حدیث نمبر: 21448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ . ح وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ ، فَلَا تُحَرِّكُوا الْحَصَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21449
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَقَالَ : أَيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَنْفَسُهَا " قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ ؟ قَالَ : " فَتُعِينُ الصَّانِعَ ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ " ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ؟ قَالَ : " فَدَعْ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو ؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2518، م: 84، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21450
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَكَّافُ ، هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " وَلَا جَارِيَةٍ ؟ " قَالَ : وَلَا جَارِيَةَ ، قَالَ : " وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ ؟ " قَالَ : وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ ، قَالَ : " أَنْتَ إِذًا مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ ، لَوْ كُنْتَ فِي النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ ، وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ ، أَبِالشَّيْطَانِ تَمَرَّسُونَ ! مَا لِلشَّيْطَانِ مِنْ سِلَاحٍ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ ، أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا ، وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ ، إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ " ، فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ وَمَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِئَةِ عَامٍ ، يَصُومُ النَّهَارَ ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا ، وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ ، ثُمَّ اسْتَدْرَكَ اللَّهُ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ ، وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ ، وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ " قَالَ : زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قَدْ زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ " عکاف بن بشر تمیمی " نام کا ایک آدمی آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا عکاف ! تمہاری کوئی بیوی ہے ؟ عکاف نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کوئی باندی ؟ اس نے کہا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم مالدار بھی ہو ؟ عرض کیا جی الحمدللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تم شیطان کے بھائی ہو اگر تم عیسائیوں میں ہوتے تو ان کے راہبوں میں شمار ہوتے لیکن ہماری سنت تو نکاح ہے تم میں سے بدترین لوگ کنوارے ہیں اور گھٹیا ترین موت مرنے والے کنوارے ہیں کیا تم شیطان سے لڑتے ہو ؟ شیطان کے پاس نیک آدمیوں کے لئے عورتوں سے زیادہ کارگر ہتھیار کوئی نہیں سوائے اس کے کہ وہ شادی شدہ ہوں یہی لوگ پاکیزہ اور گندگی سے مبرا ہوتے ہیں عکاف یہ عورتیں تو حضرت ایوب علیہ السلام داؤد علیہ السلام ، یوسف علیہ السلام اور کرسف علیہ السلام کی ساتھی رہی ہیں بشر بن عطیہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کرسف کون تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک آدمی تھا جو کسی ساحل پر تین سو سال تک اللہ کی عبادت میں مصروف رہا دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو قیام کرتا تھا لیکن پھر ایک عورت کے عشق کے چکر میں پھنس کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کر بیٹھا اور اللہ کی عبادت بھی چھوڑ دی بعد میں اللہ نے اس کی دستگیری فرمائی اور اس کی توبہ قبول فرمالی ارے عکاف ! نکاح کرلو ورنہ تم تذبذب کا شکار رہو گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ خود ہی میرا نکاح کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تمہارا نکاح کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى ذر، وللاضطراب الذى وقع فى أسانيده
حدیث نمبر: 21451
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَقْنَعِ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَفِرُّ النَّاسُ مِنْهُ حِينَ يَرَوْنَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا يُفِرُّ النَّاسَ ؟ قَالَ : إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنِ الْكُنُوزِ بِالَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں تھا کہ ایک آدمی پر نظرپڑی جسے دیکھتے ہی لوگ اس سے کنی کترانے لگتے تھے میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ لوگ کیوں آپ سے کنی کترا رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں انہیں مال جمع کرنے سے اسی طرح روکتا ہوں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روکتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21452
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَوَجَدْتُ فِيهِ رَجُلًا يُكْثِرُ السُّجُودَ ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْتُ : أَتَدْرِي عَلَى شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمْ عَلَى وِتْرٍ ؟ قَالَ : إِنْ أَكُ لَا أَدْرِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْرِي ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ بَكَى ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ بَكَى ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبَرَنِي حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً ، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ، وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً " ، قَالَ : قُلْتُ : أَخْبِرْنِي مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي .
مولانا ظفر اقبال
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں قریش کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا وہ رکوع سجدہ کرتا پھر کھڑا ہو کر رکوع سجدہ کرتا اور درمیان میں نہ بیٹھتا، میں نے کہا بخدا ! یہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں جانتا کہ جفت یا طاق رکعتوں پر سلام پھیر کر فارغ ہوجائے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اٹھ کر ان کے پاس جاتے اور انہیں سمجھاتے کیوں نہیں ہو ؟ میں اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا اور اس سے کہا کہ اے بندہ خدا ! لگتا ہے کہ آپ کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ جفت یا طاق رکعتوں پر نماز سے فارغ ہوجائیں، اس نے کہا کہ اللہ تو جانتا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے کوئی سجدہ کرتا ہے اللہ اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیتا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ابوذر ہوں تو میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آکر کہا کہ اللہ تمہیں تمہارے ساتھیوں کی طرف سے برا بدلہ دے تم مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو دین سکھانے کے لئے بھیج دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21453
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنِي صَعْصَعَةُ ، قَالَ يَزِيدُ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، إِنَّهُ لَقِيَ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ يَقُودُ جَمَلًا لَهُ ، وَفِي عُنُقِهِ قِرْبَةٌ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَلَا تُحَدِّثُنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَلَى ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ " ، وَقَالَ يَزِيدُ : " إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے پاس کون سا مال ہے ؟ انہوں نے فرمایا میرا مال میرے اعمال ہیں میں نے ان سے کوئی حدیث بیان کرنے کی فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن دو مسلمان یہاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کی بخشش فرما دے گا۔ اور جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے دو جوڑے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان تیزی سے اس کے سامنے آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21454
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ ، فَإِذَا أَبُو ذَرٍّ قَدْ جَاءَ فَكَلَّمَ امْرَأَتَهُ فِي شَيْءٍ ، فَكَأَنَّهَا رَدَّتْ عَلَيْهِ ، وَعَادَ فَعَادَتْ ، فَقَالَ : مَا تَزِدْنَ عَلَى مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَرْأَةُ كَالضِّلْعِ ، فَإِنْ ثَنَيْتَهَا انْكَسَرَتْ وَفِيهَا بَلْغَةٌ وَأَوَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن قعنب کہتے ہیں کہ میں " ربذہ " کی طرف روانہ ہوا تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بھی آگئے انہوں نے اپنی بیوی سے کوئی بات کی اس نے انہیں آگے سے جواب دے دیا دو مرتبہ اسی طرح ہوا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آگے نہیں بڑھ سکتے کہ عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے موڑو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ورنہ اسی ٹیڑھے پن اور بیوقوفی کے ساتھ ہی گذارہ کرنا پڑے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 21455
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ ؟ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ ؟ قَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے ! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 510، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد لكنه متابع
حدیث نمبر: 21456
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ : قَامَ أَبُو ذَرٍّ ، فَقَالَ : يَا بَنِي غِفَارٍ ، قُولُوا : وَلَا تَخْتَلِفُوا ، فَإِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ حَدَّثَنِي " أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ ، وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ ، وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمْ إِلَى النَّارِ " ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ هَذَانِ قَدْ عَرَفْنَاهُمَا ، فَمَا بَالُ الَّذِينَ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ ؟ قَالَ : " يُلْقِي اللَّه الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ حَتَّى لَا يَبْقَى ظَهْرٌ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ الْمُعْجِبَةُ ، فَيُعْطِيهَا بِالشَّارِفِ ذَاتِ الْقَتَبِ ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اے بنوغفار ! جو بات کہا کرو اس میں اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا ہے کہ لوگوں کو تین گروہوں کی شکل میں قیامت کے دن جمع کیا جائے گا ایک تو سواروں کا ہوگا جو کھاتے پیتے اور لباس پہنے ہوں گے دوسرا گروہ پیدل چلنے اور دوڑنے والوں کا ہوگا جن کے چہروں پر فرشتے آگ مسلط کردیں گے اور انہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا کسی نے پوچھا کہ ان دو گروہوں کی بات تو ہمیں سمجھ میں آگئی یہ پیدل چلنے اور دوڑنے والوں کا کیا معاملہ ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ سواری پر کوئی آفت نازل کردے گا حتٰی کہ کوئی سواری نہ رہے گی یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ایک آدمی کے پاس ایک نہایت عمدہ باغ ہو اور اسے کوئی غضبناک اونٹنی دے دی جائے تو ظاہر ہے کہ وہ اس پر سواری نہیں کرسکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا حديث منكر لاجل الوليد بن جميع
حدیث نمبر: 21457
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ رَجُلٍ مِنْ أَيْلَةَ ، قَالَ : مَرَرْتُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : نِعْمَ الْغُلَامُ ، فَاتَّبَعَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، ادْعُ اللَّهَ لِي بِخَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَنْ أَنْتَ رَحِمُكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ، أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي مِنِّي لَكَ ! قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ مَرَرْتُ بِهِ آنِفًا يَقُولُ : نِعْمَ الْغُلَامُ ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا غضیف بہترین نوجوان ہے پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھائی ! میرے لئے بخشش کی دعاء کرو غضیف نے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعاء کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ غضیف بہترین نوجوان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21458
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَقْرَبَكُمْ مِنِّي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ تَرَكْتُهُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْهَا بِشَيْءٍ غَيْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں گا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میرا قرب اسے ملے گا جو دنیا سے اسی حال پر واپس چلاجائے جس پر میں اسے چھوڑ کر جاؤں واللہ میرے علاوہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے دنیا سے کچھ نہ کچھ تعلق وابستہ نہ کرلیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عراك بن مالك لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21459
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ بَرْذَعَةٌ أَوْ قَطِيفَةٌ ، قَالَ : وَذَلِكَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، فَقَالَ لِي : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغِيبُ هَذِهِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِيَةٍ ، تَنْطَلِقُ حَتَّى تَخِرَّ لِرَبِّهَا سَاجِدَةً تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَإِذَا حَانَ خُرُوجُهَا أَذِنَ اللَّهُ لَهَا فَتَخْرُجُ فَتَطْلُعُ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُطْلِعَهَا مِنْ حَيْثُ تَغْرُبُ حَبَسَهَا ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ إِنَّ مَسِيرِي بَعِيدٌ فَيَقُولُ لَهَا اطْلُعِي مِنْ حَيْثُ غِبْتِ ، فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غروب آفتاب کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جا کر بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے جو اسے مل جاتی ہے جب اس سے کہا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلاجا اور وہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے تو یہی اس کا مستقر ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عراك بن مالك لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21460
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : عَنِ الْقَاسِمِ ، وَقَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ ، فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ ، فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ ، قِيلَ : اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ ، فَأُذِنَ لَهُ ، فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلْدَةِ ، وَهِيَ مِنًى ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ : إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ ، وَقَالَ : قَوْلًا شَدِيدًا ، وَقَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا ، فَقِيلَ لَهُ : عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ، ثُمَّ صَنَعْتَ ! قَالَ : الْخِلَافُ أَشَدُّ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ كَائِنٌ بَعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ الَّتِي ثَلَمَ ، وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعِزُّهُ " ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لَا يَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے کچھ چیزیں اکٹھی کیں تاکہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جا کر دے آئیں چنانچہ ہم " ربذہ " میں پہنچے اور انہیں تلاش کرنے لگے لیکن وہ وہاں نہیں ملے کسی نے بتایا کہ انہوں نے حج پر جانے کی اجازت مانگی تھی جو انہیں مل گئی چنانچہ ہم منٰی میں پہنچے ابھی ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے ہی تھے کہ کسی نے آکر انہیں بتایا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منٰی میں چار رکعتیں پڑھائی ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر اس کا بہت بوجھ ہوا اور انہوں نے کچھ تلخ باتیں کہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے انہوں نے دو رکعتیں پڑھی تھیں اور میں نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اسی طرح نماز پڑھی ہے۔ پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو چار رکعتیں پڑھیں کسی نے ان سے کہا کہ آپ نے پہلے تو امیرالمؤمنین کے فعل کو معیوب قرار دیا پھر خود وہی کام کرنے لگے انہوں نے فرمایا اختلاف کرنا زیادہ شدید ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا تم اسے ذلیل نہ کرنا جو شخص اسے ذلیل کرنا چاہئے گا تو گویا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی تاآنکہ وہ اس سوراخ کو بند کر دے جسے اس نے کھولا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا پھر اگر وہ واپس آجاتا ہے تو وہ عزت کرنے والوں میں ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہم تین چیزوں سے مغلوب نہ رہیں امربالمعروف کرتے رہیں نہی عن المنکر کرتے رہیں اور لوگوں کو سنتوں کی تعلیم کرتے رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن أبى ذر، وفي القاسم بن عوف كلام
حدیث نمبر: 21461
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ : " أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ ، فَهُوَ كَيٌّ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِفْرَاغًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ جو سونا چاندی مہر بند کر کے رکھا جائے وہ اس کے مالک کے حق میں آگ کی چنگاری ہے تاوقتیکہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21462
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ أَخَذَ بِحَلْقَةِ بَابِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ باب کعبہ کا حلقہ پکڑ کر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے سوائے مکہ مکرمہ کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: إلا بمكة، و يمكن أن يشهد لهذ الحرف حديث جبير بن مطعم، وحديث أبى ذر هذا إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن مؤمل، ومجاهد لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21463
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ هَاشِمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِمْ ؟ قَالَ : " أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قُلْتُ : فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " ، قَالَ هَاشِمٌ ، قَالَهَا لَهُ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے اعمال نہیں کرسکتا اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر رضی اللہ عنہ تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کیا کہ پھر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں یہ جملہ انہوں نے ایک نہیں تین مرتبہ دہرایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21464
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، كُلُّهُمْ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3222، م: 94
حدیث نمبر: 21465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ ، وَمَنْ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ ، فَلَيْسَ مِنَّا ، وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْكُفْرِ ، أَوْ قَالَ : عَدُوُّ اللَّهِ ، وَلَيْسَ كَذَاكَ إِلَّا حَارَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کی نسبت کرتا ہے وہ کفر کرتا ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہ ہو تو وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے اور جو شخص کسی کو کافر کہہ کر یا دشمن اللہ کہہ کر پکارتا ہے حالانکہ وہ ایسا نہ ہو تو وہ پلٹ کر کہنے والے پر جا پڑتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3508، م: 61
حدیث نمبر: 21466
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ، فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ أُحَدِّثُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدْ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ ! قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ ! قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ : " عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ " ، قَالَ : فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : فَكَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ بِهَذَا بَعْدُ ، وَيَقُولُ : وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے وہاں پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سور رہے تھے دوبارہ حاضر ہوا تب بھی سو رہے تھے تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگ چکے تھے چنانچہ میں ان کے پاس بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ بھی لا الہ اللہ کا اقرار کرے اور اسی اقرار پر دنیا سے رخصت ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے پوچھا اگرچہ وہ بدکاری اور چوری کرتا پھرے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ بدکاری اور چوری ہی کرے یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہوجائے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ یہ سن کر چادر گھیسٹتے ہوئے یہی جملہ دہراتے ہوئے نکل گئے اور جب بھی ہی حدیث بیان کرتے تو یہ جملہ ضرور دہراتے " اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہوجائے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5827، م: 94
حدیث نمبر: 21467
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ الْأَشْتَرِ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ فَبَكَتْ امْرَأَتُهُ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ : أَبْكِي ، أَنَّهُ لَا يَدَ لِي بِنَفْسِكَ ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا ، فَقَالَ : لَا تَبْكِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ ، يَقُولُ : " لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " ، قَالَ : فَكُلُّ مَنْ كَانَ مَعِي فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ مَاتَ فِي جَمَاعَةٍ وَفُرْقَةٍ ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ غَيْرِي ، وَقَدْ أَصْبَحْتُ بِالْفَلَاةِ أَمُوتُ ، فَرَاقِبِي الطَّرِيقَ فَإِنَّكِ سَوْفَ تَرَيْنَ مَا أَقُولُ ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، قَالَتْ : وَأَنَّى ذَلِكَ وَقَدْ انْقَطَعَ الْحَاجُّ ؟ قَالَ : رَاقِبِي الطَّرِيقَ ، قَالَ : فَبَيْنَا هِيَ كَذَلِكَ إِذَا هِيَ بِالْقَوْمِ تَخُدُّ بِهِمْ رَوَاحِلُهُمْ كَأَنَّهُمْ الرَّخَمُ ، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتَّى وَقَفُوا عَلَيْهَا فَقَالُوا : مَا لَكِ ؟ قَالَتْ : امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُكَفِّنُونَهُ وَتُؤْجَرُونَ فِيهِ ! قَالُوا : وَمَنْ هُوَ ؟ قَالَتْ : أَبُو ذَرٍّ ، فَفَدَوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَوَضَعُوا سِيَاطَهُمْ فِي نُحُورِهَا يَبْتَدِرُونَهُ ، فَقَالَ : أَبْشِرُوا ، أَنْتُمْ النَّفَرُ الَّذِينَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ مَا قَالَ ، أَبْشِرُوا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ هَلَكَ بَيْنَهُمَا وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ فَاحْتَسَبَا وَصَبَرَا فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا " ثُمَّ قَدْ أَصْبَحْتُ الْيَوْمَ حَيْثُ تَرَوْنَ وَلَوْ أَنَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِي يَسَعُنِي ، لَمْ أُكَفَّنْ إِلَّا فِيهِ ، فَأَنْشُدُكُمْ اللَّهَ أَنْ لَا يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا ، فَكُلُّ الْقَوْمِ كَانَ قَدْ نَالَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ مَعَ الْقَوْمِ ، قَالَ : أَنَا صَاحِبُكَ ، ثَوْبَانِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي ، وَأَحِدُ ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ اللَّذَيْنِ عَلَيَّ ، قَالَ : أَنْتَ صَاحِبِي فَكَفِّنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی انہوں نے پوچھا کہ کیوں روتی ہو ؟ میں نے کہا روؤں کیوں نہ ؟ جبکہ آپ ایک جنگل میں اس طرح جان دے رہے ہیں کہ میرے پاس آپ کو دفن کرنے کا بھی کوئی سبب نہیں ہے اور نہ ہی اتنا کپڑا ہے جس میں آپ کو کفن دے سکوں، انہوں نے فرمایا تم مت رو اور خوشخبری سنو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی دو یا تین مسلمان بچوں کے درمیان فوت ہوتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کرتا ہے تو وہ جہنم کی آگ کبھی نہیں دیکھے گا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی ضرور کسی جنگل میں فوت ہوگا جس کے پاس مؤمنین کی ایک جماعت حاضر ہوگی اب ان لوگوں میں سے تو ہر ایک کا انتقال کسی نہ کسی شہر یا جماعت میں ہوا ہے اور میں ہی وہ آدمی ہوں جو جنگل میں فوت ہو رہا ہے واللہ نہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ ان کی بیوی نے کہا کہ اب تو حجاج کرام بھی واپس چلے گئے اب کون آئے گا ؟ انہوں نے فرمایا تم راستے کا خیال رکھو ابھی وہ یہ گفتگو کر رہی تھیں کہ انہیں کچھ لوگ نظر آئے جو اپنی سواریوں کو سرپٹ دوڑاتے ہوئے چلے آرہے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے گدھ تیزی سے آتے ہیں وہ لوگ اس کے قریب پہنچ کر رک گئے اور اس سے پوچھا کہ تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟ (جو یوں راستے میں کھڑی ہو) اس نے بتایا کہ یہاں ایک مسلمان آدمی ہے اس کے کفن دفن کا انتطام کردو تمہیں اس کا بڑا ثواب ملے گا انہوں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ اس نے بتایا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے اپنے ماں باپ کو ان پر قربان کیا اپنے کوڑے جانوروں کے سینوں پر رکھے اور تیزی سے چلے۔ وہاں پہنچے تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو کہ تم ہی وہ لوگ ہو جن کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا خوشخبری ہو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جن دو مسلمان مرد و عورت کے دو یا تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ دونوں اس پر ثواب کی نیت سے صبر کریں تو وہ جہنم کو کبھی نہیں دیکھیں گے اب آج جو میری حالت ہے وہ تمہارے سامنے ہے اگر میرے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا ایسا مل جائے جو مجھے پورا آجائے تو مجھے اسی میں کفن دیا جائے اور میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ مجھے تم سے کوئی ایسا آدمی کفن نہ دے جو امیر ہو، یا چوہدری ہو، یا ڈا کیا ہو، اب ان لوگوں میں سے ہر ایک میں ان میں سے کوئی نہ کوئی چیز ضرور پائی جاتی تھی صرف ایک انصاری نوجوان تھا جو لوگوں کے ساتھ آیا ہوا تھا اس نے کہا کہ میں آپ کو کفن دوں گا میرے پاس دو کپڑے ہیں جو میری والدہ نے بنے تھے ان میں سے ایک میرے جسم پر بھی ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ہی میرے ساتھی ہو لہٰذا تم ہی مجھے کفن دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد منطقع، إبراهيم بن الأشتر لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21468
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ ، قَالَ : " الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ثُمَّ بَيْتُ الْمَقْدِسِ " فَسُئِلَ كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : " أَرْبَعُونَ عَامًا ، وَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَثَمَّ مَسْجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی ؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وفقہ تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
حدیث نمبر: 21469
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِالْأَجْرِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِيكَ صَدَقَةً كَثِيرَةً " فَذَكَرَ فَضْلَ سَمْعِكَ ، وَفَضْلَ بَصَرِكَ ، قَالَ : " وَفِي مُبَاضَعَتِكَ أَهْلَكَ صَدَقَةٌ " ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : أَيُؤْجَرُ أَحَدُنَا فِي شَهْوَتِهِ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعْتَهُ فِي غَيْرِ حِلٍّ أَكَانَ عَلَيْكَ وِزْرٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَفَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! سارا اجروثواب تو مالدار لوگ لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو تم بھی کرسکتے ہو، راستے سے کسی ہڈی کو اٹھا دینا صدقہ ہے کسی کو راستہ بتادینا صدقہ ہے اپنی طاقت سے کسی کمزور کی مدد کرنا صدقہ ہے زبان میں لکنت والے آدمی کے کلام کی وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں اپنی " خواہش " پوری کرنے پر بھی ثواب ملتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر یہ کام تم حرام طریقے سے کرتے تو تمہیں گناہ ہوتا یا نہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گناہ کو شمار کرتے ہو نیکی کو شمار نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1006، وسنده منقطع، أبو البختري لم يدرك أبا ذر
حدیث نمبر: 21470
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، قَالَ أَبُو جُرَيٍّ : أَيْنَ لَقِيتَ خُلَيْدًا ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أُنَاسٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ أَبُو ذَرٍّ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْهُمْ ، قَالَ : " لِيُبَشَّرْ الْكَنَّازُونَ بِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ بُطُونِهِمْ ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ ، قَالَ : ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تُنَادِي بِهِ ؟ قَالَ : مَا قُلْتُ لَهُمْ : شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ ؟ قَالَ : خُذْهُ ، فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً ، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا میں ایک حلقے میں " جس میں قریش کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے " شریک تھا کہ ایک آدمی آیا (اس نے ان کے قریب آکر کہا کہ مال و دولت جمع کرنے والوں کو خوشخبری ہو اس داغ کی جو ان کی پشت کی طرف سے داغا جائے گا اور ان کے پیٹ سے نکل جائے گا اور گدی کی جانب سے ایک داغ کی جو ان کی پیشانی سے نکل جائے گا پھر وہ ایک طرف چلا گیا میں اس کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے قریب جا کر بیٹھ گیا میں نے اس سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ آپ کی بات سے خوش نہیں ہوئے ؟ انہوں نے کہا کہ میں تو ان سے وہی کہتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس وظیفے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا لے لیا کرو کیونکہ آج کل اس سے بہت سے کاموں میں مدد مل جاتی ہے اگر وہ تمہارے قرض کی قیمت ہو تو اسے چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1407، م: 992، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21471
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَعَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ الْعَطَّارُ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ أَبِي دُبَيٍّ ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنِي ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ الرَّجُلَ بِإِذْنِ اللَّهِ ، يَتَصَعَّدُ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی مرضی سے انسان کو اس کی آنکھ کسی چیز کا اتنا گرویدہ بنالیتی ہے کہ وہ مونڈنے والی چیز پر چڑھتا چلا جاتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس سے نیچے گرپڑتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة
حدیث نمبر: 21472
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : " ابْنَ آدَمَ ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ ، ابْنَ آدَمَ ، إِنْ تَلْقَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً بَعْدَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا ، ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تُذْنِبْ حَتَّى يَبْلُغَ ذَنْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرْ لَكَ وَلَا أُبَالِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے ! تو میری جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے ! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، شهر بن حوشب ضعيف، وقد اختلف عليه فى الحديث، ومعدي كرب مجهول
حدیث نمبر: 21473
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ ، إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً ، وَبِكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةً " ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ يَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ ؟ ! قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ ، أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ ؟ ! وَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ ، كَانَ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ " ، قَالَ عَفَّانُ تَصَّدَّقُونَ ، وَقَالَ : " وَتَهْلِيلَةٍ وَتَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً ، وَأَمْرٍ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةً ، وَنَهْيٍ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةً ، وَفِي بُضْعٍ . . . " ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الْأَسْوَدِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مالدار تو سارا اجروثواب لے گئے ہیں وہ ہماری طرح نماز پڑھتے اور روزہ بھی رکھتے ہیں اور اپنے مال سے اضافی طور پر صدقہ بھی کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے صدقہ کرنے کی کوئی چیز مقرر نہیں کی ؟ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، الحمدللہ کہنا صدقہ ہے حتٰی کہ جائز طریقے سے اپنی " خواہش " پوری کرنا بھی صدقہ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کسی کا اپنی خواہش نفسانی کو پورا کرنا بھی باعث صدقہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ اگر وہ حرام طریقے سے اپنی خواہش پوری کرتا تو اسے گناہ ہوتا یا نہیں ؟ لہٰذا جب وہ حلال طریقہ اختیار کرے گا تو اسے ثواب کیوں نہ ہوگا بعض راویوں نے تہلیل تو کبیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی صدقہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1006، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21474
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الْأَسْوَدِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1006، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21475
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ ، وَتَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ ، وَتَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ ، وَتَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَيُجْزِئُ أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ہر عضو پر صبح کے وقت صدقہ لازم ہوتا ہے اور ہر تسبیح کا کلمہ بھی صدقہ ہے تہلیل بھی صدقہ ہے تکبیر بھی صدقہ ہے تحمید بھی صدقہ ہے امر بالمعروف بھی صدقہ ہے اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے اور ان سب کی کفایت وہ دو رکعتیں کردیتی ہیں جو تم میں سے کوئی شخص چاشت کے وقت پڑھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 720، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21476
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنْزٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ : حِينَ سُيِّرَ مِنَ الشَّامِ ، قَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَنْ أُخْبِرَكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ ؟ فَقَالَ : " مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي ، وَبَعَثَ إِلَيَّ يَوْمًا وَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ ، فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ بِرَسُولِهِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ ، فَالْتَزَمَنِي ، فَكَانَتْ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
فلان عنزی کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں سے واپس آرہے تھے راستے میں ایک جگہ لوگ منتشر ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوذر ! میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا اگر کوئی راز کی بات ہوئی تو وہ نہیں بتاؤں گا میں نے عرض کیا کہ راز کی بات نہیں ہے بات نہ کہ اگر کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا تم نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی میری ملاقات ہوئی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے مصافحہ فرمایا سوائے ایک مرتبہ کے اور وہ سب سے آخر میں واقعہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر مجھے بلایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیٹا ہوا دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور مجھے سینے سے لگا لیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة العنزي، وأيوب بن بشير
حدیث نمبر: 21477
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَعْمَلُ لِنَفْسِهِ فَيُحِبُّهُ النَّاسُ ؟ قَالَ : " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! ایک آدمی کوئی کام کرتا ہے۔ لوگ اس کی تعریف وثناء بیان کرنے لگتے ہیں (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو مسلمان کے لئے فوری خوشخبری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2642
حدیث نمبر: 21478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ؟ " قَالَ : فَقَالَ لِي : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا فَصَلِّ مَعَهُمْ ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ وَلَا أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے نماز کو اس وقت مقررہ سے مؤخر کردیں گے پھر فرمایا کہ نماز تو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو اگر ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا پڑے تو دوبارہ ان کے ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز پڑھ لیا کرو، یہ نہ کہا کرو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21479
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فَخِذَهُ ، وَقَالَ لَهُ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ " ، ثُمَّ قَالَ : " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ انْهَضْ ، فَإِنْ كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُقَامَ الصَّلَاةُ ، فَصَلِّ مَعَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے نماز کو اس وقت مقررہ سے مؤخر کردیں گے پھر فرمایا کہ نماز تو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو اگر ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا پڑے تو دوبارہ ان کے ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز پڑھ لیا کرو، یہ نہ کہا کرو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ ، يُقَالُ لَهُ : فُلَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُجِيبٍ ، قَالَ : لَقِيَ أَبُو ذَرٍّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ أُرَاهُ ، قَالَ : قَبِيعَةَ سَيْفِهِ فِضَّةً فَنَهَاهُ ، وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ إِنْسَانٍ أَوْ قَالَ : أَحَدٍ تَرَكَ صَفْرَاءَ أَوْ بَيْضَاءَ إِلَّا كُوِيَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابو مجیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کا دستہ چاندی کا بنوا رکھا تھا، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص سونا چاندی اپنے اوپر چھوڑتا ہے اسے اسی کے ساتھ داغا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة فلان بن عبدالواحد وأبي مجيب
حدیث نمبر: 21481
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات کرے گا نہ انہیں دیکھے اور ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ تو نقصان اور خسارے میں پڑگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا کر فرمایا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتانے والا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 106
حدیث نمبر: 21482
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ ! فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ ، إِنَّهُ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ ، وَبِكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ ، وَبِكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ ، وَبِكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ ؟ ! فَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ أَلَيْسَ كَانَ يَكُونُ عَلَيْهِ وِزْرٌ أَوْ الْوِزْرُ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ ، يَكُونُ لَهُ الْأَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ مالدار تو سارا اجروثواب لے گئے ہیں وہ ہماری طرح نماز پڑھتے اور روزہ بھی رکھتے ہیں اور اپنے مال سے اضافی طور پر صدقہ بھی کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے صدقہ کرنے کی کوئی چیز مقرر نہیں کی ؟ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، الحمدللہ کہنا صدقہ ہے حتٰی کہ جائز طریقے سے اپنی " خواہش " پوری کرنا بھی صدقہ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کسی کا اپنی خواہش نفسانی کو پورا کرنا بھی باعث صدقہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ اگر وہ حرام طریقے سے اپنی خواہش پوری کرتا تو اسے گناہ ہوتا یا نہیں ؟ لہٰذا جب وہ حلال طریقہ اختیار کرے گا تو اسے ثواب کیوں نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1006، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21483
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ ، أَوْ قَالَ : تَكْتَسُونَ وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ ، فَبِيعُوهُ ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس کا خادم اس کے موافق آجائے تو تم جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو وہی اسے بھی پہناؤ اور جو تمہارے موافق نہ آئے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره بهذه السياقة، وهذا الإسناد منقطع، مورق العجلي لم يسمع أبا ذر
حدیث نمبر: 21484
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرَ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَتَعْزِلُ الشَّوْكَةَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى ، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ ، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَةٍ لَهُ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ إِلَى اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ ، وَتَرْفَعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ، وَلَكَ فِي جِمَاعِكَ زَوْجَتَكَ أَجْرٌ " ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ : كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي ؟ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ ، أَكُنْتَ تَحْتَسِبُ بِهِ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ ؟ " قَالَ : بَلْ اللَّهُ خَلَقَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ " قَالَ : بَلْ اللَّهُ هَدَاهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ " ، قَالَ : بَلْ اللَّهُ كَانَ يَرْزُقُهُ ، قَالَ : " كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ ، وَلَكَ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ہر عضو پر صبح کے وقت صدقہ لازم ہوتا ہے اور ہر تسبیح کا کلمہ بھی صدقہ ہے تہلیل بھی صدقہ ہے تکبیر بھی صدقہ ہے تحمید بھی صدقہ ہے امر بالمعروف بھی صدقہ ہے اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے اور ان سب کی کفایت وہ دو رکعتیں کردیتی ہیں جو تم میں سے کوئی شخص چاشت کے وقت پڑھتا ہے، لوگوں کے راستے سے کانٹا، ہڈی اور پتھر ہٹا دو ، نابینا کو راستہ دکھا دو ، گونگے بہرے کو بات سمجھا دو ، کسی ضرورت مند کو اس جگہ کی رہنمائی کردو جہاں سے اس کی ضرورت پوری ہونے کا تمہیں علم ہو، اپنی پنڈلیوں سے دوڑ کر کسی مظلوم اور فریاد رس کی مدد کردو اپنے ہاتھوں کی طاقت سے کسی کمزور کو بلند کردو یہ سب تمہاری جانب سے اپنی ذات پر صدقہ کے دروازے ہیں بلکہ تمہیں اپنی بیوی سے مباشرت پر بھی ثواب ملتا ہے، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اپنی شہوت پوری کرنے میں مجھے کیسے اجر مل سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تباؤ کہ اگر تمہارے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہو اور تم اس سے خیر کی امید رکھتے ہو لیکن وہ مرجائے تو کیا تم اس پر ثواب کی امید رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اسے تم نے پیدا کیا تھا ؟ عرض کیا نہیں بلکہ اللہ نے پیدا کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے ہدایت دی تھی ؟ عرض کیا نہیں بلکہ اللہ نے اسے ہدایت دی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم اسے رزق دیتے تھے ؟ عرض کیا نہیں، بلکہ اللہ اسے رزق دیتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح اسے بھی حلال طریقے پر استعمال کرو اور حرام طریقے سے اجتناب کرو اگر اللہ نے چاہا تو کسی کو زندگی دے دے گا اور اگر چاہا تو کسی کو موت دے دے گا لیکن تمہیں اس پر ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1006
حدیث نمبر: 21485
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو نَعَامَةَ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : وَأَنَا أُرِيدُ الْعَطَاءَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَجَلَسْتُ إِلَى حَلْقَةٍ مِنْ حِلَقِ قُرَيْشٍ ، فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ أَسْمَالٌ لَهُ قَدْ لَفَّ ثَوْبًا عَلَى رَأْسِهِ ، قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : بَشِّرْ الْكَنَّازِينَ بِكَيٍّ فِي الْجِبَاهِ ، وَبِكَيٍّ فِي الظُّهُورِ ، وَبِكَيٍّ فِي الْجُنُوبِ ، ثُمَّ تَنَحَّى إِلَى سَارِيَةٍ ، فَصَلَّى خَلْفَهَا رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ : هَذَا أَبُو ذَرٍّ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تُنَادِي بِهِ ، قَالَ : مَا قُلْتُ لَهُمْ : إِلَّا شَيْئًا سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، إِنِّي كُنْتُ آخُذُ الْعَطَاءَ مِنْ عُمَرَ ، فَمَا تَرَى ؟ قَالَ : خُذْهُ ، فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً ، وَيُوشِكُ أَنْ يَكُونَ دَيْنًا ، فَإِذَا كَانَ دَيْنًا فَارْفُضْهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا میں ایک حلقے میں " جس میں قریش کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے " شریک تھا کہ ایک آدمی آیا (اس نے ان کے قریب آکر کہا کہ مال و دولت جمع کرنے والوں کو خوشخبری ہو اس داغ کی جو ان کی پشت کی طرف سے داغا جائے گا اور ان کے پیٹ سے نکل جائے گا اور گدی کی جانب سے ایک داغ کی جو ان کی پیشانی سے نکل جائے گا پھر وہ ایک طرف چلا گیا) میں اس کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے قریب جا کر بیٹھ گیا میں نے اس سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ آپ کی بات سے خوش نہیں ہوئے ؟ میں تو ان سے وہی کہتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس وظیفے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا لے لیا کرو کیونکہ آج کل اس سے بہت کاموں میں مدد مل جاتی ہے اگر وہ تمہارے قرض کی قیمت ہو تو اسے چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1407، م: 992
حدیث نمبر: 21486
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِلَّا شَيْئًا سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَرَى عَفَّانَ إِلَّا وَهِمَ ، وَذَهَبَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ ، لِأَنَّ عَفَّانَ زَادَهُ ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1407، م: 992
حدیث نمبر: 21487
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ أَشْيَاخِهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنْ الْحَسَنَاتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ قَالَ : " هِيَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیکی کرلیا کرو جو اس گناہ کو مٹا دے میں نے عرض کیا کہ لا الہ الا اللہ کہنا نیکیوں میں شامل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو سب سے افضل نیکی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أشياخ شمر بن عطية