حدیث نمبر: 21782
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ , وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَغَيْرُهُ : إِلَّا أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ , إِلَّا أَصْحَابَ النَّارِ , فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ , وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ , فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت مساکین کی ہے جبکہ مالداروں کو (حساب کتاب کے لئے فرشتوں نے) روکا ہوا ہے البتہ جو جہنمی ہیں انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت عورتوں کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5196، م: 2736
حدیث نمبر: 21783
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ , عَنْ سَيْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا شَاهِدٌ , قَالَ : " كَانَ سَيْرُهُ الْعَنَقَ , فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ , وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ , وَأَنَا رَدِيفُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار درمیانی تھی جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2999، م: 1286
حدیث نمبر: 21784
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , قَال : قِيلَ لِأُسَامَةَ : أَلَا تُكَلِّمُ عُثْمَان ؟ فَقَالَ : إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنْ لَا أُكَلِّمَهُ إِلَّا سَمْعَكُمْ , إِنِّي لَا أُكَلِّمُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ , مَا دُونَ أَنْ أَفْتَتِحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ افْتَتَحَهُ , وَاللَّهِ لَا أَقُولُ لِرَجُلٍ : إِنَّكَ خَيْرُ النَّاسِ , وَإِنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا , بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالُوا : وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , فَيُلْقَى فِي النَّارِ , فَتَنْدَلِقُ بِهِ أَقْتَابُهُ , فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ , فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ , فَيَقُولُون : يَا فُلَانُ مَا لَكَ مَا أَصَابَكَ ؟ أَلَمْ تَكُنْ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ فَقَالَ : كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ , وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو وائل کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا تم سمجھتے ہو کہ میں ان سے جو بھی بات کروں گا وہ تمہیں بھی بتاؤں گا میں ان سے جو بات بھی کرتا ہوں وہ میرے اور ان کے درمیان ہوتی ہے میں اس بات کو کھولنے میں خود پہل کرنے کو پسند نہیں کرتا اور بخدا ! کسی آدمی کے متعلق میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم سب سے بہترین آدمی ہو خواہ وہ مجھ پر حکمران ہی ہو، جبکہ میں نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں لے کر اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے یہ دیکھ کر تمام جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں ! تجھ پر کیا مصیبت آئی ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے رکنے کی تلقین نہیں کرتا تھا ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے روکتا تھا اور خود کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3267، م: 2989
حدیث نمبر: 21785
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا : أُبْنَى , فَقَالَ : " ائْتِهَا صَبَاحًا ثُمَّ حَرِّقْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " ابنی " نامی ایک بستی کی طرف بھیجا اور فرمایا صبح کے وقت وہاں پہنچ کر اسے آگ لگا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبى الأخضر، لكنه لم ينفرد به
حدیث نمبر: 21786
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنِ ابْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّ أَبَاهُ أُسَامَةَ , قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً كَثِيفَةً كَانَتْ مِمَّا أَهْدَاهَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ , فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ لَمْ تَلْبَسْ الْقُبْطِيَّةَ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً , إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک موٹی قبطی چادر عطا فرمائی جو اس ہدیئے میں سے تھی جو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا، میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کیا بات ہے ؟ تم نے وہ چادر نہیں پہنی ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کہنا کہ اس کے نیچے شمیض لگائے کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے اس کے اعضاء جسم نمایاں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن محمد يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 21787
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , يُحَدِّثُهُ أَبُو عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي , فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ , وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى , ثُمَّ يَضُمُّنَا , ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا " , قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : هُوَ السَّلِّيُّ مِنْ عَنَزَةَ إِلَى رَبِيعَةَ يَعْنِي أَبَا تَمِيمَةَ السَّلِّيَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور دوسری پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بھر ہمیں بھینچ کر فرماتے اے اللہ ! میں چونکہ ان دونوں پر رحم کھاتا ہوں لہٰذا تو بھی ان پر رحم فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3735
حدیث نمبر: 21788
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً كَثِيفَةً مِمَّا أَهْدَاهَا لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ , فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي , فَقَالَ : " مَا لَكَ لَمْ تَلْبَسْ الْقُبْطِيَّةَ ؟ " , قُلْتُ : كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي , فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً , فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک موٹی قبطی چادر عطا فرمائی جو اس ہدیئے میں سے تھی جو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا، میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کیا بات ہے ؟ تم نے وہ چادر نہیں پہنی ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کہنا کہ اس کے نیچے شمیض لگائے کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے اس کے اعضاء جسم نمایاں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن محمد يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 21789
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : أَرْسَلَتْ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ ابْنِي يُقْبَضُ فَأْتِنَا , فَأَرْسَلَ يِقْرَأِ السَّلَامِ , وَيَقُولُ : " لِلَّهِ مَا أَخَذَ , وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى , وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى " , قَالَ : فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّ , قَالَ : فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ , قَالَ : فَأَخَذَ الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ , قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا ؟ قَالَ : " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صاحبزادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ ان کے بچہ پر نزع کا عالم طاری ہے آپ ہمارے یہاں تشریف لائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ بھی اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے لہٰذا تمہیں صبر کرنا چاہئے اور اس پر ثواب کی امید رکھنی چاہئے، انہوں نے دوبارہ قاصد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم دے کر بھیجا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم بھی ساتھ ہی کھڑے ہوگئے۔ اس بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں لا کر رکھا گیا، اس کی جان نکل رہی تھی لوگوں میں اس وقت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور غالباً حضرت ابی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1284، م: 923
حدیث نمبر: 21790
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " أَنَّهُ أَرْدَفَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ , حَتَّى دَخَلَ الشِّعْبَ , ثُمَّ أَهْرَاقَ الْمَاءَ , وَتَوَضَّأَ , ثُمَّ رَكِبَ وَلَمْ يُصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا گھاٹی میں پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور پیشاب کیا پھر میں نے ان پر پانی ڈالا اور ہلکا سا وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے اور راستے میں نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد ضعيف لضعف شبعة بن دينار
حدیث نمبر: 21791
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21792
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حدَّثَنَا ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزِّبْرِقَانِ , أَنَّ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ مَرَّ بِهِمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ , فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ غُلَامَيْنِ لَهُمْ يَسْأَلَانِهِ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى , فَقَالَ : هِيَ الْعَصْرُ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنْهُمْ فَسَأَلَاهُ , فَقَالَ : هِيَ الظُّهْرُ , ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَسَأَلَاهُ , فَقَالَ : هِيَ الظُّهْرُ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَجِيرِ , وَلَا يَكُونُ وَرَاءَهُ إِلَّا الصَّفُّ , وَالصَّفَّانِ مِنَ النَّاسِ فِي قَائِلَتِهِمْ , وَفِي تِجَارَتِهِمْ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
زبرقان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ قریش کا ایک گروہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا وہ سب لوگ اکٹھے تھے انہوں نے اپنے دو غلاموں کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ " صلوٰۃ وسطی " سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا عصر کی نماز مراد ہے پھر دو آدمی کھڑے ہوئے اور انہوں نے یہی سوال پوچھا تو فرمایا کہ اس سے مراد ظہر کی نماز ہے، پھر وہ دونوں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے بھی ظہر کی نماز بتایا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کی گرمی میں پڑھا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صرف ایک یا دو صفیں ہوتی تھیں اور لوگ قیلولہ یا تجارت میں مصروف ہوتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی " تمام نمازوں کی عموماً اور درمیانی نماز کی خصوصاً پابندی کیا کرو اور اللہ کے سامنے عاجزی سے کھڑے رہا کرو " پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس حرکت سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، فإن الزبرقان لم يدرك القصة التى رواها
حدیث نمبر: 21793
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَزْرَةَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , قَالَ : " كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ , فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے ہیں تو میں ان کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری نے دوڑتے ہوئے اپنا پاؤں بلند نہیں کیا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الشعبي لم يسمع من اسامة شياء
حدیث نمبر: 21794
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , قَالَ : قِيلَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ يُطَاعُ فِي مَعَاصِي اللَّهِ تَعَالَى , فَيُقْذَفُ فِي النَّارِ , فَتَنْدَلِقُ بِهِ أَقْتَابُهُ , فَيَسْتَدِيرُ فِيهَا كَمَا يَسْتَدِيرُ الْحِمَارُ فِي الرَّحَا , فَيَأْتِي عَلَيْهِ أَهْلُ طَاعَتِهِ مِنَ النَّاسِ , فَيَقُولُونَ : أَيْ فُلَ , أَيْنَ مَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِهِ ؟ فَيَقُولُ : إِنِّي كُنْتُ آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ , وَأُخَالِفُكُمْ إِلَى غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں لے کر اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے یہ دیکھ کر تمام جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں ! تجھ پر کیا مصیبت آئی ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے رکنے کی تلقین نہیں کرتا تھا ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے روکتا تھا اور خود کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3267، م: 2989، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21795
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي الصَّائِغَ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21796
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِي , قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ وَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ , وَالدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمِ , قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحِلُّهُ , فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَكِنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الرِّبَا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ " أَوْ " النظرَةِ ".
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن قیس کہتے کہ میں نے عطاء سے دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کے تبالے کے متعلق پوچھا جبکہ ان کے درمیان کچھ اضافی چیز بھی ہو تو انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے حلال قرار دیتے ہیں اس پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابن عباس وہ بات بیان کر رہے ہیں جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہیں سنی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا یہ چیز میں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی ہے، البتہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کا تعلق تو ادھار یا تاخیر سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21797
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أُسَامَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو جعفر لم يسمع من أسامة شيئا ولم يلقه، والمسعودي مختلط
حدیث نمبر: 21798
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ أَخْبَرَنَا , قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ سَعْدًا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا , وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا " قَالَ : قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ يُحَدِّثُ سَعْدًا , وَهُوَ لَا يُنْكِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5728، م: 2218
حدیث نمبر: 21799
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ بِنْتِ زَيْنَبَ , وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ , فَقَال : " لِلَّهِ مَا أَخَذَ , وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى , وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى " قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَبْكِي أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ان کی نواسی) امیمہ بنت زینب کو لایا گیا اس کی روح اس طرح نکل رہی تھی جیسے کسی مشکیزے میں ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی رو رہے ہیں ؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1284، م: 923
حدیث نمبر: 21800
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : قَالُوا لَه : أَلَا تَدْخُلُ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ فَتُكَلِّمُهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَلَا تَرَوْنَ أَنِّي لَا أُكَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُكُمْ ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ كَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَنَا أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ , وَلَا أَقُولُ لِرَجُلٍ أَنْ يَكُونَ عَلَيَّ أَمِيرًا : إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ , بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ , فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحى , قَالَ : فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ إِلَيْهِ , فَيَقُولُونَ : يَا فُلَانُ أَمَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ , وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ , قَالَ : فَيَقُولُ : بَلَى قَدْ كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ , وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو وائل کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا تم سمجھتے ہو کہ میں ان سے جو بھی بات کروں گا وہ تمہیں بھی بتاؤں گا میں ان سے جو بات بھی کرتا ہوں وہ میرے اور ان کے درمیان ہوتی ہے میں اس بات کو کھولنے میں خود پہل کرنے کو پسند نہیں کرتا اور بخدا ! کسی آدمی کے متعلق میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم سب سے بہترین آدمی ہو خواہ وہ مجھ پر حکمران ہی ہو، جبکہ میں نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں لے کر اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے یہ دیکھ کر تمام جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں ! تجھ پر کیا مصیبت آئی ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے رکنے کی تلقین نہیں کرتا تھا ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے روکتا تھا اور خود کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3267، م: 2989
حدیث نمبر: 21801
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَال : " خَرَجْتُ حَاجًّا , فَجِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ الْبَيْتَ , فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ مَضَيْتُ , حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ , فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَصَلَّى إِلَى جَنْبِي , فَصَلَّى أَرْبَعًا , فَلَمَّا صَلَّى قُلْتُ لَهُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ صَلَّى هَاهُنَا , فَقُلْتُ : كَمْ صَلَّى ؟ قَالَ : هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي أَنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمْرًا لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى , ثُمَّ حَجَجْتُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ , فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ , فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي , وَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ , ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حج کے ارادے سے نکلا، بیت اللہ شریف میں داخل ہوا جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو جا کر ایک دیوار سے چمٹ گیا اتنی دیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کہاں نماز پڑھی تھی انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسی پر تو آج تک میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گذارا لیکن یہ نہ پوچھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اگلے سال میں پھر حج کے ارادے سے نکلا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں پچھلے سال کھڑا ہوا تھا اتنی دیر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہوگئے پھر وہ مجھ سے مزاحمت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے وہاں سے باہر کردیا اور پھر اس میں چار رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21802
حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ , فَنَذِرُوا بِنَا فَهَرَبُوا , فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا , فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ , فَعَرَضَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ , فَذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ , فَقَالَ : " أَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا ! مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ " , قَالَ : فَمَا زَالَ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے ریتلے علاقوں میں سے ایک قبیلے کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور قتال شروع کردیا ان میں سے ایک آدمی جب بھی ہمارے سامنے آتا تو وہ ہمارے سامنے سب سے زیادہ بہادری کے ساتھ لڑتا تھا اور جب وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو وہ پیچھے سے ان کی حفاظت کرتا تھا میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر اسے گھیر لیا جوں ہی ہم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس نے فوراً " لا الہ الا اللہ " کہہ لیا اس پر انصاری نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا لیکن میں نے اسے قتل کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اسامہ ! جب اس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تھا تو تم نے پھر بھی اسے قتل کردیا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش ! میں نے اسلام ہی اس دن قبول کیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4269، م: 96
حدیث نمبر: 21803
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ , وَأَنَا رَدِيفُه , فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَهَا لَتَكَادُ تُصِيبُ قَادِمَةَ الرَّحْلِ , وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ وَالْوَقَارَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو لگام سے پکڑ کر کھینچنے لگے حتٰی کہ اس کے کان کجاوے کے اگلے حصے کے قریب آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جارہے تھے لوگو ! اپنے اوپر سکون اور وقار کو لازم پکڑو، اونٹوں کو تیز دوڑانے میں کوئی نیکی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21804
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يُقَالُ لَهُ : عِيَاضٌ وَكَانَتْ بِنْتُ أُسَامَةَ تَحْتَهُ , قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ خَرَجَ مِنْ بَعْضِ الْأَرْيَافِ , حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ , أَصَابَهُ الْوَبَاءُ , قَالَ : فَأَفْزَعَ ذَلِكَ النَّاسَ , قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَطْلُعَ عَلَيْنَا نِقَابُهَا " يَعْنِي الْمَدِينَة . وحَدَّثَنَاه الْهَاشِمِيُّ , وَيَعْقُوبُ , وَقَالَا جَمِيعًا : إِنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ایک چچا زاد بھائی " جن کا نام عیاض تھا " سے مروی ہے " جن کے نکاح میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بھی تھیں " کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا تذکرہ ہوا جو کسی شاداب علاقے سے نکلا، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو اسے وباء نے آگھیرا یہ سن کر لوگ خوفزادہ ہوگئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ یہ وباء مدینہ منورہ کے سوراخوں سے نکل کر ہم تک نہیں پہنچے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عياض ابن عم أسامة
حدیث نمبر: 21805
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , يُقَالُ لَهُ : عِيَاضٌ , وَكَانَتْ ابْنَةُ أُسَامَةَ عِنْدَهُ , وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ , قَال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عِيَاضُ بْنُ ضَمْرَى.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبن عم لأسامة ابن زيد
حدیث نمبر: 21806
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الْوَبَاءَ رِجْزٌ , أَهْلَكَ اللَّهُ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَكُمْ , وَقَدْ بَقِيَ مِنْهُ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ يَجِيءُ أَحْيَانًا , وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا , فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا , وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَأْتُوهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
حدیث نمبر: 21807
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , يُحَدِّثُ سَعْدًا , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ هَذَا الْوَجَعَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6974، م: 2218
حدیث نمبر: 21808
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ , قَالَ أَبِي : وَعَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ , وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 6764، م: 1614
حدیث نمبر: 21809
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ , قَالَا : حدثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ : إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِالدُّخُولِ , قَالَ : لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ , وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا , وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ , فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ , قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ ".
مولانا ظفر اقبال
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں عطاء سے پوچھا کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا ہے بیت اللہ میں داخل ہونے کا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس میں داخل ہونے سے نہیں روکتے تھے البتہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو اس کے سارے کونوں میں دعاء فرمائی لیکن وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ باہر آکر خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا یہ ہے قبلہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 398، م: 1330
حدیث نمبر: 21810
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ , قَالَ : أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى ؟ " , قَالُوا : لَا , قَالَ : " إِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بيوتكمِ كَوَقْعِ الْمَطَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی ٹیلے پر چڑھے تو فرمایا کہ جو میں دیکھ رہا ہوں کیا تم بھی وہ دیکھ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح رونما ہو رہے ہیں جیسے بارش کے قطرے برستے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7060، م: 2885
حدیث نمبر: 21811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , وَيَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3473، م: 2218، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21812
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ , قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : سَيُخْبِرُنَا صَاحِبُنَا مَا صَنَعَ , قَالَ : قَالَ أُسَامَةُ : " لَمَّا دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ , فَوَقَعَ كَفَّ رَأْسَ رَاحِلَتِهِ حَتَّى أَصَابَ رَأْسُهَا وَاسِطَةَ الرَّحْلِ , أَوْ كَادَ يُصِيبُهُ , يُشِيرُ إِلَى النَّاسِ بِيَدِهِ : السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ , حَتَّى أَتَى جَمْعًا " , ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ : فَقَالَ النَّاسُ : يُخْبِرُنَا صَاحِبُنَا بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ الْفَضْلُ : " لَمْ يَزَلْ يَسِيرُ سَيْرًا لَيِّنًا كَسَيْرِهِ بِالْأَمْسِ , حَتَّى أَتَى عَلَى وَادِي مُحَسِّرٍ فَدَفَعَ فِيهِ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ الْأَرْضُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھالیا لوگ کہنے لگے کہ ہمارا یہ ساتھی ہمیں بتادے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقوف عرفات کے بعد روانہ ہوئے تو اپنی سواری کا سر اتنا کھینچا کہ وہ کجاوے کے درمیانے حصے سے لگ گیا یا لگنے کے قریب ہوگیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارے سے لوگوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کرنے لگے، یہاں تک کہ مزدلفہ آپہنچے اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا ردیف بنا لیا لوگ کہنے لگے کہ ہمارا یہ ساتھی ہمیں بتادے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ چنانچہ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل گزشتہ کی طرح آہستہ آہستہ چلتے رہے البتہ جب وادی محسر پر پہنچے تو رفتار تیز کردی یہاں تک کہ وہاں سے گذر گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
حدیث نمبر: 21813
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِر " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6764، م: 1614، وهذا إسناد وهم فيه مالك فقال: عن عمر بن عثمان بدل قوله: عن عمرو
حدیث نمبر: 21814
قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا رَوْحٌ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ , حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ , فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ , فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلَاةَ , فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " , فَرَكِبَ , فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ , فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ , ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ , ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ , ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے اور اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے، نبی کریم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی، نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
حدیث نمبر: 21815
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أخبرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کا تعلق ادھار سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21816
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أخبرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ , أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ مَوْلًى لِأُسَامَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , كَانَ يَخْرُجُ إِلَى مَالِهِ بِوَادِي الْقُرَى , فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ لَهُ : لِمَ تَصُومُ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَرَقَقْتَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقَالَ : " إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کا روزہ اتنی پابندی سے کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مولي قدامة بن مظعون، وجهالة مولي أسامة
حدیث نمبر: 21817
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ذَكْوَانَ , قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ , إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قُلْ لَهُ فِي الصَّرْفِ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ ؟ أَوْ قَرَأْتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ , مَا لَمْ نَقْرَأْ ؟ قَالَ : بِكُلٍّ لَا أَقُولُ , وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا رِبًا إِلَّا فِي الدَّيْنِ " , أَوْ قَالَ : " فِي النَّسِيئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ذکوان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ بیع صرف کے متعلق آپ جو بات کہتے ہیں، یہ بتائیے کہ اس کا ثبوت آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ چیز نہ تو مجھے کتاب اللہ میں ملی ہے اور نہ ہی میں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے البتہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کا تعلق ادھار سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , قَالَ : كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ بِالْكُوفَةِ , قَالَ : فَذَكَرَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَذَا الْحَدِيثَ , قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ يُحَدِّثُهُ ؟ قَالَ : فَقَالُوا : عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ , وَكَانَ غَائِبًا , قَالَ : فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ , قَالَ : فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْسٌ وَعَذَابٌ , أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ , حَبِيبٌ شَكَّ , فِيهِ عُذِّبَ بِهِ نَاسٌ قَبْلَكُمْ , فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا , فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا , وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ , فَلَا تَدْخُلُوهَا " قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا , فَلَمْ يُنْكِرْ , قَالَ : نَعَمْ.
مولانا ظفر اقبال
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
حدیث نمبر: 21819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ , قَالَ : قِيلَ لِأُسَامَةَ : أَلَا تُكَلِّمُ هَذَا ؟ قَالَ : قَدْ كَلَّمْتُهُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ , فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ , فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ : يَا فُلَانُ أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ فَيَقُولُ : إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ , وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ " , قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ أُسَامَةَ , بِنَحْوٍ مِنْهُ , إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ : " فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ ".
مولانا ظفر اقبال
ابو وائل کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا تم سمجھتے ہو کہ میں ان سے جو بھی بات کروں گا وہ تمہیں بھی بتاؤں گا میں ان سے جو بات بھی کرتا ہوں وہ میرے اور ان کے درمیان ہوتی ہے میں اس بات کو کھولنے میں خود پہل کرنے کو پسند نہیں کرتا اور بخدا ! کسی آدمی کے متعلق میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم سب سے بہترین آدمی ہو خواہ وہ مجھ پر حکمران ہی ہو، جبکہ میں نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں لے کر اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے یہ دیکھ کر تمام جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں ! تجھ پر کیا مصیبت آئی ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے رکنے کی تلقین نہیں کرتا تھا ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے روکتا تھا اور خود کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيحان، خ: 7098، م: 2989
حدیث نمبر: 21820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , أخبرَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ , وَلَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6764، م: 1614
حدیث نمبر: 21821
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أخبرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , قَالَ : قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : " كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ , فَسَقَطَ خِطَامُهَا , قَالَ : فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الْأُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میدان عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اونٹنی ایک طرف کو جھکنے لگی اور اس کی لگام گرگئی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ سے رسی کو پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ کو اٹھائے رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أسامة شيئا، بينهما ابن عباس