حدیث نمبر: 22502
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْصِرُهَا ، أَفَنَشْرَبُ مِنْهَا ؟ قَالَ : " لَا " , فَرَاجَعْتُهُ ، فَقَالَ : " لَا " ، ثُمَّ رَاجَعْتُهُ ، فَقَالَ " لَا " ، فَقُلْتُ : إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِشِفَاءٍ ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب) پی سکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میں نے اپنی بات کی تکرار کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا نہیں میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پلا سکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قد اختلف فيه على سماك بن حرب