حدیث نمبر: 22066
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أخبرَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : رَقَبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ , فَاحْتَبَسَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَنْ يَخْرُجَ , وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ : قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ , فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ظَنَنَّا أَنَّكَ لَنْ تَخْرُجَ , وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ : قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ , فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ , وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کے وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک نہ آئے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ شاید اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئیں گے اور بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے ہیں اس لئے وہ اب نہیں آئیں گے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب آپ تشریف نہیں لائیں گے اور ہم میں سے کچھ لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں اس لئے باہر نہیں آئیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نماز پڑھو کیونکہ تمام امتوں پر اس نماز میں تمہیں فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22067
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيِّ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ , سَمِعْتُ مُعَاذًا يَقُولُ : إِنَّا رَقَبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي : انْتَظَرْنَاهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
ابو ادریس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسی مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا ! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی ؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ "" میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے عرش کے سائے تلے نور کے منبروں پر رونق افروز ہوں گے جبکہ عرش کے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ النَّزَّالِ يُحَدِّثُ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ , فَلَمَّا رَأَيْتُهُ خَلِيًّا , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , قَالَ : " بَخٍ , لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ , وَهُوَ يَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ , تُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ , وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ , وَتَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا , أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى رَأْسِ الْأَمْرِ , وَعَمُودِهِ , وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ ؟ أَمَّا رَأْسُ الْأَمْرِ فَالْإِسْلَامُ فَمَنْ أَسْلَمَ سَلِمَ , وَأَمَّا عَمُودُهُ فَالصَّلَاةُ , وَأَمَّا ذُرْوَةُ سَنَامِهِ فَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ , وَالصَّدَقَةُ , وَقِيَامُ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يُكَفِّرُ الْخَطَايَا , وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ سورة السجدة آية 16 أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَمْلَكِ ذَلِكَ لَكَ كُلِّهِ ؟ " , قَالَ : فَأَقْبَلَ نَفَرٌ , قَالَ : فَخَشِيتُ أَنْ يَشْغَلُوا عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا , قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَوْلُكَ : أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَمْلَكِ ذَلِكَ لَكَ كُلِّهِ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَإِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ ؟ قَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ مُعَاذُ , وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ " . قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ لِي الْحَكَمُ : وَحَدَّثَنِي بِهِ مَيْمُونُ بْنُ أَبِي شَبِيبٍ , وقَالَ الْحَكَمُ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے دوران سفر ایک دن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی البتہ جس کے لئے اللہ آسان کر دے اس کے لئے بہت آسان ہے نماز قائم کرو اور اللہ سے اس حال میں ملو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہو۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کے کوہان کی بلندی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیوں نہیں فرمایا اس دین و مذہب کی بنیاد اسلام ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتادوں ؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے اور آدھی رات کو انسان کا نماز پڑھنا باب خیر میں سے ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت سجدہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عن المضاجع۔۔۔۔۔ یعلمون " پھر فرمایا کیا میں تمہیں ان چیزوں کا مجموعہ نہ بتادوں ؟ اسی دوران سامنے سے کچھ لوگ آگئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ نہ کرلیں اس لئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بات یاد دلائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک کر رکھو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ کیا جائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پیار سے ڈانٹتے ہوئے) فرمایا معاذ ! تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ان کی دوسروں کے متعلق کہی ہوئی باتوں کے علاوہ بھی کوئی چیز اوندھا گرائے گی ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، عروة بن النزال مجهول، ولم يسمعه من معاذ، ومتابع عروة ميمون لم يسمع من معاذ أيضا،لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 22069
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ أَبِي رَمْلَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَوْجَبَ ذُو الثَّلَاثَةِ " , فَقَالَ مُعَاذٌ : وَذُو الِاثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَذُو الِاثْنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے حق میں تین آدمی گواہی دیں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں تو ؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو رملة مجهول، وعبيد الله بن مسلم لا يعرف ، وفي إثبات صحبته نظر
حدیث نمبر: 22070
قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ , أَنَّ مُعَاذًا أَخْبَرَهُ , أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ , قَالَ وَأَخَّرَ الصَّلَاةَ , ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا , , ثُمَّ دَخَلَ , ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ , وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوا بِهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ , فَمَنْ جَاءَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ " , فَجِئْنَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ , وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ , فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ؟ " , فَقَالَا : نَعَمْ , فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ , ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا , حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ , ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا , فَجَرَتْ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ , فَاسْتَقَى النَّاسُ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَاءً هَاهُنَا قَدْ ملئَ جِنَانًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھا دیتے تھے اور واپس پہنچ جاتے پھر اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز بھی پڑھا دیتے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ کل تم چشمہ تبوک پر پہنچ جاؤ گے اور جس وقت تم وہاں پہنچو گے تو دن نکلا ہوا ہوگا جو شخص اس چشمے پر پہنچے وہ میرے آنے تک اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔ چنانچہ جب ہم وہاں پہنچے تو دو آدمی ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے اس چشمے میں تسمے کی مانند تھوڑا سا پانی رس رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا کیا تم دونوں نے اس پانی کو چھوا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سخت سست کہا اور جو اللہ کو منظور ہوا، وہ کہا پھر لوگوں نے ہاتھوں کے چلو بنا کر تھوڑا تھوڑا کر کے اس میں سے اتنا پانی نکالا کہ وہ ایک برتن میں اکٹھا ہوگیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناچہرہ اور مبارک ہاتھ دھوئے، پھر وہ پانی اسی چشمے میں ڈال دیا دیکھتے ہی دیکھتے چشمے میں پانی بھر گیا اور سب لوگ اس سے سیراب ہوگئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے معاذ ! ہوسکتا ہے کہ تمہاری زندگی لمبی ہو اور تم اس جگہ کو باغات سے بھرا ہوا دیکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 706
حدیث نمبر: 22071
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , وَقَالَ : تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 706
حدیث نمبر: 22072
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أخبرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أخبرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍ حَدَّثَهُ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ , عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ , قَالَ : قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ ؟ " , قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ : هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ يَا رَبَّنَا , فَيَقُولُ : لِمَ ؟ فَيَقُولُونَ : رَجَوْنَا عَفْوَكَ , وَمَغْفِرَتَكَ , فَيَقُولُ : قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہیں یہ بھی بتاسکتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مؤمنین سے سب سے پہلے کیا کہے گا اور وہ سب سے پہلے اسے کیا جواب دیں گے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمایا اللہ تعالیٰ مؤمنین سے فرمائے گا کہ کیا تم مجھ سے ملنے کو پسند کرتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے جی پروردگار ! وہ پوچھے گا کیوں ؟ مؤمنین عرض کریں گے کہ ہمیں آپ سے درگذر اور معافی کی امید تھی وہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارے لئے اپنی مغفرت واجب کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبيدالله بن زحر ضعيف، أبو عياش لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22073
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أخبرَنَا شُعَيْبٌ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ , حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ وَهُوَ الَّذِي بعثه عمر بن الخطاب إلى الشام يفقه الناس , أن معاذ بن جبل حَدَّثَهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ رَكِبَ يَوْمًا عَلَى حِمَارٍ لَهُ , يُقَالُ لَهُ : يَعْفُورٌ , رَسَنُهُ مِنْ لِيفٍ , ثُمَّ قَالَ النبي صلَّى الله عَليَة وسلم : " ارْكَبْ يَا مُعَاذُ " , فَقُلْتُ : سِرْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ : " ارْكَبْ " , فَرَدَفْتُهُ , فَصُرِعَ الْحِمَارُ بِنَا , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ , وَقُمْتُ أَذْكُرُ مِنْ نَفْسِي أَسَفًا , ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ الثَّانِيَةَ , ثُمَّ الثَّالِثَةَ , فَرَكِبَ وَسَارَ بِنَا الْحِمَارُ , فَأَخْلَفَ يَدَهُ فَضَرَبَ ظَهْرِي بِسَوْطٍ مَعَهُ , أَوْ عَصًا , ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ , هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : ثُمَّ سَارَ مَا شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ أَخْلَفَ يَدَهُ فَضَرَبَ ظَهْرِي , فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ يَا ابْنَ أُمِّ مُعَاذٍ , هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ يُدْخِلَهُمْ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک گدھے پر " جس کا نام یعفور تھا اور جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی " سوار ہوئے اور فرمایا معاذ ! اس پر سوار ہوجاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ چلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا تم بھی اس پر سوار ہوجاؤ جونہی میں پیچھے بیٹھا تو گدھے نے ہمیں گرا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے کھڑے ہوگئے اور مجھے اپنے اوپر افسوس ہونے لگا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوگئے اور چل پڑے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے میری کمر پر کوڑے کی ہلکی سے ضرب لگائی اور میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر تھوڑی دور چل کر میری پیٹھ پر ضرب لگائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کر دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، دون قصة فى أوله، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 22074
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ , حَدَّثَنِي ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا مُعَاذُ , أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ عَلَى يَدَيْكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ , خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے معاذ ! اگر کسی مشرک آدمی کو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں ہدایت عطاء فرما دے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، بقية لم يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند، وضبارة مجهول، ودويد ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 22075
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أخبرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ , قَالَ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا , وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ , وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ , وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ , وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا , فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا , فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ , وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا , فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ , وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ , فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخَطُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ , وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ , وَإِذَا أَصَابَ النَّاسَ مُوتَانٌ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ , وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ , وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا , وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس چیزوں کی وصیت فرمائی ہے۔ (١) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا خواہ تمہیں قتل کردیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے۔ (٢) والدین کی نافرمانی نہ کرنا خواہ وہ تمہیں تمہارے اہل خانہ اور مال میں سے نکل جانے کا حکم دے دیں۔ (٣) فرض نماز جان بوجھ کر مت چھوڑنا کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر فرض نماز کو ترک کردیتا ہے اس سے اللہ کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ (٤) شراب نوشی مت کرنا کیونکہ یہ ہر بےحیائی کی جڑ ہے۔ (٥) گناہوں سے بچنا کیونکہ گناہوں کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی اترتی ہے۔ (٦) میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے سے بچنا خواہ تمام لوگ مارے جائیں۔ (٧) کسی علاقے میں موت کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو وہیں ثابت قدم رہنا۔ (٨) اپنے اہل خانہ پر اپنا مال خرچ کرتے رہنا۔ (٩) انہیں ادب سکھانے سے غافل ہو کر لاٹھی اٹھا نہ رکھنا۔ (١٠) اور ان کے دلوں میں خوف اللہ پیدا کرتے رہنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عبدالرحمن بن جبير لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22076
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنِ الْوَالِبِيِّ صَدِيقٌ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا , فَاحْتَجَبَ عَنْ أُولِي الضَّعَفَةِ وَالْحَاجَةِ , احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی بھی شعبے میں لوگوں کا حکمران بنے اور کمزور اور ضرورت مندوں سے پردے میں رہے قیامت کے دن اللہ اس سے پردہ فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 22077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ الْغَنَوِيُّ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : أَصْحَابُ الْيَمِينِ سورة الواقعة آية 27 , وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ سورة الواقعة آية 41 فَقَبَضَ بِيَدَيْهِ قَبْضَتَيْنِ , فَقَالَ : " هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي , وَهَذِهِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت " اصحاب الیمین " اور " اصحاب الشمال " تلاوت فرمائی اور دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر فرمایا (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) یہ مٹھی اہل جنت کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ مٹھی اہل جہنم کی ہے اور مجھے ان کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف البراء الغنوي ولانقطاعه ، فالحسن لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22078
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ , حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ مُعَاذًا قَدِمَ عَلَى الْيَمَنِ , فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَوْلَانَ مَعَهَا بَنُونَ لَهَا اثْنَا عَشَرَ , فَتَرَكَتْ أَبَاهُمْ فِي بَيْتِهَا , أَصْغَرُهُمْ الَّذِي قَدْ اجْتَمَعَتْ لِحْيَتُهُ , فَقَامَتْ فَسَلَّمَتْ عَلَى مُعَاذٍ , وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيهَا يُمْسِكَانِ بِضَبْعَيْهَا , فَقَالَتْ : مَنْ أَرْسَلَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ الْمَرْأَةُ : أَرْسَلَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنْتَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَفَلَا تُخْبِرُنِي يَا رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ : سَلِينِي عَمَّا شِئْتِ , قَالَتْ : حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : " تَتَّقِي اللَّهَ مَا اسْتَطَاعَتْ , وَتَسْمَعُ , وَتُطِيعُ , قَالَتْ : أَقْسَمْتُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا حَقُّ الرَّجُلِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ قَالَ لَهَا مُعَاذٌ : أَوَمَا رَضِيتِ أَنْ تَسْمَعِي , وَتُطِيعِي , وَتَتَّقِي اللَّهَ , قَالَتْ : بَلَى وَلَكِنْ حَدِّثْنِي مَا حَقُّ الْمَرْءِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ فَإِنِّي تَرَكْتُ أَبَا هَؤُلَاءِ شَيْخًا كَبِيرًا فِي الْبَيْتِ , فَقَالَ لَهَا مُعَاذٌ : وَالَّذِي نَفْسُ مُعَاذٍ فِي يَدِهِ , لَوْ أَنَّكِ تَرْجِعِينَ , إِذَا رَجَعْتِ إِلَيْهِ , فَوَجَدْتِ الْجُذَامَ قَدْ خَرَقَ لَحْمَهُ , وَخَرَقَ مَنْخِرَيْهِ , فَوَجَدْتِ مَنْخِرَيْهِ يَسِيلَانِ قَيْحًا وَدَمًا , ثُمَّ أَلْقَمْتِيهِمَا فَاكِ لِكَيماْ مَا تَبْلُغِي حَقَّهُ مَا بَلَغْتِ ذَلِكَ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن تشریف لائے تو " خولان " قبیلے کی ایک عورت ان سے ملنے کے لئے آئی جس کے ساتھ اس کے بارہ بچے بھی تھے اس نے ان کے باپ کو گھر میں ہی چھوڑ دیا تھا اس کے بچوں میں سب سے چھوٹا وہ تھا جس کی ڈاڑھی پوری آچکی تھی، وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اس کے دو بیٹوں نے اسے اس کے پہلوؤں سے تھام رکھا تھا اس نے پوچھا اے مرد ! تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے اس عورت نے کہا کہ اچھا تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے اور تم ان کے قاصد ہو تو کیا اے قاصد ! تم مجھے کچھ بتاؤ گے نہیں ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم جو کچھ پوچھنا چاہتی ہو، پوچھ لو اس نے کہا یہ بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا کیا حق ہے ؟ انہوں نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو اللہ سے ڈرتی رہے اس کی بات سنتی اور مانتی رہے۔ اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتی ہوں کہ آپ ضرور بتائیے اور صحیح بتائیے کہ بیوی پر شوہر کا کیا حق ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم اس کی بات سنو اور مانو اور اللہ سے ڈرتی رہو ؟ اس نے کہ کیوں نہیں لیکن آپ پھر بھی مجھے اس کی تفصیل بتائیے کیونکہ میں ان کا بوڑھا باپ گھر میں چھوڑ کر آئی ہوں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں معاذ کی جان ہے جب تم گھر واپس پہنچو اور یہ دیکھو کہ جذام نے اس کے گوشت کو چیر دیا ہے اور اس کے نتھنوں میں سوراخ کردیئے ہیں جن سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو اور تم اس کا حق ادا کرنے کے لئے اس پیپ اور خون کو منہ لگا کر پینا شروع کردو تب بھی اس کا حق ادانہ کرسکو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 22079
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا قَطُّ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " . وقَالَ مُعَاذٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ تَعَاطِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ , وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ غَدًا , فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ " , قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان ذکر اللہ سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں کرتا جو اسے عذاب الہٰی سے نجات دے سکے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ میدان جنگ میں دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادوں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الانقطاعه بين زياد بن أبى زياد و معاذ. وقد صح الشطر الثاني منه موقوفا على أبى الدرداء، وأما الشطر الأول منه موقوف على معاذ
حدیث نمبر: 22080
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ , حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ , قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ , فَإِذَا فِيهِ نَحْوٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَهْلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ , بَرَّاقُ الثَّنَايَا , سَاكِتٌ , فَإِذَا امْتَرَى الْقَوْمُ فِي شَيْءٍ أَقْبَلُوا عَلَيْهِ فَسَأَلُوهُ , فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , فَوَقَعَ لَهُ فِي نَفْسِي حُبٌّ , فَكُنْتُ مَعَهُمْ حَتَّى تَفَرَّقُوا , ثُمَّ هَجَّرْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَائِمٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ , فَسَكَتَ لَا يُكَلِّمُنِي , فَصَلَّيْتُ , ثُمَّ جَلَسْتُ فَاحْتَبَيْتُ بِرِدَائي , ثُمَّ جَلَسَ فَسَكَتَ لَا يُكَلِّمُنِي , وَسَكَتُّ لَا أُكَلِّمُهُ , ثُمَّ قُلْتُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ , قَالَ : فِيمَ تُحِبُّنِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى , فَأَخَذَ بِحُبْوَتِي فَجَرَّنِي إِلَيْهِ هُنَيَّةً , ثُمَّ قَالَ : أَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ " , قَالَ : فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ , فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْوَلِيدِ لَا أُحَدِّثُكَ بِمَا حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي الْمُتَحَابِّينَ , قَالَ : فَأَنَا أُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُهُ إِلَى الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ : " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ , وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ , وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ , وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوادریس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسی مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا ! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی ؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ "" میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22081
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ الْعِجْلِيُّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبْعَثُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْدًا , مُرْدًا , مُكَحَّلِينَ بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مسلمانوں کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہوگا وہ بےریش ہوں گے ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس سال کی عمر کے لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ولم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22082
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ , عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ , فَقِيلَ لِي : خَرَجَ قَبْلُ , قَالَ : فَجَعَلْتُ لَا أَمُرُّ بِأَحَدٍ إِلَّا قَالَ : مَرَّ قَبْلُ , حَتَّى مَرَرْتُ , فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي , قَالَ : فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ خَلْفَهُ , قَالَ : فَأَطَالَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً طَوِيلَةً , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ , سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا , فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً , سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي غَرَقًا , فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا لَيْسَ مِنْهُمْ , فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ہیں جس کے پاس سے بھی گذرتا وہ یہی کہتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ابھی گذرے ہیں یہاں تک کہ میں نے انہیں ایک جگہ کھڑے نماز پڑھتے ہوئے پالیا میں بھی پیچھے کھڑا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو لمبی پڑھتے رہے حتیٰ کہ جب اپنی نماز سے سلام پھیرا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج رات تو آپ نے بڑی لمبی نماز پڑھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! یہ ترغیب و ترہیب والی نماز تھی، میں نے اس نماز میں اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا جن میں سے دو چیزیں اس نے مجھے دے دیں اور ایک سے انکار کردیا میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ میری امت کو سمندر میں غرق کر کے ہلاک نہ کرے اس نے میری یہ درخواست قبول کرلی پھر میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ان پر بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے چنانچہ میری یہ درخواست بھی اس نے قبول کرلی، پھر میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی کہ وہ ہمیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کرے لیکن اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجاء الأنصاري
حدیث نمبر: 22083
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا مُعَاذُ , مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے معاذ ! جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22084
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَا : حدثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : وَقَالَ حَيْوَةُ , عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ , وَقَالَ مُعَاوِيَةُ : عَنْ حَيْوَةَ , عَنْ يَزِيدَ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أُسَامَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَكَمِ , أَنَّ مُعَاذًا قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَدِّقُ أَهْلَ الْيَمَنِ , وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا , قَالَ هَارُونُ : وَالتَّبِيعُ الْجَذَعُ أَوْ الْجَذَعَةُ , وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً , قَالَ : فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ آخُذَ مِنَ الْأَرْبَعِينَ , قَالَ هَارُونُ : مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِينَ َوْالْخَمْسِينَ , وَبَيْنَ السِّتِّينَ وَالسَّبْعِينَ , وَمَا بَيْنَ الثَّمَانِينَ وَالتِّسْعِينَ , فَأَبَيْتُ ذَاكَ , وَقُلْتُ لَهُمْ : حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَدِمْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا , وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً , وَمِنْ السِّتِّينَ تَبِيعَيْنِ , وَمِنْ السَّبْعِينَ مُسِنَّةً , وَتَبِيعًا وَمِنْ الثَّمَانِينَ مُسِنَّتَيْنِ , وَمِنْ التِّسْعِينَ ثَلَاثَةَ أَتْبَاعٍ , وَمِنْ الْمِائَةِ مُسِنَّةً وَتَبِيعَيْنِ , وَمِنْ الْعَشْرَةِ وَالْمِائَةِ مُسِنَّتَيْنِ وَتَبِيعًا , وَمِنْ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ ثَلَاثَ مُسِنَّاتٍ , أَوْ أَرْبَعَةَ أَتْبَاعٍ , قَالَ : وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا آخُذَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ " , وَقَالَ هَارُونُ : فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَبْلُغَ مُسِنَّةً أَوْ جَذَعًا , وَزَعَمَ أَنَّ الْأَوْقَاصَ لَا فَرِيضَةَ فِيهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ ہر تیس گائے پر ایک سالہ گائے وصول کروں اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے وصول کرلو، ان لوگوں نے مجھے چالیس اور پچاس کے درمیان، ساٹھ اور ستر کے درمیان، اسی اور نوے کے درمیان کی تعداد میں بھی زکوٰۃ وصول کرنے کی پیشکش کی، لیکن میں نے انکار کردیا اور کہہ دیا کہ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ واقعہ بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ہر تیس گائے پر ایک سالہ گائے ہر چالیس پر دو سالہ گائے، ساٹھ پر ایک سالہ دو عدد گائے، ستر پر ایک دو سالہ اور ایک ایک سالہ گائے، اسی پر دو سالہ گائے، نوے پر تین ایک سالہ گائے سو پر دو سالہ ایک اور ایک سالہ دو گائے ایک سو دس پر دو سالہ دو اور ایک سالہ ایک گائے ایک سو بیس پر تین دو سالہ گائے یا چار ایک سالہ گائے وصول کروں اور یہ حکم بھی دیا کہ ان اعداد کے درمیان اس وقت تک زکوٰۃ وصول نہ کروں جب تک وہ سال بھر کا یا چھ ماہ کا جانور نہ ہوجائے اور بتایا کہ ( " کسر " یا) تیس سے کم میں زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لجهالة سلمة بن أسامة، ويحيي بن الحكم مجهول الحال. معاذ لم يقدم المدينة بعد ما أرسله النبى ﷺ إلى اليمن حتى توفي رسول الله ﷺ
حدیث نمبر: 22085
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ , قَالَ : خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ , فَقَالَ : " إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ , وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ , وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ , اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ , ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ , فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ , فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ سورة البقرة آية 147 , فَقَالَ مُعَاذٌ : سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ سورة الصافات آية 102 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطبہ کے دوران طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہارے رب کی رحمت انبیاء کی دعاء اور تم سے پہلے نیکوں کی وفات کا طریقہ رہا ہے اے اللہ ! آل معاذ کو بھی اس رحمت کا حصہ عطاء فرما پھر جب وہ منبر سے اترے اور گھر پہنچے اور اپنے صاحبزادے عبدالرحمن کو دیکھا تو (وہ طاعون کی لپیٹ میں آچکا تھا) اس نے کہا کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لہٰذا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں " حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان شاء اللہ تم مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد منقطع، أبو المنيب لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22086
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى أَنَّهُ لَيُتَخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّ أَنْفَهُ لَيَتَمَزَّعُ مِنَ الْغَضَبِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ يَقُولُهَا هَذَا الْغَضْبَانُ لَذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی اور ان میں سے ایک آدمی کو اتنا غصہ آیا کہ اب تک خیالی تصورات میں میں اس کی ناک کو دیکھ رہا ہوں جو غصے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جو اگر یہ غصے میں مبتلا آدمی کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہوجائے اور وہ کلمہ یہ ہے " اللہم انی اعوذبک میں الشیطان الرجیم "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف فيه على عبدالملك بن عمير
حدیث نمبر: 22087
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ , وَحَجَّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ , وَصَامَ رَمَضَانَ , وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا ؟ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِهِ , أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا " , فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَفَأُخْبِرُ النَّاسَ , قَالَ : " ذَرْ النَّاسَ يَا مُعَاذُ , فِي الْجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ , مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ سَنَةٍ , وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا , وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ , فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص پنج گانہ نماز ادا کرتا ہو بیت اللہ کا حج کرتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور اللہ پر حق ہے خواہ وہ ہجرت کرے یا اسی علاقے میں رہے جہاں وہ پیدا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاذ ! انہیں عمل کرتے رہنے دو جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے اور فردوس جنت کا سب سے اعلیٰ اور بہترین درجہ ہے اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اس لئے تم جب اللہ سے سوال کیا کرو تو جنت الفردوس ہی کا سوال کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من معاذ، وقد اختلف فيه على زيد بن أسلم وعلى عطاء بن يسار
حدیث نمبر: 22088
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَتُهَاجِرُونَ إِلَى الشَّامِ , فَيُفْتَحُ لَكُمْ , وَيَكُونُ فِيكُمْ دَاءٌ كَالدُّمَّلِ , أَوْ كَالْحَرَّةِ , يَأْخُذُ بِمَرَاقِ الرَّجُلِ , يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَهُمْ , وَيُزَكِّي بِهَ أَعْمَالَهُمْ " , اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطِهِ هُوَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْهُ , فَأَصَابَهُمْ الطَّاعُونُ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ , فَطُعِنَ فِي أُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ , فَكَانَ يَقُولُ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تم شام کی طرف ہجرت کرو گے اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہوجائے گا لیکن وہاں پھوڑے پھنسیوں کی ایک بیماری تم پر مسلط ہوجائے گی جو آدمی کو سیڑھی کے پائے سے پکڑ لے گا اللہ اس کے ذریعے انہیں شہادت عطاء فرمائے گا اور ان کے اعمال کا تزکیہ فرمائے گا اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ معاذ بن جبل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو اس کا وافر حصہ عطاء فرماء چنانچہ وہ سب طاعون میں مبتلا ہوگئے اور ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہ بچاجب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت والی انگلی میں طاعون کی گلٹی نمودار ہوئی تو وہ اسے دیکھ دیکھ کر فرماتے تھے کہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ ملنا بھی پسند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إسماعيل بن عبيد الله لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22089
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ , فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ , فَقَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ , ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ : انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ , قَالَ : أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ , فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ , ثُمَّ قَالَ : " قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا , أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ , فَأَنْتَ فَوْقَهُمْ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ , وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ , فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور باسعادت میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے دوسرے سے کہا کہ میں تو فلاں بن فلاں ہوں اور اس نے اپنے آباؤ اجداد میں سے نو افراد کے نام گنوائے اور کہا کہ تو کون ہے ؟ تیری ماں نہ رہے اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس سے آگے کے لوگوں سے میں بری ہوں حضرت موسٰی علیہ السلام نے منادی کر کے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا تم دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہے اے نو آدمیوں کی طرف نسبت کرنے والے ! وہ سب جہنم میں ہیں اور دسواں تو خود ان کے ساتھ جہنم میں ہوگا اور اے اپنے والدین کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والے ! تو اہل اسلام میں کا ایک فرد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22090
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ , حدثَنَا يَحْيَى التَّيْمِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ , إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا " , فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوْ اثْنَانِ , قَالَ : " أَوْ اثْنَانِ " , قَالُوا : أَوْ وَاحِدٌ , قَالَ : " أَوْ وَاحِدٌ " , ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوجائیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر دو بچے ہوں تو ؟ فرمایا ان کا بھی یہی حکم ہے انہوں نے پوچھا اگر ایک ہو تو ؟ فرمایا اس کا بھی یہی حکم ہے پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة السقط فى آخره وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى التيمي
حدیث نمبر: 22091
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " , وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22092
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , وَثَابِتٌ , فَحَدَّثَ عَاصِمٌ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , إِلَّا أَعْطَاهُ " , فَقَالَ ثَابِتٌ : قَدِمَ عَلَيْنَا , فَحَدَّثَنَا هَذَا الْحَدِيثَ , وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا يَعْنِي أَبَا ظَبْيَةَ , قُلْتُ لِحَمَّادٍ : عَنْ مُعَاذٍ ؟ قَالَ : عَنْ مُعَاذٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان باوضو ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات کو سوتا ہے پھر رات کے کسی حصے میں بیدار ہو کر اللہ سے دنیا و آخرت کی جس خیر کا بھی سوال کرتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة ثابت، ومن جهة عاصم ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22093
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسٍ , مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا , أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ , أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيرَهُ وَتَوْقِيرَهُ , أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَيَسْلَمُ النَّاسُ مِنْهُ , وَيَسْلَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کے متعلق ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص وہ کام کرے گا وہ اللہ کی حفاظت میں ہوگا، مریض کی تیماداری کرنے والا، جنازے میں شریک ہونے والا، اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے جانے والا، امام کے پاس جا کر اس کی عزت و احترام کرنے والا، یا وہ آدمی جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے کہ لوگ اس کی ایذاء سے محفوظ رہیں اور وہ لوگوں کی ایذاء سے محفوظ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، إسناده حسن
حدیث نمبر: 22094
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ , أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ , يُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا , وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ , وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ , وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے اور عصر کے وقت دونوں نمازیں ملا کر اکٹھی ادا کرلیتے اور اگر زوال کے بعد کوچ فرماتے تو پہلے ظہر اور عصر دونوں پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد روانہ ہوتے تو نماز عشاء کو پہلے ہی مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے پھر روانہ ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات،لكن أشار بعض أهل العلم إلى تفرد قتيبة به
حدیث نمبر: 22095
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ الشَّامَ , وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ , فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ : مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ ؟ ! فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " زَادَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ , وَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب ملک شام تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا بات ہے کہ میں اہل شام کو وتر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھتا ؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ ان پر واجب ہے ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے رب نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے جس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 22096
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ , قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ , فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ " , قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ : ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " , قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ , وَسَعْدَيْكَ , قَالَ : ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " , قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ : " فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف کجاوے کا پچھلا حصہ حائل تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6267، م: 30
حدیث نمبر: 22097
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ أَوْ مِثْلَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 22098
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22099
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : بَلَى , قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا میں جنت کے ایک دروازے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذ بن جبل
حدیث نمبر: 22100
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ , قَالَ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو ابْنَ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ : " كَيْفَ تَقْضِي إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ ؟ " , قَالَ : أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ , قَالَ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " , قَالَ : فَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سَنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " , قَالَ : أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو , قَالَ : فَضَرَبَ صَدْرِي , فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی فیصلہ آیا تو تم اسے کیسے حل کرو گے ؟ عرض کیا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں اس کا فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے ؟ عرض کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اگر اس کا حکم میری سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرمادی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الإبهام أصحاب معاذ، وجهالة الحارث بن عمرو
حدیث نمبر: 22101
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا , إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ : لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ , فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے تو جنت میں اس شخص کی حور عین میں سے جو بیوی ہوتی ہے وہ اس عورت سے کہتی ہے کہ اسے مت ستاؤ، اللہ تمہارا ستیاناس کرے یہ تو تمہارے پاس چند دن کا مہمان ہے عنقریب یہ تم سے جدا ہو کر ہمارے پاس آجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22102
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جنت کی کنجی " لا الہ الا اللہ " کی گواہی دینا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شهر بن حوشب ضعيف، ولم يدرك معاذا، ورواية إسماعيل عن غير أهل بلده ضعيفة، وهذه منها
حدیث نمبر: 22103
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا سورة السجدة آية 16 قَالَ : قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ان کے پہلو اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں " سے مراد رات کے وقت انسان کا تہجد کے لئے اٹھنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22104
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ , قَالَ : لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ , قِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَوْصِنَا , قَالَ : أَجْلِسُونِي , فَقَالَ : إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنْ ابْتَغَاهُمَا , وَجَدَهُمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ : عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ , وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ , وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا ثُمَّ أَسْلَمَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو کسی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن ! ہمیں کوئی وصیت فرما دیجئے انہوں نے فرمایا مجھے بٹھا دو اور فرمایا علم اور ایمان اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں جو ان کی تلاش میں نکلتا ہے وہی انہیں پاتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا چار آدمیوں سے علم حاصل کرو، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جو پہلے یہودی تھے بعد میں مسلمان ہوگئے تھے اور ان کے متعلق میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ جنت میں دس افراد میں سے دسویں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22105
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , وَيُونُسُ , قَالَا : حدثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَنْعُمَ , عَنْ مَرِيحِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ , قَالَ : " إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ , فَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِين " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا ناز و نعم کی زندگی سے بچنا کیونکہ اللہ کے بندے ناز و نعم کی زندگی نہیں گذارا کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف بقية ، وهو مدلس يدلس تدليس التسوية، وقد عنعن