حدیث نمبر: 22503
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ يَعْنِي ابْنَ مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ أَبُو عَقِيلٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا نَفْسِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ " , فَقَالَ عُمَرُ : فَأَنْتَ الْآنَ وَاللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْآنَ يَا عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بخدا ! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! اب بات بنی۔
حدیث نمبر: 22504
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ أَبُو عَقِيلٍ الْقُرَشِيُّ , أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ " احْتَلَمَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَكَحَ النِّسَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
زہرہ ابو عقیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بالغ ہوچکے تھے اور نکاح بھی کرلیا تھا۔