حدیث نمبر: 21656
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُؤْخَذَ بِمِثْلِ خَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2380، م: 1539
حدیث نمبر: 21657
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ ، إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ لِأَهْلِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد تفرد ابن إسحاق بأن جعل النهي عن المزابنة من حديث زيد بن ثابت، والصواب: أنه من حديث ابن عمر
حدیث نمبر: 21658
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فِيهِ أَقْبُرٌ ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ ، فَحَادَتْ بِهِ ، وَكَادَتْ أَنْ تُلْقِيَهُ ، فَقَالَ : " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمٌ هَلَكُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا ، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ " ، ثُمَّ قَالَ لَنَا : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ " ، قُلْنَا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " ، فَقُلْنَا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، ثُمَّ قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ، فَقُلْنَا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، ثُمَّ قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " ، قُلْنَا : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی کسی جگہ میں تھے جہاں کچھ قبریں بھی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک خچر پر سوار تھے، اچانک وہ خچر بدکنے لگا اور قریب تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا دیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کو معلوم ہے کہ یہ کن لوگوں کی قبریں ہیں ؟ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتا کہ تمہیں کچھ عذاب قبر سنا دیتا، پھر ہم سے فرمایا عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، ہم نے عرض کیا کہ ہم عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، پھر فرمایا مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگا کرو ہم نے عرض کیا کہ ہم مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں پھر فرمایا عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو ہم نے عرض کیا کہ ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں پھر فرمایا زندگی اور موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگا کرو ہم نے عرض کیا کہ ہم زندگی اور موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2867
حدیث نمبر: 21659
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً ، وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ، وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً " ، قَالَ فَرَأَى رَجُلٌ فِي الْمَنَامِ ، فَقَالَ : " أُمِرْتُمْ بِثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً ، وَثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً ، فَلَوْ جَعَلْتُمْ فِيهَا التَّهْلِيلَ ، فَجَعَلْتُمُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ " ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَدْ رَأَيْتُمْ فَافْعَلُوا " ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر فرض نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کریں پھر ایک انصاری نے ایک خواب دیکھا جس میں کسی نے اس سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد تمہیں اس طرح تسبیحات پڑھنے کا حکم دیا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! اس نے کہا کہ انہیں ٢٥، ٢٥ مرتبہ پڑھا کرو اور ان میں ٢٥ مرتبہ لا الہ الا اللہ کا اضافہ کرلو جب صبح ہوئی تو اس نے اپنا یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21660
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْد الرَّحْمَنُ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد تازہ وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 351، هذا حديث منسوخ
حدیث نمبر: 21661
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُصَلَّى إِذَا طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ أَوْ غَابَ قَرْنُهَا " ، وَقَالَ : " إِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " ، أَوْ " مِنْ بَيْنِ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع و غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21662
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُصُومَةً ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقِيلَ لَهُ : هَؤُلَاءِ ابْتَاعُوا الثِّمَارَ ، يَقُولُونَ : أَصَابَنَا الدُّمَانُ وَالْقُشَامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا تَبَايَعُوهَا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَقَالَ : الْأُدْمَانُ وَالْقُشَامُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم لوگ اس وقت پھلوں کے پکنے سے پہلے ہی ان کی خریدوفروخت کرلیا کرتے تھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت کے لئے اس کا کوئی مقدمہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے ؟ بتایا گیا کہ ان لوگوں نے پھل خریدا تھا اب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے حصے میں تو بوسیدہ اور بےکار پھل آگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک پھل پک نہ جایا کرے اس وقت تک اس کی خریدوفروخت نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2193، تعليقا، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21663
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، سَمِعَ شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : أَتَانَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَنَحْنُ فِي حَائِطٍ لَنَا ، وَمَعَنَا فِخَاخٌ نَنْصِبُ بِهَا ، فَصَاحَ بِنَا وَطَرَدَنَا ، وَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ صَيْدَهَا ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بازار میں لٹورے کی طرح کا ایک پرندہ پکڑ لیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو اسے میرے ہاتھ سے لے کر چھوڑ دیا ( اور وہ اڑ گیا) اور فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد
حدیث نمبر: 21664
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، إِنِّي قَاعِدٌ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ ، قَالَ : وَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ ، وَوَقَعَ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حِينَ غَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ ، قَالَ زَيْدٌ فَلَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَطُّ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " اكْتُبْ يَا زَيْدُ " فَأَخَذْتُ كَتِفًا ، فَقَالَ : " اكْتُبْ " لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ الْآيَةَ كُلَّهَا إِلَى قَوْلِهِ أَجْرًا عَظِيمًا " فَكَتَبْتُ ذَلِكَ فِي كَتِفٍ ، فَقَامَ حِينَ سَمِعَهَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى ، فَقَامَ حِينَ سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِمَّنْ هُوَ أَعْمَى وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ ؟ قَالَ زَيْدٌ فَوَاللَّهِ مَا مَضَى كَلَامُهُ أَوْ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَضَى كَلَامَهُ ، غَشِيَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ ، فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي ، فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا كَمَا وَجَدْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " اقْرَأْ " فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ " لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ " فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 " فَأَلْحَقْتُهَا ، فَوَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ كَانَ فِي الْكَتِفِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان پر وحی نازل ہونے لگی اور انہیں سکینہ نے ڈھانپ لیا اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر گئی، بخدا ! میں نے اس حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے زیادہ بوجھل کوئی چیز نہیں پائی پھر وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زید ! لکھو میں نے شانے کی ایک ہڈی پکڑی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو " لایستوی القاعدون۔۔۔۔۔۔ أجراعظیما " میں نے اسے لکھ لیا، یہ آیت اور مجاہدین کی فضیلت سن کر حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا تھے " کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا کیا حکم ہے جو جہاد نہیں کرسکتا مثلاً نابینا وغیرہ ؟ واللہ ابھی ان کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دوبارہ سکینہ چھانے لگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر آگئی اور پہلے کی طرح بوجھ محسوس ہوا پھر وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ وہ آیت پڑھو، چنانچہ میں نے وہ پڑھ کر سنا دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں " غیر اولی الضرر " کا لفظ شامل کردیا جسے میں نے اس کے ساتھ ملا دیا اور وہ اب تک میری نگاہوں کے سامنے گویا موجود ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2832، م: 1898، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21665
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2832، م: 1898، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21666
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَن زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ دُعَاءً ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : " قُلْ كُلَّ يَوْمٍ حِينَ تُصْبِحُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ ، اللَّهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، مَا شِئْتَ كَانَ ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ ، فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ ، فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ ، إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ، أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَمَاتِ ، وَلَذَّةَ نَظَرٍ إِلَى وَجْهِكَ ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ ، مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ ، أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً ، أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ ، اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَأُشْهِدُكَ وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا ، أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، لَكَ الْمُلْكُ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي ، تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ، فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَتُبْ عَلَيَّ ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعاء سکھائی اور حکم دیا کہ اپنے اہل خانہ کو بھی روزانہ یہ دعاء پڑھنے کی تلقین کریں اور خود بھی صبح کے وقت یوں کہا کریں۔ اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیری خدمت کے لئے ہر خیر تیرے ہاتھ میں ہے تجھ سے ملتی ہے تیری مدد سے ملتی ہے اور تیری ہی طرف لوٹتی ہے، اے اللہ ! میں نے جو بات منہ سے نکالی، جو منت مانی، یا جو قسم کھائی تیری مشیت اس سے بھی آگے ہے تو جو چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے اور تو جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا اور تیری توفیق کے بغیر نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی ہم میں کوئی طاقت نہیں تو ہر چیز پر یقینا قادر ہے۔ اے اللہ ! میں نے جس کے لئے دعاء کی اس کا حقدار وہی ہے جسے آپ اپنی رحمت سے نوازیں اور جس پر میں نے لعنت کی ہے، اس کا حقدار بھی وہی ہے جس پر آپ نے لعنت کی ہو، آپ ہی دنیا و آخرت میں میرے کار ساز ہیں مجھے اسلام کی حالت میں دنیا سے رخصتی عطاء فرما اور نیکوکاروں میں شامل فرما۔ اے اللہ میں تجھ سے فیصلے کے بعد رضامندی، موت کے بعد زندگی کی ٹھنڈک، تیرے رخ زیبا کے دیدار کی لذت اور تجھ سے ملنے کا شوق مانگتا ہوں بغیر کسی تکلیف کے اور بغیر کسی گمراہ کن آزمائش کے، اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ کسی پر میں ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے، میں کسی پر زیادتی کروں یا کوئی مجھ پر زیادتی کرے یا میں ایسا گناہ کر بیٹھوں جو تمام اعمال کو ضائع کر دے یا ناقابل معافی ہو۔ اے زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے اللہ ! ڈھکی چھپی اور ظاہر سب باتوں کو جاننے والے ! عزت و بزرگی والے ! میں اس دنیوی زندگی میں زندگی میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تجھے گواہ بناتا ہوں "" اور تو گواہ بننے کے لئے کافی ہے "" میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، حکومت بھی تیری ہے اور ہر طرح کی تعریف بھی تیری ہے تو ہر چیز پر قادر ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں نیز میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ برحق ہے تجھ سے ملاقات یقینی ہے، جنت برحق ہے، قیامت برحق ہے، قیامت آکر رہے گی اور اس میں کوئی شک نہیں اور تو قبروں کے مردوں کو زندہ کر دے گا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے میرے نفس کے حوالے کردیا تو گویا مجھے ضائع ہونے کے لئے چھوڑ دیا اور مجھے میرے عیوب گناہوں اور لغزشات کے سپرد کردیا اور میں تو صرف تیری رحمت پر ہی اعتماد کرسکتا ہوں، لہٰذا میرے سارے گناہوں کو معاف فرما، کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی بھی معاف نہیں کرسکتا اور میری توبہ قبول فرما بیشک تو توبہ قبول کرنے والا رحم والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، ضمرة بن حبيب لم يسمع من أبى الدرداء ، وأبو بكر ضعيف
حدیث نمبر: 21667
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : أُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حسن
حدیث نمبر: 21668
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِزَيْتٍ فَسَاوَمْتُهُ فِيمَنْ سَاوَمَهُ مِنَ التُّجَّارِ ، حَتَّى ابْتَعْتُهُ مِنْهُ ، حَتَّى قَالَ : فَقَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَبَّحَنِي فِيهِ حَتَّى أَرْضَانِي ، قَالَ : فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَضْرِبَ عَلَيْهَا ، فَأَخَذَ رَجُلٌ بِذِرَاعِي مِنْ خَلْفِي ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ ، فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَأَمْسَكْتُ يَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ شام کا ایک آدمی زیتون لے کر آیا، تاجروں کے ساتھ میں بھی بھاؤ تاؤ کرنے والوں میں شامل تھا حتیٰ کہ میں نے اسے خرید لیا، اس کے بعد ایک آدمی میرے پاس آیا اور مجھے میری مرضی کے مطابق نفع دینے کے لئے تیار ہوگیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر معاملہ مضبوط کرنا چاہا تو پیچھے سے کسی آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا جس جگہ تم نے اسے خریدا ہے اسی جگہ اسے فروخت مت کرو بلکہ پہلے اپنے خیمے میں لے جاؤ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21669
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد تازہ وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 351، هذا حديث منسوخ
حدیث نمبر: 21670
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الْأَسْوَافِ وَمَعِي طَيْرٌ اصْطَدْتُهُ ، قَالَ : فَلَطَمَ قَفَايَ ، وَأَرْسَلَهُ مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ يَا عَدُوَّ نَفْسِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بازار میں لٹورے کی طرح کا ایک پرندہ پکڑ لیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو اسے میرے ہاتھ سے لے کر چھوڑ دیا ( اور وہ اڑ گیا) اور فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد
حدیث نمبر: 21671
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " مَرَرْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ يَأْكُلُ تَمْرًا ، فَقَالَ : تَعَالَ فَكُلْ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ ، فَقَالَ : وَأَنَا أُرِيدُ مَا تُرِيدُ ، فَأَكَلْنَا ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَكَانَ بَيْنَ مَا أَكَلْنَا وَبَيْنَ أَنْ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1921، م: 1539، وهذا إسناد ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري لكنه توبع
حدیث نمبر: 21672
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَينٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ بِثَمْرَةٍ ، وَلَا تُبَاعُ ثَمَرَةٌ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " ، قَالَ : فَلَقِيَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَرَايَا ، قَالَ سُفْيَانُ : الْعَرَايَا نَخْلٌ كَانَتْ تُوهَبُ لِلْمَسَاكِينِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَنْتَظِرُوا بِهَا ، فَيَبِيعُونَهَا بِمَا شَاءُوا مِنْ ثَمَرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو کٹی ہوئی کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " عرایا " میں اس کی اجازت دے دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ---