حدیث نمبر: 21850
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے " پچھلے حصے میں آنے " سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 21851
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَ لَيَالٍ , وَالْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21852
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَابْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَا : حدثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , وَحَمَّادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ : " يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ , وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهُنَّ لِلْمُسَافِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ قَالَ شُعْبَةُ , أَحْسَبُهُ قَالَ : وَلَيَالِيهُنَّ لِلْمُسَافِرِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21854
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ هَرَمِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْسِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَسْتَحِي اللَّهُ مِنَ الْحَقِّ , لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں جھجھکتا، لہٰذا تم عورتوں کے " پچھلے حصے میں " مت آیا کرو۔
حدیث نمبر: 21855
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , أَخبرنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَرَمِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 21856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ المزنِي , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الِاسْتِطَابَةَ , فَقَالَ : " ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تین پتھر استعمال کئے جائیں جن میں لید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21857
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ التَّيْمِيُّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " امْسَحُوا عَلَى الْخِفَافِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " , وَلَوْ اسْتَزَدْنَاهُ لَزَادَنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موزوں پر تین دن تک مسح کیا کرو اگر ہم مزید دن بڑھانے کی درخواست کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں مزید اضافہ فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 21858
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ , لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں جھجھکتا، لہٰذا تم عورتوں کے " پچھلے حصے میں " مت آیا کرو۔
حدیث نمبر: 21859
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ " فَرَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ , وَللْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : قَالَ أَبِي : سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ مَرَّتَيْنِ يَذْكُرُ : لِلْمُقِيمِ وَلَوْ أَطْنَبَ السَّائِلُ فِي مَسْأَلَتِهِ لَزَادَهُمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21860
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أبى ثَابِتٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ , عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ , فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا , وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد رضی اللہ عنہ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حدیث نمبر: 21861
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الِاسْتِنْجَاءِ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تین پتھر استعمال کئے جائیں جن میں لید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21862
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ حَمَّادٍ , وَمَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , قَالَ : " جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا , وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21863
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ يَعْنِي الْخَطْمِيَّ , قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِت أَنَّهُ " رَأَى فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ يُقَبِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ , فَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دیالیا۔
حدیث نمبر: 21864
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أخبرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ أَبَاهُ , قَالَ : رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ الرُّوحَ لتَلْقَى الرُّوحَ " , وَأَقْنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ هَكَذَا , فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک رُوح رُوح سے ملاقات کرتی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اس طرح جھکا دیا، چنانچہ انہوں نے اپنی پیشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر رکھ دی۔
حدیث نمبر: 21865
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , وَابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَا : حدثَنَا حَسَّانُ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ هَرَمِيِّ بْنِ عَمْرٍو الْخَطْمِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ , لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں جھجھکتا، لہٰذا تم عورتوں کے " پچھلے حصے میں " مت آیا کرو۔
حدیث نمبر: 21866
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ , فَهُوَ كَفَّارَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اس پر اس کی حد بھی جاری کردی جائے تو وہ اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 21867
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَأْتِي الشَّيْطَانُ الْإِنْسَانَ , فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ , ثُمَّ يَقُولُ : مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ , حَتَّى يَقُولَ : مَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات شیطان انسان کے پاس آتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے اللہ نے، شیطان پوچھتا ہے کہ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے اللہ نے حتیٰ کہ شیطان یہ پوچھتا ہے کہ پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی شخص کو یہ کیفیت لاحق ہو تو اسے یوں کہنا چاہئے امنت باللہ ورسولہ ﷺ
حدیث نمبر: 21868
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , وَحَمَّادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ , قَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ , وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21869
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ حَمَّادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 21870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنِ النَّخَعِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِثْلَهُ.
حدیث نمبر: 21871
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ . وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ : حدثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا , وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " , قَالَ : وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْ مَضَى السَّائِلُ فِي مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا , وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : يَوْمٌ لِلْمُقِيمِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔، اللہ کی قسم! اگر سائل مزید دن بڑھانے کی درخواست کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں مزید اضافہ فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 21872
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خُزَيْمَةَ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ , عَنْ أَبِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ , فَقَالَ : " ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تین پتھر استعمال کئے جائیں جن میں لید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21873
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , قَالَ : مَا زَالَ جَدِّي كَافًّا سِلَاحَهُ يَوْمَ الْجَمَلِ , حَتَّى قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّينَ , فَسَلَّ سَيْفَهُ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمارہ کہتے ہیں کہ میرے دادا حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن اپنی تلوار کو نیام میں روکے رکھا لیکن جس جنگ صفین میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو انہوں نے اپنی تلوار نیام سے کھینچ لی اور اتنا لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔
حدیث نمبر: 21874
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ , أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْحُصَيْنِ الْوَائِلِيّ حَدَّثَهُ , أَنَّ هَرَمِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِفِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْخَطْمِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسْتَحِي اللَّهُ مِنَ الْحَقِّ ثَلَاثًا , لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں جھجھکتا، لہٰذا تم عورتوں کے " پچھلے حصے میں " مت آیا کرو۔
حدیث نمبر: 21875
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَخْبَرَنِي حَكَمٌ , وَحَمَّادٌ , سمعا إبراهيم , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " رَخَّصَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ , وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21876
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ , فَهُوَ كَفَّارَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اس پر اس کی حد بھی جاری کردی جائے تو وہ اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 21877
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّي , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ , وَأَوْسَطَهُ , وَآخِرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 21878
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أخبرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , أَنَّ أَبَاهُ , قَالَ : رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " إِنَّ الرُّوحَ لَيَلْقَى الرُّوحَ " , وَأَقْنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ هَكَذَا , فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سران کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دیا لیا۔
حدیث نمبر: 21879
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الِاسْتِنْجَاءِ : " أَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ " , قَالَ : وَأَخْبَرَنِي رَجُلٌ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهِنَّ رَجِيعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو تین پتھر نہیں مل سکتے۔ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تین پتھر استعمال کئے جائیں جن میں لید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21880
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنِ النَّخَعِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ , وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔
حدیث نمبر: 21881
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ , عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ , قَالَ : " جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ , وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ " وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْ مَضَى السَّائِلُ فِي مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مسافر آدمی موزوں پر تین راتوں تک مسح کرسکتا ہے اور مقیم آدمی ایک دن اور ایک رات۔ اللہ کی قسم! اگر سائل مزید دن بڑھانے کی درخواست کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں مزید اضافہ فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 21882
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ هُوَ ابْنُ فَارِسٍ , أخبرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ صَاحِبِ الشَّهَادَتَيْنِ , عَنْ عَمِّهِ , أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ رَأَى فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ , فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ : " صَدِّقْ بِذَلِكَ رُؤْيَاكَ " , فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دیا لیا۔
حدیث نمبر: 21883
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيُّ , أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ , وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ , فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ , فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ , وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ , فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَ بِالْفَرَسِ , لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ , حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمْ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعَا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ , وَإِلَّا بِعْتُهُ , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ , فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ ؟ " , قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى قَدْ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ " , فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ , فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ : هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ , فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ : وَيْلَكَ أن النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَقُولَ إِلَّا حَقًّا , حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ , لِمُرَاجَعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُرَاجَعَةِ الْأَعْرَابِيِّ , فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ : هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ , قَالَ خُزَيْمَةُ : أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ , فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ , فَقَالَ : " بِمَ تَشْهَدُ ؟ " , فَقَالَ : بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا سے " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ تھے " نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہاتی سے ایک گھوڑا خریدا اور قیمت ادا کرنے کے لئے اسے اپنے ساتھ لے کر چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار تیز تھی اور وہ دیہاتی سست روی سے چل رہا تھا راستے میں اس دیہاتی کو کچھ لوگ ملے جو اس سے گھوڑے کا بھاؤ تاؤ کرنے لگے کیونکہ انہیں تو یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خرید چکے ہیں حتیٰ کہ ایک آدمی نے اسے گھوڑے کی قیمت لگائی وہ اس قیمت سے زیادہ تھی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خریدا تھا چنانچہ اس دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا کہ اگر آپ نے یہ گھوڑا لینا ہے تو لے لیں ورنہ میں اسے بیچنے لگا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دیہاتی کی یہ آواز سن کر رک گئے اور فرمایا کیا میں نے تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! میں نے تو آپ کو یہ گھوڑا نہیں بیچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں بیچا میں نے تو خود تم سے اسے خریدا ہے۔ دونوں میں اس بات پر تکرار ہونے لگی اور لوگ بھی جمع ہونے لگے وہ دیہاتی کہنے لگا کہ کوئی گواہ پیش کیجئے جو اس بات کی گواہی دے کہ اسے میں نے آپ کو فروخت کردیا ہے؟ جو مسلمان بھی آتا وہ اس سے یہی کہتا کم بخت! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کہتے ہی وہ بات ہیں جو برحق ہو، اسی دوران حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے، انہوں نے بھی دونوں کی تکرار سنی، اس مرتبہ جب دیہاتی نے گواہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے یہ گھوڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کے سچا ہونے کی بناء پر چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 21884
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَخْضَرِ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ , أَنَّ خُزَيْمَةَ رَأَى فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَأَتَى خُزَيْمَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ , قَالَ : فَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ لَه : " صَدِّقْ رُؤْيَاكَ " , فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دے لیا۔
حدیث نمبر: 21885
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ , حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ , وَخُزَيْمَةُ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ , عَنْ عَمِّهِ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ " رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ , فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سران کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دے لیا۔