حدیث نمبر: 22362
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقرِئَ ، يَقُولُ : قَالَ حَجَّاجٌ : عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُبْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ سورة الزمر آية 53 " , فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ أَشْرَكَ ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ ، إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ " ثَلَاثَ مَرَّاتِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس آیت کے بدلے میں مجھے دنیا ومافیہا بھی مل جائے تو مجھے پسند نہیں " یا عبادی الذین اسرفواعلی انفسہم۔۔۔۔۔۔۔۔ " ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! شرک کرنے والے کا کیا حکم ہے ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے پھر تھوڑی دیر بعد تین مرتبہ فرمایا سوائے مشرک کے۔
حدیث نمبر: 22363
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِهِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مَنْ أَهْلهِ فَاطِمَةُ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ ، قَالَ : فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فَأَتَاهَا ، فَإِذَا هُوَ يَمْسَحُ عَلَى بَابِهَا ، وَرَأَى عَلَى الْحَسَنِ , وَالْحُسَيْنِ قَلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ، فَرَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ فَاطِمَةُ ظَنَّتْ أَنَّهُ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى ، فَهَتَكَتْ السِّتْرَ ، وَنَزَعَتْ الْقَلْبَيْنِ مِنَ الصَّبِيَّيْنِ ، فَقَطَعَتْهُمَا ، فَبَكَى الصَّبِيَّانِ ، فَقَسَمَتْهُ بَيْنَهُمَا ، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا ، فَقَالَ : " يَا ثَوْبَانُ ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى بَنِي فُلَانٍ أَهْلُ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ ، وَاشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي ، وَلَا أُحِبُّ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمْ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہوتے تو اپنے اہل خانہ میں سے سب سے آخر میں جس سے ملاقات کرتے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ہوتیں اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جس کے یہاں تشریف لے جاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ہوتیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو حسب معمول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے وہاں پہنچے تو گھر کے دروازے پر پردہ دکھائی دیا اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن نظر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے گئے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر سمجھ گئیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہی چیزوں کو دیکھ کر واپس چلے گئے ہیں چنانچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور دونوں بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار کر توڑ ڈالے اس پر دونوں بچے رونے لگے اور روتے روتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کنگن " جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تقسیم کردیئے تھے " ان سے لے لئے اور حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے ثوبان ! بنو فلاں (اہل مدینہ کے ایک گھر کے متعلق فرمایا کے پاس لے جاؤ اور فاطمہ کے ایک یمنی ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ کیونکہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی حلال چیزیں بھی دنیا میں کھالیں۔
حدیث نمبر: 22364
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , وَأَبُو الْيَمَانِ , وَهَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الْأُمْلُوكِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ : " إِنَّا مُدْلِجُونَ ، فَلَا يُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ " , فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَعْبَةٍ فَسَقَطَ ، فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ فَمَاتَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ، إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی سفر میں فرمایا ہم رات کو سفر پر روانہ ہوں گے اس لئے کوئی شخص کی بپھرے ہوئے یا کمزور جانور پر سواری نہ کرے اس ہدایت کے باوجود ایک آدمی ایک سرکش اونٹنی پر سوار ہوگیا راستے میں وہ کہیں گرا اور اس کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں، پھر ایک منادی کو لوگوں میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کسی نافرمان کے لئے جنت حلال نہیں تین مرتبہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 22365
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَمِنْكَ السَّلَامُ ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ ! تو ہی حقیقی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی مل سکتی ہے اے بزرگی اور عزت والے ! تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔
حدیث نمبر: 22366
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ؟ " قَالَ ثَوْبَانُ : أَنَا ، قَالَ : " لَا تَسْأَلْ النَّاسَ " , يَعْنِي شَيْئًا ، قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : فَكَانَ لَا يَسْأَلُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔
حدیث نمبر: 22367
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُهَاجِرِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ ، فَحُمِلَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَرِيدِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْحَوْضِ ، فَقُدِمَ بِهِ عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَكَاوِيبُهُ عَدَدُ النُّجُومِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " , فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هُمْ الشُّعْثُ رُءُوسًا ، الدُّنْسُ ثِيَابًا ، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ " , فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : لَقَدْ نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ ، وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ إِلَّا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ ، وَاللَّهِ لَا جَرَمَ أَنْ لَا أَدْهُنَ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ ، وَلَا أَغْسِلَ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ڈاکیے کے ذریعے ایک مرتبہ ابو سلام حبشی رحمہ اللہ کی طرف پیغام بھیجا وہ ابو سلام سے حوض کوثر کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے چنانچہ وہ آگئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے حوض کی لمبائی چوڑائی اتنی ہے جتنی عدن اور عمان بلقاء کے درمیان ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا اس کے کٹورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے جو اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا سب سے پہلے اس حوض پر فقراء مہاجرین آئیں گے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور کپڑے میلے ہوں گے جو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح نہیں کرسکے ہوں گے اور نہ ہی ان کے لئے بند دروازے کھولے جاتے ہوں گے۔ حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ میں نے تو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح کیا ہے اور میرے لئے تو بند دروازے بھی کھولے جاتے ہیں اب اللہ ہی مجھ پر رحم فرمائے واللہ اب میں اس وقت تک اپنے سر پر تیل نہیں لگاؤں گا جب تک وہ پراگندہ نہ ہوجائے اور اپنے جسم پر پہنے ہوئے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوؤں گا جب تک وہ میلے نہ ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 22368
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا ، أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا ، أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً ، أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا ، لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص (میدان جہاد میں کسی نابالغ بچے یا انتہائی عمر رسیدہ آدمی کو قتل کرے یا کسی باغ کو آگ لگا دے یا کسی پھل دار درخت کو کاٹ ڈالے یا کھال حاصل کرنے کے لئے کسی بکری کو ذبح کر ڈالے تو وہ برابر سرابر واپس نہیں آیا۔
حدیث نمبر: 22369
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَأَبَانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرِ ، وَالدَّيْنِ ، وَالْغُلُولِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، تکبر، قرض اور مال غنیمت میں خیانت۔
حدیث نمبر: 22370
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قِيلَ لِثَوْبَانَ , حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : تَكْذِبُونَ عَلَيَّ ! وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا تم لوگ میری طرح جھوٹی نسبت کرتے ہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان بھی اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا۔
حدیث نمبر: 22371
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 22372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ ، عَنْ بَلْجٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : وَكَانَ قَاصَّ النَّاسِ ، قَالَ : قِيلَ لِثَوْبَانَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو شبیہ مہری رحمہ اللہ جو قسطنطنیہ میں وعظ گوئی کیا کرتے تھے " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قئی آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا۔
حدیث نمبر: 22373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، فَهُوَ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 22374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ : مَا ثَوْبَانُ ؟ قَالَ : مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَتَكَفَّلَ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ شَيْئًا ، وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ؟ " , فَقَالَ ثَوْبَانُ : أَنَا , فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔
حدیث نمبر: 22375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ، فَإِنَّهُ فِي أَخْرَافِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 22376
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " , قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ؟ قَالَ : " أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے کسی نے پوچھا کہ قیراط کیا ہوتا ہے ؟ فرمایا اس کا کم از کم پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 22377
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ ، أَوْ قَالَ : قُلْتُ : بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ فَسَكَتَ ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً " , قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ لِي : مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ.
مولانا ظفر اقبال
معدان یعمری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ کے نزدیک پسندیدہ کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جس کی برکت سے اللہ مجھے جنت میں داخل فرما دے، اس پر وہ خاموش رہے، تین مرتبہ سوال اور خاموشی کے بعد انہوں نے فرمایا کہ یہی سوال میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کثرت سجدہ کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ تم اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف فرما دے گا۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔
حدیث نمبر: 22378
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثابت قدم رہو تمام اعمال کا تو تم کسی صورت احاطہ نہیں کرسکتے البتہ یاد رکھو کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔
حدیث نمبر: 22379
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ مَا بَأْسٍ ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت بغیر کسی خاص وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی مہک بھی حرام ہوگی۔
حدیث نمبر: 22380
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَفْضَلَ دِينَارٍ دِينَارٌ أَنْفَقَهُ رَجُلٌ عَلَى عِيَالِهِ ، أَوْ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل عیال پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 22381
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ " , قَالَ : فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آگئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔
حدیث نمبر: 22382
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو رمضان کے مہینے میں سینگی لگوا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 22383
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمْ الْبَرْدُ ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْبَرْدِ ، " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کہیں روانہ فرمایا راستے میں سردی کا موسم آگیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے تو سردی کی شدت سے پہنچنے والی تکلیف کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عماموں اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 22384
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ملتا ہے اور ایک قیراط کا پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 22385
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : أَنَا , قَالَ : لَا تَسْأَلْ النَّاسَ شَيْئًا " , فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ : نَاوِلْنِيهِ ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَتَنَاوَلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا حتیٰ کہ اگر وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گرپڑتا تو وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے خود اتر کر اسے اٹھاتے۔
حدیث نمبر: 22386
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ ، وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان بعض اوقات اس گناہ کی وجہ سے بھی رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس سے صادر ہوتا ہے اور تقدیر کو دعاء کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی اور عمر میں نیکی کے علاوہ کوئی چیز اضافہ نہیں کرسکتی۔
حدیث نمبر: 22387
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ خُرَاسَانَ فَأْتُوهَا ، فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے ہوئے دیکھو تو ان میں شامل ہوجاؤ کیونکہ اس میں خلیفۃ اللہ امام مہدی رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 22388
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قریش جب تک تمہارے لئے سیدھے رہیں تم بھی ان کے لئے سیدھے رہو۔
حدیث نمبر: 22389
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " , قِيلَ : وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " جَنَاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 22390
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ : الْكِبْرِ ، وَالْغُلُولِ ، وَالدَّيْنِ ، فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " , أَوْ " وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ تکبر، قرض غنیمت میں خیانت۔
حدیث نمبر: 22391
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ثَوْبَانُ ، أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ " , قَالَ : فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا ثوبان ! اس بکری کا گوشت خوب اچھی طرح سنبھال لو چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ تشریف آوری تک اس کا گوشت کھلاتا رہا۔
حدیث نمبر: 22392
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : لَمَّا أُنْزِلَتْ الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 34 , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : قَدْ نَزَلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا نَزَلَ ، فَلَوْ أَنَّا عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ اتَّخَذْنَاهُ فَقَالَ : " أَفْضَلُهُ لِسَانًا ذَاكِرًا ، وَقَلْبًا شَاكِرًا ، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں شریک تھے تو کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سونا اور چاندی کے متعلق تو جو حکم نازل ہونا تھا وہ ہوگیا اب اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ کون سامال بہتر ہے تو ہم وہی اپنے پاس رکھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان شکر گذار دل اور مسلمان بیوی ہے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرنے والی ہو۔
حدیث نمبر: 22393
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے متعلق گمراہ کن ائمہ سے اندیشہ ہے۔
حدیث نمبر: 22394
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے متعلق گمراہ کن ائمہ سے اندیشہ ہے۔
حدیث نمبر: 22395
وَبِهِ قَالَ : وَبِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَى لِي الْأَرْضَ أَوْ قَالَ : إِنَّ رَبِّي زَوَى لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا ، وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يَهْلِكُوا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ ، وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ " . وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : " يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ ، وَقَالَ يُونُسُ : لَا يُرَدُّ , وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ ، وَلَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ ، وَلَوْ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ : مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا " " وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ . " وَإِذَا وُضِعَ فِي أُمَّتِي السَّيْفُ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ حَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے ساری زمین کو سمیٹ دیا چنانچہ میں نے اس کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک کا علاقہ مجھے سمیٹ کر دکھایا گیا ہے اور مجھے دو خزانے سرخ اور سفید دیئے گئے ہیں اور میں نے اپنی امت کے لئے یہ درخواست کی ہے کہ وہ اسے عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور ان پر کوئی بیرونی دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں خوب قتل کرے تو میرے رب نے فرمایا اے محمد ! میں نے جو فیصلہ کرلیا ہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، میں نے آپ کی امت کے حق میں آپ کی یہ دعاء قبول کرلی کہ میں انہیں عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان پر کوئی بیرونی دشمن مسلط نہیں کروں گا جو ان میں خوب قتل و غارت گری کرے گو کہ ان پر ان کے دشمن اکناف عالم سے جمع ہوجائیں یہاں تک کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو فناء کرنے لگیں گے اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ سے اندیشہ ہے۔ اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی۔ اور قیامت اس وقت قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے نہ جا ملیں اور جب تک میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ اور عنقریب میری امت میں تیس کذاب آئیں گے جن میں سے ہر ایک بزعم خویش اپنے آپ کو نبی قرار دیتا ہوگا، حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جہاد کرتا رہے گا جو ہمیشہ غالب رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔
حدیث نمبر: 22396
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْوُصَابِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي : أَحْرَزَهُمْ اللَّهُ مِنَ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ ، وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم سے محفوظ رکھا ہے ایک گروہ ہندوستان میں جہاد کرے گا اور ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔
حدیث نمبر: 22397
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا " , قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ ، وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ يَنْتَزِعُ الْمَهَابَةَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ ، وَيَجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمْ الْوَهْنَ " , قَالَ : قُلْنَا : وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ : " حُبُّ الْحَيَاةِ ، وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں دنیا کے ہر کونے سے مختلف قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دیں گی جیسے ایک کھلانے والی عورت اپنے پیالے کی طرف بلاتی ہے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس زمانے میں ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی لیکن تم لوگ سمندر کے خس و خاشاک کی طرح ہوگے تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال لیا جائے گا اور تمہارے دلوں میں " وہن '' ڈال دیا جائے گا ہم نے پوچھا کہ " وہن " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زندگی کی محبت اور موت سے نفرت۔
حدیث نمبر: 22398
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ , أَنَّ ابْنَةَ هُبَيْرَةَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا خَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ ، يُقَالُ لَهَا الْفَتَخُ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَعُ يَدَهَا بِعُصَيَّةٍ مَعَهُ ، يَقُولُ لَهَا : " يَسُرُّكِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ فِي يَدِكِ خَوَاتِيمَ مِنْ نَارٍ ؟ ! " فَأَتَتْ فَاطِمَةَ فَشَكَتْ إِلَيْهَا مَا صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَانْطَلَقْتُ أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ خَلْفَ الْبَابِ ، وَكَانَ إِذَا اسْتَأْذَنَ قَامَ خَلْفَ الْبَابِ ، قَالَ : فَقَالَتْ لَهَا فَاطِمَةُ انْظُرِي إِلَى هَذِهِ السِّلْسِلَةِ الَّتِي أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ قَالَ : وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ، بِالْعَدْلِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ : فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَفِي يَدِكِ سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ ؟ ! " ثُمَّ عَذَمَهَا عَذْمًا شَدِيدًا ، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ ، فَأَمَرَتْ بِالسِّلْسِلَةِ فَبِيعَتْ ، فَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا عَبْدًا فَأَعْتَقَتْهُ ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ ، وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنت ہبیرہ نامی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں جنہیں " فتخ " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاٹھی سے اس کے ہاتھ کی انگوٹھیوں کو ہلاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے تو ؟ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رویے کی شکایت کی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ادھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر پہنچ کر دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئے " جو کہ اجازت لیتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا " اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اس خاتون سے فرما رہی تھیں یہ چین دیکھو جو مجھے " ابو حسن " نے ہدیئے میں دی ہے ان کے ہاتھ میں سونے کی ایک چین تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں داخل ہو کر فرمایا اے فاطمہ بات انصاف کی ہونی چاہئے تاکہ کل کو لوگ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر انگلی نہ اٹھائیں اس لئے تمہارے ہاتھ میں آگ کی یہ چین کیسی ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شدت کے ساتھ ندامت کا احساس دلایا اور وہاں بیٹھے بغیر ہی واپس چلے گئے اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے وہ چین فروخت کرنے کا حکم دے دیا چنانچہ اسے بیچ دیا گیا جس کی قیمت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو خوشی سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا اللہ کا شکر کہ اس نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو آگ سے بچا لیا۔
حدیث نمبر: 22399
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ وَالرَّائِشَ " , يَعْنِي : الَّذِي يَمْشِي بَيْنَهُمَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے دینے والے اور ان دونوں کے درمیان معاملہ طے کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 22400
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمَرئِيُّ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ النَّسَاءُ فِي الْأَجَلِ ، وَالزِّيَادَةُ فِي الرِّزْقِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لمبی عمر اور وسعت رزق چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 22401
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ وَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ : إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي ، أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ ، فَيَقُولُ جِبْرِيلُ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ ، وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، وَيَقُولُهَا مَنْ حَوْلَهُمْ , حَتَّى يَقُولَهَا أَهْلُ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ، ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلَى الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے اور اس میں مسلسل لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ میری رضا کی تلاش میں ہے آگاہ رہو کہ میری رحمت اس پر متوجہ ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں کہ فلاں آدمی پر اللہ کی رحمت ہو، حاملین عرش بھی یہی کہتے ہیں ان کے آس پاس کے فرشتے بھی یہی کہنے لگتے ہیں حتیٰ کہ ساتوں آسمانوں لوگ یہی کہنے لگتے ہیں پھر یہ بات زمین پر اتار دی جاتی ہے۔
…