَا الَّذِي بَيْنَ هَاتَيْنِ " , وَأَشَارَ إِلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر انصار کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یاد رکھو ! لوگ میرے لئے اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار میرے لئے نیچے کا کپڑا ہیں (جو جسم سے ملا ہوتا ہے) اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اس لئے جو شخص انصار کے معاملات کا ذمہ دار بنے اسے چاہئے کہ ان نیکو کاروں سے اچھا سلوک کرے اور ان کے گنہگاروں سے تجاوز کرے اور جو شخص خوفزدہ کرتا ہے وہ اس شخص کو خوفزدہ کرتا ہے جو ان دو ستونوں کے درمیان ہے یعنی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبى صخر
حدیث نمبر: 22616
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سُئِلَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَأَنَا شَاهِدٌ , عَنِ الْفَضْلِ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِكُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، حَدَّثَنِيهِ أَبُو الْخَلِيلِ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ كَلِمَةً تُشْبِهُ عَدْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : " صَوْمُ عَرَفَةَ بِصَوْمِ سَنَتَيْنِ ، وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ بِصَوْمِ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مشابہہ کوئی کلمہ فرمایا کہ عرفہ کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے اور یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه
حدیث نمبر: 22617
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ ، وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْأَحْيَانَ الْآيَةَ ، قَالَ : وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ , قَالَ : وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ " , قَالَ عَفَّانُ : وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سورت ملاتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے فجر کی نماز میں پہلی رکعت لمبی پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22618
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ، وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ " , قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
حدیث نمبر: 22619
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا " , قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَؤُلَاءِ الثَّمَانِ كَلِمَاتٍ وَزَادَ كَلِمَتَيْنِ : " مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی نماز جنازہ پڑھائی میں بھی موجود تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غیر موجود چھوٹوں اور بڑوں اور مرد و عورت کو معاف فرما۔ ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فيه على يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 22620
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إبراهيم وأبوه لا يعرفان، وقد اختلف فيه على يحيى بن أبى كثير
حدیث نمبر: 22621
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرَأَيْتَ صِيَامَ عَرَفَةَ ؟ قَالَ : " أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ صَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ : أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22622
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22623
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ , أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ وَكَانَ يَأْتِيهِ يَتَقَاضَاهُ ، فَيَخْتَبِئُ مِنْهُ ، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَخَرَجَ صَبِيٌّ فَسَأَلَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ هُوَ فِي الْبَيْتِ ، يَأْكُلُ خَزِيرَةً ، فَنَادَاهُ يَا فُلَانُ اخْرُجْ فَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ هَاهُنَا ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا يُغَيِّبُكَ عَنِّي ؟ قَالَ : إِنِّي مُعْسِرٌ وَلَيْسَ عِنْدِي , قَالَ : آللَّهِ إِنَّكَ مُعْسِرٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَكَى أَبُو قَتَادَةَ ، ثُمّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِيمِهِ ، أَوْ مَحَا عَنْهُ ، كَانَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا ایک آدمی پر قرض تھا وہ اس سے تقاضا کرنے کے لئے جاتے تو وہ چھپ جاتا ایک دن وہ اس کے گھر پہنچے تو ایک بچہ وہاں سے نکلا انہوں نے اس بچے سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ ہاں ! وہ گھر میں ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لے کر اسے آواز دی کہ باہر آؤ، مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم اندر ہی ہو وہ باہر آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم مجھ سے کیوں چھپتے پھر رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں تنگدست ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم کھا کر کہو کہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہے ؟ اس نے کہا کہ واقعی ایسا ہی ہے اس پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے مقروض کو مہلت دے دے یا اس کا قرض معاف کر دے تو وہ قیامت کے دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1563
حدیث نمبر: 22624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، قَالَ سَعْدٌ : كَانَ يُقَالُ لَهُ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، وَلَمْ يَكُنْ مَوْلًى يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدُ ، فَقَالَ : أَبَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ قَالَ : فَأَكَلَهُ , أَوْ قَالَ : " فَكُلُوهُ " ، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ : مَعْنَى قَوْلِهِ لَا بَأْسَ بِهِ ، قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک گورخر کا شکار کیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام تھے انہوں نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ بچا ہے ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا یا لوگوں کو کھانے کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
حدیث نمبر: 22625
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَقْرَءُونَ خَلْفِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا تم میرے پیچھے نماز میں قرأت کرتے ہو ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کیا کرو الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه بين سليمان التيمي وعبدالله بن أبى قتادة
حدیث نمبر: 22626
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاكَ " , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاكَ إِلَّا الدَّيْنَ ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں حال ہی میں شہید ہوجاؤں کہ میں ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہاہوں آگے بڑھا ہوں پیچھے نہ ہٹا ہوں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر تم اسی طرح شہید ہوئے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیر گذرنے کے بعد اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کردیا کہ " قرض کے علاوہ " اور فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے اسی طرح بتایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1885
حدیث نمبر: 22627
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22628
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22629
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ ، وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا ، وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ " , قَالَ يَحْيَى : فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ فَأَخْبَرَنِي , عَنْ أَبِيهِ بِذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
حدیث نمبر: 22630
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ بِأَصْلِ الْحَرَّةِ عِنْدَ بُيُوتِ السُّقْيَا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَكَ وَعَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، نَدْعُوكَ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ وَثِمَارِهِمْ ، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ ، وَاجْعَلْ مَا بِهَا مِنْ وَبَاءٍ بِخُمٍّ ، اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمْتَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور حرہ میں پانی کے گھاٹ کے قریب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی زمین میں نماز پڑھی، پھر فرمایا اے اللہ ! تیرے خلیل، بندے اور نبی ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے اہل مکہ کے لئے دعاء مانگی تھی اور میں تیرے بندہ، نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے اہل مدینہ کے لئے اس طرح دعاء مانگ رہا ہوں کہ تو ان کے صاع مد اور پھلوں میں برکت عطاء فرما، اے اللہ ! ہماری نظروں میں مدینہ کو بھی اس طرح محبوب بنا جیسے مکہ مکرمہ کی محبت ہمیں عطاء فرمائی ہے اور یہاں کی وباؤں کو " خم " کی طرف منتقل فرما اے اللہ میں مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام کی زبانی مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22631
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَمَّا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّوْا ، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوهَا الْغَدَ لِوَقْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے لئے کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل بھی اس نماز کو اس وقت پڑھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 681
حدیث نمبر: 22632
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ ، اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ ، وَإِذَا عَرَّسَ قَبْلَ الصُّبْحِ ، نَصَبَ ذِرَاعَيْهِ ، وَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی رات کے وقت کہیں پڑاؤ ڈالتے تو دائیں پہلو پر لیٹا کرتے تھے اور اگر صبح صادق سے تھوڑی ہی دیرپہلے پڑاؤ کیا ہوتا تو اپنی کہنیوں کو زمین پر ٹکا کر اپنا سر دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھ لیتے تھے (تاکہ نیند نہ آئے )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 683
حدیث نمبر: 22633
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22634
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَتَمَسَّحَنَّ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا شَرِبَ ، فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267