حدیث نمبر: 21957
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ , أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود کا وہ ایک درہم جو انسان جانتے بوجھتے کھاتا ہے ٣٦ مرتبہ بدکاری سے زیادہ سخت گناہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف مرفوعا، صحيح موقوفا على كعب الأحبار
حدیث نمبر: 21958
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنِ ابْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ , عَنْ كَعْبٍ , قَالَ : " لَأَنْ أَزْنِيَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ دِرْهَمَ رِبًا , يَعْلَمُ اللَّهُ أَنِّي أَكَلْتُهُ حِينَ أَكَلْتُهُ رِبًا " .
مولانا ظفر اقبال
کعب احبار کہتے ہیں کہ میرے نزدیک ٣٣ مرتبہ بدکاری کرنا اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں جانتے بوجھتے سود کا ایک درہم کھاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21959
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ , " أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَالَ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ , يَعْنِي : أَنَّهُ تَيَمَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا تھا لہٰذا اسے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ پہلے دیوار پر ہاتھ مار کر تمیم کیا (پھر اسے جواب دیا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن عبدالله بن حنظلة
حدیث نمبر: 21960
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ , ثُمَّ الْمَازِنِيُّ مَازِنُ بَنِي النَّجَّارِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَرَأَيْتَ وُضُوءَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ , أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ هُوَ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرِ ابْنَ الْغَّسِيلِ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ , أَوْ غَيْرَ طَاهِر , فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أُمِرَ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , وَوُضِعَ عَنْهُ الْوُضُوءُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ " , قَالَ : فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً عَلَى ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُهُ حَتَّى مَاتَ.
مولانا ظفر اقبال
محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے پوچھا کہ یہ بتائیے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو ہر نماز کے لئے وضو قرار دیتے ہیں خواہ وہ آدمی باوضو ہو یا بےوضو تو وہ کس سے نقل کرتے ہیں ؟ عبداللہ نے بتایا کہ ان سے حضرت اسماء بنت زید نے حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لئے وضو کا حکم دیتے تھے خواہ وہ آدمی با وضو ہو یا بےوضو، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکل معلوم ہوئی تو ہر نماز کے وقت صرف مسواک کا حکم دیا اور وضو کا حکم ختم کردیا الاّ یہ کہ انسان بےوضو ہو چونکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے اندر ہر نماز کے وقت وضو کرنے کی طاقت پاتے تھے اس لئے وہ اپنے انتقال تک اس پر عمل کرتے رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن