حدیث نمبر: 22106
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا , مُرْدًا , مُكَحَّلِينَ بَنِي ثَلَاثِينَ " , أَوْ " ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہوگا وہ بےریش ہوں گے ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس یا تینتیس سال کی عمر کے لوگ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 22107
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ يَثِقُ بِهِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ , يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ , وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ , وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس طرح بکریوں کے لئے بھیڑیا ہوتا ہے اسی طرح انسان کے لئے شیطان بھیڑیا ہے جو اکیلی رہ جانے والی اور سب سے الگ تھلگ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے اس لئے تم گھاٹیوں میں تنہا رہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ اور جماعت مسلمین کو اور عوام کو اپنے اوپر لازم کرلو۔
حدیث نمبر: 22108
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ ابْنِ عُمَيْرٍ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم صَلَاةً , فَأَحْسَنَ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَالْقِيَامَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ : " هَذِهِ صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ , سَأَلْتُ رَبِّي فِيهَا ثَلَاثًا , فَأَعْطَانِي اثْنَيْنِ , وَلَمْ يُعْطِنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَقْتُلَ أُمَّتِي بِسَنَةِ جُوعٍ فَيَهْلَكُوا فَأَعْطَانِي , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِي , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو اس میں نہایت عمدگی کے ساتھ رکوع و سجود اور قیام کیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا ہاں ! یہ ترغیب و ترہیب والی نماز تھی، میں نے اس نماز میں اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا جن میں سے دو چیزیں اس نے مجھے دے دیں اور ایک سے انکار کردیا میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ میری امت کو سمندر میں غرق کر کے ہلاک نہ کرے اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی پھر میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ان پر بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے چنانچہ میری یہ درخواست بھی اس نے قبول کرلی، پھر میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ وہ ہمیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کرے لیکن اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 22109
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ وَهُوَ زَيْدُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيُّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , قَالَ : احْتَبَسَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ , حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى قَرْنَ الشَّمْسِ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا , فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ , وَصَلَّى وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ , فَلَمَّا سَلَّمَ , قَالَ : " كَمَا أَنْتُمْ عَلَى مَصَافِّكُمْ كما أنتُم " , ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا , فَقَالَ : " إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمْ الْغَدَاةَ , إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ , فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي , فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ , فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ , فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ , أَتَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي يَا رَبِّ , قَالَ : يَا مُحَمَّدُ , فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي رَبِّ , فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ صَدْرِي , فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ , فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ , فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الْكَفَّارَاتِ , قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ : نَقْلُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ , وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ , وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ , قَالَ : وَمَا الدَّرَجَاتُ ؟ قُلْتُ : إِطْعَامُ الطَّعَامِ , وَلِينُ الْكَلَامِ , وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ , قَالَ : سَلْ , قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ , وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ , وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ , وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي , وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ , وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ , وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ " , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت تشریف لانے میں اتنی تاخیر کردی کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے باہر نکلے اور مختصر نماز پڑھائی سلام پھیر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں تمہیں اپنے تاخیر سے آنے کی وجہ بتاتا ہوں آج رات میں تہجد کے لئے کھڑا ہوا اور جتنا اللہ کو منظور ہوا میں نے نماز پڑھی دوران نماز مجھے اونگھ آگئی میں ہوشیار ہوا تو اچانک میرے پاس میرا رب انتہائی حسین صورت میں آیا اور فرمایا اے محمد ! ملا اعلیٰ کے فرشتے کس وجہ سے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا پروردگار ! میں نہیں جانتا (دو تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوا) پھر پروردگار نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں کے درمیان رکھ دیں جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے اور چھاتی میں محسوس کی حتٰی کہ میرے سامنے آسمان و زمین کی ساری چیزیں نمایاں ہوگئیں اور میں نے انہیں پہچان لیا، اس کے بعد اللہ نے پھر پوچھا کہ اے محمد ! ملا اعلیٰ کے فرشتے کس چیز کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کفارات کے بارے میں فرمایا کفارات سے کیا مراد ہے ؟ میں نے عرض کیا جمعہ کے لئے اپنے پاؤں سے چل کر جانا، نماز کے بعد بھی مسجد میں بیٹھے رہنا، مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، پھر پوچھا کہ " درجات " سے کیا مراد ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ جو چیزیں بلند درجات کا سبب بنتی ہیں، وہ بہترین کلام، سلام کی اشاعت، کھانا کھلانا اور رات کو " جب لوگ سو رہے ہوں " نماز پڑھتے ہے پھر فرمایا اے محمد ! سوال کرو میں نے عرض کیا اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کا سوال کرتا ہوں، منکرات سے بچنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو مجھے معاف فرما اور میری طرف خصوصی توجہ فرما اور جب لوگوں میں سے کسی قوم کی آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت عطاء فرما دے اور میں تجھ سے تیری محبت، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور تیری محبت کے قریب کرنے والے اعمال کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ واقعہ برحق ہے، اسے سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ۔
حدیث نمبر: 22110
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذًا , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ , وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ , عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ , وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ مُخْلِصًا , أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ , وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ , وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔ جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 22111
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا ذَهَبَ غَضَبُهُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی اور ان میں سے ایک آدمی کو شدید غصہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جو اگر یہ غصے میں مبتلا آدمی کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہوجائے اور وہ کلمہ یہ ہے " اعوذباللہ من الشیطان الرجیم "
حدیث نمبر: 22112
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَأَبُو سَعِيدٍ , قَالَا : حدثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ لَقِيَ امْرَأَةً لَا يَعْرِفُهَا , فَلَيْسَ يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ شَيْئًا إِلَّا قَدْ أَتَاهُ مِنْهَا , غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا ؟ قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ : أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 الْآيَةَ , قَالَ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّأْ ثُمَّ صَلِّ " , قَالَ مُعَاذٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً , قَالَ : " بَلْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اس آدمی کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جو کسی اجنبی عورت سے ملے اور اس کے ساتھ وہ سب کچھ کرے جو ایک مرد اپنی بیوی سے کرتا ہے لیکن مجامعت نہ کرے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی " دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیا کرو بیشک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا وضو کر کے نماز پڑھو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے ؟ یا تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے۔
حدیث نمبر: 22113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا سعيد , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ قَيْسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے تو وہ اس کے لئے جہنم سے فدیہ بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 22114
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ طَاهِرًا , فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان باوضو ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات کو سوتا ہے پھر رات کے کسی حصے میں بیدار ہو کر اللہ سے دنیا و آخرت کی جس خیر کا بھی سوال کرتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 22115
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , أخبرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ؟ " , قُلْتُ : بَلَى , قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا میں جنت کے ایک دروازے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " لاحول ولاقوۃ الا باللہ "
حدیث نمبر: 22116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَرَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ , وَقَالَ رَوْحٌ : حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ رَوْحٌ : قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ , فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ , وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا , ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ , فَلَهُ أَجْرُ الشُّهَدَاءِ , وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً , فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ , وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : كَأَغَزِّ , وَرَوْحٌ : كَأَغْزَرِ , وَحَجَّاجٌ : كَأَعَزِّ مَا كَانَتْ , لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ , وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ , وَمَنْ جُرِحَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 22117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنَا سُفْيَانُ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ " فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ " , قَالَ سُفْيَانُ : حَظُّ الْأَرْضِ الثُّلُثُ , وَالرُّبُعُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرب کی کسی بستی میں بھیجا اور حکم دیا کہ زمین کا حصہ وصول کر کے لاؤں، سفیان کہتے ہیں کہ زمین کے حصے سے تہائی یا چوتھائی حصہ مراد ہے۔
حدیث نمبر: 22118
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَنْعُمَ , عَنْ مَرِيحِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ , قَالَ : " إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ , فَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا نازونعم کی زندگی سے بچنا کیونکہ اللہ کے بندے نازونعم کی زندگی نہیں گذارا کرتے۔
حدیث نمبر: 22119
حَدَّثَنَا الْمُقْرِيُّ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِيبِيَّ , يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ , عَنِ الصُّنَابِحِيِّ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ يَوْمًا , ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ , إِنِّي لَأُحِبُّكَ " , فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا أُحِبُّكَ , قَالَ : " أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ , لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ أَنْ تَقُولَ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ " , قَالَ : وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ , وَأَوْصَى الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَوْصَى أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ جناب پر قربان ہوں، میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاذ ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی فرض نماز کے بعد اس دعاء کو مت چھوڑنا " اے اللہ ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما " حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یہی وصیت اپنے شاگردوں صنابحی سے کی انہوں نے اپنے شاگرد ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی اور انہوں نے یہی وصیت اپنے شاگرد عقبہ بن مسلم سے کی۔
حدیث نمبر: 22120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : إِنْ كَانَ عُمَرُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَا رَأَى فِي يَقَظَتِهِ , أَوْ نَوْمِهِ فَهُوَ حَقٌّ , وَإِنَّهُ قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْجَنَّةِ إِذْ رَأَيْتُ فِيهَا دَارًا , فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذِهِ ؟ فَقِيلَ : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنت میں ہوں گے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب اور بیداری سب برحق ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مرتبہ خواب میں میں جنت کے اندر تھا تو میں نے وہاں ایک محل دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔
حدیث نمبر: 22121
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ , وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ , وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ , وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ " , ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَهُ , أَوْ مَنْكِبِهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ , كَمَا أَنَّكَ هَاهُنَا " , أَوْ " كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ " يَعْنِي مُعَاذًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس کا آباد ہوجانا مدینہ منورہ کے بےآباد ہوجانے کی علامت ہے اور مدینہ منورہ کا بےآباد ہونا جنگوں کے آغاز کی علامت ہے اور جنگوں کا آغاز فتح قسطنطنیہ کی علامت ہے اور قسطنطنیہ کی فتح خروج دجال کا پیش خیمہ ہوگی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا یہ ساری چیزیں اسی طرح برحق اور یقینی ہیں جیسے تمہارا یہاں بیٹھا ہونا یقینی ہے۔
حدیث نمبر: 22122
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ , حَدَّثَنَا شَهْرٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ غَنْمٍ , عَنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِالنَّاسِ قِبَلَ غَزْوَةِ تَبُوكَ , فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ , ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَكِبُوا , فَلَمَّا أَنْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ نَعَسَ النَّاسُ عَلَى أَثَرِ الدُّلْجَةِ , وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو أَثَرَهُ , وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ , تَأْكُلُ وَتَسِيرُ , فَبَيْنَمَا مُعَاذٌ عَلَى أَثَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَاقَتُهُ تَأْكُلُ مَرَّةً , وَتَسِيرُ أُخْرَى , عَثَرَتْ نَاقَةُ مُعَاذٍ فَكَبَحَهَا بِالزِّمَامِ , فَهَبَّتْ حَتَّى نَفَرَتْ مِنْهَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفَ عَنْهُ قِنَاعَهُ , فَالْتَفَتَ , فَإِذَا لَيْسَ مِنَ الْجَيْشِ رَجُلٌ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنْ مُعَاذٍ , فَنَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ " , قَالَ : لَبَّيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ : " ادْنُ دُونَكَ " , فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى لَصِقَتْ رَاحِلَتَاهُمَا إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كُنْتُ أَحْسِبُ النَّاسَ مِنَّا كَمَكَانِهِمْ مِنَ الْبُعْدِ " , فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , نَعَسَ النَّاسُ فَتَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ تَرْتَعُ وَتَسِيرُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا كُنْتُ نَاعِسًا " , فَلَمَّا رَأَى مُعَاذٌ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَخَلْوَتَهُ لَهُ , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ائْذَنْ لِي أَسْأَلْكَ عَنْ كَلِمَةٍ قَدْ أَمْرَضَتْنِي , وَأَسْقَمَتْنِي , وَأَحْزَنَتْنِي , فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْنِي عَمَّ شِئْتَ " , قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , لَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهَا , قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَخٍ بَخٍ , لَقَدْ سَأَلْتَ بِعَظِيمٍ ثَلَاثًا , وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ , وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ , وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ " , فَلَمْ يُحَدِّثْهُ بِشَيْءٍ إِلَّا قَالَهُ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , يَعْنِي : أَعَادَهُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , حِرْصًا لِكَيْ مَا يُتْقِنَهُ عَنْهُ , فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ , وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَتَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا حَتَّى تَمُوتَ , وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ " , فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَعِدْ لِي , فَأَعَادَهَا لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ يَا مُعَاذُ بِرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ , وَقَوَامِ هَذَا الْأَمْرِ , وَذُرْوَةِ السَّنَامِ " , فَقَالَ مُعَاذٌ : بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي , فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَأْسَ هَذَا الْأَمْرِ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , وَإِنَّ قَوَامَ هَذَا الْأَمْرِ إِقَامُ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ , وَإِنَّ ذُرْوَةَ السَّنَامِ مِنْهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلَاةَ , وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ , وَيَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ اعْتَصَمُوا وَعَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا شَحَبَ وَجْهٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِي عَمَلٍ تُبْتَغَى فِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ , كَجِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَلَا ثَقُلَ مِيزَانُ عَبْدٍ كَدَابَّةٍ تَنْفُقُ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لے کر غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے صبح ہوئی تو لوگوں کو نماز فجر پڑھائی اور لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہونے لگے جب سورج نکل آیا تو لوگ رات بھر چلنے کی وجہ سے اونگھنے لگے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتے ہوئے ان کے ساتھ چمٹے رہے جبکہ لوگ اپنی اپنی سواریوں کو چھوڑ چکے تھے جس کی وجہ سے وہ راستوں میں منتشر ہوگئی تھی اور ادھر ادھر چرتی جا رہی تھی اچانک وہ بدک گئی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اسے لگام سے پکڑ کر کھینچا تو وہ تیزی سے بھاگ پڑی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بھی بدک گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ہٹائی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو لشکر میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہ تھا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کو آواز دے کر پکارا معاذ ! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور قریب ہوجاؤ، چنانچہ وہ مزید قریب ہوگئے یہاں تک کہ دونوں کی سواریاں ایک دوسرے سے مل گئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال نہیں تھا کہ لوگ ہم سے اتنے دور ہوں گے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! لوگ اونگھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سواریاں انہیں لے کر منتشر ہوگئی ہیں اور ادھر ادھر چرتے ہوئے چل رہی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونگھ تو مجھے بھی آگئی تھی جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بشاشت اور خلوت کا یہ موقع دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر اجازت ہو تو میں ایک سوال پوچھ لوں جس نے مجھے بیمار اور غمزدہ کردیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو، عرض کیا اے اللہ کے نبی ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے ؟ اس کے علاوہ میں آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب (تین مرتبہ) تم نے بہت بڑی بات پوچھی (تین مرتبہ) البتہ جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ فرمالے اس کے لئے بہت آسان ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو بات بھی فرمائی اسے تین مرتبہ دہرایا ان کی حرص کی وجہ سے اور اس بناء پر کہ انہیں وہ پختہ ہوجائے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لاؤ، آخرت کے دن پر ایمان لاؤ نماز قائم کرو، ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ حتیٰ کہ اسی حال پر تم دنیا سے رخصت ہوجاؤ، معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! اس بات کو دوبارہ دہرا دیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس بات کو دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ ! اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں اس مذہب کی بنیاد، اسے قائم رکھنے والی چیز اور اس کے کوہانوں کی بلندی کے متعلق بتادوں ؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ضرور بتائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مذہب کی بنیاد یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس دین کو قائم رکھنے والی چیز نماز ادا کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد فی سبیل اللہ ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کرتا رہوں تاوقتیکہ وہ نماز قائم کرلیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں اور توحید و رسالت کی گواہی دیں جب وہ ایسا کرلیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا اور بچا لیا سوائے اس کے کہ اس کلمے کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوگا۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کسی ایسے عمل میں " سوائے فرض نماز کے " جس سے جنت کے درجات کی خواہش کی جاتی ہو، کسی انسان کا چہرہ نہیں کمزور ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے قدم غبارآلود ہوتے ہیں جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں ہوتے ہیں اور کسی انسان کا نامہ اعمال اس طرح بھاری نہیں ہوتا جیسے اس جانور سے ہوتا ہے جسے اللہ کے راستے میں استعمال کیا جائے یا کسی کو اس پر اللہ کے راستہ میں سوار کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 22123
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ : " أَنَّ الصَّلَاةَ أُحِيلَتْ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ , فَذَكَرَ أَحْوَالَهَا فَقَطْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نماز تین مراحل سے گذر کر آئی ہے پھر انہوں نے ان احوال کی تفصیل بیان فرمائی۔
حدیث نمبر: 22124
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : أُحِيلَتْ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ , وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ , فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ , فَإِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ , ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ سورة البقرة آية 144 , قَالَ : فَوَجَّهَهُ اللَّهُ إِلَى مَكَّةَ , قَالَ : فَهَذَا حَوْلٌ , قَالَ : وَكَانُوا يَجْتَمِعُونَ لِلصَّلَاةِ , وَيُؤْذِنُ بِهَا بَعْضُهُمْ بَعْضًا , حَتَّى نَقَسُوا , أَوْ كَادُوا يَنْقُسُونَ , قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ , أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , وَلَوْ قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَكُنْ نَائِمًا لَصَدَقْتُ , إِنِّي بَيْنَا أَنَا بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ رَأَيْتُ شَخْصًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ , فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ , فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , مَثْنَى مَثْنَى , حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْأَذَانِ , ثُمَّ أَمْهَلَ سَاعَةً , قَالَ : ثُمَّ قَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ , غَيْرَ أَنَّهُ يَزِيدُ فِي ذَلِكَ , قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ , قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلِّمْهَا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ بِهَا " , فَكَانَ بِلَالٌ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِهَا , قَالَ : وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ قَدْ طَافَ بِي مِثْلُ الَّذِي أَطَافَ بِهِ , غَيْرَ أَنَّهُ سَبَقَنِي , فَهَذَانِ حَوْلَانِ , قَالَ : وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ بِبَعْضِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ يُشِيرُ إِلَى الرَّجُلِ إِنْ جَاءَ كَمْ صَلَّى , فَيَقُولُ : وَاحِدَةً , أَوْ اثْنَتَيْنِ , فَيُصَلِّيهَا , ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ , قَالَ : فَجَاءَ مُعَاذٌ , فَقَالَ : لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ أَبَدًا إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا , ثُمَّ قَضَيْتُ مَا سَبَقَنِي , قَالَ : فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِهَا , قَالَ : فَثَبَتَ مَعَهُ , فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ , قَامَ فَقَضَى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ , فَهَكَذَا فَاصْنَعُوا " , فَهَذِهِ ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ , وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ , فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , وَقَالَ يَزِيدُ : فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ , مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ , ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 183 - 184 , قَالَ : فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ , وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ , قَالَ : ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185 , قَالَ : فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ , وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ , وَثَبَّتَ الْإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ , الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ , فَهَذَانِ حَوْلَانِ , قَالَ : وَكَانُوا يَأْكُلُونَ , وَيَشْرَبُونَ , وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَا لَمْ يَنَامُوا , فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا , قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : صِرْمَةُ , ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى , فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ , فَلَمْ يَأْكُلْ , وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا , قَالَ : فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهَدَ جَهْدًا شَدِيدًا , قَالَ : " مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَهَدْتَ جَهْدًا شَدِيدًا " , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ , فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ , وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا , قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنَ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ , أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ , وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ سورة البقرة آية 187 , وَقَالَ يَزِيدُ : فَصَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز تین مراحل سے گذری ہے اور روزے بھی تین مراحل سے گذرے ہیں، نماز کے احوال تو یہ ہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سترہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ تحویل قبلہ کا حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرما دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف کردیا، ایک مرحلہ تو یہ ہوا لوگ نماز کے لئے جمع ہوتے تھے اور دوسروں کو اطلاع دیتے تھے اور اس کے لئے وہ لوگ ناقوس بجانے لگے یا ناقوس بجانے کے قریب ہوگئے پھر ایک انصاری صحابی آئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا "" جبکہ میں نیند اور بیداری کے درمیان تھا "" اور جو سبز لباس زیب تن کئے ہوئے تھا اس نے قبلہ رخ کھڑے ہو کر اذان دی، اس کے بعد کچھ وقت بیٹھ کر پھر وہ کھڑا ہوگیا اور اذان کے جو کلمات کہے تھے وہی کلمات کہے البتہ اس میں قد قامت الصلوٰۃ کا اضافہ کیا اور اگر لوگ میری تکذیب نہ کریں تو اچھی طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس وقت جاگ رہا تھا سویا ہوا نہیں تھا یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم (حضرت) بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کے لئے یہ کلمات سکھادو چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ اذان دینے والے پہلے آدمی تھے اتنے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے بھی بالکل یہی خواب دیکھا ہے لیکن انصاری آدمی اپنا خواب مجھ سے پہلے بیان کرچکے تھے یہ دو مرحلے ہوئے راوی کہتے ہیں کہ پہلے جب کوئی مسجد میں اور جماعت ہوتے ہوئے دیکھتا تو وہ یہ معلوم کرتا کہ اب تک کتنی رکعات ہوچکی ہیں اسے اشارے سے بتادیا جاتا، وہ پہلے ان رکعتوں کو پڑھتا، پھر وہ بقیہ نماز میں شرکت کرتا، ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حالت میں دیکھوں گا اسی حالت اور کیفیت کو بہر صورت اختیار کروں گا بعد میں اپنی چھوٹی ہوئی نماز مکمل کرلوں گا، کیونکہ جس وقت وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نماز پڑھا چکے تھے چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو انہوں نے بھی کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرلی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کے لئے معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک طریقہ مقرر کردیا ہے اس لئے تم ایساہی کیا کرو یہ تین مرحلے ہوگئے۔ روزوں کے مراحل یہ ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اس وقت ہر مہینے تین روزے اور یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اس کے بعد رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی اے اہل ایمان ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ سو جو چاہتا وہ روزے رکھ لیتا اور جو چاہتا مسکینوں کو کھانا کھلا دیتا اور یہ بھی کافی ہوجاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرما دی کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ تم میں سے جس کو ماہ رمضان المبارک نصیب ہو وہ بہرحال روزہ رکھے اس کے بعد سوائے مریض اور مسافر کے رخصت ختم ہوگئی اور دوسرے کے لئے روزہ رکھنے کا حکم ہوا البتہ وہ عمر رسیدہ آدمی جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے حق میں کھانا کھلانے کی اجازت باقی رہی یہ دو مرحلے ہوئے، ابتداء اسلام میں سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہوتی تھی اور سونے کے بعد، دوسرے دن کے روزے کے روزے کھولنے کے وقت تک کھانا پیناجائز نہ ہوتا چنانچہ ایک روز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہلیہ سے ہمبستری کا ارادہ کیا تو آپ کی اہلیہ مطہرہ نے فرمایا کہ مجھے نیند آگئی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہوا کہ اہلیہ ہمبستری سے بچنے کے لئے کوئی بہانہ بنا رہی ہے بہرحال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلیہ سے صحبت کرلی اسی طرح ایک انصاری صحابی نے ایک مرتبہ افطار کے بعد کھانے پینے کا ارادہ کرلیا لوگوں نے کہا کہ ٹھہر جاؤ ذرا ہم تمہارے لئے کھانا گرم کردیں وہ انصاری صحابی سوگئے جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث (الایۃ البقرہ ، ١٨٧) نازل فرما دی یعنی روزہ کی رات میں بیویوں سے جماع کرنا جائز ہے "" اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول سے رمضان تک ١٩ ماہ میں ہر ماہ تین روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 22125
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم صَلَاةً , فَأَحْسَنَ فِيهَا الْقِيَامَ , وَالْخُشُوعَ , وَالرُّكُوعَ , وَالسُّجُودَ , قَالَ : " إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ , سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا , فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ , وَزَوَى عَنِّي وَاحِدَةً , سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْعَثَ عَلَى أُمَّتِي عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَجْتَاحَهُمْ , فَأَعْطَانِيهِ , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْعَثَ عَلَيْهِمْ سَنَةً تَقْتُلُهُمْ جُوعًا , فَأَعْطَانِيهِ , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ , فَرَدَّهَا عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو اس میں نہایت عمدگی کے ساتھ رکوع و سجود اور قیام کیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا ہاں ! یہ ترغیب وترہیب والی نماز تھی، میں نے اس نماز میں اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا جن میں سے دو چیزیں اس نے مجھے دے دیں اور ایک سے انکار کردیا میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ میری امت کو سمندر میں غرق کر کے ہلاک نہ کرے اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی پھر میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ان پر بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے چنانچہ میری یہ درخواست بھی اس نے قبول کرلی، پھر میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ وہ ہمیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کرے لیکن اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 22126
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ , عَنِ الصُّنَابِحِيِّ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ , إِنِّي لَأُحِبُّكَ " , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ , قَالَ : " فَإِنِّي أُوصِيكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ , وَشُكْرِكَ , وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاذ ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی فرض نماز کے بعد اس دعاء کو مت چھوڑنا " اے اللہ ! اپنے ذکر شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما "۔
حدیث نمبر: 22127
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سے رخصتی کے وقت جس شخص کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حدیث نمبر: 22128
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبْعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ فِي غَيْرِ مَطْمَعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا مَطْمَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا اس لالچ سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جو دلوں پر مہر لگنے کی کیفیت تک پہنچا دے، اس لالچ سے بھی پناہ مانگا کرو جو کسی بےمقصد چیز تک پہنچا دے اور ایسی لالچ سے بھی اللہ کی پناہ مانگا کرو جہاں کوئی لالچ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 22129
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً , أَوْ قَالَ : جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً , وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً , وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا , أَوْ عَدْلَهُ مَعَافِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے میں زکوٰۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے لینا اور ہر بالغ ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑا جس کا نام " معافر " ہے وصول کرنا۔
حدیث نمبر: 22130
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ , عَنْ زَبَّانَ , عَنْ سَهْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ , قَالَ : " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهَ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ , وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ " , قَالَ : وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ , وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کے علاوہ ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 22131
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ : " وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ فِيَّ , وَيَتَجَالَسُونَ فِيَّ , وَيَتَبَاذَلُونَ فِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد ربانی منقول ہے میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 22132
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ , عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ , قَالَ : " أَفْضَلُ الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ , وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ " , قَالَ : وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ , وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ , وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا , أَوْ تَصْمُتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کے علاوہ ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اور اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔
حدیث نمبر: 22133
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَأُنَبِّئُكَ بِأَبْوَابٍ مِنَ الْخَيْرِ : الصَّوْمُ جُنَّةٌ , وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ , وَقِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ " , ثُمَّ قَرَأَ : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں خیر کے دروازے بتاتا ہوں ؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اسی طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور آدھی رات کو انسان کا نماز پڑھنا باب خیر میں سے ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت سجدہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عن المضاجع۔۔۔۔۔ یعلمون ''
حدیث نمبر: 22134
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ , فَقَالَ : " عَلَى الْفِطْرَةِ " , فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَقَالَ : " شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ " , قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , قَالَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ , انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مُعْزِبًا , وَإِمَّا مُكَلِّبًا " , فَنَظَرُوهُ فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ , فَنَادَى بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک سفر کے دوران ایک منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا اللہ اکبر اللہ اکبر " تو فرمایا یہ فطرت صحیحہ پر ہے پھر اس نے اشہدان لا الہ الا اللہ " کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حق کی گواہی دی اس نے اشہد ان محمد الرسول اللہ کہا تو فرمایا جہنم سے نکل گیا جا کر دیکھو یا تو تم اسے کوئی چرواہا پاؤ گے جو الگ ہوگیا یا قیدی ہوگا لوگوں نے دیکھا تو وہ ایک چرواہا تھا اور نماز کا وقت آجانے پر اس نے اذان دی تھی۔
حدیث نمبر: 22135
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : " لَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 22136
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ , فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ هَذَا الرِّجْزَ قَدْ وَقَعَ , فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا , فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ , فَقَالَ : بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ , وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا , وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ , قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ , وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ , وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ : " فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ , فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ " , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَلَمَّا أَصْبَحَ , قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ , قَالَ : " وَسَمِعْتَهُ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ , فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ , فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ , فَأَبَى عَلَيَّ , أَوْ قَالَ : فَمَنَعَنِيهَا , فَقُلْتُ : حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا , حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا , حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا " , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لشکریوں سے فرمایا کہ یہ عذاب نازل ہوگیا ہے اس سے بچنے کے لئے گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ان کی بات کی تصدیق نہیں کی اور فرمایا کہ بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء ہے اے اللہ ! معاذ اور اس کی اہل خانہ کو اپنی رحمت کا حصہ عطاء فرما۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے شہادت اور رحمت کا مطلب تو سمجھ آگیا لیکن یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء سے کیا مراد ہے ؟ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھ رہے تھے دعاء کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " پھر بخار یا طاعون " تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا صبح ہوئی تو اہل خانہ میں سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! میں نے رات کو آپ سے یہ دعاء کرتے ہوئے سنا تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا واقعی تم نے وہ دعاء سنی تھی ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کی وجہ سے ہلاک نہ کرے چنانچہ پروردگار نے میری یہ دعاء قبول کرلی، پھر میں نے درخواست کی تھی کہ ان پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کا خون ارزاں کر دے چنانچہ پروردگار نے میری یہ دعاء بھی قبول کرلی پھر میں نے درخواست کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کیا جائے کہ یہ ایک دوسرے کا مزہ چکھتے رہیں لیکن اس نے یہ درخواست قبول نہیں کی، اس پر میں نے کہا کہ پھر بخار یا طاعون تین مرتبہ فرمایا۔