حدیث نمبر: 21568
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرُو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدَهُ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ ان پر غسل واجب ہوگیا وہ اسی حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے پانی منگوایا انہوں نے پردے کے پیچھے غسل کیا پھر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا پاک مٹی مسلمان کے لئے وضو ہے اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی مل جائے تو اسے جسم پر بہا لے کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 21569
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ الخُدْرِي ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْغُسْلَ ، ثُمَّ لَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ، ثُمَّ مَسَّ مِنْ دُهْنِ بَيْتِهِ مَا كُتِبَ ، أَوْ مِنْ طِيبِهِ ثُمَّ لَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، كَفَّرَ اللَّهُ عَنْه مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَذَكَرْتُ لِعُبَادَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے، خوشبو یا تیل لگائے، پھر جمعہ کے لئے آئے کوئی لغو حرکت نہ کرے کسی دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 21570
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْدُ الله بْن أحْمَدُ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الْغِفَارِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ لَعَنَاقٌ يَأْتِي رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أُحُدٍ ذَهَبًا يَتْرُكُهُ وَرَاءَهُ ، يَا أَبَا ذَرٍّ اعْقِلْ مَا أَقُولُ لَكَ إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ : كَذَا وَكَذَا ، اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أَقُولُ لَكَ إِنَّ الْخَيْلَ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " أَوْ " إِنَّ الْخَيْلَ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے ابوذر ! جو بات میں کہہ رہا ہوں اسے اچھی طرح سمجھ لو، ایک بکری کا بچہ جو کسی مسلمان کو ملے، وہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ احد پہاڑ اس کے لئے سونے کا بن جائے جسے وہ اپنے پیچھے چھوڑ جائے اے ابوذر ! میری بات اچھی طرح سمجھ لو کہ مالدار لوگ ہی قیامت کے دن مالی قلت کا شکار ہوں گے سوائے اس کے جو اس اس طرح تقسیم کر دے، اے ابوذر ! میری بات اچھی طرح سمجھ لو کہ قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 21571
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَرْمِ رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفِسْقِ ، وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کی نسبت کرتا ہے وہ کفر کرتا ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہ ہو تو وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے اور جو شخص کسی کو کافر کہہ کر یا دشمن اللہ کہہ کر پکارتا ہے حالانکہ وہ ایسا نہ ہو تو وہ پلٹ کر کہنے والے پر جا پڑتا ہے۔
حدیث نمبر: 21572
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَمُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ ، فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَقَأَ عَيْنَهُ ، لَهُدِرَتْ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ ، فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ ، إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی کسی کے گھر کا پردہ اٹھا کر اجازت لینے سے پہلے اندر جھانکنے لگے تو اس نے ایک ایسی حرکت کی جو اس کے لئے حلال نہ تھی یہی وجہ ہے کہ اگر گھر والا کوئی آدمی اس کی آنکھ پھوڑ دے تو وہ کسی تاوان کے بغیر ضائع ہوجائے گی اور اگر کوئی آدمی کسی ایسے دروازے پر گذرتا ہے جہاں پردہ پڑا ہو اور نہ ہی دروازہ بند ہو اور اس کی نگاہ اندر چلی جائے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا بلکہ گناہ تو اس گھر والوں پر ہوگا۔
حدیث نمبر: 21573
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سِتَّةَ أَيَّامٍ ، ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا أَقُولُ لَكَ بَعْدُ " فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ ، قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ ، وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً ، وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ " ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِتَّةَ أَيَّامٍ ، اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ " إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَا تُؤْوِيَنَّ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا چھ دن ہیں اس کے بعد اے ابوذر ! میں تم سے جو کہوں اسے اچھی طرح سمجھ لینا، جب ساتواں دن آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں خفیہ اور ظاہر بہر طور اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، جب تم سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیکی بھی کرلیا کرو کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا اگرچہ تمہارا کوڑا ہی گرا ہو (وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہنا) امانت پر قبضہ نہ کرنا اور کبھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 21574
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِتَّةَ أَيَّامٍ، اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ " إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَلَا تُؤْوِيَنَّ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ "
حدیث نمبر: 21575
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : " قَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَيْتُ بَأَبِي ذَرٍّ شَبِيهًا.
مولانا ظفر اقبال
ابوالاسود دیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے لیکن مجھے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نظر نہیں آیا۔
حدیث نمبر: