حدیث نمبر: 21488
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ ، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً ، وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے جو شخص نیکی کا ایک عمل کرتا ہے اسے دس گنا بدلہ ملے گا یا میں اس میں مزید اضافہ کردوں گا اور جو شخص گناہ کا ایک عمل کرتا ہے تو اس کا بدلہ اسی کے برابر ہوگا یا میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں جو شخص زمین بھر کر گناہ کرے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے لئے اتنی ہی مغفرت کا فیصلہ کرلیتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2687
حدیث نمبر: 21489
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل الأجلح بن عبدالله
حدیث نمبر: 21490
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا ، فَإِنْ أَنْتَ أَدْرَكْتَهُمْ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَرُبَّمَا قَالَ : فِي رَحْلِكَ ثُمَّ ائْتِهِمْ ، فَإِنْ وَجَدْتَهُمْ قَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ ، وَإِنْ وَجَدْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا ، صَلَّيْتَ مَعَهُمْ ، فَتَكُونُ لَكَ نَافِلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! عنقریب کچھ حکمران آئیں گے جو نماز کو وقت مقررہ پر ادا نہ کریں گے تم نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21491
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا ، قَالَ : " هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " فَقُلْتُ : مَا لِي ؟ لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ ، مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ؟ قَالَ : " الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ : هَكَذَا " فَحَثَى بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَعَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنْكُمْ ، فَيَدَعُ إِبِلًا وَبَقَرًا وَغَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا ، إِلَّا جَاءَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا ، أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا رب کعبہ کی قسم ! وہ لوگ خسارے میں ہیں مجھے ایک شدید غم نے آگھیرا اور میں اپنا سانس درست کرتے ہوئے سوچنے لگا شاید میرے متعلق کوئی نئی بات ہوگئی ہے چنانچہ میں نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ مالدار، سوائے اس آدمی کے جو اللہ کے بندوں میں اس اس طرح تقسیم کرے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو آدمی بھی مرتے وقت بکریاں اونٹ یا گائے چھوڑ کرجاتا ہے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے پھر ایک کے بعد دوسرا جانور آتا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 990
حدیث نمبر: 21492
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، يُؤْتَى بِرَجُلٍ فَيَقُولُ نَحُّوا كِبَارَ ذُنُوبِهِ وَسَلُوهُ عَنْ صِغَارِهَا ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : عَمِلْتَ كَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَعَمِلْتَ كَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، لَقَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَمْ أَرَهَا هُنَا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو چنانچہ اس کے سامنے صغیرہ گناہ لائے جائیں گے اور کبیرہ گناہ چھپا لئے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا ؟ وہ ہر گناہ کا اقرار کرے گا کسی کا بھی انکار نہیں کرے گا اور کبیرہ گناہوں کے خوف سے ڈر رہا ہوگا اس وقت حکم ہوگا کہ ہر گناہ کے بدلے اس ایک نیکی دے دو وہ کہے گا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا ہی نہیں ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس بات پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا ہنستے ہوئے دیکھا کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 190
حدیث نمبر: 21493
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ تَرَاهُ فِي الْمَسْجِدِ " قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَذَا ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، " ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ تَرَاهُ فِي الْمَسْجِدِ " ، قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا رَجُلٌ ضَعِيفٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَذَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهَذَا أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قُرَابِ الْأَرْضِ مِثْلِ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوذر ! مسجد میں نظر دوڑا کر دیکھو کہ سب سے بلند مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے ؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر حلہ دکھائی دیا میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا پھر فرمایا کہ اب یہ دیکھو سب سے پست مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے ؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر پرانے کپڑے دکھائی دیئے میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اس پہلے والے آدمی سے اگر زمین بھی بھر جائے تب بھی بہتر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 21494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَشَدَّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَجِيئُونَ بَعْدِي ، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَإِنَّهُ رَآنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے لوگ وہ ہوں کے جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ اپنے اہل خانہ اور سارے مال و دولت کو دے کر کسی طرح وہ مجھے دیکھ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي
حدیث نمبر: 21495
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ ، أَنَّهَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَةً ، فَانْتَهَتْ إِلَى الرَّبَذَةِ ، فَسَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ ، ثُمَّ تَخَلَّفَ أَصْحَابٌ لَهُ يُصَلُّونَ ، فَلَمَّا رَأَى قِيَامَهُمْ وَتَخَلُّفَهُمْ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ أَخْلَوْا الْمَكَانَ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَصَلَّى ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَمِينِهِ ، فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفِي وَخَلْفَهُ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشِمَالِهِ ، فَقَامَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَقُمْنَا ثَلَاثَتُنَا يُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بِنَفْسِهِ ، وَيَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْلُوَ ، فَقَامَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَلَّى الْغَدَاةَ ، فَبَعْدَ أَنْ أَصْبَحْنَا أَوْمَأْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ سَلْهُ مَا أَرَادَ إِلَى مَا صَنَعَ الْبَارِحَةَ ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يُحَدِّثَ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قُمْتَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَعَكَ الْقُرْآنُ ؟ ! لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ! قَالَ : دَعَوْتُ لِأُمَّتِي ، قَالَ : فَمَاذَا أُجِبْتَ ، أَوْ مَاذَا رُدَّ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : أُجِبْتُ بِالَّذِي لَوْ اطَّلَعَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهُمْ طَلْعَةً تَرَكُوا الصَّلَاةَ ، قَالَ : أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : بَلَى ، فَانْطَلَقْتُ مُعْنِقًا قَرِيبًا مِنْ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ ، فَقَالَ : عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَى النَّاسِ بِهَذَا نَكَلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ ، فَنَادَى أَنْ ارْجَعْ فَرَجَعَ ، وَتِلْكَ الْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 " . .
مولانا ظفر اقبال
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ وہ ایک مرتبہ عمرہ کے لئے جا رہی تھیں مقام ربذہ میں پہنچیں تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کے وقت لوگوں کو نماز پڑھائی نماز کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے ہٹ کر نوافل پڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر اپنے خیمے میں واپس چلے گئے جب دیکھا کہ لوگ جا چکے ہیں تو اپنی جگہ پر واپس آکر نوافل پڑھنے شروع کردیئے میں پیچھے سے آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا اور میں ان کی دائیں جانب جا کر کھڑا ہوگیا تھوڑی دیر بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی آگئے وہ ہمارے پیچھے کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے ان کی طرف اشارہ کیا اور وہ بائیں جانب جا کر کھڑے ہوگئے۔ اس طرح ہم تین آدمیوں نے قیام کیا اور ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور اس میں جتنا اللہ کو منظور ہوتا قرآن کریم کی تلاوت کرتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قیام میں ایک ہی آیت کو باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہوگیا صبح ہوئی تو میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے عمل کے متعلق سوال کریں لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیا کہ میں تو اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں پوچھوں گا جب تک وہ از خود بیان نہ فرمائیں۔ چنانچہ ہمت کر کے میں نے خود ہی عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ساری رات قرآن کریم کی ایک ہی آیت پڑھتے رہے حالانکہ آپ کے پاس تو سارا قرآن ہے ؟ اگر ہم میں سے کوئی شخص ایسا کرتا تو ہمیں اس پر غصہ آتا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو وہ نماز پڑھنا بھی چھوڑ دیں میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں چنانچہ میں گردن موڑ کر جانے لگا ابھی اتنی دور ہی گیا تھا کہ جہاں تک پتھر پہنچ سکے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر آپ نے انہیں یہ پیغام دے کر لوگوں کے پاس بھیج دیا تو وہ عبادت سے بےپرواہ ہوجائیں گے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر واپس بلالیا اور وہ واپس آگئے اور وہ آیت یہ تھی (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) اے اللہ ! اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کر دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناده حسن
حدیث نمبر: 21496
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ الْبَكْرِيُّ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : يَنْكُلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناده حسن
حدیث نمبر: 21497
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ مَعَ كُلِّ فَجْرٍ يَدْعُو بِدَعْوَتَيْنِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ ، فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ " أَوْ " أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَبِي : خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَالَ : عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شمَاسَةَ ، وقَالَ لَيْثٌ ، عَنِ ابْنُ شمَاسَةَ أَيْضًا.
مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن حدیج ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ آپ اپنے گھوڑے کی اتنی دیکھ بھال کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس گھوڑے کی دعاء قبول ہوگئی ہے انہوں نے ان سے پوچھا کہ جانور کی دعاء کا کیا مطلب ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی گھوڑا ایسا نہیں ہے جو روزانہ سحری کے وقت یہ دعاء نہ کرتا ہو اے اللہ آپ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو میرا مالک بنایا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے لہٰذا مجھے اس کی نظروں میں اس کے اہل خانہ اور مال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
حدیث نمبر: 21498
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ كُنْتُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ ، قَالَ : عَنْ أَيِّ شَيْءٍ ؟ قُلْتُ : أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : قَدْ سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " نُورًا أَنَّى أَرَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کاش ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 178
حدیث نمبر: 21499
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزِّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي مَرْثَدٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : كُنْتَ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : أَنَا كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا ! قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ هِيَ ، أَوْ فِي غَيْرِهِ ؟ قَالَ : " بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ " ، قَالَ : قُلْتُ : تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : قُلْتُ : فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ ؟ قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ أَوْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ " ، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ ، ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ قُلْتُ فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ ؟ قَالَ : " ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا " ، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ ، ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَمَا أَخْبَرْتَنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَوْ صَاحَبْتُهُ ، كَلِمَةً نَحْوَهَا ، قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابومرثد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے شب قدر کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے زیادہ میں نے ہی تو پوچھا تھا، میں نے پوچھا تھا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ شب قدر رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے میں نے پوچھا کہ گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ وہ اس وقت تک رہتی تھی جب تک وہ نبی رہتے تھے جب ان کا وصال ہوجاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا تھا یا یہ قیامت تک رہے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ! قیامت تک رہے گی میں نے پوچھا رمضان کے کس حصے میں شب قدر ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے عشرہ اولی یا عشرہ اخیرہ میں تلاش کیا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیث بیان کرنے لگے اسی دوران مجھ پر اونگھ کا غلبہ ہوا جب میں ہوشیار ہوا تو پوچھا کہ وہ کون سے بیس دنوں میں ہوتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ حدیث بیان کرنے لگے اور مجھ پر پھر غفلت طاری ہوگئی جب میں ہوشیار ہوا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا آپ پر ہے مجھے یہ بتا دیجئے کہ وہ کون سے عشرے میں ہوتی ہے ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا غصہ آیا کہ جب سے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی ایسا غصہ کبھی نہیں آیا تھا اور فرمایا آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مرثد بن عبدالله
حدیث نمبر: 21500
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيَّ أخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ " قَالَ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا ، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا " ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : " تُعِينُ صَانِعًا ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ ؟ قَالَ : " تُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو ؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21501
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ ، فَقَالَ : أَمَرَنِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ " اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ ، وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَتِكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ ، وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ وَجَدْتَ الْإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ، وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے (١) بات سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کٹے ہوئے اعضاء والے غلام حکمران کی ہو (٢) جب سالن بناؤ تو اس کا پانی بڑھا لیا کرو پھر اپنے ہمسائے میں رہنے والوں کو دیکھو اور بھلے طریقے سے ان تک بھی اسے پہنچاؤ (٣) اور نماز کو وقت مقررہ پر ادا کیا کرو اور جب تم امام کو نماز پڑھ کر فارغ دیکھو تو تم اپنی نماز پڑھ ہی چکے ہوگے ورنہ وہ نفلی نماز ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21502
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لِأَبِي ذَرٍّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ كَانَ مِثْلَ ذَلِكَ " فَمَا أَدْرِي أَفِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرتا ہے اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے، دوبارہ پیتا ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے (تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا) کہ پھر اللہ تعالیٰ کے ذمے واجب ہے کہ اسے " طینۃ الخبال " کا پانی پلائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! طینۃ الخبال کیا چیز ہے ؟ فرمایا اہل جہنم کی پیپ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيد الله بن أبى زياد وشهر فيهما ضعف، وابن عم أبى ذر مبهم
حدیث نمبر: 21503
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي رِشْدِينُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ التُّجِيبِيِّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَهُ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ أَوْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبِيتَ عِنْدَكَ اللَّيْلَةَ ، فَأُصَلِّيَ بِصَلَاتِكَ ، قَالَ : " لَا تَسْتَطِيعُ صَلَاتِي " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَأَنَا مُحَوَّلٌ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى جَعَلْتُ أَضْرِبُ بِرَأْسِي الْجُدْرَانَ مِنْ طُولِ صَلَاتِهِ ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " أَفَعَلْتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " يَا بِلَالُ ، إِنَّكَ لَتُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ ، وَلَيْسَ ذَلِكَ الصُّبْحَ ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا ثُمَّ دَعَا بِسَحُورٍ فَتَسَحَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ آج رات میں آپ کے ساتھ گذارنا اور آپ کی نماز میں شریک ہونا چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہے بہرحال ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لئے چلے گئے ایک کپڑے سے پردہ کردیا گیا اور میں رخ پھیر کر بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے آئے تو میں نے بھی اسی طرح کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں بھی ساتھ کھڑا ہوگیا حتی کہ طول نماز کی وجہ سے میں اپنا سر دیواروں سے ٹکرانے لگا پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے ایسا کرلیا ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال ! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعدة علل
حدیث نمبر: 21504
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ فِي كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21505
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي ، عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا ابْنَ آدَمَ ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي سَأَغْفِرُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ ، وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَلَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً ، وَلَوْ عَمِلْتَ مِنَ الْخَطَايَا حَتَّى تَبْلُغَ عَنَانَ السَّمَاءِ مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي ، لَغَفَرْتُ لَكَ ، ثُمَّ لَا أُبَالِي " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے ! تو میری جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے ! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، شهر بن حوشب ضعيف، وقد اختلف عليه فى الحديث، ومعدي كرب مجهول
حدیث نمبر: 21506
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21507
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِبِلَالٍ : " أَنْتَ يَا بِلَالُ تُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ ، فَلَيْسَ ذَلِكَ بِالصُّبْحِ ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا " ثُمَّ دَعَا بِسَحُورِهِ فَتَسَحَّرَ ، وَكَانَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا أَخَّرُوا السَّحُورَ ، وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال ! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا : اور فرماتے تھے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ سحری میں تاخیر اور افطاری میں تعجیل کرتی رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وسليمان وعدي مجهولان
حدیث نمبر: 21508
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ ، انْصَرَفَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس وقت مسلسل اپنے بندے پر دوران نماز متوجہ رہتا ہے جب تک وہ دائیں بائیں نہ دیکھے لیکن جب وہ اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21509
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ ، وَأَبِي الْمُثَنَّى ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا ، وأَوْثَقَنِي سَبْعًا ، وَأَشْهَدَ عَلَيَّ تِسْعًا ، أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " ، قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى : قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ إِلَى بَيْعَةٍ ، وَلَكَ الْجَنَّةُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، وَبَسَطْتُ يَدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ : " أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَلَا سَوْطَكَ إِنْ يَسْقُطَ مِنْكَ ، حَتَّى تَنْزِلَ إِلَيْهِ فَتَأْخُذَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کی مجھ سے بیعت لی سات چیزوں کا مجھ سے میثاق لیا ہے اور نو چیزوں پر اللہ کو گواہ بنایا ہے کہ میں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کیا تم میری بیعت کرتے ہو ؟ جس کے بدلے میں تمہیں جنت مل جائے میں نے اثبات میں جواب دے کر ہاتھ پھیلا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط لگاتے ہوئے فرمایا کہ تم کسی سے کچھ نہیں مانگو گے میں نے اثبات میں جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوڑا گرجائے تو وہ بھی کسی سے نہ مانگنا بلکہ خود سواری سے اتر کر اسے پکڑ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى اليمان وأبي المثني
حدیث نمبر: 21510
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، يَرُدُّهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا كَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ ، قَالَ : " إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ وَهِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، فَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يُصَلِّ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ : إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُمْ " فَصَلَّى بِالنَّاسِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ قَامَ فَقَالَ : " إِنَّا قَائِمُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ " ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِيَامِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى قُبَّتِهِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنْ كُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَقُومَ بِنَا حَتَّى تُصْبِحَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ مَعَ إِمَامِكَ وَانْصَرَفْتَ إِذَا انْصَرَفَ ، كُتِبَ لَكَ قُنُوتُ لَيْلَتِكَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنا لمباقیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، شريح بن عبيد لم يدرك أبا ذر
حدیث نمبر: 21511
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَجَدتُ هَذَا الحَدِيثُ فِي كِتَابُ أُبَي بخط يَده حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا ، وَشَاتَانِ تَعْتَلِفَان ، فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ، فَأَجْهَضَتْهَا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَجِبْتُ لَهَا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو بکریوں کو آپس میں ایک دوسرے سے سینگوں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا کہ ان میں سے ایک نے دوسری کو عاجز کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 21512
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كَلِمَاتٌ مَنْ ذَكَرَهُنَّ مِئَةَ مَرَّةٍ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ لَوْ كَانَتْ خَطَايَاهُ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ لَمَحَتْهُنَّ " ، قَالَ أَبُو عَبْدُ الرَّحْمَنُ ، قَالَ أَبِي لَمْ يَرْفَعْهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ کلمات ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص ہر نماز کے بعد سو مرتبہ کہہ لے یعنی اللہ اکبر سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ اور لہ حول ولاقوۃ الاباللہ پھر اگر اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو یہ کلمات انہیں مٹا دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة أبى كثير، وحيي فيه كلام
حدیث نمبر: 21513
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : نَاجَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِّرْنِي ، فَقَالَ : " إِنَّهَا أَمَانَةٌ ، وَخِزْيٌ وَنَدَامَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات سے صبح تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سرگوشیوں میں گفتگو کی پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کسی علاقے کا گورنر بنا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو ایک امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی سوائے اس شخص کے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1825، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21514
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى أَبَا أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَدْ أَحْبَبْتُكَ فَجِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے اور اے ابو ذر ! میں اسی وجہ سے تمہارے گھر آیا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى حبيب إن كان ثقة، لكنه قد كان يرسل، ولم يبين هنا عمن رواه، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد فى هذا الحديث بقوله: فليأته إلى منزله
حدیث نمبر: 21515
حَدَّثَنَا عَبْد الله بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ ، وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ ، فَبِيعُوا وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس کا خادم اس کے موافق آجائے تو تم جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو وہی اسے بھی پہناؤ اور جو تمہارے موافق نہ آئے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره بهذه السياقة، وهذا الإسناد منقطع، مورق العجلي لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21516
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ ، أَطَّتْ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ ، مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ ، لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ ، وَلَخَرَجْتُمْ عَلَى أَوْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچرانے لگے اور ان کا حق بھی ہے کہ وہ چرچرائیں کیونکہ آسمان میں چار انگل کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جس پر کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوسکتے اور پہاڑوں کی طرف نکل جاتے تاکہ اللہ کی پناہ میں آجاؤ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کاش ! میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مورق لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21517
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ الْمَدَنِيُّ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي حِبِّي بِخَمْسٍ أَرْحَمُ الْمَسَاكِينَ وَأُجَالِسُهُمْ ، وَأَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ تَحْتِي ، وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ ، وَأَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ، وَأَنْ أَقُولَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، يَقُولُ مَوْلَى غُفْرَةَ لَا أَعْلَمُ بَقِيَ فِينَا مِنَ الْخَمْسِ إِلَّا هَذِهِ قَوْلُنَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى ، وقَالَ : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کا حکم دیا ہے انہوں نے مجھے حکم دیا ہے مساکین سے محبت کرنے اور ان سے قریب رہنے کا اپنے سے نیچے والے کو دیکھنے اور اوپر والے کو نہ دیکھنے کا، صلہ رحمی کرنے کا گو کہ کوئی اسے توڑ ہی دے کسی سے کچھ نہ مانگنے کا، حق بات کہنے کا خواہ وہ تلخ ہی ہو، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کا اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کی کثرت کا کیونکہ یہ کلمات عرش کے نیچے ایک خزانے سے آئے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف كثير الارسال
حدیث نمبر: 21518
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " أَوْصَانِي حِبِّي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى ، وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں ان شاء اللہ میں کبھی نہیں چھوڑوں گا انہوں نے مجھے چاشت کی نماز، سونے سے پہلے وتر اور ہر مہینے تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن كان عطاء بن يسار سمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21519
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ ، فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو اگر کچھ اور نہ کرسکو تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ہی مل لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 2626، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21520
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ ، وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا ، فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ : ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَاخْرُجْ مِنْهَا " ، قَالَ : فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَخَرَجْتُ مِنْهَا . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم سر زمین مصر کو فتح کرلو گے، اس علاقے میں " قیراط " کا لفظ بولا جاتا ہے، جب تم اسے فتح کرلو وہاں کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا کیونکہ ان کے ساتھ عہد اور رشتہ داری کا تعلق ہے، چنانچہ وہاں جب تم دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے ہوئے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا پھر میں نے عبدالرحمن بن شرجیل اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کی جگہ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2543
حدیث نمبر: 21521
وحَدَّثَنَاه هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2543
حدیث نمبر: 21522
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَكْحُولٍ ، أَنَّ ابْنَ نُعَيْمٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ ، أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعْ الْحِجَابُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہوجائے میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن نعيم، وقوله: أن أباذر حدثهم خطأ، والصواب: أن بينهما أسامة بن سلمان، وهو مجهول أيضا
حدیث نمبر: 21523
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعْ الْحِجَابُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا وُقُوعُ الْحِجَابِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہوجائے، میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نعيم وشيخه أسامة ابن سلمان
حدیث نمبر: 21524
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ ، وَقَالَ : عِصَامٌ ، عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَنْسِيِّ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ ، وَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا وُقُوعُ الْحِجَابِ ؟ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ " ، فَذَكَرَا مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہو جائے، میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نعيم وشيخه أسامة بن سلمان
حدیث نمبر: 21525
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ ، وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ ، أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ ، وَأُمُّنَا ، فانطلقنا حتى نزلنا على خال لنا ذي مال وذي هيئة ، فأكرمنا خالنا وأحسن إلينا ، فحسدنا قومه ، فقالوا له : إنك إذا خرجت عَنْ أَهْلِكَ ، خَلَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ ، فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَهُ ، فَقُلْتُ : أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ ، فَقَدْ كَدَّرْتَهُ ، وَلَا جِمَاعَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ ، قَالَ : فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا ، فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا ، وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ وَجَعَلَ يَبْكِي ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ ، قَالَ : فَنَافَرَ أُنَيْسٌ رَجُلًا عَنْ صِرْمَتِنَا ، وَعَنْ مِثْلِهَا ، فَأَتَيَا الْكَاهِنَ ، فَخَيَّرَ أُنَيْسًا ، فَأَتَانَا بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا ، وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : لِمَنْ ؟ قَالَ لِلَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ تَوَجَّهُ ؟ قَالَ : حَيْثُ وَجَّهَنِي اللَّهُ ، قَالَ : وَأُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ ، قَالَ : أَبِي ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ كَأَنِّي خِفَاءٌ ، قَالَ : يَعْنِي خَبِاءً ، تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ ، قَالَ : فَقَالَ أُنَيْسٌ : إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ ، فَاكْفِنِي حَتَّى آتِيَكَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَيَّ ، ثُمَّ أَتَانِي ، فَقُلْتُ : مَا حَبَسَكَ ؟ قَالَ : لَقِيتُ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ عَلَى دِينِكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا يَقُولُ النَّاسُ لَهُ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : إِنَّهُ شَاعِرٌ وَسَاحِرٌ وَكَاهِنٌ ، وَكَانَ أُنَيْسٌ شَاعِرًا ، قَالَ : فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكُهَّانِ ، فَمَا يَقُولُ بِقَوْلِهِمْ ، وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ ، فَوَاللَّهِ مَا يَلْتَئمُ لِسَانُ أَحَدٍ أَنَّهُ شِعْرٌ ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ أَنْتَ كَافِيَّ حَتَّى أَنْطَلِقَ فَأَنْظُرَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَكُنْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَلَى حَذَرٍ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا لَهُ ، وَقَالَ عَفَّانُ : شِئفُوا لَهُ ، وَقَالَ بَهْزٌ : سَبَقُوا لَهُ ، وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ : شَفَوْا لَهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ ، فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ إِلَيَّ ، قَالَ : الصَّابِئُ ، قَالَ : فَمَالَ أَهْلُ الْوَادِي عَلَيَّ بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ ، فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ ، فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا ، وَغَسَلْتُ عَنِّي الدَّمَ ، فَدَخَلْتُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ، فَلَبِثْتُ بِهِ يَا ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ ، مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، مَالِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي ، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ أَضْحِيَانٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ إِصْخِيَانٍ ، وَقَالَ بَهْزٌ إِضْحِيَانٍ ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ ، فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى أَصْمِخَةِ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ غَيْرُ امْرَأَتَيْنِ ، فَأَتَتَا عَلَيَّ وَهُمَا تَدْعُوَانِ إِسَافَ وَنَائِلَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَنْكِحُوا أَحَدَهُمَا الْآخَرَ ، فَمَا ثَنَاهُمَا ذَلِكَ ، قَالَ : فَأَتَتَا عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : وَهَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ ، غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُكَنِّ ، قَالَ : فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ ، وَتَقُولَانِ : لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا ! قَالَ : فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ مِنَ الْجَبَلِ ، فَقَالَ : " مَا لَكُمَا " ، فَقَالَتَا : الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ، قَالَا : " مَا قَالَ لَكُمَا ؟ " قَالَتَا : قَالَ : لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ ، قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ صَلَّى ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : " عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ ، قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ ، فَوَضَعَهَا عَلَى جَبْهَتِهِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ ، قَالَ : فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِيَدِهِ ، فَقَذَفَنِي صَاحِبُهُ ، وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ، قَالَ : " وَمَتَى كُنْتَ هَا هُنَا " ، قَالَ : كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ ، قَالَ : " فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ ؟ " قُلْتُ : مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ ، قَالَ : فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَ عُكَنُ بَطْنِي ، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ ، وَإِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَفَعَلَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، حَتَّى فَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ ، قَالَ : فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ، فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ وُجِّهَتْ إِلَيَّ أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا يَثْرِبَ ، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ ؟ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُنَيْسًا ، قَالَ : فَقَالَ لِي : مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي صَنَعْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : قَالَ : فَمَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، ثُمَّ أَتَيْنَا أُمَّنَا ، فَقَالَتْ : فَمَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَتَحَمَّلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا ، فَأَسْلَمَ بَعْضُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ ، يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ ، وَقَالَ : بَعْضُهُمْ إِذَا قَدِمَ ، وَقَالَ بَهْزٌ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ ، وَكَذَا قَالَ أَبُو النَّضْرِ : وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ ، وَكَانَ سَيِّدَهُمْ يَوْمَئِذٍ ، وَقَالَ : بَقِيَّتُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَسْلَمَ بَقِيَّتُهُمْ ، قَالَ : وَجَاءَتْ أَسْلَمُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " ، وَقَالَ بَهْزٌ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ ، فَقَالَ أَبُو النَّضْرِ إِيمَاءٌ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینے کو بھی حلال جانتے تھے۔ پس میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ نکلے ہم ماموں کے ہاں اترے جو بڑے مالدار اور اچھی حالت میں تھے ہمارے ماموں نے ہمارا اعزازو اکرام کیا اور خوب خاطر مدارت کی جس کی وجہ سے ان کی قوم نے ہم پر حسد کیا اور انہوں نے کہا (ماموں سے) کہ جب تو اپنے اہل سے نکل کرجاتا ہے تو انیس ان سے بدکاری کرتا ہے ہمارے ماموں آئے اور ان سے جو کچھ کہا گیا تھا وہ الزام ہم پر لگایا، میں نے کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ جو احسان و نیکی کی تھی اسے اس الزام کی وجہ سے خراب کردیا ہے پس اب اس کے بعد ہمارا آپ سے تعلق اور نبھاؤ نہیں ہوسکتا چنانچہ ہم اپنے اونٹوں کے قریب آئے اور ان پر اپنا سامان سوار کیا اور ہمارے ماموں نے کپڑا ڈال کر رونا شروع کردیا اور ہم چل پڑے یہاں تک کہ مکہ کے قریب پہنچے پھر پس انیس ہمارے اونٹوں میں مزید اتنے ہی اور اونٹوں کو لے کر آیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے تین سال پہلے سے ہی اے بھتیجے نماز پڑھا کرتا تھا حضرت عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے کہا کس کی رضا کے لئے ؟ انہوں نے کہا اللہ کی رضا کے لئے، میں نے کہا آپ اپنا رخ کس طرف کرتے تھے ؟ انہوں نے کہ جہاں میرا رب میرا رخ کردیتا اسی طرف میں عشاء کی نماز ادا کرلیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو اس طرح ڈال لیتا گویا کہ میں چادر ہی ہوں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا۔ انیس نے کہا مجھے مکہ میں ایک کام ہے تو میرے معاملات کی دیکھ بھال کرنا چنانچہ انیس چلا یہاں تک کہ مکہ آیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس آیا تو میں نے کہا تو نے کیا کیا اس نے کہا میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اسے (رسول بنا کر) بھیجا ہے میں نے کہا لوگ کیا کہتے ہیں ؟ اس نے کہا کہ لوگ اسے شاعر کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود شاعروں میں سے تھا انیس نے کہا، میں کاہنوں کی باتیں سن چکا ہوں لیکن اس کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے اور تحقیق میں نے اس کے اقوال کا شعراء کے اشعار سے بھی موازنہ کیا لیکن کسی شخص کی زبان پر ایسے شعر بھی نہیں ہیں، اللہ کی قسم ! وہ سچا ہے اور دوسرے لوگ جھوٹے ہیں میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جا کر دیکھ آؤں چنانچہ میں مکہ آیا اور ان میں سے ایک کمزور آدمی سے مل کر پوچھا وہ کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو ؟ پس اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یہ دین بدلنے والا ہے، وادی والوں میں سے ہر ایک یہ سنتے ہی مجھ پر ڈھیلوں اور ہڈیوں کے ساتھ ٹوٹ پڑا یہاں تک کہ میں بےہوش ہو کر گرپڑا، پس جب میں بیہوشی سے ہوش میں آکر اٹھا تو میں گویا سرخ بت (خون میں لت پت) تھا۔ میں زمزم کے پاس آیا اور اپنا خون دھویا پھر اس کا پانی پیا اور میں اے بھتیجے ! تیس رات اور دن وہاں ٹھہرا رہا اور میرے پاس زمزم کے پانی کے سوا کوئی خوارک نہ تھی، پس میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں بھی ختم ہوگئیں اور نہ ہی میں نے اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی محسوس کی۔ اسی دوران ایک چاندنی رات میں جب اہل مکہ سوگئے اور اس وقت کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا تھا صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ (بتوں) کو پکار رہی تھیں جب وہ اپنے طواف کے دوران میرے قریب آئیں تو میں نے کہا اس میں سے ایک (بت) کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو (اساف مرد اور نائلہ عورت تھی اور باعتقاد مشرکین مکہ یہ دونوں زنا کرتے وقت مسخ ہو کر بت ہوگئے تھے) لیکن وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں پس جب وہ میرے قریب آئیں تو میں نے بغیر کنایہ اور اشارہ کے یہ کہہ دیا کہ فلاں کے (فرج میں) لکڑی، پس وہ چلاتی ہوئی تیزی سے بھاگ گئیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی موجود ہوتا، راستہ میں انہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پہاڑی سے اترتے ہوئے ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک دین کو بدلنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے کہا اس نے ہمیں ایسی بات کہی ہے جو منہ کو بھر دیتی ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ آئے، حجر اسود کا استلام کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھی نے طواف کیا پھر نماز ادا کی، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وہ پہلا آدمی تھا جس نے اسلام کے طریقہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلام ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمتیں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا میں قبیلہ غف
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2473
حدیث نمبر: 21526
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2473
حدیث نمبر: 21527
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ ، قَالَ : وَعَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُهُ ؟ قَالَ : سَأَلْتُهُ هَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قَدْ سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کاش ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 178