حدیث نمبر: 21822
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , قَالَ : قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْبَابِ , فَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ , هَذِهِ الْقِبْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف سے باہر آئے تو دروازے کی طرف رخ کر کے دو مرتبہ فرمایا یہ ہے قبلہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أسامة شيئا، بينهما ابن عباس
حدیث نمبر: 21823
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخبرنا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , قَالَ : قَالَ أُسَامَةُ : دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَجَلَسَ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ , ثُمَّ قَامَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْبَيْتِ , فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ , وَخَدَّهُ , وَيَدَيْهِ , قَالَ : ثُمَّ كَبَّرَ , وَهَلَّلَ , وَدَعَا , ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا , ثُمَّ خَرَجَ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ , وَهُوَ عَلَى الْبَابِ , فَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ , هَذِهِ الْقِبْلَةُ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کرلیا، اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر مشتمل تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے ان دو ستونوں کے قریب پہنچے جو باب کعبہ کے قریب تھے) اور بیٹھ کر اللہ کی حمدوثناء کی، تکبیروتہلیل کہی (دعاء و استغفار کیا) پھر کھڑے ہو کر بیت اللہ کے سامنے والے حصے کے پاس گئے اور اس پر اپنا سینہ مبارک، رخسار اور مبارک ہاتھ رکھ دیئے، پھر تکبیروتہلیل اور دعاء کرتے رہے پھر ہر کونے پر اسی طرح کیا اور باہر نکل کر باب کعبہ پر پہنچ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے دو تین مرتبہ فرمایا یہ ہے قبلہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع ، عطاء لم يسمع من أسامة شيئا، بينهما ابن عباس
حدیث نمبر: 21824
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنِي صَالِحُ أبى الْأَخْضَرِ , حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجَّهَهُ وِجْهَةً , فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , مَا الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أُغِيرَ عَلَى أُبْنَى صَبَاحًا , ثُمَّ أُحَرِّقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی جانب لشکر دے کر روانہ فرمایا تھا لیکن اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں صبح کے وقت " ابنی " پر حملہ کروں اور اسے آگ لگا دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح ابن أبى الأخضر
حدیث نمبر: 21825
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا الْفُقَرَاءُ , إِلَّا أَنَّ أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ , إِلَّا أَهْلَ النَّارِ , فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ , وَوَقَفْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت مساکین کی ہے جبکہ مالداروں کو (حساب کتاب کے لئے فرشتوں نے) روکا ہوا ہے البتہ جو جہنمی ہیں انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت عورتوں کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5196، م: 2736
حدیث نمبر: 21826
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَشْعَثَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمستَحْجمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من اسامة شياء، وقد اختلف فيه عليه
حدیث نمبر: 21827
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ سَعْدًا , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ لَيْسَ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا , وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس علاقے میں طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5728، م: 2218
حدیث نمبر: 21828
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنِ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي وَالْحَسَنُ , فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا , فَأَحِبَّهُمَا " . قَالَ يَحْيَى : قَالَ التَّيْمِيُّ : كُنْتُ أُحَدِّثُ بِهِ , فَدَخَلَنِي مِنْهُ , فَقُلْتُ : أَنَا أُحَدِّثُ بِهِ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا , فَوَجَدْتُهُ مَكْتُوبًا عِنْدِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات مجھے پکڑ کر اپنی ران پر بٹھا لیتے اور دوسری پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پھر ہمیں بھینچ کر فرماتے اے اللہ ! میں چونکہ ان دونوں سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تو بھی ان سے محبت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3735
حدیث نمبر: 21829
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ . وَإِسْمَاعِيلُ , عَنِ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا تَرَكْتُ فِي النَّاسِ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کے مردوں پر عورتوں سے زیادہ سخت فتنہ کوئی نہیں چھوڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5096، م: 2741
حدیث نمبر: 21830
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ , فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ الْبَابَ وَالْبَيْتَ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ , فَمَضَى حَتَّى أَتَى اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْبَابَ , بَابَ الْكَعْبَةِ , فَجَلَسَ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَسَأَلَهُ , وَاسْتَغْفَرَهُ , ثُمَّ قَامَ حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ , فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَجَسَدَهُ عَلَى الْكَعْبَةِ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَسَأَلَهُ , وَاسْتَغْفَرَهُ , ثُمَّ انْصَرَفَ , حَتَّى أَتَى كُلَّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ , وَالتَّهْلِيلِ , وَالتَّسْبِيحِ , وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَالِاسْتِغْفَارِ , وَالْمَسْأَلَةِ , ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ , ثُمَّ انْصَرَفَ , فَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ , هَذِهِ الْقِبْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے دروازہ بند کرلیا، اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر مشتمل تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے ان دو ستونوں کے قریب پہنچے جو باب کعبہ کے قریب تھے) اور بیٹھ کر اللہ کی حمدوثناء کی، تکبیروتہلیل کہی (دعاء و استغفار کیا) پھر کھڑے ہو کر بیت اللہ کے سامنے والے حصے کے پاس گئے اور اس پر اپنا سینہ مبارک، رخسار اور مبارک ہاتھ رکھ دیئے، پھر تکبیروتہلیل اور دعاء کرتے رہے پھر ہر کونے پر اسی طرح کیا اور باہر نکل کر باب کعبہ پر پہنچ کر قبلہ کی طرف رخ کر کے دو تین مرتبہ فرمایا یہ ہے قبلہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أسامة شيئا، بينهما ابن عباس
حدیث نمبر: 21831
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَفَعَ أَوْ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ , فَأَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ وَالْخُلَفَاءُ , قَالَ : فَبَالَ , فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ , ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ , قُلْتُ : الصَّلَاةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , قَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " , قَالَ : فَأَتَى جَمْعًا , فَأَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ , ثُمَّ لَمْ يَحُلَّ بَقِيَّةُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے اور اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے، نبی کریم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی، نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
حدیث نمبر: 21832
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , وَالثَّوْرِيُّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ , عَنْ أُسَامَةَ , قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ , فَلَمَّا بَلَغَ قَالَ مَعْمَرٌ : الشِّعْبَ , وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : النَّقْبَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
حدیث نمبر: 21833
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أُسَامَةَ , فَسُئِلَ عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ , فَقَالَ : " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " , يَعْنِي : فَوْقَ الْعَنَقِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار درمیانی تھی جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1666، م: 1286
حدیث نمبر: 21834
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ ابْنِ ذَرٍّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ , وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو خود بھی پرسکون تھے اور لوگوں کو بھی پرسکون رہنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح