حدیث نمبر: 22327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا شَهِدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، وَالنَّاسُ يَرْمُونَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تَقْتُلُوا ، أَوْ لَا تُهْلِكُوا أَنْفُسَكُمْ ، وَارْمُوا الْجَمْرَةَ أَوْ الْجَمَرَاتِ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " , وَأَشَارَ شُعْبَةُ بِطَرَفِ إِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا لوگ بھی اس وقت رمی کر رہے تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو ! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد ولجهالة حال سليمان بن عمرو