حدیث نمبر: 21692
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ : حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ " أَنَّه سَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً , مِنْهُنَّ النَّجْمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں جن میں سورت نجم کی آیت سجدہ بھی شامل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمر الدمشقي، وهو منقطع بينه وبين أم الدرداء
حدیث نمبر: 21693
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أخبرنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ , فأَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ اپنے اور اپنے باپ کے نام سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن أبى زكريا لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21694
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ " , قَالَ : وحَدَّثَنَاه أَبُو الْيَمَانِ , لَمْ يَرْفَعْهُ , وَرَفَعَهُ الْقُرْقُسَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
حدیث نمبر: 21695
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی سمجھداری کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے معاشی معاملات میں میانہ روی سے چلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
حدیث نمبر: 21696
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ , وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1945، م: 1122
حدیث نمبر: 21697
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ ثَابِتٍ , أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَقَالَ : اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي , وَارْحَمْ غُرْبَتِي , وَارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا , فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ : لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِه سورة فاطر آية 32 يَعْنِي الظَّالِمَ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ , فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِد سورة فاطر آية 32 قَالَ : يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ سورة فاطر آية 32 قَال : الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کی اس آیت " فمن ہم ظالم لنفسہ " کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا " ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ " یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ثابت أو أبو ثابت مجهول، وقد اختلف فى إسناده على الأعمش
حدیث نمبر: 21698
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ , أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ , حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ من شِدَّةِ الْحَر , وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شدید گرمی کے سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1945، م: 1122، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل هشام و عثمان
حدیث نمبر: 21699
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِعْطَاءِ السُّلْطَانِ , قَالَ : " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ , فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ " , قَالَ : وَقَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ : لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ تَرْحَلْ إِلَيْهَا , أَوْ تَشَرَّفْ لَهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بادشاہ کی عطاء و بخشش لینے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بن مانگے اور بن خواہش اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ عطاء فرما دے اسے لے لیا کرو اور اس سے تم مول حاصل کیا کرو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21700
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا أَبُو الدَّرْدَاءِ مُغْضَبًا , فَقَالَتْ : مَا لَكَ ؟ فقَال : " وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ فِيهِمْ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ بخدا ! میں لوگوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 650
حدیث نمبر: 21701
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أخبرنا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ ابن مَعْدَانَ أَوْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ " , قَالَ : فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آگئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات
حدیث نمبر: 21702
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ , حَدَّثَنِي مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , وحَدَّثَنَا مَكِّيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيد , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , قَالَ مَكِّيٌ : وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ , فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ " , قَالُوا وَذَلِكَ ! مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو تمہارے لئے سونے چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ میدان جنگ میں دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادو ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون سا عمل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رفعه لا يصح، والصحيح وقفه على ابي الدرداء، فقد اختلف فى رفعه ووقفه، وفي ارساله ووصله
حدیث نمبر: 21703
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ , أَوْ طَرَفِ فُسْطَاطٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّ صَاحِبَهَا يُلِمُّ بِهَا " , قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ , كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ ! وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهَا وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے "" قریب "" جانا چاہتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1441
حدیث نمبر: 21704
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , حَدِيثًا يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ " فَذَكَرَ الْحَدِيث يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , وَمَكِّيٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، زياد بن أبى زياد لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21705
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيَعْجَبُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ " , قَالُوا : كَيْفَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَوْ مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑہنے سے عاجز ہو ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت اخلاص پڑھ لیا کرو (کہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 811
حدیث نمبر: 21706
حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ سُفْيَانَ , حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ , عَنِ الضَّبُعِ , فَكَرِهَهَا , فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ قَوْمَكَ يَأْكُلُونَهُ ! قَالَ : لَا يَعْلَمُونَ , فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نُهْبَةٍ , وَكُلِّ ذِي خَطْفَةٍ , وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " , قَالَ سَعِيدٌ : صَدَقَ.
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے گوہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی قوم تو اسے کھاتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ انہیں معلوم نہیں ہوگا اس پر وہاں موجود ایک آدمی نے کہا کہ میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس جانور سے منع فرمایا ہے جو لوٹ مار سے حاصل ہو جسے اچک لیا گیا ہو یا ہر وہ درندہ جو اپنے کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس کی تصدیق فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يزيد وإبهام الرجل الذى روى الحديث عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21707
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ , قَالَ : وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ , قَالَ : أَتَيْتُ الشَّامَ , فَدَخَلْتُ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ , وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , فَقَالَتْ : تُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ , فَقَالَتْ : فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ دَعْوَةَ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ , عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ , كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ : آمِينَ , وَلَكَ بِمِثْل " , فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ , فَأَلْقَى أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَأْثُرُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , وَيَعْلَى , قَالَا : حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ صَفْوَانَ , قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
صفوان بن عبداللہ " جن کے نکاح میں " درداء تھیں " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام آیا اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن وہ گھر پر نہیں ملے البتہ ان کی اہلیہ موجود تھیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اس سال تمہارا حج کا ارادہ ہے ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لئے بھی خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے کہ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تمہیں بھی یہی نصیب ہو۔ پھر میں بازار کی طرف نکلا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے بھی ملاقات ہوگئی انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا اور یہی حدیث انہوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2732
حدیث نمبر: 21708
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَعْلَى قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2732
حدیث نمبر: 21709
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مَالِك يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ أَبِي عُمَرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مُقِيمٌ فَنَسْرَحَ , أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ ؟ قَالَ : بَلْ ظَاعِنٌ , قَالَ : فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ , أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ , وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ , وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ , قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ , لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ , وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ , إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي تَفْعَلُ : دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً , وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً , وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے یہاں آیا انہوں نے پوچھا کہ تم مقیم ہو کہ ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں یا مسافر ہو کہ تمہیں زاد راہ دیں ؟ اس نے کہا کہ میں مسافر ہوں، انہوں نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی چیز زاد راہ کے طور پر دیتا ہوں جس سے افضل اگر کوئی چیز مجھے ملتی تو میں تمہیں وہی دیتا، ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مالدار تو دنیا و آخرت دونوں لے گئے ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی رکھتے ہیں، البتہ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم سے پہلے والا کوئی تم سے آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے والا تمہیں پا نہ سکے الاّ یہ کہ کوئی آدمی تمہاری ہی طرح عمل کرنے لگے ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمد اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو عمر مستور، وروايته
حدیث نمبر: 21710
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ , قَالَ : قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيْنَ مَسْكَنُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ لَا يُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ , فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ , فَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْكُلُ الْقَاصِيَةَ " . .
مولانا ظفر اقبال
معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے ؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی میں انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہٰذا تم جماعت مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21711
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَيْضًا , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ , فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21712
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أخبرنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ , عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 809
حدیث نمبر: 21713
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ , عَنْ ابْنِ نُعَيْمَانَ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ مُوجِيَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ چھ ماہ کے دو خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وابن نعمان مجهول
حدیث نمبر: 21714
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ , عَنِ الْحَجَّاجِ , عَنْ يَعْلَى بْنِ نُعْمَانَ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِيهِ قَالَ : " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ جَذَعَيْنِ خَصِيَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ چھ ماہ کے دو خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وابن نعمان مجهول
حدیث نمبر: 21715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , أخبرنا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ , قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ بِدِمَشْقَ , فَقَالَ : مَا أَقْدَمَكَ أَيْ أَخِي ؟ قَالَ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ ؟ قَالَ : لَا , قَالَ : أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَةٍ ؟ قَالَ : لَا , قَالَ : مَا قَدِمْتَ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ ؟ قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ , وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ , وَإِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ , وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ , كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ , إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ , لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا , وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ , فَمَنْ أَخَذ به , أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ " . .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ سے ایک آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق میں آیا انہوں نے آنے والے سے پوچھا کہ بھائی ! کیسے آنا ہوا ؟ اس نے کہا کہ ایک حدیث معلوم کرنے کے لئے جس کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ وہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ کسی تجارت کے سلسلے میں نہیں آئے ؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے پوچھا کسی اور کام کے لئے ؟ اس نے کہا نہیں، انہوں نے پوچھا کیا آپ صرف اسی حدیث کے طلب میں آئے ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے میں چلتا ہے اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے اور فرشتے اس طالب علم کی خوشنودی کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان کی ساری مخلوقات بخشش کی دعائیں کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیسے چاند کی دوسرے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں جو وراثت میں دینار و درہم نہیں چھوڑتے، بلکہ وہ تو وراثت میں علم چھوڑ کر جاتے ہیں، سو جو اسے حاصل کرلیتا ہے وہ اس کا بہت سا حصہ حاصل کرلیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس بن كثير ، وعاصم بن رجاء لم سمعه من قيس
حدیث نمبر: 21716
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ , قَال : أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف كثير بن قيس وداود بن جميل
حدیث نمبر: 21717
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَتْهُ أُمُّهُ , أَوْ أَبُوهُ , أَوْ كِلَاهُمَا , قَالَ : شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ , فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّر , فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى يطيلها , وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , فَسَأَلَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَوْفِ نَذْرَكَ , وَبَرَّ وَالِدَيْكَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْوَالِدُ أَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّةِ " فَحَافِظْ عَلَى الْوَالِدِ , أَوْ اتْرُكْ.
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی کو اس کی ماں یا باپ یا دونوں نے حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے (اس نے انکار کردیا اور) کہا کہ اگر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس پر سو غلام آزاد کرنا واجب ہوں گے، پھر وہ آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ چاشت کی لمبی نماز پڑھ رہے تھے پھر انہوں نے ظہر اور عصر کے درمیان نماز پڑھی پھر اس شخص نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا اپنی منت پوری کرلو (سو غلام آزاد کردو) اور اپنے والدین کی بات مانو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21718
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عن عطاء بن السائب , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَبِيبَةَ , قَالَ : أَوْصَى رَجُلٌ بِدَنَانِيرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , فَسُئِلَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ , مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي بَعْدَمَا يَشْبَعُ " , قَالَ أَبُو حَبِيبَةَ : فَأَصَابَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ.
مولانا ظفر اقبال
ابو حبیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے مال میں سے کچھ دینا اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی وصیت کی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة
حدیث نمبر: 21719
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ , قَالَ : أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ , قَالَ : فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقُلْتُ : إِنَّ أَخِي أَوْصَانِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ , فَأَيْنَ أَضَعُهُ , فِي الْفُقَرَاءِ , أَوْ فِي الْمُجَاهِدِينَ , أَوْ فِي الْمَسَاكِينَ ؟ قَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو حبیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے مال میں سے کچھ دینار اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی وصیت کی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى حبيبة
حدیث نمبر: 21720
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَجَبَتْ هَذِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو ایک انصاری نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21721
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا هِمامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ , يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ , فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى , وَلَا آبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ , يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا , وَأَعْطِ مُمْسِكًا مَالًا تَلَفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو یہ منادی کرتے ہیں " اور اس منادی کو جن وانس کے علاوہ تمام اہل زمین سنتے ہیں " کہ اے لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ کیونکہ وہ تھوڑا جو کافی ہوجائے، اس زیادہ سے بہتر ہے جو غفلت میں ڈال دے اسی طرح جب بھی سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں جو یہ منادی کرتے ہیں اور اس منادی کو بھی جن وانس کے علاوہ تمام اہل زمین سنتے ہیں " کہ اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطاء فرما اور اے اللہ ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21722
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَلْقِهِ مِنْ خَمْسٍ : مِنْ أَجَلِهِ , وَعَمَلِهِ , وَمَضْجَعِهِ , وَأَثَرِهِ , وَرِزْقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ہر بندے کی تخلیق میں پانچ چیزیں لکھ چکا ہے اس کی عمر، عمل، ٹھکانہ اثر اور اس کا رزق۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الفرج بن فضالة، وقد توبع
حدیث نمبر: 21723
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ صُبَيْحٍ الْمُرِّيُّ , قَاضِي الْبَلْقَاءِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فَرَغَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ : مِنْ أَجَلِهِ , وَرِزْقِه , وَأَثَرِهِ , وَشَقِيٍّ أَمْ سَعِيدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بندے کی تخلیق میں پانچ چیزیں لکھ چکا ہے اس کی عمر، عمل، اثر اور اس کا رزق اور یہ کہ وہ شقی ہوگا یا سعید۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21724
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامٍ , حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ , أَنَّهُ زَارَ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ , فَمَكَثَ عِنْدَهُ لَيَالِيَ , فأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُوكِفَ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مَا أَرَانِي إِلَّا مُتَّبِعَكَ , فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ , فَأُسْرِجَ فَسَارَا جَمِيعًا عَلَى حِمَارَيْهِمَا , فَلَقِيَا رَجُلًا شَهِدَ الْجُمُعَةَ بِالْأَمْسِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بِالْجَابِيَةِ , فَعَرَفَهُمَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ , فَأَخْبَرَهُمَا خَبَرَ النَّاسِ , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ قَالَ : وَخَبَرٌ آخَرُ كَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَكُمَا , أُرَاكُمَا تَكْرَهَانِهِ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : فَلَعَلَّ أَبَا ذَرٍّ نُفِيَ , قَالَ : نَعَمْ , وَاللَّهِ فَاسْتَرْجَعَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَصَاحِبُهُ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ مَرَّاتٍ , ثُمَّ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : ارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ كَمَا قِيلَ لِأَصْحَابِ النَّاقَةِ , اللَّهُمَّ إِنْ كَذَّبُوا أَبَا ذَرٍّ فَإِنِّي لَا أُكَذِّبُهُ , اللَّهُمَّ وَإِنْ اتَّهَمُوهُ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُهُ , اللَّهُمَّ وَإِنْ اسْتَغَشُّوهُ فَإِنِّي لَا أَسْتَغِشُّهُ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتَمِنُهُ حِينَ لَا يَأْتَمِنُ أَحَدًا , وَيُسِرُّ إِلَيْهِ حِينَ لَا يُسِرُّ إِلَى أَحَدٍ , أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ يَمِينِي مَا أَبْغَضْتُهُ بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ , وَلَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے " حمص " گئے اور چند دن تک ان کے یہاں قیام کیا پھر حکم دیا تو ان کے گدھے پر پلان لگا دیا گیا، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھ ہی چلوں گا، چنانچہ ان کے حکم پر ان کے گدھے پر بھی زین کس دی گئی اور وہ دونوں اپنی اپنی سواری پر سوار ہو کر چل پڑے، راستے میں انہیں ایک آدمی ملا جس نے گزشتہ دن جمعے کی نماز حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جابیہ میں پڑھی تھی، اس نے ان دونوں کو پہچان لیا لیکن وہ دونوں اسے نہ پہچان سکے، اس نے انہیں وہاں کے لوگوں کے حالات بتائے پھر کہنے لگا کہ ایک خبر اور بھی ہے لیکن وہ آپ کو بتانا مجھے اچھا محسوس نہیں ہو رہا ہے کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس سے آپ کی طبیعت پر بوجھ ہوگا حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جلا وطن کردیا گیا ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! یہی خبر ہے۔ اس پر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نے تقریباً دس مرتبہ " انا للہ " پڑھا پھر حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اسی طرح انتظار اور صبر کرو جیسے اونٹنی والوں (قوم ثمود) سے کہا گیا تھا اے اللہ ! اگر یہ لوگ ابوذر کو جھٹلا رہے ہیں تو میں ابوذر کو جھٹلانے والوں میں شامل نہیں ہوں، اے اللہ ! اگر وہ تہمت لگا رہے ہیں تو میں انہیں متہم نہیں کرتا، اے اللہ اگر وہ ان پر چھا رہے ہیں تو میں ایسا نہیں کر رہا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت انہیں امین قرار دیتے تھے جب کسی کو امین قرار نہیں دیتے تھے اس وقت ان کے پاس خود چل کر جاتے تھے جب کسی کے پاس نہیں جاتے تھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر ابوذر میرا داہنا ہاتھ بھی کاٹ دیں تو میں ان سے کبھی بغض نہیں کروں گا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آسمان کے سایہ تلے اور روئے زمین پر ابوذر رضی اللہ عنہ زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، والمرفوع فى آخره حسن لغيره
حدیث نمبر: 21725
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ , قَالَ : سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْغُوطَةُ , إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا : دِمَشْقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہر غوطہ میں جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) " دمشق " نامی شہر کے پہلو میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21726
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ : أَتَى رَجُلٌ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي بِنْتُ عَمِّي وَأَنَا أُحِبُّهَا , وَإِنَّ وَالِدَتِي تَأْمُرُنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا , فَقَالَ : لَا آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَهَا , وَلَا آمُرُكَ أَنْ تَعْصِيَ وَالِدَتَكَ , وَلَكِنْ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْوَالِدَةَ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ " فَإِنْ شِئْتَ فَأَمْسِكْ , وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ.
مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی میرے چچا کی بیٹی ہے مجھے اس سے بڑی محبت ہے لیکن میری والدہ مجھے حکم دیتی ہے کہ میں اسے طلاق دے دوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور نہ یہ کہ اپنی والدہ کی نافرمانی کرو البتہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ والدہ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے اب تم چاہو تو اسے روک کر رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد توبع
حدیث نمبر: 21727
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو ضَمْرَةَ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ سورة فاطر آية 32 فَأَمَّا الَّذِينَ سَبَقُوا بِالْخَيْرَاتِ , فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ , وَأَمَّا الَّذِينَ اقْتَصَدُوا , فَأُولَئِكَ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا , وَأَمَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ , فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يُحاَسبُونَ فِي طُولِ الْمَحْشَرِ , ثُمَّ هُمْ الَّذِينَ تَلَافَاهُمْ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ , فَهُمْ الَّذِينَ يَقُولُونَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ إِلَى قَوْلِهِ لُغُوبٌ سورة فاطر آية 34 - 35 " .
مولانا ظفر اقبال
ثابت یا ابوثابت سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کی اس آیت فمنہم ظالم لنفسہ کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلاحساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه بين على بن عبدالله وأبي الدرداء
حدیث نمبر: 21728
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ : بِالصِّحَّةِ لَا بِالْمَرَضِ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الصُّدَاعَ وَالْمَلِيلَةَ لَا تَزَالُ بِالْمُؤْمِنِ وَإِنَّ ذَنْبَهُ مِثْلُ أُحُدٍ , فَمَا تَدَعُهُ وَعَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت انس جہنی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے تو انہیں دعاء دی کہ اللہ آپ کو ہر مرض سے بچا کر صحت کے ساتھ رکھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان آدمی سر درد اور دیگر بیماریوں میں مسلسل مبتلا ہوتا رہتا ہے اور اس کے گناہ احد پہاڑ کے برابر ہوتے ہیں لیکن یہ بیماریاں اسے اس وقت چھوڑتی ہیں جب اس پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد انقلب عليه اسم الراوي معاذ بن سهل، ثم زاد فيه: عن جده، وهو خطأ، وصوابه: سهل بن معاذ، عن أبيه
حدیث نمبر: 21729
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَلَبِسَ ثِيَابَهُ , وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ عِنْدَهُ , ثُمَّ مَشَى إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ , وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا , وَلَمْ يُؤْذِهِ , وَرَكَعَ مَا قُضِيَ لَهُ , ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ , غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے، خوشبو یا تیل لگائے، پھر جمعہ کے لئے آئے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حرب بن قيس لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21730
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ , فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَا آيَةً , وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , فَقُلْتُ لَهُ : يَا أُبَيُّ , مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ؟ قَالَ : فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي , ثُمَّ سَأَلْتُهُ , فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي , حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَال لِي أُبَيٌّ : مَا لَكَ مِنْ جُمُعَتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ , فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ , فَقُلْتُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَلَوْتَ آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , فَسَأَلْتُهُ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ ؟ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى إِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَيٌّ , أَنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ جُمُعَتِي إِلَّا مَا لَغَيْتُ ؟ فَقَالَ : " صَدَقَ أُبَيٌّ , فَإِذَا سَمِعْتَ إِمَامَكَ يَتَكَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتَّى يَفْرُغَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برسر منبر سورت برأت کی تلاوت فرمائی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اللہ کے احسانات کا تذکرہ فرما رہے تھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ان کے ہمراہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کو چٹکی بھری اور کہا کہ ابی ! یہ سورت کب نازل ہوئی ہے ؟ یہ تو میں ابھی سن رہا ہوں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں اشارے سے خاموش رہنے کا حکم دیا۔ نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی تو آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج تو تمہاری نماز صرف اتنی ہی ہوئی ہے جتنا تم نے اس میں یہ لغو کام کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے اور حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی یہ بات ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابی نے سچ کہا۔ جب تم امام کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھو تو خاموش ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حرب بن قيس لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21731
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِر . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أخبرنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَبْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ , فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنے کمزوروں کو تلاش کر کے میرے پاس لایا کرو کیونکہ تمہیں رزق اور فتح ونصرت تمہارے کمزوروں کی برکت سے ملتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح