حدیث نمبر: 22176
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ : حَدَّثَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وقد توبع
حدیث نمبر: 22177
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ , أَنَّهُ سَمِعَ شَيْخًا مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ , كَبَّرَ ثَلَاثًا , وَسَبَّحَ ثَلَاثًا , وَهَلَّلَ ثَلَاثًا , ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ , مِنْ هَمْزِهِ , وَنَفْخِهِ , وَشِرْكِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی نماز شروع کرنے لگتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر تین مرتبہ سبحان اللہ اور تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میں شیطان کے کچوکے اس کی پھونک اور اس کے شرک سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي له عن أبى أمامة، وقوله: وشركه غير محفوظ فى هذا الحديث، والمحفوظ: ونفثه
حدیث نمبر: 22178
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ بَخٍ بَخٍ : سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يَمُوتُ لِلرَّجُلِ , فَيَحْتَسِبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں کیا ہی خوب ہیں سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور انسان کا وہ نیک لڑکا جو فوت ہوجائے اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي له عن أبى أمامة
حدیث نمبر: 22179
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ , كَبَّرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , " وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ : " أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ , مِنْ هَمْزِهِ , وَنَفْخِهِ , وَنَفْثِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرنے لگتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر تین مرتبہ سبحان اللہ اور تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میں شیطان کے کچوکے اس کی پھونک اور اس کے شرک سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي له عن أبى أمامة ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22180
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ بَنِي الْعَدَّاءِ مِنْ كِنْدَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ , وَتَرَكَ دِينَارًا , أَوْ دِينَارَيْنِ , يَعْنِي : قَالَ له : " لَهُ كَيَّةٌ , أَوْ كَيَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا اور ایک دو دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کا ایک یا دو داغ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 22181
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ أَبِي الْعَنْبَس , عَنْ أَبِي الْعَدَبَّسِ , عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى عَصًا , فَقُمْنَا إِلَيْهِ , فَقَالَ : " لَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ الْأَعَاجِمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا " , قَالَ : فَكَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَدْعُوَ اللَّهَ لَنَا , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا , وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ " , فَكَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَزِيدَنَا , فَقَالَ : " قَدْ جَمَعْتُ لَكُمْ الْأَمْرَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لاٹھی سے ٹیک لگاتے ہوئے ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو ہم احتراماً کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہوا کرو جو ایک دوسرے کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں ہماری خواہش تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے دعاء فرما دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ ! ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم سے راضی ہوجا ہماری نیکیاں قبول فرما ہمیں جنت میں داخل فرما جہنم سے نجات عطاء فرما اور ہمارے تمام معاملات کو درست فرما ہم چاہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مزید دعاء فرمائیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس دعاء میں تمہارے لئے ساری چیزوں کو شامل کرلیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
حدیث نمبر: 22182
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ أَبِي , عَنْ أَبِي , عَنْ أَبِي , مِنْهُمْ أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
حدیث نمبر: 22183
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا غَالِبٍ , يَقُولُ : لَمَّا أُتِيَ بِرُءُوسِ الْأزَارِقَةِ , فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ , جَاءَ أَبُو أُمَامَةَ , فَلَمَّا رَآهُمْ , دَمَعَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ : " كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ هَؤُلَاءِ شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ , وَخَيْرُ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ هَؤُلَاءِ " , قَالَ : فَقُلْتُ : فَمَا شَأْنُكَ دَمَعَتْ عَيْنَاكَ ؟ قَالَ : رَحْمَةً لَهُمْ , إِنَّهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ , قَالَ : قُلْنَا : أَبِرَأْيِكَ , قُلْتَ : هَؤُلَاءِ كِلَابُ النَّارِ , أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَجَرِيءٌ , بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا ثِنْتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , قَالَ : فَعَدَّ مِرَارًا .
مولانا ظفر اقبال
ابو غالب کہتے ہیں کہ عراق سے کچھ خوارج کے سر لا کر مسجد دمشق کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ آئے اور رونے لگے اور تین مرتبہ فرمایا جہنم کے کتے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں اور آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ تھا جسے انہوں نے شہید کردیا۔ تھوڑی دیر بعد جب واپس ہوئے تو کسی نے پوچھا کہ پھر آپ روئے کیوں تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان پر ترس آرہا تھا اے ابو امامہ ! یہ جو آپ نے " جہنم کے کتے " کہا یہ بات آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ! اگر میں نے کوئی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سات مرتبہ تک سنی ہو اور پھر درمیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نکال دوں تو میں بڑا جری ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22184
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : " مَا كَانَ يَفْضُلُ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22185
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ طُلُوعِ الشَّمْسِ : أُكَبِّرُ , وَأُهَلِّلُ , وَأُسَبِّحُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 22186
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ , وَيُزَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا , يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا تغْلِي الْقُدُورُ , يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ , مِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى سَاقَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى وَسَطِهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سورج صرف ایک میل کی مسافت کے برابر قریب آجائے گا اور اس کی گرمی میں اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ دماغ ہانڈیوں کی طرح ابلنے لگیں گے اور تمام لوگ اپنے اپنے گناہوں کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے چنانچہ کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا کسی کا پنڈلی تک کسی کا جسم کے درمیان تک اور کسی کے منہ میں پسینے کی لگام ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22187
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى سورة طه آية 55 " , قَالَ : ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ : بِسْمِ اللَّهِ , وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا ؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا , طَفِقَ يَطْرَحُ لَهُمْ الْجَبُوبَ , وَيَقُولُ : " سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ " , ثُمَّ قَالَ : " أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ , وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے " اب یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " کہا یا نہیں پھر جب لحد بن گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ٹہنیاں پھینکیں اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان کی خالی جگہیں اس سے پر کردو پھر فرمایا اس سے ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن زندے خوش ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22188
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هُوَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ نُوحٍ وَهُوَ الْمَضْرُوبُ , حَدَّثَنَا أَبُو خُرَيْمٍ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ الرَّاسِبِيُّ , أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ , فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ , فَقَامَ إِلَى وَضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ , فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ وُضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ , وَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ " , قَالَ أَبُو غَالِبٍ : قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا , غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا مَرَّتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , وَلَا أَرْبَعٍ , وَلَا خَمْسٍ , وَلَا سِتٍّ , وَلَا سَبْعٍ , وَلَا ثَمَانٍ , وَلَا تِسْعٍ , وَلَا عَشْرٍ , وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال
ابو غالب راسبی کہتے ہیں کہ شہر حمص میں ان کی ملاقات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کچھ سوالات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھے اسی دوران حضرت ابو امام رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مسلم نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اور وضو کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر پانی کا پہلا قطرہ ٹپکتے ہی اس کے گناہ معاف ہونے لگتے ہیں اور پانی کے ان قطرات کی تعداد کے اعتبار سے جب وہ وضو کر کے فارغ ہوتا ہے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔ اور غالب نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بشیرونذیر بنا کر بھیجا تھا ایک دو مرتبہ نہیں دسیوں مرتبہ سنا ہے اور سارے اعداد ذکر کے دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى غالب
حدیث نمبر: 22189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي , فَقَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا , يُصَلِّي مَعَهُ " , فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَانِ جَمَاعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے ؟ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں جماعت ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22190
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : وَحُدِّثْنَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا , فَقُلْتُ : لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا , وَأَجُوعُ يَوْمًا , أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ , فَإِذَا جُعْتُ , تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ , وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ , وَشَكَرْتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پروردگار نے مجھے یہ پیشکش کی کہ وہ بطحاء مکہ کو میرے لئے سونے کا بنا دے لیکن میں نے عرض کیا کہ پروردگار ! نہیں میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن سیراب ہوجاؤں تاکہ جب بھوکا رہوں تو تیری بارگاہ میں عاجزی وزاری کروں اور تجھے یاد کروں اور جب سیراب ہوں تو تیری تعریف اور شکر ادا کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22191
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ , النُّصْحُ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے نزدیک بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت " جو وہ میری کرتا ہے " میرے ساتھ خیر خواہی ہے (میرے احکامات پر عمل کرنا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا ، عبيد الله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22192
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ , فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22193
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ , فَإِنَّهُ يَأْتِي شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِصَاحِبِهِ , اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا , اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ , وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ , وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا، دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
حدیث نمبر: 22194
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ , وَأُكَبِّرُهُ , وَأَحْمَدُهُ , وَأُسَبِّحُهُ وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 22195
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " , قَالَ : فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , قَالَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " , قَالَ : فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَالِثًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ أَتَيْتُكَ تَتْرَى مَرَّتَيْنِ , أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " , قَالَ : فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ " , قَالَ : فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ , وَامْرَأَتُهُ , وَخَادِمُهُ , لَا يُلْفَوْنَ إِلَّا صِيَامًا فَإِذَا رَأَوْا نَارًا , أَوْ دُخَانًا بِالنَّهَارِ فِي مَنْزِلِهِمْ , عَرَفُوا أَنَّهُمْ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ , قَالَ : ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ قَدْ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ , وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ , فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ : " اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً , إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً , أَوْ حَطَّ , أَوْ قَالَ : وَحَطَّ , شَكَّ مَهْدِيٌّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دوربارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ ! اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہا جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22196
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : " إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ , قَعَدْتَ مَغْفُورًا لَكَ , فَإِنْ قَامَ يُصَلِّي , كَانَتْ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا , وَإِنْ قَعَدَ , قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ " , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا أُمَامَةَ , أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ فَصَلَّى تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً ؟ قَالَ : " لَا , إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً , وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ؟ ! تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم اچھی طرح وضو کرو تو جب بیٹھو گے اس وقت تمہارے سارے گناہ بخشے جاچکے ہوں گے اگر اس کے بعد کوئی شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا تو وہ اس کے لئے فضیلت اور باعث اجربن جاتی ہے وہ بیٹھتا ہے توبخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اے ابو امامہ ! یہ بتائیے کہ اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے تو وہ اس کے لئے نفل ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، نفل ہونا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، عام آدمی کے لئے کیسے ہوسکتی ہے جبکہ وہ گناہوں اور لغزشوں میں بھاگا پھرتا ہے اس کے لئے وہ باعث اجر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى غالب البصري، وقد اضطرب فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 22197
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي , عَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ , أَطَاعَ رَبَّهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَتَهُ فِي السِّرِّ , وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ , وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا " , قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُرُ بِأُصْبُعَيْهِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا , وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا , عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ , وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ , وَقَلَّ تُرَاثُهُ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : سَأَلْتُ أَبِي , قُلْتُ : مَا تُرَاثُهُ ؟ قَالَ : مِيرَاثُهُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک انسان وہ بندہ مومن ہے جو ہلکے پھلکے سامان والا ہو نماز کا بہت سا حصہ رکھتا ہوا پنے رب کی اطاعت اور چھپ کر عمدگی سے عبادت کرتا ہو، لوگوں کی نظروں میں مخفی ہو، انگلیوں سے اس کی طرف سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں، بقدر کفایت اس کی روزی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جملہ دہراتے ہوئے چٹکی بجانے لگے پھر فرمایا اس کی موت جلدی آجائے، اس کی وراثت بھی تھوڑی ہو اور اس پر رونے والے بھی تھوڑے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، ليث بن أبى سليم وعبيد الله ضعيفان، وعبيد الله لم يسمعه من القاسم
حدیث نمبر: 22198
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَنَقَرَ بِيَدِهِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، أبو المهلب وعبيد الله بن زحر ضعيفان، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22199
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ " , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا الْإِثْمُ ؟ قَالَ : " إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ , فَدَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
حدیث نمبر: 22200
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ ثَوْرٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رُفِعَتْ الْمَائِدَةُ , قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , غَيْرَ مَكْفِيٍّ , وَلَا مُوَدَّعٍ , وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوجاتے یا دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو یہ دعاء پڑھتے الحمدللہ کثیرا طیبامبارکا فیہ غیر مکفی ولامودع ولامستغنی عنہ ربنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22201
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مِسْعَرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْعَدَبَّسِ , عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّهُ أَبَا خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَرْزُوقٍ , قَالَ : قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا , قَالَ : " فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي , فَلَا تَقُومُوا كَمَا يَفْعَلُ الْعَجَمُ , يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا " , قَالَ : كَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَدْعُوَ لَنَا , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا , وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لاٹھی سے ٹیک لگاتے ہوئے ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو ہم احتراماً کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہوا کرو جو ایک دوسرے کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں ہماری خواہش تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے دعاء فرما دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ ! ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم سے راضی ہوجا ہماری نیکیاں قبول فرما ہمیں جنت میں داخل فرما جہنم سے نجات عطاء فرما اور ہمارے تمام معاملات کو درست فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لضعف رواته واضطرابه
حدیث نمبر: 22202
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ " . حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْت أَبِي , يَقُولُ : حُسَيْنٌ الْخُرَاسَانِيُّ هَذَا هُوَ حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا روزانہ افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، فقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22203
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا , فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب ہوتا ہے اس قوم پر جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22204
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ الْوَاسِطِيُّ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ , إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ " , ثُمَّ قَرَأَ : مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ سورة الزخرف آية 58 . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راہ ہدایت پر گامزن ہونے کے بعد جو قوم بھی دوبارہ گمراہ ہوتی ہے وہ لڑائی جھگڑوں میں پڑجاتی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " یہ لوگ آپ کے سامنے جھگڑے کے علاوہ کچھ نہیں رکھتے بلکہ یہ تو جھگڑالو لوگ ہیں "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، أبو غالب يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22205
حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، فقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 22206
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شِمْرٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ , خَرَجَتْ ذُنُوبُهُ مِنْ سَمْعِهِ , وَبَصَرِهِ , وَيَدَيْهِ , وَرِجْلَيْهِ , فَإِنْ قَعَدَ , قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کان، آنکھ ہاتھ اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ بیٹھتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر ، وقد توبع
حدیث نمبر: 22207
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ عَنْهُ , وَلَمْ يُجِبْهُ , ثُمَّ سَأَلَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ , فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ , فَلَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ , وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ , قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " قَالَ : " كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمرات کو کنکریاں مار رہے تھے اس نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ پسندیدہ جہاد اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا جہاد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثانیہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثالثہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق بات جو کسی ظالم بادشاہ کے سامنے کہی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب
حدیث نمبر: 22208
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنُهْ رَأَى رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ , فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ : " كِلَابُ النَّارِ , كِلَابُ النَّارِ, ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ , خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ " , ثُمَّ قَرَأَ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ سورة آل عمران آية 106 الْآيَتَيْنِ , قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ : أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , أَوْ أَرْبَعًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ سِتًّا , أَوْ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمْ.
مولانا ظفر اقبال
ابو غالب کہتے ہیں کہ عراق سے کچھ خوارج کے سر لا کر مسجد دمشق کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ آئے اور رونے لگے اور تین مرتبہ فرمایا جہنم کے کتے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں اور آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ تھا جسے انہوں نے شہید کردیا۔ تھوڑے دیر بعد جب واپس ہوئے تو کسی نے پوچھا کہ پھر آپ روئے کیوں تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان پر ترس آرہا تھا اے ابو امامہ ! یہ جو آپ نے " جہنم کے کتے " کہا یہ بات آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ! اگر میں نے کوئی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سات مرتبہ تک سنی ہو اور پھر درمیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نکال دوں تو میں بڑا جری ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب، وقد توبع
حدیث نمبر: 22209
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ , عَنْ سَيَّارٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ : جُعِلَتْ الْأَرْضُ لِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا , وَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً , وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ , وَأُحِلَّتْ لِأُمَّتِي الْغَنَائِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) یا امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطاء فرمائی ہیں مجھے ساری انسانیت کی طرف بھیجا گیا ہے روئے زمین کو میرے لئے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہی اس کی مسجد ہے اور وہیں اس کی طہارت کے لئے مٹی موجود ہے اور ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے اور ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22210
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , نَافِلَةً لَك سورة الإسراء آية 79 , قَالَ : " إِنَّمَا كَانَتْ النَّافِلَةُ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی " نافلۃ لک " کی تفسیر میں مروی ہے کہ نوافل کی پابندی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر ، وقد تابعه راو ضعيف أيضا
حدیث نمبر: 22211
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا , فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ , فَزَجَرُوهُ , قَالُوا : مَهْ مَهْ , فَقَالَ : " ادْنُهْ " , فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا , قَالَ : فَجَلَسَ , قَالَ : " أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ ؟ " , قَالَ : لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ " , قَالَ : " أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ ؟ " , قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ , قَالَ : أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ ؟ " , قَالَ : لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ , قَال : أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ ؟ " , قَالَ : لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ , قَالَ : أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ ؟ " , قَالَ : لَا وَاللَّهِ , جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ , قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ , وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ , وَطَهِّرْ قَلْبَهُ , وَحَصِّنْ فَرْجَهُ " , فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22212
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ غُلَامًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22213
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ , فَإِنَّهُ يَأْتِي شَافِعًا لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا , وَاقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ , وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ , وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : هَذَا الْحَدِيثُ أَمْلَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِوَاسِطٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن أبى كثير لم يسمعه من أبى سلام، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22214
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي , وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أيمن
حدیث نمبر: 22215
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ , مِثْلُ الْحَيَّيْنِ , أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ : رَبِيعَةَ , وَمُضَرَ " , فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أوَ مَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا أَقُولُ مَا أُقَوَّلُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف ایک آدمی کی شفاعت کی برکت سے " جو نبی نہیں ہوگا " ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں یا ایک قبیلے کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ربیعہ، مضر قبیلے کا حصہ نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہنا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال رجل: يارسول الله.... فهي زيادة شاذة