حدیث نمبر: 22499
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَالِدُ ، " إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَحْدَاثٌ وَفِتَنٌ وَاخْتِلَافٌ ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ لَا الْقَاتِلَ ، فَافْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے خالد ! میرے بعد حادثات، فتنے اور اختلافات رونما ہوں گے اگر تمہارے اندر اتنی طاقت ہو کہ تم اللہ کے وہ بندے بن جاؤ جو مقتول ہو قاتل نہ ہو تو ایسا ہی کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد»
حدیث نمبر: 22500
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، قَالَ : فَذَكَرُوا رَجُلًا مَاتَ مِنْ بَطْنِهِ ، قَالَ : فَكَأَنَّمَا اشْتَهَيَا أَنْ يُصَلِّيَا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ أَلَمْ يَقُلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ ، فَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ " ؟ قَالَ الْآخَرُ : بَلَى.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ دونوں پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو کر مرنے والے ایک آدمی کے جنازے میں شرکت کا ارادہ رکھتے تھے اسی دوران ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرے اسے قبر میں عذاب نہیں ہوگا ؟ دوسرے نے کہا کیوں نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22501
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، قال عبد الله : وَسَمِعْتُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ يَعْنِي مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُرْفُطَةَ ، قَالَ لِلْمُخْتَارِ : هَذَا رَجُلٌ كَذَّابٌ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ نے مختار ثقفی کے متعلق فرمایا یہ کذاب آدمی ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ جہنم کی آگ میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: متن الحديث متواتر، وإسناده ضعيف لجهالة مسلم