حدیث نمبر: 21742
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ , أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , قَالَ : قُلْتُ : أَخْبِرْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ فِيهِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ , فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ , ثُمَّ بَالَ مَاءً , قَالَ : أَهْرَاقَ الْمَاءَ , ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , الصَّلَاةَ , قَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " , قَالَ : فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ , ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ , وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى , ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ , قَالَ : فَقُلْتُ : كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ , قَالَ : رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ , وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ بتائیے کہ جس رات آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف بنے تھے آپ نے کیا کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہم مغرب کے لئے اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سواریوں کو بٹھایا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا جو بہت زیادہ مبالغہ آمیز نہ تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی، نماز پڑھی اور لوگ آرام کرنے لگے میں نے پوچھا کہ جب صبح ہوئی تو پھر آپ نے کیا کیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور میں قریش کے لوگوں میں پیدل چل رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1669، م: 1280
حدیث نمبر: 21743
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حدثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا رِبَا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " قَالَ : يَعْنِي إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا، وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21744
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنِي عَمْرُ بْنُ أَبِي الْحَكَمِ , عَنْ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ , عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى يَطْلُبُ مَالًا لَهُ , وَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ , فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ : لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ , وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ رَقَقْتَ , قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ , فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ : " إِنَّ أَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کا روزہ اتنی پابندی سے کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مولي قدامة ومولي أسامة، والمرفوع منه صحيح بطرقة وشواهده
حدیث نمبر: 21745
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ , حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ , عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ , قَالَ : سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ , قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ , قَالَ : فَصَبَّحْنَاهُمْ فَقَاتَلْنَاهُمْ , فَكَانَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِذَا أَقْبَلَ الْقَوْمُ كَانَ مِنْ أَشَدِّهِمْ عَلَيْنَا , وَإِذَا أَدْبَرُوا كَانَ حَامِيَتَهُمْ , قَالَ : فَغَشِيتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , قَالَ : فَلَمَّا غَشِينَاهُ , قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ وَقَتَلْتُهُ , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ ! " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا , مِنَ الْقَتْلِ , فَكَرَّرَهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے ریتلے علاقوں میں سے ایک قبیلے کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور قتال شروع کردیا ان میں سے ایک آدمی جب بھی ہمارے سامنے آتا تو وہ ہمارے سامنے سب سے زیادہ بہادری کے ساتھ لڑتا تھا اور جب وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو وہ پیچھے سے ان کی حفاظت کرتا تھا میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر اسے گھیر لیا جوں ہی ہم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس نے فوراً " لا الہ الا اللہ " کہہ لیا اس پر انصاری نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا لیکن میں نے اسے قتل کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اسامہ ! جب اس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تھا تو تم نے پھر بھی اسے قتل کردیا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش ! میں نے اسلام ہی اس دن قبول کیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4269، م: 96
حدیث نمبر: 21746
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخبرنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى أُمَّتِي مِنَ النِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کے مردوں پر عورتوں سے زیادہ شدید فتنہ کوئی نہیں چھوڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5096، م: 2740
حدیث نمبر: 21747
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ , وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6764، م: 1614
حدیث نمبر: 21748
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى , إِنِّي لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی ٹیلے پر چڑھے تو فرمایا کہ جو میں دیکھ رہا ہوں کیا تم بھی وہ دیکھ رہے ہو ؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح رونما ہو رہے ہیں جیسے بارش کے قطرے برستے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1878، م: 2885
حدیث نمبر: 21749
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَةَ , فَلَمَّا أَتَى الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ : أَهْرَاقَ الْمَاءَ , فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا , فَقُلْتُ : الصَّلَاةَ , فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " , قَالَ : ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ , ثُمَّ حَلُّوا رِحَالَهُمْ وَأَعَنْتُهُ , ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفہ سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا گھاٹی میں پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور پیشاب کیا راوی نے پانی بہانے کی تعبیر اختیار نہیں کی پھر میں نے ان پر پانی ڈالا اور ہلکا سا وضو کیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب کی نماز پڑھی پھر لوگوں نے اپنے اپنے مقام پر سواریوں کو بٹھایا اور ابھی سامان کھولنے نہیں پائے تھے کہ نماز عشاء کھڑی ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وقد خولف سفيان بن عيينة
حدیث نمبر: 21750
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , قَال : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ " . قَالَ : قَالَ : فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ مَا تَقُولُ أَشَيءً وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَيْسَ بِشَيْءٍ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچاجائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ جو بات کہتے ہیں یہ بتائیے کہ اس کا ثبوت آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ چیز نہ تو مجھے کتاب اللہ میں ملی ہے اور نہ ہی میں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے البتہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کا تعلق ادھار سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21751
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ سَعْدًا عَنِ الطَّاعُونِ , فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْهُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا عَذَابٌ , أَوْ كَذَا أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى نَاسٍ قَبْلَكُمْ , أَوْ طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , فَهُوَ يَجِيءُ أَحْيَانًا وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا , فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عامر بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
حدیث نمبر: 21752
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّه ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ , فَقَالَ : " هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ؟ " , ثُمَّ قَالَ : " لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ , وَلَا الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کل ہم ان شاء اللہ کہاں پڑاؤ کریں گے ؟ یہ فتح مکہ کے موقع کی بات ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے بھی کوئی گھر چھوڑا ہے ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4282، م: 1351
حدیث نمبر: 21753
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو غُصْنٍ , حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ , حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ يَسْرُدُ حَتَّى يُقَالَ : لَا يُفْطِرُ , وَيُفْطِرُ الْأَيَّامَ , حَتَّى لَا يَكَادَ أَنْ يَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ , إِنْ كَانَا فِي صِيَامِهِ وَإِلَّا صَامَهُمَا , وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا يَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَصُومُ لَا تَكَادُ أَنْ تُفْطِرَ , وَتُفْطِرَ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ , إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا , قَالَ : " أَيُّ يَوْمَيْنِ ؟ " , قَالَ : قُلْتُ : يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمُ الْخَمِيسِ , قَالَ : " ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ , وَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ " , قَالَ : قُلْتُ : وَلَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , قَالَ : " ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ , وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ , فَأُحِبُّ أَنْ ترْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ لوگ کہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناغہ نہیں کریں گے اور بعض اوقات اتنے تسلسل کے ساتھ ناغہ فرماتے کہ یوں محسوس ہوتا کہ اب روزہ رکھیں گے ہی نہیں، البتہ ہفتہ میں دو دن ایسے تھے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں روزے سے ہوتے تو بہت اچھا، ورنہ ان کا روزہ رکھ لیتے تھے اور کسی مہینے میں نفلی روزے اتنی کثرت سے نہیں رکھتے تھے جتنی کثرت سے ماہ شعبان میں رکھتے تھے یہ دیکھ کر ایک دن میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ بعض اوقات اتنے روزے رکھتے ہیں کہ افطار کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے ہیں کہ روزے رکھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے، البتہ دو دن ایسے ہیں کہ اگر آپ کے روزوں میں آجائیں تو بہتر ورنہ آپ ان کا روزہ ضرور رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سے دو دن ؟ میں نے عرض کی پیر اور جمعرات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دو دنوں میں رب العالمین کے سامنے تمام اعمال پیش کئے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ جتنی کثرت سے میں آپ کو ماہ شعبان کے نفلی روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رجب اور رمضان کے درمیان اس مہینے کی اہمیت سے لوگ غافل ہوتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں رب العالمین کے سامنے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَذَكَرَ قِصَّةً , وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا , وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ , فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ , وَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے سارے کونوں میں دعاء فرمائی لیکن وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ باہر آکر خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا یہ ہے قبلہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 398، م: 1330
حدیث نمبر: 21755
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِيهِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ مَعِي إِلَى الْمَدِينَةِ , فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصْمَتَ فَلَا يَتَكَلَّمُ , فَجَعَلَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ يَصُبُّهَا عَلَيَّ , أَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مرض الوفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی تو میں اور میرے ساتھ کچھ لوگ مدینہ منورہ آگئے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے اور کسی سے بات نہیں کر رہے تھے، مجھے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور مجھ پر پھیر دیئے میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعاء فرما رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21756
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخبرنا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ , وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ , فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَاهَا لَتَكَادُ أَنْ تَمَسَّ , وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ : أَنْ تُصِيبَ قَادِمَةَ الرَّحْلِ , وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو لگام سے پکڑ کر کھینچنے لگے حتٰی کہ اس کے کان کجاوے کے اگلے حصے کے قریب آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے لوگو ! اپنے اوپر سکون اور وقار کو لازم پکڑو، اونٹوں کو تیز دوڑانے میں کوئی نیکی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 139، م: 1280
حدیث نمبر: 21757
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وحدثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا رِبَا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21758
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ نَعُودُهُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ " , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَاتَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کی عیادت کرنے کے لئے گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہیں یہودیوں سے محبت کرنے سے منع کرتا تھا وہ کہنے لگا کہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نفرت کرلی (بس وہی کافی ہے) یہ کہہ کر کچھ عرصے بعد وہ مرگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة ابن إسحاق
حدیث نمبر: 21759
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد ابن على لم يسمع من أسامة شيئا، ولم يلقه، والمسعودي مختلط
حدیث نمبر: 21760
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ , قَالَ : فَلَمَّا وَقَعَتْ الشَّمْسُ دَفْعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ , قَالَ : " رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ , عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ " , قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ , فَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً , نَصَّ , حتى أََتى المُزدلِفةَ , فجَمَعَ فيها بين الصلاتين المغربِ والعِشاء الآخرةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے لوگوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے شور کی آوازیں آئیں تو فرمایا لوگو ! آہستہ تم اپنے اوپر سکون کو لازم کرلو، کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے پھر جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے، یہاں تک کہ مزدلفہ آپہنچے اور وہاں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1666، م: 1286، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21761
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ , فَلَمَّا وَقَعَتْ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ , قَالَ : " رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ " , قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ , وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً , نَصَّ , حَتَّى مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِي يَزْعُمُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهِ , فَنَزَلَ بِهِ فَبَالَ , مَا يَقُولُ : أَهْرَاقَ الْمَاءَ كَمَا يَقُولُونَ , ثُمَّ جِئْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ , ثُمَّ قَالَ : قُلْتُ : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " , قَالَ : فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا صَلَّى حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ , فَنَزَلَ بِهَا , فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے لوگوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے شور کی آوازیں آئیں تو فرمایا لوگو ! آہستہ تم اپنے اوپر سکون کو لازم کرلو، کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے پھر جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے یہاں تک کہ اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سورایوں کو بٹھایا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھے پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21762
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2178، م: 1596، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21763
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ , أَخبرنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ , سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , أَوْ عَلَى طَائِفَةٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ , الشَّكُّ فِي الْحَدِيثِ , فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ , فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا , فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " , قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ : لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارًا مِنْهُ.
مولانا ظفر اقبال
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
حدیث نمبر: 21764
حَدَّثَنَا حَسيَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ سُلَيْمٍ مَوْلًى لَيْثٍ , وَكَانَ قَدِيمًا قَالَ : مَرَّ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ , عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ يُصَلِّي , فَحَكَاهُ مَرْوَانُ , قَالَ أَبُو مَعْشَرٍ : وَقَدْ لَقِيَهُمَا جَمِيعًا , فَقَالَ أُسَامَةُ : يَا مَرْوَانُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ فَاحِشٍ مُتَفَحِّشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
مروان بن حکم ایک مرتبہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، مروان کہانیاں بیان کرنے لگا ایک مرتبہ جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مروان ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ کسی بےحیائی اور بہیودہ گوئی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف أبى المعشر. سليم مجهول
حدیث نمبر: 21765
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أسامة
حدیث نمبر: 21766
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيْنَ نَنْزِلُ غَدًا ؟ فِي حَجَّتِهِ , قَالَ : " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا " , ثُمَّ قَالَ : " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ , يَعْنِي الْمُحَصَّبَ , حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ " , وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ , أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ , وَلَا يُبَايِعُوهُمْ , وَلَا يُؤْوُهُمْ , ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ : " لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ , وَلَا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! کل آپ کہاں منزل کریں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے بھی کوئی منزل چھوڑی ہے ؟ پھر فرمایا کل ان شاء اللہ ہم خیف بنوکنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش نے کفر پر معاہدہ کر کے قسمیں کھائی تھیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنو کنانہ نے بنو ہاشم کے خلاف قریش سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ بنوہاشم کے ساتھ نکاح، بیع وشراء اور انہیں ٹھکانہ دینے کا کوئی معاملہ نہیں کریں گے، پھر فرمایا کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3058، م: 1351
حدیث نمبر: 21767
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ , وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ , وَالْيَهُودِ , فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ , وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ , فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ , خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ , ثُمَّ قَالَ : لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا , فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ , فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ , وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ , فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ : أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا , فَلَا تُؤْذِينَا فِي مَجَالِسِنَا , وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ , فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ , قَالَ : فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ , وَالْمُشْرِكُونَ , وَالْيَهُودُ , حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا , فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ , ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , فَقَالَ : " أَيْ سَعْدُ , أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ؟ قَالَ : كَذَا وَكَذَا " , فَقَالَ : اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ , فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ , وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ , فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ , فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ , شَرِقَ بِذَلِكَ , فَذَاكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ , فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بھی تھا اور اس کے نیچے فد کی چادر تھی اور اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھالیا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنوحارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے جا رہے تھے، یہ واقعہ عزوہ بدر سے پہلے کا ہے راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسی مجلس پر ہوا جس میں مسلمان، بتوں کے پجاری مشرک اور یہودی سب ہی تھے اور جن میں عبداللہ بن ابی بھی موجود تھا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی۔ جب اس مجلس میں سواری کا گردوغبار اڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر اپنی چادر رکھی اور کہنے لگا کہ ہم پر گردوعبار نہ اڑاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رک کر انہیں سلام کیا اور تھوڑی دیر بعد سواری سے نیچے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلانے اور قرآن پڑھ کر سنانے لگے یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی کہنے لگا اے بھائی ! جو بات آپ کہہ رہے ہیں اگر یہ برحق ہے تو اس سے اچھی کوئی بات ہی نہیں لیکن آپ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کریں، آپ اپنے ٹھکانے پر واپس چلے جائیں اور وہاں جو آدمی آئیں اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں، اس پر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ ہماری مجالس میں ضرور تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں، اس طرح مسلمانوں اور مشرکین و یہود کے درمیان تلخ کلامی ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بھڑجاتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کراتے رہے۔ جب وہ لوگ پرسکون ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں چلے گئے اور ان سے فرمایا سعد ! تم نے سنا کہ ابوحباب ( عبداللہ بن ابی) نے کیا کہا ہے ؟ اس نے اس طرح کہا ہے ؟ اس نے اس طرح کہا ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اسے معاف کردیا کریں اور اس سے درگذر فرمایا کریں، بخدا ! اللہ نے جو مقام آپ کو دینا تھا وہ دے دی اور نہ یہاں کے لوگ اسے تاج شاہی پہنانے پر متفق ہوچکے تھے لیکن اللہ نے جب اس حق کے ذریعے اسے رد کردیا جو اس نے آپ کو عطاء کیا تو یہ اس پر ناگوار گذرا، اس وجہ سے اس نے ایسی حرکت کی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2987، م: 1798
حدیث نمبر: 21768
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَلَقَدْ اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5663، م: 1798
حدیث نمبر: 21769
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أَخبرنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكِبَ حِمَارًا عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ , يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , فَذَكَرَهُ , وَقَالَ : الْبَحْرَةِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4566، م: 1798
حدیث نمبر: 21770
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ , أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ : فَقَالَ لَهُ : إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي , قَالَ : " لِمَ " , قَالَ : شَفَقًا عَلَى وَلَدِهَا , أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا , فَقَالَ : " إِنْ كَانَ لَذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَّ ذَلِكَ , فَارِسَ وَلَا الرُّومَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرنا چاہتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وجہ سے پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کے بچوں کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر صرف اس وجہ سے کرنا چاہتے ہو تو ایسا مت کرو کیونکہ اس چیز سے تو اہل فارس وروم کو بھی نقصان نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1443
حدیث نمبر: 21771
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْهَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ , فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ , أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ بِهَا نَحْوَ الْفَرْجِ , قَالَ : فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُشُّ بَعْدَ وُضُوئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر نازل ہوئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرنا بھی سکھایا تھا اور جب وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلو میں پانی لے کر شرمگاہ کے قریب اسے چھڑک لیا، لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وضو کے بعد اسی طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد
حدیث نمبر: 21772
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ , فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ ؟ فَقَالَ : " لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ " , قَالَ : فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ , فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ , فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَبَهَشَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ , فَقَالَ : " لَمْ تَأْتِنِي ! " , فَقَالَ : إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ , وَلَا تَصَاوِيرُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر غم اور کسی کمرے میں آثار دیکھے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ تین دن سے میرے پاس جبرائیل نہیں آئے دیکھا تو کتے کا ایک پلاّ کسی کمرے میں چھپا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور فرمایا آپ میرے پاس کیوں نہیں آ رہے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے یا تصویریں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 21773
حَدَّثَنَا حُسَيْ?ٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ كَآبَةٌ . . . . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَلَمْ يَأْتِنِي مُنْذُ ثَلَاثٍ ".
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 21774
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ , عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدْخِلْ عَلَيَّ أَصْحَابِي " , فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَكَشَفَ الْقِنَاعَ , ثُمَّ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرض الوفات میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میرے پاس بلا کر لاؤ جب وہ آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ (چادر کو) ہٹایا اور فرمایا یہودونصاری پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
حدیث نمبر: 21775
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا قَيْسٌ , عَنْ جَامِعٍ . . . . . إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَدَخَلُوا عَلَيْهِ وَهُوَ مُتَقَنِّعٌ بِبُرْدٍ لَهُ , مَعَافِرِيٍّ , وَلَمْ يَقُلْ : وَالنَّصَارَى.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
حدیث نمبر: 21776
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ , أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا , أَوْ ابْنَةً قَدْ احْتُضِرَتْ , فَاشْهَدْنَا قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ السَّلَامَ , وَيَقُولُ : " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى , وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى , فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " , فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ , فَقَامَ وَقُمْنَا , فَرُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَى حِجْرِ , أَوْ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ , وَفِي الْقَوْمِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ , وَأُبَيٌّ أَحْسِبُ , فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صاحبزادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ ان کے بچہ پر نزع کا عالم طاری ہے آپ ہمارے یہاں تشریف لائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ بھی اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے لہٰذا تمہیں صبر کرنا چاہئے اور اس پر ثواب کی امید رکھنی چاہئے، انہوں نے دوبارہ قاصد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم دے کر بھیجا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم بھی ساتھ ہی کھڑے ہوگئے۔ اس بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں لا کر رکھا گیا، اس کی جان نکل رہی تھی لوگوں میں اس وقت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور غالباً حضرت ابی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5655، م: 923
حدیث نمبر: 21777
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ , وَعَلِيٌّ , وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ , فَقَالَ جَعْفَرٌ : أنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ زَيْدٌ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَسْأَلَهُ , فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ , فَقَالَ : " اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ " فَقُلْتُ : هَذَا جَعْفَرٌ , وَعَلِيٌّ , وَزَيْدٌ , مَا أَقُولُ : أَبِي , قَالَ : " ائْذَنْ لَهُمْ " وَدَخَلُوا فَقَالُوا : مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " فَاطِمَةُ " , قَالُوا : نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ , قَالَ : " أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ , فَأَشْبَهَ خَل?قُكَ خَلْقِي , وَأَشْبَهَ خُلُقِي خُلُقُكَ , وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي , وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ , فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي , وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي , وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ , فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ , وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ایک جگہ اکٹھے تھے دوران گفتگو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں تم سب سے زیادہ محبوب ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہی بات اپنے متعلق کہی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق کہی، فیصلہ کرنے کے لئے وہ کہنے لگے کہ آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل کر ان سے پوچھ لیتے ہیں چنانچہ وہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو، یہ کون لوگ آئے ہیں ؟ میں نے دیکھ کر عرض کیا کہ جعفر علی اور زید آئے ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد آئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو ۔ وہ اندر آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ سے، انہوں نے کہا ہم آپ سے مردوں کے حوالے سے پوچھ رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جعفر ! تمہاری صورت میری صورت سے اور تمہاری سیرت میری سیرت سے سب سے زیادہ مشابہہ ہے تم مجھ سے ہو اور میرا شجرہ ہو اور علی ! تم میرے داماد اور میرے بچوں (نواسوں) کے باپ ہو، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو اور اے زید ! تم ہمارے مولیٰ ہو اور مجھ سے ہو اور میری طرف ہو اور تمام لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة محمد ابن إسحاق
حدیث نمبر: 21778
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ : حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ , أَنَّهُ قَالَ : " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
حدیث نمبر: 21779
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ ابْنَةِ زَيْنَبَ , وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلَّهِ مَا أَخَذَ , وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى , وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى " , فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَبْكِي أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ ؟ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ان کی نواسی) امیمہ بنت زینب کو لایا گیا اس کی روح اس طرح نکل رہی تھی جیسے کسی مشکیزے میں ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی رو رہے ہیں ؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1284، م: 923
حدیث نمبر: 21780
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ , قَالَ : " خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ , فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ , مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ , قَالَ : وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا , قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى , قُلْتُ لَهُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : هَاهُنَا , أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ صَلَّى , قَالَ : قُلْتُ : فَكَمْ صَلَّى ؟ قَالَ : عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي أَنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا , ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى , فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالَ : خَرَجْتُ حَاجًّا , قَالَ : فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ , قَالَ : فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي , فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ , ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حج کے ارادے سے نکلا، بیت اللہ شریف میں داخل ہوا جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو جا کر ایک دیوار سے چمٹ گیا اتنی دیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کہاں نماز پڑھی تھی انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسی پر تو آج تک میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گذارا لیکن یہ نہ پوچھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اگلے سال میں پھر حج کے ارادے سے نکلا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں پچھلے سال کھڑا ہوا تھا اتنی دیر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہوگئے پھر وہ مجھ سے مزاحمت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے وہاں سے باہر کردیا اور پھر اس میں چار رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21781
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ , أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ حَدَّثَه , أَنَّ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَخْرُجُ فِي مَالٍ لَهُ بِوَادِي الْقُرَى , فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ لَهُ : لِمَ تَصُومُ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَرَقَقْتَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ ؟ قَالَ : " إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ , وَيَوْمَ الْخَمِيسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے میں اتنی پابندی کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مولي قدامة، وجهالة مولي أسامة، والمرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده