حدیث نمبر: 22517
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ , فَقَالَ : " كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ " وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ " كَفَّارَةُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے پھر کسی نے یوم عاشورہ کے روزے کے متعلق پوچھا تو فرمایا یہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22518
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ جَلِيسٍ كَانَ لِأَبِي قَتَادَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى قَتِيلٍ ، فَلَهُ سَلَبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مقتول پر کوئی گواہ پیش کر دے (کہ اس کا قاتل وہ ہے) تو مقتول کا سارا سامان اسی کو ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22519
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي يَحْمِلُ أُمَامَةَ أَوْ أُمَيْمَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ، وَهِيَ بِنْتُ زَيْنَبَ ، يَحْمِلُهَا إِذَا قَامَ ، وَيَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ ، حَتَّى فَرَغَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ یا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے یہاں تک کہ اسی طرح نماز سے فارغ ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 516، م: 543، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22520
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا , يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا ، وَيُطَوِّلُ فِي الْأُولَى ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ، يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تھے تو ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے تھے جس کی کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں سنا دیتے تھے اس میں بھی پہلی رکعت نسبتہ لمبی اور دوسری مختصر فرماتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے کہ پہلی رکعت لمبی اور دوسری اس کی نسبت مختصر پڑھاتے تھے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قراءت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22521
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُخْلَطَ شَيْءٌ مِنْهُ بِشَيْءٍ ، وَلَكِنْ لِيُنْتَبَذْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور کی مختلف اقسام کو) ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ علیحدہ علیحدہ ان کی نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5602، م: 1988
حدیث نمبر: 22522
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ ، أَوْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ، أَوْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ چھونے سے یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22523
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
حدیث نمبر: 22524
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ ، فَإِذَا رَكَعَ وَسَجَدَ ، وَضَعَهَا ، وَإِذَا قَامَ ، حَمَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھتے ہوئے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
حدیث نمبر: 22525
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا أُعْرَى مِنْهَا ، غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ ، حَتَّى لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَحَدَّثَنِي , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَمَنْ رَأَى رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُخْبِرْ بِهَا ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " , قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى : فَإِنَّهُ لَنْ يَرَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ.
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے ڈراؤنے خواب نظر آیا کرتے تھے لیکن میں انہیں اپنے اوپر بوجھ نہیں بناتا تھا یہاں تک کہ ایک دن حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے یہ چیز ذکر کی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2261
حدیث نمبر: 22526
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ يَعْنِي : وَهُوَ مُحِلٌّ ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ , فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک گورخر کا شکار کیا جبکہ وہ احرام میں نہیں تھے اور دیگر تمام حضرات محرم تھے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1823، م: 1196
حدیث نمبر: 22527
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ جَلِيسُ أَبِي قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " بَارَزْتُ رَجُلًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَلَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی غزوہ حنین کے موقع پر میں نے ایک آدمی کو لڑنے کی دعوت دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سازوسامان انعام میں مجھے دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22528
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَتْنِي امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ يُصْغِي الْإِنَاءَ لِلْهِرِّ فَيَشْرَبُ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا " أَنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بلی کے لئے برتن کو جھکا دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على إسحاق بن عبدالله بن أبى طلحة
حدیث نمبر: 22529
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , وَابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْلِسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (بطور تحیۃ المسجد) پڑھ لینی چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 444، م: 714
حدیث نمبر: 22530
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْنَاهُ مِنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " صِيَامُ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ السَّنَةَ وَالَّتِي تَلِيهَا ، وَصِيَامُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً , " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ أَبِي : لَمْ يَرْفَعْهُ لَنَا سُفْيَانُ ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
حدیث نمبر: 22531
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، فَقَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
حدیث نمبر: 22532
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , وَابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ يَعْنِي : حَامِلُهَا فَإِذَا رَكَعَ ، وَضَعَهَا ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ السُّجُودِ رَفَعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی امامہ بنت العاص کو اٹھا رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے اور جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اتار دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 516، م: 543
حدیث نمبر: 22533
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22534
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ، وَإِذَا تَمَسَّحَ ، فَلَا يَتَمَسَّحَنَّ بِيَمِينِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ چھونے سے یا دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22535
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ سَنَتَيْنِ مَاضِيَةً وَمُسْتَقْبَلَةً ، وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً مَاضِيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوم عرفہ (نو ذی الحجہ) کا روزہ دو سال کا کفارہ بنتا ہے یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کا کفارہ بنتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الاضطرابه والاختلاف فيه، ولجهالة أبى حرملة
حدیث نمبر: 22536
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، قَالَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو فرمایا یہ شخص آرام پانے والا ہے یا دوسروں کو اس سے آرام مل گیا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کا کیا مطلب ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ مؤمن دنیا کی تکالیف اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے اللہ کی رحمت میں آرام پاتا ہے اور فاجر آدمی سے لوگ، شہر درخت اور درندے تک راحت حاصل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6513، م: 950
حدیث نمبر: 22537
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لِغَيْلَانَ الْأَنْصَارِيِّ ؟ فَقَالَ بِرَأْسِهِ : أَيْ نَعَمْ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيتُ , أَوْ قَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ : وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ صَامَ الْأَبَدَ ؟ قَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " , قَالَ : صَوْمُ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : " وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ ! " قَالَ : إِفْطَارُ يَوْمَيْنِ وَصَوْمُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : " لَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَوَّانَا لِذَلِكَ " , قَالَ : صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ " , قَالَ : صَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ " , قَالَ : " صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ " , قَالَ : صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ ؟ قَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ " , قَالَ : صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے روزے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر راضی ہیں اور اسی پر ہم نے بیعت کی ہے پھر ایک دوسرے آدمی یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہی اٹھ کر پوچھا یا رسول اللہ ! اگر کوئی آدمی ہمیشہ روزے رکھے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں برابر ہیں سائل نے پوچھا دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی طاقت کس میں ہے سائل نے پوچھا کہ دو دن ناغہ کرنا اور ایک دن روزہ رکھنا کیسا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نظروں میں یہ قابل تعریف ہو، سائل نے پوچھا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے سائل نے پیر اور جمعرات کے روزے کے حوالے سے پوچھا ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی، ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے سائل نے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا اس سے گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1162، وذكر الخميس وهم، صوابه بدونه
حدیث نمبر: 22538
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي ابْنٌ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي ، مَنْ قَالَ عَلَيَّ ، فَلَا يَقُولَنَّ إِلَّا حَقًّا أَوْ صِدْقًا ، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو ! میرے حوالے سے کثرت کے ساتھ حدیث بیان کرنے سے بچو اور جو میری طرف نسبت کر کے کوئی بات کہے تو وہ صرف صحیح بات کہے اس لئے کہ جو شخص میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22539
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَحْيَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں کوئی آیت کبھی کبھار ہمیں بھی سنا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 762، م: 451
حدیث نمبر: 22540
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں دوران تشہد بیٹھتے تو اپنا ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھتے اور انگلی سے اشارے کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22541
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : صَوْمُ الِاثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ ، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ ".
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22542
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ ، كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاكَ " , ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْكَ خَطَايَاكَ إِلَّا الدَّيْنَ ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں حال میں شہید ہوجاؤں کہ میں ثواب کی نیت سے ثابت قدم رہا ہوں آگے بڑھا ہوں پیچھے نہ ہٹا ہوں تو کیا اللہ اس کی برکت سے میرے سارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر تم اسی طرح شہید ہوئے ہو تو اللہ تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا کچھ دیر گذرنے کے بعد اس شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا لیکن اس میں یہ استثناء کردیا کہ " قرض کے علاوہ " اور فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے اسی طرح بتایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1885
حدیث نمبر: 22543
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، دِينَارَانِ قَالَ : " أَتَرَكَ لَهُمَا وَفَاءً ؟ " قَالُوا : لَا , قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " , قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ! دو دینار، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمے ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وفي ضوء طريق أخرى فهي منقطعة لأن عبدالله بن أبى قتادة لم يسمعه من أبيه
حدیث نمبر: 22544
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22545
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ السَّلَمِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22546
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا ، تَعْطَشُوا " , وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ يُرِيدُونَ الْمَاءَ ، وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَمْتُهُ ، فَادَّعَمَ ، ثُمَّ مَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَدَعَمْتُهُ ، فَانْتَبَهَ ، فَقَالَ : " مَنْ الرَّجُلُ ؟ " قُلْتُ : أَبُو قَتَادَةَ , قَالَ : مُذْ كَمْ كَانَ مَسِيرُكَ ؟ قُلْتُ : مُنْذُ اللَّيْلَةِ , قَالَ : " حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَ رَسُولَهُ " ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ عَرَّسْنَا فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ ، فَنَزَلَ ، فَقَالَ : انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا ؟ قُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ ، هَذَانِ رَاكِبَانِ ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً ، فَقَالَ : " احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا " فَنِمْنَا ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَانْتَبَهْنَا ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَارَ ، وَسِرْنَا هُنَيْهَةً ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَقَالَ : " أَمَعَكُمْ مَاءٌ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : " ائْتِ بِهَا " , فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَقَالَ : " مَسُّوا مِنْهَا ، مَسُّوا مِنْهَا " , فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ ، وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ ، فَقَالَ : " ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ " , ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ، وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَقُولُونَ إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ ، فَشَأْنُكُمْ ، وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ ، فَإِلَيَّ " , قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا , فَقَالَ : " لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ ، فَصَلُّوهَا ، وَمِنْ الْغَدِ وَقْتَهَا " , ثُمَّ قَالَ : " ظُنُّوا بِالْقَوْمِ " , قَالُوا : إِنَّكَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ : " إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا ، تَعْطَشُوا " , فَالنَّاسُ بِالْمَاءِ , فَقَالَ : " أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ ، فَقَالَا : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْبِقَكُمْ إِلَى الْمَاءِ وَيُخَلِّفَكُمْ وَإِنْ يُطِعْ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ، يَرْشُدُوا " , قَالَهَا ثَلَاثًا , فَلَمَّا اشْتَدَّتْ الظَّهِيرَةُ ، رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا عَطَشًا ، تَقَطَّعَتْ الْأَعْنَاقُ ، فَقَالَ : " لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا قَتَادَةَ ، ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَقَالَ : احْلِلْ لِي غُمَرِي يَعْنِي : قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ ، وَيَسْقِي النَّاسَ ، فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَحْسِنُوا الْمَلَأَ ، فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رِيٍّ " , فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَبَّ لِي ، فَقَالَ : اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ " , قَالَ : قُلْتُ : اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ " , فَشَرِبْتُ ، وَشَرِبَ بَعْدِي ، وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا ، وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ ، فَقَالَ : مَنْ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ ، انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي أَحَدُ السَّبْعَةِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا فَرَغْتُ ، قَالَ : مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرِي . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ جلد باز لوگ پانی کی تلاش میں نکل گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونگنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے جھکے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائے بغیر سہارا دے دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر اپنی سواری پر جھکے تو میں نے آپ کو جگائے بغیر سیدھا کیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر پہلے سے بھی زیادہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ گرپڑیں میں پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ابو قتادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں ساری رات سے اسی طرح آپ کے ساتھ چل رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے جس طرح تم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ ہمیں پڑاؤ کرلینا چاہئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے قریب پہنچ کر منزل کی پھر فرمایا تم کسی کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا یہ ایک سوار ہے یہاں تک کہ سات سوار جمع ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہماری نماز کا خیال رکھنا چنانچہ ہم لوگ سو گئے اور سورج کی تمازت نے ہی ہمیں جگایا ہم بیدار ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وہاں سے چل دیئے ہم بھی آہستہ آہستہ چل پڑے، ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! میرے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لے آؤ میں وہ پانی لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو کرو۔ چنانچہ سب لوگوں نے وضو کیا اور اس میں سے کچھ پانی بچ گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس وضو کے پانی کے برتن کی حفاظت کرو کیونکہ اس سے عنقریب ایک عجیب خبر ظاہر ہوگی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں پڑھیں (سنت) پھر صبح کی نماز پڑھی (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے ہم میں سے ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ ہماری اس غلطی کا کفارہ کیا ہوگا جو ہم نے نماز میں کی کہ ہم بیدار نہیں ہوئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے ہو ؟ اگر کوئی دنیوی بات ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی دینی مسئلہ ہے تو مجھے بھی بتاؤ، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم سے نماز میں تفریط ہوگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونے میں کوئی تفریط نہیں بلکہ تفریط تو جاگنے میں ہوتی ہے۔ اگر کسی سے اس طرح ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جس وقت بھی وہ بیدار ہوجائے نماز پڑھ لے اور جب اگلا دن آجائے تو وہ نماز اس کے وقت پر پڑھے پھر فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں نے کیا کیا ہوگا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کل آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ اگر تم کل پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ لوگ پانی کی تلاش میں ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا لوگوں میں موجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پیچھے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں اور خود پانی کی طرف سبقت لے جائیں اگر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات مان لیں گے تو وہ ہدایت پاجائیں تین مرتبہ فرمایا پھر ہم لوگوں کی طرف اس وقت پہنچے جس وقت دن چڑھ چکا تھا اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا لوگ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تو پیاس نے ہلاک کردیا اور گردنیں ٹوٹنے لگیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہلاک نہیں ہوئے پھر فرمایا اے ابو قتادہ میرا چھوٹا پیالہ لاؤ میں وہ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ف
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 683
حدیث نمبر: 22546M
قَالَ حَمَّادٌ : وَحَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ ، وَزَادَ : قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا عَرَّسَ وَعَلَيْهِ لَيْلٌ ، تَوَسَّدَ يَمِينَهُ ، وَإِذَا عَرَّسَ الصُّبْحَ ، وَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ الْيُمْنَى ، وَأَقَامَ سَاعِدَهُ " . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22546M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 683
حدیث نمبر: 22547
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 681
حدیث نمبر: 22548
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 681
حدیث نمبر: 22549
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي قَتَادَةَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا ، " فَرَأَى كَوْكَبًا انْقَضَّ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نُتْبِعَهُ أَبْصَارَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے گھر کی چھت پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے اسی دوران ایک ستارہ ٹوٹا لوگ اسے دیکھنے لگے تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں اس کے پیچھے اپنی نگاہوں کو دوڑانے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22550
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ ، فَقَالَ : " فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے حوالے سے پوچھا ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اس دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1162
حدیث نمبر: 22551
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ , قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ ، وَقَالَ : " عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ ، فجَعْفَرٌ ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ ، فعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ " , فَوَثَبَ جَعْفَرٌ ، فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي ، مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا ، قَالَ : " امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ " , قَالَ : فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ , وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَابَ خَبْرٌ أَوْ ثَابَ خَبْرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ , أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي ، إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ ، فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ " , فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ , " ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ ، هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ " , فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ ، فَانْصُرْهُ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ " , فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ " , فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا .
مولانا ظفر اقبال
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں عبداللہ بن رباح آئے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " جیش امراء " نامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے امیر زید بن حارثہ ہیں اگر زید شہید ہوجائیں تو جعفرامیرہوں گے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری امیر ہوں گے اس پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرا خیال نہیں تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر کریں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس بات میں خیر ہے ؟ چنانچہ وہ لشکر روانہ ہوگیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور " نماز تیار ہے " کی منادی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ایک افسوس ناک خبر ہے کیا میں تمہیں مجاہدین کے اس لشکر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو زید شہید ہوگئے ان کے لئے بخشش کی دعاء کرو لوگوں نے ایسا ہی کیا پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا پکڑا اور دشمن پر سخت حملہ کیا حتٰی کہ وہ بھی شہید ہوگئے میں ان کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں لہٰذا ان کی بخشش کے لئے دعاء کرو پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا اور نہایت پامردی سے ڈٹے رہے حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوگئے ان کے لئے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا پکڑ لیا گو کہ کسی نے انہیں امیر منتخب نہیں کیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی بلند کر کے فرمایا اے اللہ ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا نام " سیف اللہ " پڑگیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوچ کرو اور کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہے چنانچہ اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22552
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اللہ ہی زمانے کا خالق ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22553
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِي ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الصَّخْرِ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ ، قَالَ أَتَى عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ أَمْشِي بِرِجْلِي هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ وَكَانَتْ رِجْلُهُ عَرْجَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " , فَقُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ هُوَ وَابْنُ أَخِيهِ وَمَوْلًى لَهُمْ ، فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ تَمْشِي بِرِجْلِكَ هَذِهِ صَحِيحَةً فِي الْجَنَّةِ " ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا وَبِمَوْلَاهُمَا فَجُعِلُوا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ جن کے پاؤں میں لنگراہٹ تھی " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور شہید ہوجاؤں تو کیا میں صحیح ٹانگ کے ساتھ جنت میں چل پھر سکوں گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر غزوہ احد کے دن مشرکین نے انہیں، ان کے بھتیجے اور ایک آزاد کردہ غلام کو شہید کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس سے گذرے تو فرمایا میں تمہیں اپنی اس ٹانگ کے ساتھ صحیح سالم جنت میں چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں پھر نبی کئے صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں اور ان کے غلام کے متعلق حکم دیا اور لوگوں نے انہیں ایک ہی قبر میں دفن کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22554
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا " , قَالَ يَحْيَى : وَزَادَ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ : " اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا ، فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی نماز جنازہ پڑھائی میں بھی موجود تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غیر موجود چھوٹوں اور بڑوں اور مرد و عورت کو معاف فرما۔ ابو سلمہ نے اس میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث أبى قتادة غير محفوظ، وأصح شيء فى هذا الباب حديث عوف بن مالك
حدیث نمبر: 22555
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ لِجِنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرُ ذَلِكَ ، قَالَ لِأَهْلِهَا : شَأْنُكُمْ بِهَا ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی نماز جنازہ کے لئے بلایا جاتا تو پہلے اس کے متعلق لوگوں کی رائے معلوم کرتے تھے اگر لوگ اس کا تذکرہ اچھائی کے ساتھ کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اس کی نماز پڑھا دیتے اور اگر برائی کے ساتھ تذکرہ ہوتا تو اس کے اہل خانہ سے فرما دیتے اسے لے جاؤ اور خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز نہ پڑھاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح