حدیث نمبر: 21986
حدثنا عبد الله , حدثني أبى , فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْيَمَنِ , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ رِجَالًا بِالْيَمَنِ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضِهِمْ , أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ ؟ قَالَ : " لَوْ كُنْتُ آمِرًا بَشَرًا يَسْجُدُ لِبَشَرٍ , لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن سے واپس آکر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عیسائیوں کو اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے دیکھا ہے میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اس سے زیادہ تعظیم کے مستحق تو آپ ہیں تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کیا کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
حدیث نمبر: 21987
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : أَقْبَلَ مُعَاذٌ مِنَ الْيَمَنِ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَأَيْتُ رِجَالًا , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 21988
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا مُعَاذُ , أَتْبِعْ السَّيِّئَةَ بِالْحَسَنَةِ تَمْحُهَا , وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ " , فَقَالَ : وَقَالَ وَكِيعٌ : وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ , قَالَ أَبِي : وَقَالَ وَكِيعٌ : قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : عَنْ مُعَاذٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا معاذ ! گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا کرو۔
حدیث نمبر: 21989
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مَوْهَبٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ , قَالَ : عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ , وَالشَّعِيرِ , وَالزَّبِيبِ , وَالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ایک خط ہے جس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گندم، جو کشمش اور کھجور میں سے بھی زکوٰۃ وصول فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 21990
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ , فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ " , وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , يَعْنِي : عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرب کی کسی بستی میں بھیجا اور حکم دیا کہ زمین کا حصہ وصول کرکے لاؤں۔
حدیث نمبر: 21991
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ , أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : " فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " لَا يُعَذِّبُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 21992
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ , حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ : مَوْتِي , وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ , وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ , وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطَهَا , وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ , فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَنْدًا تَحْتَ كُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چھ چیزیں علامات قیامت میں سے ہیں میری وفات بیت المقذس کی فتح، موت کی وباء پھیل جانا جیسے بکریوں میں پھیل جاتی ہے ایک ایسی آزمائش جس کی جنگ ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوجائے گی نیزیہ کہ کسی شخص کو ایک ہزار بھی دے دیئے جائیں تو وہ ناراض ہی رہے اور رومی لوگ مسلمانوں کے ساتھ دھوکے بازی کریں اور اسی جھنڈوں کے تحت مسلمانوں کی طرف پیش قدمی کریں جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔
حدیث نمبر: 21993
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : أَتَيْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : نَعَمْ , كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ , قَالَ : فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " , قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " إِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ " , قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عجیب واقعہ ہمیں سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا ایک مرتبہ میں (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 21994
حدثناه عبدُ الرحمن , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حدثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا يُعَذِّبَهُمْ " , قَالَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : " دَعْهُمْ يَعْمَلُوا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 21995
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ مُعَاذٍ , بِنَحْوِهِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 21996
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ؟ " , قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا میں جنت کے ایک دروازے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " لاحول ولاقوۃ الا باللہ "
حدیث نمبر: 21997
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا , وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , " فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْر وَالْعَصْرِ , وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ , قُلْتُ : مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا تحْرِجَ أُمَّتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر روانہ ہوئے یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے اور اس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا، راوی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کی امت کو تکلیف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21998
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ , قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَةِ , فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ أَبْيَضِ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ , فَقَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِيَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَاكْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ , إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " , قُلْتُ لَهُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُعَاذٍ ؟ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ عَنَّفُونِي , قَالَ : لَا تُعَنِّفُوهُ , وَلَا تُؤَنِّبُوهُ دَعُوهُ , نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاكَ مِنْ مُعَاذٍ , يُدَبِّرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً : يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : قُلْتُ لِبَعْضِهِمْ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ . .
مولانا ظفر اقبال
ھصان بن کاہل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں جامع بصرہ میں داخل ہوا اور ایک بزرگ کی مجلس میں شامل ہوگیا جن کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے وہ کہنے لگے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو اور یہ گواہی دل کے یقین سے ہو تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے ؟ لوگ اس پر مجھے ملامت کرنے لگے لیکن انہوں نے کہا کہ اسے ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، اسے چھوڑ دو ، میں نے یہ حدیث حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ہی سنی ہے جسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، بعد میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ عبدالرحمن بن سمرہ ہیں۔
حدیث نمبر: 21999
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ يُونُسَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ , قَالَ : وَكَانَ أَبُوهُ كَاهِنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ , قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَإِذَا شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ , يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 22000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُثْمَانَ , حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ , حَدَّثَنَا هِصَّانُ بْنُ الْكَاهِنِ الْعَدَوِيُّ , قَالَ : جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ وَلَا أَعْرِفُهُ , قَالَ : حدثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ , إِلَّا غُفِرَ لَهَا " , قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؟ قَالَ : فَعَنَّفَنِي الْقَوْمُ , فَقَالَ : دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَمْ يُسِئْ الْقَوْلَ , نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذٍ , زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . .
مولانا ظفر اقبال
ھصان بن کاہل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبدالرحمن بن سمرہ رحمہ اللہ کی مجلس میں شامل ہوگیا جن کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے وہ کہنے لگے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو اور یہ گواہی دل کے یقین سے ہو تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے ؟ لوگ اس پر مجھے ملامت کرنے لگے لیکن انہوں نے کہا کہ اسے ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، اسے چھوڑ دو ، میں نے یہ حدیث حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ہی سنی ہے جسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، بعد میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ ہیں۔
حدیث نمبر: 22001
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , عَنْ مُعَاذٍ , مِثْلَهُ نَحْوَ قَوْلِهِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 22002
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءِ , عنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْعَيْذِيِّ أَوْ الْخَوْلَانِيِّ , قَالَ : جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ حَدِيثُ السِّنِّ , حَسَنُ الْوَجْهِ , أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ , أَغَرُّ الثَّنَايَا , فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ , فَقَال قَوْلًا انْتَهَوْا إِلَى قَوْلِهِ , فَإِذَا هُوَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ , جِئْتُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ , قَالَ : فَحَذَفَ مِنْ صَلَاتِهِ , ثُمَّ احْتَبَى فَسَكَتَ , قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ , قَالَ : أَللَّهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَللَّهِ , قَالَ : فَإِنَّ مِنَ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ , فِيمَا أَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ : فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ , ثُمَّ لَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ يَعْنِي : فِي بَقِيَّةِ الْحَدِيثِ , يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسٍ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ بِمَجْلِسِهِمْ مِنَ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ , النَّبِيُّونَ , وَالصِّدِّيقُونَ , وَالشُّهَدَاءُ , قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ , فَقَالَ : لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ , وحَقَّتْ محبتي للمتزاورينَ في , وَحَقَّتْ محبتي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ , وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَصَادِقِينَ فِيَّ , وَالْمُتَوَاصِلِينَ " , شَكَّ شُعْبَةُ : فِي الْمُتَوَاصِلِينَ , أَوْ الْمُتَزَاوِرِينَ.
مولانا ظفر اقبال
ابو ادریس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسی مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا ! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی ؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
حدیث نمبر: 22003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " , قَالَ شُعْبَةُ : لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ عَنْ أَنَسٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی صدق دل سے دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 22004
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ , أَنَّهُمَا سَمِعَا الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ , أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , فَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " يَعْبُدُونَهُ وَلَا يُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : " أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " , قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 22005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حدثَنَا شُعْبَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ , قَالَ : كَانَ مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ , فَارْتَفَعُوا إِلَيْهِ فِي يَهُودِيٍّ مَاتَ وَتَرْكَ أَخًا مُسْلِمًا , فَقَالَ مُعَاذٌ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ " , فَوَرَّثَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابو الاسود دیلی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جس وقت یمن میں تھے تو ان کے سامنے ایک یہودی کی وراثت کا مقدمہ پیش ہوا جو فوت ہوگیا تھا اور اپنے پیچھے ایک مسلمان بھائی چھوڑ گیا تھا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام اضافہ کرتا ہے کمی نہیں کرتا اور اس حدیث سے استدلال کر کے انہوں نے اسے وارث قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 22006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : " وَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔
حدیث نمبر: 22007
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي عَوْنٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ , فَقَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ ؟ " , قَالَ : أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ , قَالَ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ " , قَالَ : فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " , قَالَ : أَجْتَهِدُ رَأْيِي لَا آلُو , قَالَ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرِي , ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی فیصلہ آیا تو تم اسے کیسے حل کرو گے ؟ عرض کیا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں اس کا فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے ؟ عرض کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اگر اس کا حکم میری سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے ؟ عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرما دی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔
حدیث نمبر: 22008
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَمْلَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْجَبَ ذُو الثَّلَاثَةِ " , فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : وَذُو الِاثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " وَذُو الِاثْنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے حق میں تین آدمی گواہی دیں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگر دو ہوں تو ؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 22009
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " , قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَسَعْدَيْكَ , قَالَ : " لَا يَشْهَدُ عَبْدٌ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , ثُمَّ يَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " , قَالَ : قُلْتُ : أَفَلَا أُحَدِّثُ النَّاسَ , قَالَ : " لَا , إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے معاذ بن جبل ! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ وسعدیک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی صدق دل سے دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا کہ میں لوگوں کو یہ بات نہ بتادوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا نہیں مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔
حدیث نمبر: 22010
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (اگر گائے تعداد میں تیس سے کم ہوں تو میں ان کی زکوٰۃ نہیں لوں گا تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں کیونکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 22011
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 22012
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا سُفْيَانُ , وَأَبُو أَحْمَدَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : " جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , وَالْمَغْرِبِ َالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا۔
حدیث نمبر: 22013
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً , وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً , وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے میں زکوٰۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے لینا اور ہر بالغ ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑا جس کا نام " معافر " ہے وصول کرنا۔
حدیث نمبر: 22014
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَتِهِ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ , وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا , ثُمَّ مَاتَ , أَوْ قُتِلَ , فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ , وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً , فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ , لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ , وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ , وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ " , قَالَ أَبِي : وقَالَ حَجَّاجٌ , وَرَوْحٌ : كَأعَزِّ , وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : كَأَغَرِّ , وَهَذَا الصَّوَابُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے اور جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 22015
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , قَالَ : قَدِمَ عَلَى أَبِي مُوسَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ , فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ , قَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ , ثُمَّ تَهَوَّدَ , وَنَحْنُ نُرِيدُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ , مُنْذُ قَالَ : أَحْسَبُهُ شَهْرَيْنِ , فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى تَضْرِبُوا عُنُقَهُ , فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ , فَقَالَ : قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ " أَنَّ مَنْ رَجَعَ عَنْ دَيْنِهِ فَاقْتُلُوهُ " , أَوْ قَالَ : " مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے وہاں ایک آدمی رسیوں سے بندھا ہوا نظر آیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک یہودی تھا اس نے اسلام قبول کرلیا بعد میں اپنے ناپسندیدہ دین کی طرف لوٹ گیا اور دوبارہ یہودی ہوگیا ہم غالباً دو ماہ سے اسے اسلام کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک تم اسے قتل نہیں کردیتے چنانچہ میں نے اسے قتل کردیا پھر انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ یہی ہے کہ جو شخص اپنے دین سے پھر سے جائے اسے قتل کردو۔
حدیث نمبر: 22016
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ , فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ , قَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ , وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ , تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا , وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ , وَتَصُومُ رَمَضَانَ , وَتَحُجُّ الْبَيْتَ " , ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ , وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ , وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ " , ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَهُ تَعَالَى : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 حَتَّى بَلَغَ يَعْمَلُونَ سورة البقرة آية 96 , ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ , وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ ؟ " , فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " رَأْسُ الْأَمْرِ الإسلامُ , وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ , وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ " , ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ ؟ " , فَقُلْتُ لَهُ : بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ , فَقَالَ : " كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا " , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ , فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ , وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ " , أَوْ قَالَ : " عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا دوران سفر ایک دن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہوگیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی البتہ جس کے لئے اللہ آسان کر دے اس کے لئے بہت آسان ہے، اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتادوں ؟ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے اور آدھی رات کو انسان کا نماز پڑھنا باب خیر میں سے ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت سجدہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عنی المضاجع حتی بلغ یعملون " پھر فرمایا کیا میں تمہیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کے کوہان کی بلندی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیوں نہیں فرمایا اس دین و مذہب کی بنیاد اسلام ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں ان چیزوں کا مجموعہ نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے نبی ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک کر رکھو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ کیا جائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پیار سے ڈانٹتے ہوئے) فرمایا معاذ ! تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ان کی دوسروں کے متعلق کہی ہوئی باتوں کے علاوہ بھی کوئی چیز اوندھا گرائے گی ؟
حدیث نمبر: 22017
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ يَعْنِي ابْنَ ثُمَامَةَ . ح وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أخبرَنَا الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ , جَمِيعًا عَنِ اللَّجْلَاجِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ , وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ , فَقَالَ : " قَدْ سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ " , قال : ومر برجل يقول : يا ذا الجلال والإكرامِ , قال : " قد أستُجيبَ لك فسَل " , قَالَ : وَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ , قَالَ : " يَا ابْنَ آدَمَ أَتَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ ؟ " , قَالَ : دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ , قَالَ : " فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ , وَدُخُولُ الْجَنَّةِ " , قَالَ أَبِي : لَوْ لَمْ يَرْوِ الْجُرَيْرِيُّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو اللہ سے مصیبت کی دعاء مانگ رہے ہو اللہ سے عافیت مانگا کرو (پھر ایک آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ " یاذا الجلال والا کر ام " کہہ کر دعاء کر رہا تھا، اس سے فرمایا کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی اس لئے مانگو) ایک اور آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے تمام نعمت کی درخواست کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن آدم ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ " تمام نعمت " سے کیا مراد ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ دعاء جو میں نے مانگی تھی اس کی خیر کا امیدوار ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام نعمت یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔
حدیث نمبر: 22018
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , قَالَ : " لَسْتُ آخُذُ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا , حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهَا بِشَيْءٍ " , قَالَ ابْنُ بَكْرٍ : لَسْتُ بِآخِذٍ فِي الْأَوْقَاصِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (اگر گائے تعداد میں تیس سے کم ہوں تو میں ان کی زکوٰۃ نہیں لوں گا تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں کیونکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا،
حدیث نمبر: 22019
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ طَاوُسٍ , أُتِيَ مُعَاذٌ بِوَقَصِ الْبَقَرِ , وَالْعَسَلِ , فَقَالَ : " لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا بِشَيْءٍ " , قَالَ سُفْيَانُ : الْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس تیس سے کم گائیں اور شہد لایا گیا انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 22020
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ , رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ , أَجَشَّ الصَّوْتِ , فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ , حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ , ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ , فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ , فَقَالَ لِي : كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا , وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں جب تشریف لائے تو وہ سحری کا وقت تھا وہ بلند اور بارعب آواز کے ساتھ تکبیر کہتے جا رہے تھے میرے دل میں ان کی محبت رچ بس گئی چنانچہ میں ان سے اس وقت تک جدا نہ ہوا جب تک شام میں ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی نہ ڈال لی، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں، پھر میں نے ان کے بعد سب سے زیادہ فقیہہ آدمی کے لئے اپنی نظریں دوڑائیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا اس وقت تم کیا کرو گے جب تم پر ایسے حکمران آجائیں گے جو نماز کو اس کا وقت نکال کر پڑھا کریں گے ؟ میں نے عرض کیا کہ اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا تم اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھ لینا اور حکمرانوں کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔
حدیث نمبر: 22021
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبْعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا طَمَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک مرتبہ فرمایا اس لالچ سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جو دلوں پر مہر لگنے کی کیفیت تک پہنچا دے، اس لالچ سے بھی پناہ مانگا کرو جو کسی بےمقصد چیز تک پہنچا دے اور ایسی لالچ سے بھی اللہ کی پناہ مانگا کرو جہاں کوئی لالچ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 22022
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 قَالَ : قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ان کے پہلو اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں " سے مراد رات کے وقت انسان کا تہجد کے لئے اٹھنا ہے۔
حدیث نمبر: 22023
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ , وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ , وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ , وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ " , ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى فَخِذِهِ أَوْ عَلَى مَنْكِبِهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ " , وَكَانَ مَكْحُولٌ يُحَدِّثُ بِهِ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس کا آباد ہوجانا مدینہ منورہ کے بےآباد ہوجانے کی علامت ہے اور مدینہ منورہ کا بےآباد ہونا جنگوں کے آغاز کی علامت ہے اور جنگوں کا آغاز فتح قسطنطنیہ کی علامت ہے اور قسطنطنیہ کی فتح خروج دجال کا پیش خیمہ ہوگی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا یہ ساری چیزیں اسی طرح برحق اور یقینی ہیں جیسے تمہارا یہاں بیٹھا ہونا یقینی ہے۔
حدیث نمبر: 22024
حَدَّثَنَا يُونُسُ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ : وَحَدَّثَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبْعَثُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْدًا , مُرْدًا , مُكَحَّلِينَ بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مسلمانوں کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہوگا، وہ بےریش ہوں گے، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس سال کی عمر کے لوگ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 22025
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مَلِيحٍ الْهُذَلِيِّ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , وَعَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا كَانَ الَّذِي يَلِيهِ الْمُهَاجِرينَ , قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَوْلَهُ , قَالَ : فَتَعَارَرْتُ مِنَ اللَّيْلِ أَنَا وَمُعَاذٌ , فَنَظَرْنَا قَالَ : فَخَرَجْنَا نَطْلُبُهُ , إِذْ سَمِعْنَا هَزِيزًا كَهَزِيزِ الْأَرْحَاءِ , إِذْ أَقْبَلَ , فَلَمَّا أَقْبَلَ نَظَرَ , قَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " , قَالُوا : انْتَبَهْنَا فَلَمْ نَرَكَ حَيْثُ كُنْتَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ أَصَابَكَ شَيْءٌ , جِئْنَا نَطْلُبُكَ , قَالَ : " أَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي , فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ نِصْفُ أُمَّتِي , أَوْ شَفَاعَةً , فَاخْتَرْتُ لَهُمْ الشَّفَاعَةَ " , فَقُلْنَا : فَإِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ الْإِسْلَامِ , وَبِحَقِّ الصُّحْبَةِ , لَمَا أَدْخَلْتَنَا الْجَنَّةَ , قَالَ : فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ , فَقَالُوا لَهُ مِثْلَ مَقَالَتِنَا , وَكَثُرَ النَّاسُ , فَقَالَ : " إِنِّي أَجْعَلُ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب ہوتے تھے، ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے، اچانک حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور میں رات کو اٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔
…