حدیث نمبر: 22402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ ، وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندوں کو مت ستایا کرو، انہیں عار مت دلایا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے اللہ اس کے عیوب کو تلاش کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اسے اس کے گھر کے اندر ہی رسوا کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22403
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جہاد کرتا رہے گا جو ہمیشہ غالب رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 19020
حدیث نمبر: 22404
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ ، قَالَ : عَفَّانُ : عَنْ ثَوْبَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ " , وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ ابْنُ مَهْدِيٍّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2568
حدیث نمبر: 22405
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقْ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَضْمَنُ لِي وَاحِدَةً وَأَضْمَنُ لَهُ الْجَنَّةَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " لَا تَسْأَلْ النَّاسَ شَيْئًا " , قَالَ : فَكَانَ سَوْطُ ثَوْبَانَ يَسْقُطَُ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ ، فَيُنِيخُ حَتَّى يَأْخُذَهُ ، وَمَا يَقُولُ لِأَحَدٍ : نَاوِلْنِيهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا حتیٰ کہ اگر وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گرپڑتا تو وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے خود اتر کر اسے اٹھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 22406
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ، ثُمَّ عَلَى نَفْسِهِ ، ثُمَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " , قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَيَبْدَأُ بِالْعِيَالِ , وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ : وَلَمْ يَرْفَعْهُ , دِينَارٌ أَنْفَقَهُ رَجُلٌ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 994
حدیث نمبر: 22407
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، لكنه توبع ،
حدیث نمبر: 22408
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ ، قَالَ : " أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " ثَلَاثًا , ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ ! تو ہی حقیقی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی مل سکتی ہے اے بزرگی اور عزت والے ! تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 591
حدیث نمبر: 22409
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا بِعُقْرِ حَوْضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ ، وَأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَنْهُمْ " , قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا سَعَتُهُ ؟ قَالَ : " مِنْ مَقَامِي إِلَى عُمَانَ ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کی وسعت کتنی ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ سے عمان تک فاصلے کے برابر جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2301
حدیث نمبر: 22410
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ ، فَقَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو جنت البقیع میں سینگی لگواتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22411
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ ، قَالَ : قُلْتُ : لِثَوْبَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً ، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنا دیجئے جس کی برکت سے اللہ مجھے نفع عطاء فرما دے، انہوں نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرے گا تو اس کی برکت سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 488
حدیث نمبر: 22412
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ ، وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے تو وہ ایک مہینہ دس مہنیوں کے برابر ہوگا اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لینے سے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22413
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تقدیر کو دعاء کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی اور عمر میں نیکی کے علاوہ کوئی چیز اضافہ نہیں کرسکتی اور انسان بعض اوقات اس گناہ کی وجہ سے بھی رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس سے صادرہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: وإن العبد ليحرم الرزق ....، وهذا إسناد ضعيف، عندالله بن أبى الجعد مجهول، ولم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22414
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْتَقِيمُوا تُفْلِحُوا ، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " , وَقَالَ عِصَامٌ : " وَلَا يُحَافِظُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثابت قدم رہو کامیاب ہوجاؤ گے تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن بن ميسرة لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22415
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لَامْرِئٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ ، فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ ، وَلَا يَؤُمَّ قَوْمًا فَيَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدُعَاءٍ دُونَهُمْ ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ ، وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ اجازت لئے بغیر کسی شخص کے گھر میں نظر بھی ڈالے اگر اس نے دیکھ لیا تو گویا داخل ہوگیا اور کوئی ایسا شخص جو کچھ لوگوں کی امامت کرتا ہو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ کیا کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے اور کوئی آدمی پیشاب وغیرہ کا تقاضا دبا کر نماز نہ پڑھے بلکہ پہلے ہلکا پھلکا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة دعاء الإمام لنفسه، وقد تفرد بها يزيد بن شريح وهو ممن يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد اختلف على يزيد بن شريح فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 22416
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة دعاء الإمام لنفسه، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقية، و يزيد بن شريح قد اضطرب فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 22417
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر سہو کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زهير
حدیث نمبر: 22418
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ، قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ : مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ ، وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ ، فَلَمْ يَعُدْهُ ، فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا ، فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ : أَتَكْتُبُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ , فَقَالَ : اكْتُبْ فَكَتَبَ لِلْأَمِير عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ : مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتَهُ ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ ، وَقَالَ لَهُ : أَتُبَلِّغُهُ إِيَّاهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ ، فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ ، فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا ، فَقَالَ النَّاسُ : مَا شَأْنُهُ ؟ أَحَدَثَ أَمْرٌ ؟ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ ، وَقَالَ اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہر " حمص " میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے اس زمانے میں حمص کے گورنر حضرت عبداللہ بن قرط ازدی رضی اللہ عنہ تھے وہ حضترت ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے نہیں آئے اسی دوران کلاعیین کا ایک آدمی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا کیا تم لکھنا جانتے ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا لکھو، چنانچہ اس نے گورنر حمص حضرت عبداللہ بن قرط ازدی رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان کی طرف سے اما بعد ! اگر تمہارے علاقے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی غلام ہوتا تو تم اس کی عیادت کو ضرور جاتے پھر خط لپیٹ کر فرمایا کیا تم یہ خط انہیں پہنچا دوگے ؟ اس نے حامی بھرلی اور وہ خط لے جا کر حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کردیا۔ وہ خط پڑھتے ہی گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے لوگ جسے دیکھ کر حیرانگی سے کہنے لگے کہ انہیں کیا ہوا ؟ کوئی عجیب واقعہ پیش آیا ہے ؟ وہ وہاں سے سیدھے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے ہاں پہنچے گھر میں داخل ہوئے ان کی عیادت کی اور تھوڑی دیر بیٹھ کر اٹھ کھڑے ہوئے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان کی چادر پکڑ کر فرمایا بیٹھ جائیے تاکہ میں آپ کو ایک حدیث سنا دوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمی جنت میں ضرور داخل ہوں گے جن کا کوئی حساب ہوگا اور نہ عذاب اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار افراد مزید ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وفي سماع شريح بن عبيد من ثوبان نظر
حدیث نمبر: 22419
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُتْبَةَ أَبِي أُمَيَّةَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّهُ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى الْخِمَارِ " , يَعْنِي : الْعِمَامَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کے دوران موزوں پر، اوڑھنی پر اور عمامے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عتبة مجهول، وأبو سلام لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22420
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ ، كَانَتْ شَيْئًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی سے سوال کرتا ہو جبکہ وہ اس کا ضرورت مند نہ ہو تو یہ قیامت کے دن اس کے چہرے پر داغ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، عبدالملك بن عبدالله لم يوجد له ترجمة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22421
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً لَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا ثَوْبَانُ ، أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ " , قَالَ : فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا ثوبان ! اس بکری کا گوشت خوب اچھی طرح سنبھال لو چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ تشریف آوری تک اس کا گوشت کھلاتا رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1975
حدیث نمبر: 22422
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَبَا قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " جَنَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2068
حدیث نمبر: 22423
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ أَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " لَا تَسْأَلْ النَّاسَ شَيْئًا " , قَالَ : فَرُبَّمَا سَقَطَ سَوْطُ ثَوْبَانَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ ، فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا أَنْ يُنَاوِلَهُ ، حَتَّى يَنْزِلَ إِلَيْهِ فَيَأْخُذَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا حتیٰ کہ اگر وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گرپڑتا تو وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے خود اتر کر اسے اٹھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22424
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ , عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَضْمَنُ لِي خُلَّةً وَأَضْمَنُ لَهُ الْجَنَّةَ ؟ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وقد توبع
حدیث نمبر: 22425
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، حَدَّثَنَا ثَوْبَانُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ الْحُمَّى وَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ ، فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ ، وَلْيَسْتَقْبِلْ نَهَرًا جَارِيًا يَسْتَقْبِلُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ ، بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَيَغْتَمِسُ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ ، فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ ، فَإِنَّهُ لَا يَكَادُ يُجَاوِزُ التِّسْعَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو بخار ہوجائے " جو کہ آگ کا ایک حصہ ہے " تو اسے چاہئے کہ اسے ٹھنڈے پانی سے بجھائے اور کسی بہتی ہوئے نہر کے سامنے پانی کے بہاؤ کی سمت رخ کر کے کھڑا ہوجائے اور یوں کہے " بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ " اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء عطاء فرما اور اپنے رسول کو سچا کر دکھا " اور یہ عمل طلوع آفتاب سے پہلے اور نماز فجر کے بعد ہونا چاہئے اس کے بعد اس بہتی نہر میں تین مرتبہ غوطہ زنی کرے اور یہ عمل تین دن تک کرے اگر تین دن میں ٹھیک نہ ہوا تو پانچ دن تک ورنہ سات، ورنہ نو دن تک یہ عمل کرے، وہ نو دن سے آگے نہ بڑھنے پائے گا ان شاء اللہ (تندرست ہوجائے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف لجهالة سعيد الشامي
حدیث نمبر: 22426
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لِأَهْلِ الْيَمَنِ ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ " , فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ ، فَقَالَ : " مِنْ مُقَامِي إِلَى عُمَانَ " , وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ ، فَقَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ يَنْشَعِبُ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کی وسعت کتنی ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ سے عمان تک فاصلے کے برابر پھر کسی نے اس کے پانی کے متعلق پوچھا تو فرمایا دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2301
حدیث نمبر: 22427
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : الْكِبْرِ ، وَالْغُلُولِ ، وَالدَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، تکبر، قرض اور مال غنیمت میں خیانت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22428
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ , وَبَهْزٌ قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : بَهْزٌ : عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : الْغُلُولِ ، وَالدَّيْنِ " , قَالَ بَهْزٌ : " وَالْكِبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، تکبر، قرض اور مال غنیمت میں خیانت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22429
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 22430
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، أَنَّ شَيْخًا مِنَ الْحَيِّ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22430M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخَبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَة عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا عِنْدَ عُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ لِأَهْلِ الْيَمَنِ ، إِنِّي لَأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ ، وَإِنَّهُ لَيَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ أَحَدُهُمَا مِنْ وَرِقٍ ، وَالْآخَرُ مِنْ ذَهَبٍ ، مَا بَيْنَ بُصْرَى , وَصَنْعَاءَ ، أَوْ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ , وَمَكَّةَ " أَوْ قَالَ : " مِنْ مُقَامِي هَذَا إِلَى عُمَانَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا اور اس حوض کی لمبائی بصری اور صنعاء، یا ایلہ اور مکہ یا اس جگہ سے عمان تک فاصلے تک ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22430M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2301
حدیث نمبر: 22431
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ أَنَّ شَيْخًا مِنَ الْحَيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ ﷺ أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ»
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، والشيخ المبهم: هو أبو أسماء عمرو بن مرثد الرحبي
حدیث نمبر: 22432
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَمْشِي فِي الْبَقِيعِ فِي رَمَضَانَ رَأَى رَجُلًا يَحْتَجِمُ ، فَقَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو جنت البقیع میں سینگی لگواتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 22433
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَاعْمَلُوا وَخَيِّرُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثابت قدم رہو قریب رہو اور نیک عمل کرتے رہو تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22434
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَأَبَانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : الْكِبْرِ ، وَالدَّيْنِ ، وَالْغُلُولِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، تکبر، قرض اور مال غنیمت میں خیانت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22435
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ملتا ہے اور ایک قیراط کا پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 946
حدیث نمبر: 22436
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَيَعْلَى , قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثابت قدم رہو تمام اعمال کا تو تم کسی صورت احاطہ نہیں کرسکتے البتہ یاد رکھو کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من ثوبان، وقد توبع
حدیث نمبر: 22437
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ مَا نَزَلَ ، قَالُوا : فَأَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ قَالَ : عُمَرُ : أَنَا أَعْلَمُ ذَلِكَ لَكُمْ , قَالَ : فَأَوْضَعَ عَلَى بَعِيرٍ فَأَدْرَكَهُ ، وَأَنَا فِي أَثَرِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ ؟ قَالَ : " لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا ، وَلِسَانًا ذَاكِرًا ، وَزَوْجَةً تُعِينُهُ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سونے چاندی کے متعلق وہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو لوگ کہنے لگے کہ ہم کون سا مال اپنے پاس رکھا کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں پتہ کر کے بتاتا ہوں چنانچہ انہوں نے اپنا اونٹ تیزی سے دوڑایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جالیا میں بھی ان کے پیچھے تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم کون سا مال اپنے پاس رکھیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر گذار دل اور وہ مسلمان بیوی جو امور آخرت پر اس کی مدد کرنے والی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22438
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ ، وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان بعض اوقات اس گناہ کی وجہ سے بھی رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس سے صادر ہوتا ہے اور تقدیر کو دعاء کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی اور عمر میں نیکی کے علاوہ کوئی چیز اضافہ نہیں کرسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: إن العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبه، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن أبى الجعد مجهول، ولم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22439
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء الرحبي
حدیث نمبر: 22440
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : وَذَكَرَ أَبَا أَسْمَاءَ ، وَذَكَرَ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت بغیر کسی خاص وجہ سے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی مہک بھی حرام ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح