حدیث نمبر: 22216
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال رجل: يارسول الله.... فهي زياده شاذة
حدیث نمبر: 22217
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ سُمَيْعٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ , فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کیا تو تین تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھویا تین مرتبہ کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سميع مجهول، وعمرو لم يسمع من سميع، وسميع لم يسمع من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22218
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَنْبَأَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ الْحِمْصِيُّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ , وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْحَقَ الْمَزَامِيرَ وَالْكَبَارَاتِ يَعْنِي : الْبَرَابِطَ , وَالْمَعَازِفَ , وَالْأَوْثَانَ الَّتِي كَانَتْ تُعْبَدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَأَقْسَمَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ : لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ , إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ , وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا , إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ , وَلَا يَدَعُهَا عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي مِنْ مَخَافَتِي , إِلَّا سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ , وَلَا يَحِلُّ بَيْعُهُنَّ , وَلَا شِرَاؤُهُنَّ , وَلَا تَعْلِيمُهُنَّ , وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ , وَأَثْمَانُهُنَّ حَرَامٌ لِلْمُغَنِّيَاتِ " . قَالَ يَزِيدُ : الْكَبَارَاتِ : الْبَرَابِطُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جہان والوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ موسقی کے آلات، طبلے، آلات لہو ولعب اور ان تمام بتوں کو مٹا ڈالوں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش کی جاتی تھی اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ میرا جو بندہ بھی شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا میں اس کے بدلے میں اسے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور اگر کسی نابالغ بچے کو بھی اس کا ایک گھونٹ پلایا تو اسے بھی اس کے بدلے میں جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور میرا جو بندہ میرے خوف کی وجہ سے اسے چھوڑ دے گا میں اسے اپنی پاکیزہ شراب پلاؤں گا اور مغنیہ عورتوں کی بیع وشراء انہیں گانابجانا سکھانا اور ان کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، فرج بن فضالة ضعيف، وعلي بن يزيد ضعيف
حدیث نمبر: 22219
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا تَحْمِلُهُ , وَبِيَدِهَا آخَرُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : وَهِيَ حَامِلٌ , فَلَمْ تَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يَوْمَئِذٍ إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ , ثُمَّ قَالَ : " حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ , لَوْلَا مَا يَأْتُينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ , دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنے ایک بچے کے ہمراہ اسے اٹھاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مانگنے کے لئے آئی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی مانگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دیا پھر فرمایا بچوں کو اٹھانے والی یہ مائیں اپنی اولاد پر کتنی مہربان ہیں اگر وہ چیز نہ ہوتی جو یہ اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نمازی عورتیں جنت میں داخل ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمعه من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22220
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , قَالَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " , فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , قَالَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَيْتُكَ تَتْرَى ثَلَاثًا أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ , فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , فَمُرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ " , قَالَ : وَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لَا يَكَادُ يُرَى فِي بَيْتِهِ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ , فَإِذَا رُئِيَ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ , عَرَفُوا أَنَّ ضَيْفًا اعْتَرَاهُمْ , مِمَّا كَانَ يَصُومُ هُوَ وَأَهْلُهُ , قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ , فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ , قَالَ : " اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً , إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دو بارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ ! اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرمادیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہاجب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْعَدَّاءِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَوَجَدُوا فِي مِئْزَرِهِ دِينَارًا , أَوْ دِينَارَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيَّةٌ أَوْ كَيَّتَانِ " عَبْدُ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَشُكُّ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا اور ایک دو دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کا ایک یا دو داغ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22222
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ بَنِي الْعَدَّاءِ مِنْ كِنْدَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22223
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : " وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَر ثَلَاثًا ثَلَاثًا , وَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ , وَقَالَ : وَالْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ , قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ , وَقَالَ : بِأُصْبُعَيْهِ " , وَأَرَانَا حَمَّادٌ وَمَسَحَ مَاقَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھونے کا ذکر کیا، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا عدد مجھے یاد نہیں رہا اور فرمایا کہ کان سر کا حصہ ہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے حلقوں کو مسلتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: الأذنان من الرأس، والمسح على المأقين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وأبي ربيعة، وللاختلاف فى رفع ووقف قوله: الأذنان من الرأس
حدیث نمبر: 22224
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ سُمَيْعٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " كَانَ يُمَضْمِضُ ثَلَاثًا , وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا , وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کلی کرتے تھے تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے اور چہرہ اور ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سميع مجهول، وعمرو لم يسمع من سميع، وسميع لم يسمع من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22225
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم أَنَّهُ قَالَ : " لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوفَ , أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوهُكُمْ , وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَكُمْ , , أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو ورنہ تمہارے چہرے مسخ کردیئے جائیں گے اور نگاہیں نیچی رکھا کرو، ورنہ تمہاری بینائی سلب کرلی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر، وعلي بن يزيد ضعيفان، لكنه صح بغير هذه السياقة
حدیث نمبر: 22226
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا گذر خالد بن یزید پر ہوا تو اس نے ان سے پوچھا کہ کوئی نرم بات جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یاد رکھو ! تم میں سے ہر شخص جنت میں داخل ہوگا سوائے اس آدمی کے جو اللہ کی اطاعت سے اس طرح بدک کر نکل جائے جیسے اونٹ اپنے مالک کے سامنے بدک جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حسن
حدیث نمبر: 22227
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْدِمْنَا , فَقَالَ : " خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " , فَقَالَ : خِرْ لِي , قَالَ : " خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ , فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ , وَإِنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ " , وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ الْغُلَامَ الْآخَرَ , فَقَالَ : " اسْتَوْصِ بِهِ خَيْرًا " , ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ , مَا فَعَلَ الْغُلَامُ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ ؟ " , قَالَ : أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ خَيْرًا , فَأَعْتَقْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو ان کے ہمراہ دو غلام بھی تھے جن میں سے ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا اسے مارنا نہیں کیونکہ میں نے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے اور اسے میں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا غلام حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کودے دیا اور فرمایا میں تمہیں اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں انہوں نے اسے آزاد کردیا ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا وہ غلام کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی تھی لہٰذا میں نے اسے آزاد کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري
حدیث نمبر: 22228
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " يَا ابْنَ آدَمَ , إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ , فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى , لَمْ أَرْضَ لَكَ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم ! اگر میں تیری پیاری آنکھیں واپس لے لوں اور تو اس پر ثواب کی نیت سے ابتدائی صدمہ کے اوقات میں صبر کرلے تو میں تیرے لئے جنت کے علاوہ کسی اور بدلے پر راضی نہیں ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22229
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ اللہ کی رضاء کے لئے کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو در حقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی عزت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22230
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ عَنِ النَّافِلَةِ , فَقَالَ : " كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَافِلَةً , وَلَكُمْ فَضِيلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
ابو غالب سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے " نافلہ " کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نافلہ ہے جبکہ تمہارے لئے باعث اجروثواب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري
حدیث نمبر: 22231
حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قَالَ : أَتَيْتُ فَرْقَدًا يَوْمًا فَوَجَدْتُهُ خَالِيًا , فَقُلْتُ : يَا ابْنَ أُمِّ فَرْقَدٍ لَأَسْأَلَنَّكَ الْيَوْمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ , فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِكَ فِي الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ , أَشَيْءٌ تَقُولُهُ أَنْتَ , أَوْ تَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا , بَلْ آثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ : وَمَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , وَحَدَّثَنِي بِهِ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَبِيتُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَكْلٍ , وَشُرْبٍ , وَلَهْوٍ , وَلَعِبٍ , ثُمَّ يُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ , فَيُبْعَثُ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَائِهِمْ رِيحٌ , فَتَنْسِفُهُمْ كَمَا نَسَفَتْ مَنْ كَانَ قَبْلَهُمْ , بِاسْتِحْلَالِهِمْ الْخُمُورَ , وَضَرْبِهِمْ بِالدُّفُوفِ , وَاتِّخَاذِهِمْ الْقَيْنَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن میں " فرقد " کے پاس آیا تو انہیں تنہا پایا، میں نے ان سے کہا اے ابن ام فرقد ! آج میں آپ سے اس حدیث کے متعلق ضرور پوچھ کر رہوں گا یہ بتائیے کہ خسف اور قذف سے متعلق بات آپ اپنی رائے کہتے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتا ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے ؟ انہوں نے کہا عاصم بن عمرو بجلی نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ رات بھر کھانے پینے اور لہو ولعب میں مصروف رہے گا جب صبح ہوگی تو ان کی شکلیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل چکی ہوں گی، پھر ان کے محلوں پر ایک ہوا بھیجی جائے گی جو انہیں اس طرح بکھیر کر رکھ دے گی جیسے پہلے لوگوں کو بکھیر کر رکھ دیا تھا کیونکہ وہ شراب کو حلال سمجھتے ہوں گے، دف (آلات موسیقی) بجاتے ہوں گے اور گانے والی عورتیں (گلو کارائیں) بنا رکھی ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا الحديث له ثلاثة أسانيد، الأول ضعيف لضعف سيار فرقد، والثاني مرسل، والثالث: معضل
حدیث نمبر: 22232
حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ مَيْمُونٍ الْكُوفِيُّ الْجُعْفِيُّ , كَانَ يَجْلِسُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ يَعْنِي : مَدِينَةَ أَبِي جَعْفَرٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : هَذَا شَيْخٌ قَدِيمٌ كُوفِيٌّ , عَنْ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ , فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ , فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : بِلَالٌ , قَالَ : فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ , وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ , وَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ , قِيلَ لِي : أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَاهُنَا بِالْبَابِ يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ , وَأَمَّا النِّسَاءُ , فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ , قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ , فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ , أُتِيتُ بِكِفَّةٍ , فَوُضِعْتُ فِيهَا , وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ , فَرَجَحْتُ بِهَا , ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ , وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي , فوُضعَتْ فِي كِفَّةٍ , فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , ثم أتى بِعُمَرَ , فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ , وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا , فَرَجَحَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , وَعُرِضَتْ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا , فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ , فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ , ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ , فَقُلْتُ : عَبْدُ الرُّحْمَنِ ! فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ , قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے سے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ بلال ہیں، میں آگے چل پڑا تو دیکھا کہ جنت میں اکثریت مہاجر فقراء اور مسلمانوں کے بچوں کی ہے اور میں نے وہاں مالداروں اور عورتوں سے زیادہ کم تعداد کسی طبقے کی نہیں دیکھی اور بتایا گیا کہ مالدار تو یہاں جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں جہاں ان سے حساب کتاب اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور خواتین کو سونے اور ریشم نے ہی غفلت میں ڈالے رکھا۔ پھر ہم جنت کے آٹھ میں سے کسی دروازے سے نکل کر باہر آگئے ابھی میں دروازے پر ہی تھا کہ ایک ترازو لایا گیا جس کے ایک پلڑے میں مجھے رکھا گیا اور دوسرے میں میری ساری امت کو تو میرا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر میری امت کے ایک ایک آدمی کو میرے سامنے پیش کیا گیا اور وہ میرے آگے سے گذرتے رہے لیکن میں نے دیکھا کہ عبدالرحمن بن عوف نے آنے میں بہت تاخیر کردی ہے کافی دیر بعد جب امید ٹوٹنے لگی تو وہ آئے میں نے ان سے پوچھا عبدالرحمن ! کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میری تو جان خلاصی اس وقت ہوئی ہے جب کہ میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اب کبھی آپ کی زیارت نہیں کرسکوں گا، الاّ یہ کہ ٹھنڈے دن آجائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس وجہ سے ؟ عرض کیا مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے میرا حساب کتاب اور جانچ پڑتال کی جا رہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، على بن يزيد واهي الحديث، وعبيد الله وأبو المهلب ضعيفان
حدیث نمبر: 22233
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ الشَّامِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمِقَةُ فِي السَّمَاءِ , فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا , قَالَ : إِنِّي أَحْبَبْتُ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ " , قَالَ : " فَتَنْزِلُ لَهُ الْمِقَةُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محبت (اللہ کی طرف سے اور ناموری) آسمان سے آتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو (حضرت جبرائیل علیہ السلام سے) فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پھر یہ محبت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 22234
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيلَحِينِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : إِنِّي لَتَحْتَ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ , فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِيلًا , وَكَانَ فِيمَا قَالَ : " مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ , وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا , وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَهُ أَجْرُهُ , وَلَهُ مَا لَنَا وَعَلَيْهِ مَا عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے نیچے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بڑی عمدہ باتیں فرمائیں، انہی میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اہل کتاب کا جو آدمی مسلمان ہوجائے گا اسے دوگنا اجر ملے گا اور حقوق و فرائض میں وہ ہماری طرح ہوجائے گا اور مشرکین میں سے جو آدمی مسلمان ہوجائے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور وہ بھی حقوق و فرائض میں ہماری طرح ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن الهيعة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22235
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا النَّجَاةُ ؟ قَالَ : " أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ , وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ , وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مؤمن کی نجات کس طرح ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ بکاء کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22236
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ , أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ , فَيَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمْ الْمُصَافَحَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی مکمل بیمار پرسی یہ ہے کہ تم اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھو کہ وہ کیسا ہے ؟ اور تمہاری باہمی ملاقات کے آداب کا مکمل ہونا " مصافحہ " سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22237
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ , حَدَّثَنَا أَبُو الرَّصَافَةِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَاهِلَةَ أَعْرَابِيٌّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ , فَيَقُومُ , فَيَتَوَضَّأُ , فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي , فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ , إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ بِهَا مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ , ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً , فَيُصَلِّي , فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ , ثُمَّ يَحْضُرُ صَلَاةً مَكْتُوبَةً , فَيُصَلِّي , فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس مسلمان آدمی پر فرض نماز کا وقت آئے اور وہ کھڑا ہو کر خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر خوب اچھی طرح نماز پڑھے تو اس نماز اور گزشتہ نماز کے درمیان ہونے والے اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں پھر دوسری فرض نماز کا وقت آئے اور وہ کھڑا ہو کر خوب اچھی طرح نماز پڑھے تو اس نماز اور گزشتہ نماز کے درمیان ہونے والے اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22238
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , أَخْبَرَنِي حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ , وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22239
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ , فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا النَّارَ , وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے، اللہ اس کے لئے جہنم کو واجب کردیتا ہے اور جنت کو اس پر حرام قرار دے دیتا ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 137
حدیث نمبر: 22240
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا أَبُو أُمَامَةَ الْحَارِثِيُّ , وَلَيْسَ هُوَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ یاد رہے کہ یہ حضرت ابو امامہ حارثی انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو دوسرے صحابی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 22241
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَأْتِي أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ , وَلَا يَؤُمَّنَّ أَحَدُكُمْ فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ , فَمَنْ فَعَلَ , فَقَدْ خَانَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص پیشاب وغیرہ زبردستی روک کر نماز کے لئے مت آیا کرے اور جو شخص کو نماز پڑھائے وہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ مانگے جو ایسا کرتا ہے وہ نمازیوں سے خیانت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: ولا يؤمن أحدكم.....،وهذا إسناد ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم قد اختلف فيه على يزيد بن شريح
حدیث نمبر: 22242
حَدَّثَنَا زَيْدٌ , حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ , حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ , وَالثَّانِيَ , وَالثَّالِثَ حَتَّى إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ رُفِعَتْ الصُّحُفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ملائکہ مسجدوں کے دروازوں پر آکربیٹھ جاتے ہیں اور پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والوں کے نام لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے اٹھالیے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22243
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَني أَبُو غَالِبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ , وَدَفْنُهُ حَسَنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اسے مٹی میں ملا دینا نیکی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22244
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , وَأَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : " مَا كَانَ يَفْضُلُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22245
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنْ لَيْثٍ , عَنِ ابْنِ سَابِطٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ , فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ , وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ , وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا , فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ , وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ , وَلَا نِصْفَ النَّهَارِ , فَإِنَّهُ عِنْدَ سَجْرِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طلوع آفتاب کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت ہر کافر اسے سجدہ کرتا ہے اسی طرح غروب آفتاب کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت ہر کافر اسے سجدہ کرتا ہے اسی طرح نصف النہار کے وقت کوئی نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وابن سابط لم يسمع من أبى أمامة
حدیث نمبر: 22246
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا : إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ , وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں سورت زلزال اور سورت کافرون کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون تعيين قرأة النيي ﷺ فيهما، فهي محتملة للتحسين، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22247
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَرْبَعَةٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ : مُرَابِطٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أُجْرِيَ لَهُ مِثْلُ مَا عَمِلَ , وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَجْرُهَا لَهُ مَا جَرَتْ , وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا فَهُوَ يَدْعُو لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار قسم کے لوگوں کا اجروثواب ان کے مرنے کے بعد بھی انہیں ملتا رہتا ہے (١) اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا (٢) ایسا نیک عمل کرنے والا جس کا عمل جاری ہوجائے (٣) صدقہ جاریہ کرنے والا آدمی (٤) وہ آدمی جو نیک اولاد چھوڑ جائے اور وہ اولاد اس کے لئے دعاء کرتی رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وخالد بن أبى عمران لم يسمع من أبى أمامة، وقوله: ومن عمل عملا....ما عملخطأ، صوابه: ورجل علم علما، فأجره يجري عليه ما عمل به
حدیث نمبر: 22248
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ریشم اور سونا نہ پہنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22249
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ریشم اور سونا نہ پہنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22250
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَال : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ : رَبِيعَةَ وَمُضَرَ " , قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَ مَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا أَقُولُ مَا أُقَوَّلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف ایک آدمی کی شفاعت کی برکت سے " جو نبی نہیں ہوگا " ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں یا ایک قبیلے کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ربیعہ، مضر قبیلے کا حصہ نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہنا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: قال قائل: يا رسول الله.... فهي شاذة
حدیث نمبر: 22251
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَفَعَ لِأَحَدٍ شَفَاعَةً , فَأَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً فَقَبِلَهَا , فَقَدْ أَتَى بَابًا عَظِيمًا مِنَ الرِّبَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی کی سفارش کرے اور سفارش کروانے والا اسے کوئی ہدیہ پیش کرے جسے وہ قبول کرلے تو وہ سود کے ایک عظیم دروازے میں داخل ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه متابع، والقاسم بن عبدالرحمن له أفرادات، وهذا منها
حدیث نمبر: 22252
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، أبو المهلب وعبيد الله بن زحر ضعيفان، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيد , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْحِمْصِيِّ , قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْوُضُوءَ يُكَفِّرُ مَا قَبْلَهُ , ثُمَّ تَصِيرُ الصَّلَاةُ نَافِلَةً " , قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ , غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا مَرَّتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , وَلَا أَرْبَعٍ , وَلَا خَمْسٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور نماز انعامات کا سبب بنتی ہے کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک دو یا تین چار اور پانچ مرتبہ نہیں (بےشمار مرتبہ سنی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْجَعْدِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَاصٍّ يَقُصُّ , فَأَمْسَكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُصَّ فَلَأَنْ أَقْعُدَ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ , وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو ایک واعظ وعظ کہہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر وہ خاموش ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اپنا وعظ کرتے رہو میرے نیزدیک طلوع آفتاب کے وقت تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنا، اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف من أجل أبى الجعد
حدیث نمبر: 22255
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَأْتِ أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ , وَلَا يَخُصَّ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ دُونَ أَصْحَابِهِ , وَلَا يُدْخِلْ عَيْنَيْهِ بَيْتًا حَتَّى يَسْتَأْذِنَ " , فَقَالَ شَيْخٌ لَمَّا حَدَّثَهُ يَزِيد : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص پیشاب وغیرہ زبردستی روک کر نماز کے لئے مت آیا کرے اور جو شخص نماز پڑھائے وہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ مانگے کوئی شخص اجازت لئے بغیر گھر میں داخل نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: ولا يخص نفسه بشيء دون أصحابه، وهذا إسناد ضعيف لضعف السفر بن نسير، وقد اختلف فيه على يزيد بن شريح