حدیث نمبر: 22256
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , قَالَ : حَضَرْنَا صَنِيعًا لِعَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ , فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ الطَّعَامِ قَامَ أَبُو أُمَامَةَ , فَقَالَ : لَقَدْ قُمْتُ مَقَامِي هَذَا وَمَا أَنَا بِخَطِيبٍ , وَمَا أُرِيدُ الْخُطْبَةَ , وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , غَيْرَ مَكْفِيٍّ , وَلَا مُوَدَّعٍ , وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ " , قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ يُرَدِّدُهُنَّ عَلَيْنَا حَتَّى حَفِظْنَاهُنَّ .
مولانا ظفر اقبال
خالد بن معدان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عبدالاعلیٰ بن بلال کی دعوت میں شریک تھے کھانے سے فراغت کے بعد حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس جگہ کھڑا تو ہوگیا ہوں لیکن میں خطیب ہوں اور نہ ہی تقریر کے ارادے سے کھڑا ہوا ہوں البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعاء پڑھتے ہوتے سنا ہے " الحمدللہ کثیرا طیبا مبارکا فیہ غیر مکفی ولامودع ولامستغنی عنہ " خالد کہتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات اتنی مرتبہ دہرائے کہ ہمیں حفظ ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22257
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي عُتْبَةَ الْكِنْدِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ أُمَّتِي أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَنْ رَأَيْتَ وَمَنْ لَمْ تَرَ ؟ قَالَ : " مَنْ رَأَيْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ , غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے ہر امتی کو پہچانوں گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! جنہیں آپ نے دیکھا ہے انہیں بھی اور جنہیں نہیں دیکھا انہیں بھی پہچان لیں گے ؟ فرمایا ہاں ! ان کی پیشانیاں وضو کی برکت سے چمک رہی ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عتبة الكندي
حدیث نمبر: 22258
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْجَدْعَاءِ , وَاضِعٌ رِجْلَيْهِ فِي الْغَرْزِ يَتَطَاوَلُ يُسْمِعُ النَّاسَ , فَقَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : " أَلَا تَسْمَعُونَ ؟ " , فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ طَوَائِفِ النَّاسِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا ؟ قَالَ : " اعْبَدُوا رَبَّكُمْ , وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ , وَصُومُوا شَهْرَكُمْ , وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ , تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ " , فَقُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ , مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً , أُزَاحِمُ الْبَعِيرَ أُزَحْزِحُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور پاؤں سواری کی رکاب میں رکھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونچے ہوگئے تھے اور فرما رہے تھے کیا تم سنتے نہیں ؟ تو سب سے آخری آدمی نے کہا کہ آپ کیا فرمانا چاہتے ہیں (ہم تک آواز پہنچ رہی ہے اور ہم سن رہے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے رب کی عبادت کرو، پنج گانہ نماز ادا کرو، ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اپنے امیر کی اطاعت کرو اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔ راوی نے حضرت امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ نے کس عمر میں سنی تھی تو انہوں نے فرمایا کہ جب میں تیس سال کا تھا۔ اور لوگوں کے رش میں گھستا ہوا آگے چلا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22259
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ سورة آل عمران آية 7 , قَالَ : " هُمْ الْخَوَارِجُ " , وَفِي قَوْلِهِ : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ سورة آل عمران آية 106 قَالَ : " هُمْ الْخَوَارِجُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد باری تعالیٰ " فاما الذین فی قلوبہم زیغ۔۔۔۔۔۔۔ " کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد خوارج ہیں اسی طرح " یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ " کی تفسیر میں بھی فرمایا کہ سیاہ چہروں والوں سے خوارج مراد ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو غالب ممن يعتبر به فى المتابعات و الشواهد، وفي رفعه نكارة، لكنه ثابت موقوفا على أبى أمامة
حدیث نمبر: 22260
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ , حَدَّثَنَا لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : " أَلَا لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا , أَلَا لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا , أَلَا لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا " , فَقَامَ رَجُلٌ طَوِيلٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ , فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَمَا الَّذِي نَفْعَلُ ؟ فَقَالَ : " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ , وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ , وَصُومُوا شَهْرَكُمْ , وَحُجُّوا بَيْتَكُمْ , وَأَدُّوا زَكَاتَكُمْ , طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع میں شرکت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد تین مرتبہ فرمایا شاید اس سال کے بعد تم مجھے نہ دیکھ سکو، اس پر ایک لمبے قد کا آدمی جو قبیلہ سنوء کا ایک فرد محسوس ہوتا تھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی ! ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے رب کی عبادت کرو، پنج گانہ نماز ادا کرو ایک مہینے کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو، دل کی خوشی سے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل فرج ابن فضالة
حدیث نمبر: 22261
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا الْفَرَجُ , حَدَّثَنَا لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , مَا كَانَ أَوَّلُ بَدْءِ أَمْرِكَ , قَالَ : " دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ , وَبُشْرَى عِيسَى , وَرَأَتْ أُمِّي أَنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهَا قُصُورُ الشَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی ! آپ کا آغاز کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل فرج بن فضالة
حدیث نمبر: 22262
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا فَرَجٌ , حَدَّثَنَا لُقْمَانُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ , إِلَّا مِنْ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ , فَإِنَّهُمَا يُكْمِهَانِ الْأَبْصَارَ , وَتَخْدِجُ مِنْهُنَّ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے درندوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے البتہ وہ سانپ جس کی دو دمیں ہوں یا جس کی دم کٹی ہوئی ہو، اسے مارنے کی اجازت ہے کیونکہ وہ بینائی زائل کردیتا ہے اور خواتین کا حمل ساقط کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف فرج
حدیث نمبر: 22263
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا فَرَجٌ , حَدَّثَنَا لُقْمَانُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَعَلَى الثَّانِي , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَعَلَى الثَّانِي , قَالَ : " وَعَلَى الثَّانِي " , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ , وَحَاذُوا بَيْنَ مَنَاكِبِكُمْ , وَلِينُوا فِي أَيْدِي إِخْوَانِكُمْ , وَسُدُّوا الْخَلَلَ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْحَذَفِ " يَعْنِي : أَوْلَادَ الضَّأْنِ الصِّغَارَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے نمازیوں پر اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف ثانی کو اس فضیلت میں شامل کرنے کی دو مرتبہ درخواست کی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے پھر تیسری مرتبہ درخواست پر فرمایا اور صف ثانی پر بھی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کو سیدھا رکھا کرو، کندھوں کو ملا لیا کرو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجایا کرو، درمیان میں خلا پر کرلیا کرو، کیونکہ شیطان بکری کے چھوٹے بچوں کی طرح تمہاری صفوں میں گھس جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف فرج
حدیث نمبر: 22264
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا الْفَرَجُ , حَدَّثَنَا لُقْمَانُ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجِيفُوا أَبْوَابَكُمْ , وَأَكْفِئُوا آنِيَتَكُمْ , وَأَوْكِئُوا أَسْقِيَتَكُمْ , وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ , فَإِنَّهُ لَنْ يُؤْذَنَ لَهُمْ بِالتَّسَوُّرِ عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو سوتے وقت دروازے بند کرلیا کرو برتن اوندھا دیا کرو، مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور چراغ بجھا دیا کرو، کیونکہ اس طرح شیاطین کو تمہاری دیوار پھاندنے کی اجازت نہیں ملے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف فرج
حدیث نمبر: 22265
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ أَبِي غَيْرَ مَرَّةٍ , يَقُولُ : وَحِدْثنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ , وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ , وَلَا تُلَامُ عَلَى الْكَفَافِ , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ , وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے ابن آدم ! اگر تو مال خرچ کرلے تو یہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر روک کر رکھے تو یہ تیرے حق میں برا ہے البتہ کفایت شعاری پر تجھے ملامت نہیں کی جاسکتی اور جو لوگ تیری ذمہ داری میں ہوں خرچ کرنے میں ان سے آغاز کیا کر اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1036
حدیث نمبر: 22266
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ , وَقَالَ أَبُو نُوحٍ : أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , قَالَ : فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ عَادَ , فَقَالَ لَهُ مَرَّةً أُخْرَى ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ , قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَاتَّبَعَهُ الرَّجُلُ , قَالَ : وَتَبِعْتُهُ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ : فَانْصَرَفْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرَّجُلُ يَتْبَعُهُ , لِأَعْلَمَ مَا يَقُولُ لَهُ , قَالَ : فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , قَالَ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ مَنْزِلِكَ , فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ " , قَالَ : بَلَى , قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوْ ذَنْبَكَ " , شَكَّ فِيهِ عِكْرِمَةُ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ : فَانْصَرَفْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ الرَّجُلُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا ہے لہٰذا مجھے کتاب اللہ کی روشنی میں سزا دے دیجئے اسی دوران نماز کھڑی ہوگئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور فراغت کے بعد جب واپس جانے لگے تو وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے چلا گیا میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا، اس نے پھر اپنی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا ایسا نہیں ہے کہ تم اپنے گھر سے خوب اچھی طرح وضو کر کے نکلے اور ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہوئے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تمہارا گناہ معاف کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22267
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وَضُوئِهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ , ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ , نَزَلَتْ خَطِيئَتُهُ مِنْ كَفَّيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ , فَإِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ , نَزَلَتْ خَطِيئَتُهُ مِنْ لِسَانِهِ وَشَفَتَيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ , فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ , نَزَلَتْ خَطِيئَتُهُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ , مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ , فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ , وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ , سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ هُوَ لَهُ , وَمِنْ كُلِّ خَطِيئَةٍ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " , قَالَ : " فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ , رَفَعَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَتَهُ , وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ مسلم نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اور وضو کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر پانی کا پہلا قطرہ ٹپکتے ہی اس کے گناہ معاف ہونے لگتے ہیں جب وہ کلی کرتا، ناک میں پانی ڈالتا اور ناک صاف کرتا ہے تو اس کی زبان اور ہونٹوں کے گناہ پانی کے پہلے قطرے سے ہی زائل ہوجاتے ہیں جب وہ چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے پہلے قطرے سے ہی اس کی آنکھوں اور کانوں کے گناہ زائل ہوجاتے ہیں اور جب وہ کہنیوں تک ہاتھوں اور ٹخنوں تک پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گزشتہ سارے خطرناک گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ ہر گناہ سے اس طرح محفوظ ہوجاتا ہے جیسے اپنی پیدائش کے وقت تھا اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے اور اگر وہ بیٹھتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22268
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ , مَعَهُمْ الصُّحُفُ يَكْتُبُونَ النَّاسَ , فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ , طُوِيَتْ الصُّحُفُ " , قُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ , لَيْسَ لِمَنْ جَاءَ بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ جُمُعَةٌ ؟ قَالَ : بَلَى , وَلَكِنْ لَيْسَ مِمَّنْ يُكْتَبُ فِي الصُّحُفِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ملائکہ مسجدوں کے دروازوں پر آکربیٹھ جاتے ہیں اور پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والوں کے نام لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے اٹھا لئے جاتے ہیں۔ راوی نے پوچھا اے ابو امامہ ! امام کے نکل آنے کے بعدجو لوگ جمعہ میں شریک ہوتے ہیں انہیں کوئی ثواب نہیں ملتا ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن ان صحیفوں میں ان کا نام نہیں لکھا جاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22269
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَطُّ , إِلَّا أَمَرَنِي بِالسِّوَاكِ , لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدَّمَ فِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جب بھی جبرائیل علیہ السلام آئے انہوں نے مجھے ہمیشہ مسواک کا حکم دیا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ میں اپنے منہ کا اگلا حصہ چھیل ڈالوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22270
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الواسِطيَّ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمِقَةَ مِنَ اللَّهِ قَالَ شَرِيكٌ : هِيَ الْمَحَبَّةُ , وَأُلْقِيَتْ مِنَ السَّمَاءِ , فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا , قَالَ لِجِبْرِيلَ : إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا , فَيُنَادِي جِبْرِيلُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمِقُ يَعْنِي يُحِبُّ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ أَرَى شَرِيكًا قَدْ قَالَ : فَيُنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةَ فِي الْأَرْضِ , وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا , قَالَ لِجِبْرِيلَ : إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ , قَالَ : فَيُنَادِي جِبْرِيلُ : إِنَّ رَبَّكُمْ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ , قَالَ : أَرَى شَرِيكًا قَدْ قَالَ : فَيَجْرِي لَهُ الْبُغْضُ فِي الْأَرْضِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محبت اللہ کی طرف سے اور ناموری آسمان سے آتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پھر جبرائیل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتے ہیں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو پھر یہ محبت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے کہتا ہے کہ میں فلاں آدمی سے نفرت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے نفرت کرو پھر جبرائیل علیہ السلام اعلان کردیتے ہیں کہ تمہارا رب فلاں آدمی سے نفرت کرتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے نفرت کرو چنانچہ زمین والوں کے دل میں اس کی نفرت بیٹھ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك
حدیث نمبر: 22271
حَدَّثَنَا عَبْد الله , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ , أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك
حدیث نمبر: 22272
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ , وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى , فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ , إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ , فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ , وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ , ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ , غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ رِجْلُهُ , وَقَبَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ , وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ , وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ , وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ سُوءٍ " , قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أُحْصِيهِ.
مولانا ظفر اقبال
ابو مسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ مسجد میں بیٹھے تھے اور جوئیں نکال نکال کر کنکریوں میں ڈال رہے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابو امامہ ! ایک آدمی نے مجھے آپ کے حوالے سے بتایا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھوئے اپنے سر اور کانوں کا مسح کرے، پھر فرض نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس دن اس کے وہ گناہ معاف ہوجائیں گے جن کی طرف وہ اپنے پاؤں سے چل کر گیا، جنہیں ہاتھ سے پکڑ کر کیا جنہیں اس کے کانوں نے سنا، اس کی آنکھوں نے دیکھا اور دل میں ان کا خیال پیدا ہوا ؟ انہوں نے فرمایا بخدا ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اتنی مرتبہ سنی ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى مسلم، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاتِكَةِ , عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي دُبُرِ صَلَاةٍ " , قَالَ أَبِي : وَقَالَ غَيْرُهُ : فِي إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : قُلْتُ لِأَبِي : مِنْ أَيْنَ سَمِعَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاتِكَةِ ؟ قَالَ : كَانَ أَصْلُهُ شَامِيًّا سَمِعَ مِنْهُ بِالشَّامِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح پڑھنا کہ درمیان میں کوئی لغو کام نہ کرے علیین میں لکھا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل عثمان ابن أبى العاتكة، وقد توبع
حدیث نمبر: 22274
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ اللَّيْثِيُّ , عَنْ أَبِي الْحَصِينِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ جَهَنَّمَ , فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھٹی کا اثر ہوتا ہے اگر مسلمان کو بخار ہوتا ہے تو وہ جہنم سے اس کا حصہ ہوتا ہے (جو دنیا میں اسے دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں اسے جہنم سے پچا لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، أبو حصين إن كان هو مروان بن رؤية الشامي فهو ثقة، وإن كان هو راو آخر فهو مجهول
حدیث نمبر: 22275
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سَبْعًا , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : إِلَّا تسْعَ مِرَارٍ , مَا حَدَّثَ بِهِ , قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ كَمَا أُمِرَ , ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ , وَيَدَيْهِ , وَرِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر میں نے یہ حدیث کم از کم سات مربہ نہ سنی ہوتی تو میں اسے کبھی بیان نہ کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص حکم کے مطابق وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22276
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , سَمِعَ أَبَا نَصْرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ " , أَوْ قَالَ : " لَا مِثْلَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے جیسا کوئی عمل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات غير أن بين أبى نصر وبين أبى أمامة رجاء بن حيوة الكندي
حدیث نمبر: 22277
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي , وَطُوبَى سَبْعَ مِرَارٍ لِمَنْ آمَنْ بِي وَلَمْ يَرَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22278
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ , وَعَتَّابٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ , إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی پہلی نظر کسی عورت کے محاسن پر پڑے اور وہ اپنی نگاہیں جھکا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادت میں وہ لذت پیدا کردیں گے جس کی حلاوت وہ خود محسوس کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، على بن يزيد وعبيد الله بن زحر ضعيفان
حدیث نمبر: 22279
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , يَرْفَعُ الْحَدِيثَ , قَالَ : " مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبيد الله بن زحر
حدیث نمبر: 22280
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الْمُغَنِّيَاتِ , وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ , وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ , وَلَا خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ , وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گانا گانے والی باندیوں کی خریدوفروخت نہ کرو اور انہیں گانے بجانے کی تعلیم نہ دلواؤ اور ان کی تجارت میں کوئی خیر نہیں اور ان کی قیمت میں (کمائی) کھانا حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22281
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سَبْعَ مِرَارٍ , مَا حَدَّثْتُ بِهِ , قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ كَمَا أُمِرَ , ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ , وَبَصَرِهِ , وَيَدَيْهِ , وَرِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر میں نے یہ حدیث کم از کم سات مربہ نہ سنی ہوتی تو میں اسے کبھی بیان نہ کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص حکم کے مطابق وضو کرتا ہے تو اس کے کانوں، آنکھوں، ہاتھوں اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22282
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ , فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا , وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ , وَقَالَ : " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ " , قَالَ حَمَّادٌ : فَلَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ , أَوْ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْمُوقَيْنِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے چہرے اور ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھویا سر کا مسح کیا اور فرمایا کہ کان سر کا حصہ ہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے حلقے مسلتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: الأذنان من الرأس ....، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وابن ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله:الأذنان من الرأس
حدیث نمبر: 22283
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ , حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارٍ بِيضٌ لِحَاهُمْ , فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ , حَمِّرُوا , وَصَفِّرُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " , قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَسَرْوَلَونَ وَلَا يَأْتَزِرُونَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " , قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ , , قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " , قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ , وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ , قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ , وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ عمر رسیدہ افراد کے پاس " جن کی ڈاڑھیاں سفید ہوچکی تھیں " تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ انصار ! اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ یا زرد کرلو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں تہنبد نہیں باندھتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شلوار بھی پہن سکتے ہو اور تہبند بھی باندھ سکتے ہو، البتہ اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں، جوتے نہیں پہنتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم موزے بھی پہنا کرو اور جوتے بھی پہنا کرو اور اس طرح اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اہل کتاب ڈاڑھی کٹاتے اور مونچھیں بڑھاتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مونچھیں تراشا کرو اور ڈاڑھیاں بڑھایا کرو اور اس طرح اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22284
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ أَوْ يَتِيمَةٍ لَمْ يَمْسَحْهُ إِلَّا لِلَّهِ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مَرَّتْ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ , وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ , كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ " وَقَرَنَ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی یتیم بچے یا بچی کے سر پر ہاتھ پھیرے اور صرف اللہ کی رضا کے لئے پھیرے تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ پھر جائے گا، اسے ہر بال کے بدلے نیکیاں ملیں گی اور جو شخص اپنے زیر تربیت کسی یتیم بچے یا بچی کے ساتھ حسن سلوک کرے میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلی میں تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر دکھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، دون شطر الأول منه بقصة المسح على رأس اليتيم، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل على بن يزيد وعبدالله بن زحر
حدیث نمبر: 22285
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ سورة إبراهيم آية 17 - 17 قَالَ : " يُقَرَّبُ إِلَيْهِ , فَيَتَكَرَّهُهُ , فَإِذَا دَنَا مِنْهُ شُوِيَ وَجْهُهُ , وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ , وَإِذَا شَرِبَهُ , قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ , يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ سورة محمد آية 15 وَيَقُولُ اللَّهُ : وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ سورة الكهف آية 29 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی و یسقی من ماء صدید " کی تفسیر میں فرمایا کہ جہنمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا وہ پانی اس کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے گھن کھائے گا جب مزید قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کے بال جھڑ جائیں گے اور جب وہ پانی اپنے حلق سے اتارے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ پانی اس کی پچھلی شرمگاہ سے باہر آجائے گا اسی کے متعلق ارشادربانی ہے " وسقو ماء حمیما فقطع امعاہ م " اور " وان یستغیثوا یغاثوا بماء کلمہل یشوی۔۔۔۔۔۔۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات معروفون غير عبيدالله بن بسر، فقد اختلف فيه على عبدالله بن المبارك
حدیث نمبر: 22286
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ , حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَامَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَقَالَ : " هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , فَقَالَ : " هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا ہے لہٰذا مجھے کتاب اللہ کی روشنی میں سزا دے دیجئے اسی دوران نماز کھڑی ہوگئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور فراغت کے بعد جب واپس جانے لگے تو وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے چلا گیا میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا، اس نے پھر اپنی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا ایسا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تمہارا گناہ معاف کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22287
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي فِي شِدَّةِ حَرٍّ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِشِسْعٍ , فَوَضَعَهُ فِي نَعْلِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَمْ يَعْلُ مَا حَمَلْتَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ شدید گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا ایک آدمی دوسرا تسمہ لے کر آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی میں ڈالنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اگر تمہیں یہ معلوم ہوتا کہ تم نے اللہ کے پیغمبر پر کتنا بوجھ لاد دیا ہے تو وہ اتنا بلند نہ ہوتا جو تم نے اللہ کے رسول پر ڈال دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22288
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِم أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا , وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ , فَأَقْصَرُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ , فَأَتَى , فَجَلَسَ إِلَيْهِ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ , هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ ؟ " , قَالَ : لَا , قَالَ : " قُمْ فَصَلِّ " , فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ الضُّحَى أَقْبَلَ عَلَيْهِ , فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ , تَعَوَّذْ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " , قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَهَلْ لَلْإِنْسِ شَيَاطِينٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ , شَيَاطِينُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا " , ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ , أَلَا أُعَلِّمُكَ كلمة مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " , قَالَ : بَلَى , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ : " قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " , قَالَ : فَقُلْتُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَ : ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي , فَاسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعَبَدَةَ أَوْثَانٍ , فَبَعَثَكَ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ , أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَاذَا هِيَ ؟ قَالَ : " خَيْرٌ مَوْضُوعٌ , مَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ , وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ , مَاذَا هُوَ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ , مَاذَا هِيَ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ , وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّمَا أُنَزَلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255 آيَةُ الْكُرْسِيِّ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سُفِكَ دَمُهُ , وَعُقِرَ جَوَادُهُ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا , وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ : " آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام " , قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ أَوَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ , خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ , ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ رُوحَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ : يَا آدَمُ قُبْلًا " , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَمْ وَفَّى عِدَّةُ الْأَنْبِيَاءِ ؟ قَالَ : " مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا , الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر کیا تم نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! نماز کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چاہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کرلے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صدقہ کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے ؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی تھے ؟ فرمایا ہاں، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا : میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! رسول کتنے آئے ؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی ؟ فرمایا آیت الکرسی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22289
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , فَقَالَ : " أَوْجَبَ هَذَا " أَو " وَجَبَتْ لِهَذَا الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا، من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22290
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ مَوْلَى بَنِي يَزِيدَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ : لَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمَ , فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ , وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ " وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ سورة المائدة آية 101 , قَالَ : فَكُنَّا قَدْ كَرِهْنَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ , وَاتَّقَيْنَا ذَاكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ , قَالَ : فَاعْتَمَّ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ خَارِجَةً مِنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ , قَالَ : ثُمَّ قُلْنَا لَهُ : سَلْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَقَالَ لَهُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ , وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا , وَعَلَّمْنَا نِسَاءَنَا , وَذَرَارِيَّنَا , وَخَدَمَنَا ؟ قَالَ : فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ , قَالَ : فَقَالَ : " أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! وهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ الْمَصَاحِفُ , لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ , أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ " ثَلَاثَ مِرَارٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے ایک گندمی رنگ کے اونٹ پر کھڑے ہوئے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور فرمایا اے لوگو ! علم حاصل کرو قبل اس کے کہ علم اٹھا لیا جائے اور قبل اس کے کہ علم قبض کرلیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ہے " اے اہل ایمان ! ان چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جن کی وضاحت اگر تمہارے سامنے کردی جائے تو تمہیں ناگوار گذرے۔۔۔۔۔۔۔ " اس آیت کے نزول کے بعد ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور اس سے احتیاط کرتے تھے۔ ایک دن ہم ایک دیہاتی کے پاس گئے اس نے ہماری خاطر اپنی چادر بچھائی اور دیر تک بیٹھا رہاحتیٰ کہ میں نے چادر کے کنارے نکل کر اس کی دائیں ابرو پر لٹکتے ہوئے دیکھے تھوڑی دیر بعد ہم نے اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال پوچھو، چنانچہ اس نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ! جب ہمارے درمیان قرآن کے نسخے موجود ہوں گے تو ہمارے درمیان سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہم خود بھی اس کے احکامات کو سیکھ چکے ہیں اور اپنی بیویوں، بچوں اور خادموں کو بھی سکھا چکے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو چہرہ مبارک پر غصے کی وجہ سے سرخی چھا چکی تھی پھر فرمایا تیری ماں تجھے روئے ان یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس بھی تو آسمانی کتابوں کے مصاحف موجود ہیں لیکن اب وہ کسی ایک حرف سے بھی نہیں چمٹے ہوئے جو ان کے انبیاء (علیہم السلام) لے کر آئے تھے یاد رکھو ! علم اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ حاملین علم اٹھ جائیں گے تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22291
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ , قَالَ : فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ , قَالَ : فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ , فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ , وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ , وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا , ثُمَّ قَالَ : لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ , وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ , فَأَتَاهُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ , فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ , وَأَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا , قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ , وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا , وَلَمُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد میں نکلے تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گذرا جہاں کچھ پانی بھی موجود تھا، اس کے دل میں خیال آیا کہ اسی غار میں مقیم ہوجائے اور وہاں موجود پانی سے اپنی زندگی کا سہارا قائم رکھے اور آس پاس موجود سبزیاں کھالیا کرے اور دنیا سے گوشہ نشینی اختیار کرلے پھر اس نے سوچا کہ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے اس کا تذکرہ کرلوں اگر انہوں نے اجازت دے دی تو میں ایسا ہی کروں گا ورنہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میرا ایک غار کے پاس سے گذر ہوا جس میں میرے گذارے کے بقدر پانی اور سبزی موجود ہے میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہیں مقیم ہوجاؤں اور دنیا سے کنارہ کشی کرلوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیت یا عیسائیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا مجھے تو صاف ستھرے دین حنیف کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام کو نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کا جہاد کی صف میں کھڑا ہونا ساٹھ سال کی نماز سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22292
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , قَال : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ , قَالَ : فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ , قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ , وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ , فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ , فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ , إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ , قَالَ : فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ دَفَنْتُمْ هَاهُنَا الْيَوْمَ ؟ " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فُلَانٌ وَفُلَانٌ , قَالَ : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ , وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فِيمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ , وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ " وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا , ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَلِمَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : " لِيُخَفَّفَ عَنْهُمَا " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَحَتَّى مَتَى يُعَذِّبُهُمَا اللَّهُ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ " , قَالَ : " وَلَوْلَا تَمَزُّعُ قُلُوبِكُمْ أَوْ تَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ , لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کی موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع غرقد کے پاس سے گذرے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جوتیوں کی آواز سنی تو دل میں اس کا خیال پیدا ہوا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور انہیں آگے روانہ کردیا تاکہ دل میں کسی قسم کی بڑائی کا کوئی خیال نہ آئے، اس کے بعد وہاں سے گذرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گذرے جہاں دو آدمیوں کو دفن کیا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا کہ آج تم نے یہاں کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ ! فلاں فلاں آدمی کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت انہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے اور ان کی آزمائش ہو رہی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک تو پیشاب کے قطرات سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلخوری کیا کرتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی درخت کی ایک تر شاخ لے کر اس کے دو ٹکڑے کئے اور دونوں قبروں پر اسے لگا دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! انہیں کب تک عذاب میں مبتلا رکھا جائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ غیب کی بات ہے جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اگر تمہارے دلوں میں بات خلط ملط نہ ہوجاتی یا تمہارا آپس میں اس پر بحث کرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جو آوازیں میں سن رہا ہوں وہ تم بھی سنتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22293
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ , حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِم أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا , فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ , فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ , فَقَالَ : يَا لَيْتَنِي مِتُّ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا سَعْدُ , أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ ؟ " , فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ : " يَا سَعْدُ , إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ , أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ , فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتیں فرمائیں جس پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بہت دیر تک روتے رہے اور کہنے لگے اے کاش ! میں مرچکا ہوتا نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد ! میرے سامنے تم موت کی تمنا کر رہے ہو اور تین مرتبہ اس بات کو دہرایا پھر فرمایا اے سعد ! اگر تم جنت کے لئے پیدا ہوئے ہو تو تمہاری عمر جتنی لمبی ہو اور تمہارے اعمال جتنے اچھے ہوں یہ تمہارے حق میں اتنا ہی بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل على بن يزيد
حدیث نمبر: 22294
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَّ حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ , فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ , وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ , وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ , أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ , فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , لَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " , فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَا الطَّعَامَ ؟ قَالَ : " ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا " , قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ , وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ , وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ , وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا وارث کے لئے وصیت نہیں ہوگی بچہ بستر والے کا ہوگا اور بدکار کے لئے پتھر ہیں اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے اور جو شخص اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ یا اپنے آقاؤں کے علاوہ کسی اور کی طرف کرتا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے جو قیامت تک اس کا پیچھا کرے گی، کوئی عورت اپنے گھر میں سے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کھانا بھی نہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو ہمارا افضل مال ہے پھر فرمایا عاریت ادا کی جائے اور ہدیئے کا بدلہ دیا جائے، قرض ادا کیا جائے اور قرض دار ضامن ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22295
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ شُرَحْبِيلَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الزَّعِيمُ غَارِمٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرض دار ضامن ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن