حدیث نمبر: 22441
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , وَابْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي غُنْدَرًا ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً ، فَصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ " , قَالُوا : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ملتا ہے اور ایک قیراط کا پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، م: 946
حدیث نمبر: 22442
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قِيلَ لِثَوْبَانَ حَدِّثْنَا , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَتَكْذِبُونَ عَلَيَّ ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا تم لوگ میری طرح جھوٹی نسبت کرتے ہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان بھی اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع ، سالم لم يلق ثوبان
حدیث نمبر: 22443
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ ، عَنْ بَلْجٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : وَكَانَ قَاصَّ النَّاسِ ، قَالَ : قِيلَ لِثَوْبَانَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ " , قَالَ حَجَّاجٌ : قُسْطَنْطِينِيَّةُ.
مولانا ظفر اقبال
ابو شیبہ مہری رحمہ اللہ جو قسطنطنیہ میں وعظ گوئی کیا کرتے تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں کوئی حدیث سنائیے " تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بلج وشيخه مجهولان
حدیث نمبر: 22444
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء
حدیث نمبر: 22445
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، والراوي المبهم: هو أبو أسماء الرحبي، وأبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء
حدیث نمبر: 22446
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء الرحبي
حدیث نمبر: 22447
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي لَبِعُقْرِ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ ، أَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ " , قَالَ : فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَرْضِهِ ، فَقَالَ : " مِنْ مُقَامِي هَذَا إِلَى عُمَانَ " , وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ ، فَقَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، يَصُبُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا ذَهَبٌ وَالْآخَرُ وَرِقٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کی وسعت کتنی ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ سے عمان تک فاصلے کے برابر پھر کسی نے اس کے پانی کے متعلق پوچھا تو فرمایا دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2301، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2301، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22449
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَقِيعِ ، مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بَعْدَ مَا مَضَى مِنْ رَمَضَانَ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں سینگی لگواتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمعه من شداد بن أوس
حدیث نمبر: 22450
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22451
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ ، فَإِنَّهُ يَمْشِي فِي خَرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2568
حدیث نمبر: 22452
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ أَوْ إِنَّ رَبِّي زَوَى لِي الْأَرْضَ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا ، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ , وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ ، وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا ، وَلَوْ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا " ، أَوْ قَالَ : مَنْ بِأَقْطَارِهَا . " أَلَا وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ ، وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ساری زمین کو سمیٹ دیا چنانچہ میں نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک کا علاقہ مجھے سمیٹ کر دیکھایا گیا ہے اور مجھے دو خزانے سرخ اور سفید دیئے گئے ہیں اور میں نے اپنے امت کے لئے یہ درخواست کی کہ وہ اسے عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان پر کوئی بیرونی دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں خوب قتل کرے تو میرے رب نے فرمایا اے محمد ! میں نے جو فیصلہ کرلیا ہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، میں نے آپ کی امت کے حق میں آپ کی یہ دعاء قبول کرلی کہ میں انہیں عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان پر کوئی بیرونی دشمن مسلط نہیں کروں گا جو ان میں خوب قتل و غارت گری کرے گو کہ ان پر ان کے دشمن اکناف عالم سے جمع ہوجائیں یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو فناء کرنے لگیں گے۔ اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی۔ اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے نہ جاملیں اور جب تک میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1920، 2889
حدیث نمبر: 22453
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " , قَالَ : ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : مِنْ قِبَلِهِ بِدَّأً بِالْعِيَالِ ، قَالَ : وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالِهِ صِغَارًا يُعِفُّهُمْ اللَّهُ بِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 994
حدیث نمبر: 22454
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ " , قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ملتا ہے اور ایک قیراط کا پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 946
حدیث نمبر: 22455
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ : سُئِلَ سَعِيدٌ ، عَنِ الرَّجُلِ يَتْبَعُ جِنَازَةً مَا لَهُ مِنَ الْأَجْرِ ؟ فَأَخْبَرَنَا , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ " فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ الْقِيرَاطِ ، فَقَالَ " مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ملتا ہے اور ایک قیراط کا پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 946، وهذا إسناد قوي