حدیث نمبر: 22333
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ عَامِلًا عَلَى تَوَّجَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ نَامَ عَلَى إِجَّارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ مَا يَدْفَعُ قَدَمَيْهِ فَخَرَّ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ إِذَا ارْتَجَّ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈیر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گر کر مرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی ہو اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة زهير بن عبدالله، ولاضطراب فى إسناده